بنیادی صفحہ / قومی / حکومت ،ہمارے ساتھ بیٹھے ورنہ اسمبلیاں توڑ دیں گے، عمران خان

حکومت ،ہمارے ساتھ بیٹھے ورنہ اسمبلیاں توڑ دیں گے، عمران خان

 

پنجاب اور خیبرپختونخوا میں عدم اعتماد لے کر آئیں گے: آصف زرداری
تحریک عدم اعتماد سے پہلے جنرل باجوہ نے ہمیں پی ٹی آئی کا ساتھ دینے کا کہا تھا: مونس الہی کا دعوی
ثابت کرنا ہو گا کہ عمران خان نے عدالتی حکم کا علم ہوتے ہوئے خلاف ورزی کی، سپریم کورٹ
رپورٹ: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کے چیئرمین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ یہ الیکشن کا کا نام نہیں لیتے، یہ الیکشن سے ڈرے ہوئے ہیں، ہم ان کو موقع دیتے ہیں، ہمارے ساتھ بیٹھیں ورنہ ہم اسمبلیاں توڑ دیں گے۔پنجاب کی پارلیمانی پارٹی سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہر پاکستانی کو فکر مند ہونا چاہیے، یہ ایسے حالات پیدا کر رہے ہیں کہ جب یہ جائیں گے، ایسے حالات ہو جائیں گے کہ جو بھی حکومت آئے گی وہ سنبھال نہیں سکے گی۔انہوں نے کہا کہ ان لوگوں نے 2008 سے 2018 تک 4 گنا قرضے بڑھائے، جس پر اب سود دینا پڑتا ہے، پاکستان نے قرضے کی قسطیں ادا کرنی ہیں، اگر آمدنی نہیں بڑھتی تو قرض واپس کرنے کی ہماری استطاعت کم ہوتی جائے گی۔سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارے دور حکومت برآمدات میں اضافہ اور ٹیکس ریونیو بھی بڑھ رہا تھا، انہوں نے آتے ساتھ ہی انہوں نے فیصلے کیے تو مارکیٹ میں افراتفری پھیل گئی، روپیہ گرنا شروع ہو گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ ملک کو ڈیفالٹ کی طرف لے کر جارہے ہیں، اگر کوئی بیل آوٹ بھی کرے گا تو پاکستان کی نیشنل سیکیورٹی خطرے میں پڑ جائے گی۔عمران خان نے کہا کہ آج سی ڈی ایس ہوتا ہے کہ پاکستان کی قرض واپس کرنے کی صلاحیت، یہ ہمارے دور میں 5 فیصد تھا کہ پاکستان قرضے واپس نہیں کرسکے گا، آج 100 فیصد سے اوپر پہنچ گیا ہے، باہر کی دنیا سمجھتی ہے کہ پاکستان قرضے واپس نہیں کرسکتا۔جبکہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ سینیٹر سواتی کے ساتھ جو انتقامی سلوک کیا جا رہا ہے وہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ٹوئٹر پر جاری اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ اعظم سواتی کو سینے میں شدید درد اور سانس لینے میں تکلیف کے باعث جمعہ کی صبح ہی پمز ہسپتال منتقل کیا گیا تھا، ان کے ٹیسٹ کیے گئے اور نتائج کا انتظار تھا مگر کوئٹہ پولیس نے انھیں ہسپتال سے ڈسچارج کروا اور ان کی جان خطرے میں ڈالتے ہوئے انھیں اپنے ہمراہ لے گئے۔انھوں نے کہا کہ اتنی ہی شرمناک بات یہ ہے تنقید کرنے کو اعظم سواتی کا بڑا جرم قرار دیا جا رہا ہے جبکہ پوری مہذب دنیا میں تنقید کرنا جمہوری حق تصور کیا جاتا ہے۔ انھیں فوری رہا کیا جائے۔ افسوس ہے کہ ہمارا نظام انصاف اعظم سواتی کے بنیادی انسانی حقوق کی بار بار خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے تیار نہیں۔ جبکہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کے دوران چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا ہے کہ عدالت کے سامنے عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کا بہت سارا مواد موجود ہے تاہم یہ معاملہ عدالت اور توہین عدالت کا مرتکب ہونے والے کے درمیان ہے اور عدالت جب چاہے گی، توہین عدالت کا نوٹس جاری کرے گی۔جمعے کے روز چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے عمران خان کے خلاف توہین عدالت سے متعلق درخواست کی سماعت کی تو وزارت داخلہ کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ نے 25 مئی کے واقعہ سے متعلق فریقین کی طرف سے جواب اور دیگر دستاویزات عدالت میں پیش کر دی ہیں۔انھوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے کارکنوں کو ڈی چوک پر پہنچنے کی کال 24 مئی کو دی تھی۔انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پی ٹی آئی کو ایچ نائن میں جلسہ کرنے سے متعلق حکمنامے کو بھی پی ٹی آئی کی قیادت تک پہنچا دیا گیا تھا۔انھوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنے تحریری بیان میں غلط بیانی کی کہ اس روز جیمر کی وجہ سے انھیں عدالتی حکم نہیں پہنچایا گیا جبکہ جیمرز صرف حکومت کی اجازت سے ہی لگائے جا سکتے ہیں۔بینچ میں شامل جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ کون غلط کہ رہا ہے، کون نہیں، سپریم کورٹ کیسے تعین کرے؟ انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ ٹرائل کورٹ نہیں ہے، جو شہادتیں ریکارڈ کرے۔جسٹس مظاہر نقوی کا کہنا تھا کہ توہین کا معاملہ عدالت اور توہین کرنے والے کے درمیان ہوتا ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ نے خود معلومات مانگی تھیں، جو سامنے لائی گئی ہیں اور اس میں توہین عدالت کا کافی مواد موجود ہے۔وزارت داخلہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ جب عدالت توہین عدالت کا شوکاز ٹوٹس جاری کرے گی تو ٹرائل شروع ہو گا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے وزارت داخلہ کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آپ سمجھتے ہیں عمران خان نے خلاف ورزی کی ہے اور کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عدالتی حکم عدولی کا مواد موجود ہے؟سلمان اسلم بٹ کا کہنا تھا کہ کافی سارا مواد ہے جو توہین عدالت سے متعلق ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت نے اپنے حکم میں حساس ادروں اور سکیورٹی اداروں سے رپورٹ طلب کی تھی۔انھوں نے کہا کہ یہ بات بلکل ٹھیک ہے کہ توہین کا معاملہ عدلیہ اور ملزم کے درمیان ہوتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے سامنے بہت زیادہ توہین عدالت کا مواد آیا ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عمران خان نے بھی اپنے جوابات داخل کیے ہیں اور عمران خان کہتے ہیں کہ ہدایات اسد عمر نے دیں تھیں جبکہ وزارت داخلہ کے وکیل کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کا موقف درست نہیں۔بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے کہ کیا ایسا مواد ہے جس پر شوکاز نوٹس کریں۔چیف جسٹس نے وزارت داخلہ کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تک آپ نے نہیں بتایا کہ عمران خان کے گرد کون سے رہنما تھے جو کیس سے متعلق رابطے میں تھے اور جب سپریم کورٹ نے لارجر بینچ بنایا تو عمران خان نے لانگ مارچ ختم کر دیا۔انھوں نے کہا کہ عدالت نے ٹائمنگ کو دیکھنا ہے اور جو لوگ ڈی چوک پہنچے کیا وہ لوگ لانگ مارچ کا حصہ تھے یا مقامی تھے۔چیف جسٹس نے وزارت داخلہ کے وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے یہ ثابت کرنا ہے کہ عمران خان عدالتی حکم سے آگاہ تھے اور عدالتی آرڈر کا علم ہوتے ہوئے خلاف ورزی کی گئی۔وزارت داخلہ کے وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان کی نیت ہی ڈی چوک آنا تھی اور جواب میں تسیلم کیا گیا ہے کہ ہماری نیت ڈی چوک جانے کی تھی۔جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ یہ ایک احتجاج تھا اور حکومت کے خلاف تھا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ عدالتی کاروائی کے دوران جی 9، ایچ 9 کا گرانڈ مانگا گیا، نیت یہ تھی کہہ ایچ 9 کا گروانڈ مل جائے تو ڈی چوک نہیں جائیں گے۔اس پر سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ جواب اور یقین دہانی میں ایسی کوئی بات نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے آفیشل اکانٹ سے 25 مئی کی صبح ڈی چوک پہنچنے کا ٹویٹ ہوا اور اس کے بعد تین بجے شیریں مزاری نے ٹویٹ کر کے ڈی چوک آنے کا کہا جبکہ ایک بجے اسد عمر جی 9، ایچ 9 گرانڈ کی یقین دہانی کروا چکے تھے۔سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ یقین دہانی کے بعد اسد عمر کنٹینر پر عمران خان کے ساتھ موجود تھے۔ عدالت نے اس درخواست کی سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔جبکہ پاکستان مسلم لیگ ق کے رہنما اور وزیرِ اعلی پنجاب پرویز الہی کے صاحب زادے مونس الہی نے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر ایک طبقہ باجوہ صاحب پر تنقید کر رہا ہے، یہ وہی باجوہ صاحب ہیں جنھوں نے سمندر کا سارا رخ پی ٹی آئی کے لیے موڑا ہوا تھا، تب وہ بالکل ٹھیک تھے۔انھوں نے کہا کہ اب آج وہ ٹھیک نہیں رہے، میرا اس چیز پر پی ٹی آئی سے اتفاق نہیں کرتا۔ جب تک وہ آپ کی سپورٹ میں سب کچھ کر رہا تھا تب تک وہ بالکل ٹھیک تھا، اب وہ غدار ہو گیا ہے۔میں نے پی ٹی آئی والوں سے کہا ہے کہ آپ ٹی وی پر آ کر بتا کہ وہ غدار کیسے ہے اور میں یہ بتاوں گا کہ اس بندے نے تمھارے لیے کیا کیا کچھ کیا ہے۔انھوں نے کہا کہ پتا نہیں آپ کو یاد ہے یا نہیں لیکن اس وقت تو خان صاحب اور توپوں کا رخ میری طرف تھا۔ لیکن ان چیزوں کو اپنے اوپر سوار نہیں کیا کہ یار تب میرے ساتھ یہ ہوا تھا تو اب میں یہ کروں گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میری نظر میں تو باجوہ صاحب کا کردار بالکل برا نہیں تھا، اگر برا ہوتا تو وہ کبھی مجھے یہ نہ کہتا کہ آپ عمران خان کے ساتھ جائیں۔انھوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جس وقت تحریکِ عدم اعتماد کا وقت قریب تھا تو دونوں طرف سے آفر آ گئی تھی میاں صاحبان سے بھی اور پی ٹی آئی سے بھی۔میرا جھکا پی ٹی آئی کی طرف تھا، یہ سب کو پتا ہے، والد صاحب سے بھی اس بارے میں بحث ہوئی اور انھوں نے (جنرل باجوہ نے)بھی یہی کہا کہ میری خواہش یہی ہے کہآپ پی ٹی آئی کی طرف جائیں۔مونس الہی نے کہا کہ انھوں نے تو اشارہ ہی کرنا تھا، یہاں بھی کہانی بنی ہوئی تھی، وہاں بھی بنی ہوئی تھی انھوں نے ایک اشارہ کرنا تھا۔مونس الہی نے کہا کہ عمران خان اگر کل اسمبلیاں تحلیل کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں لیکن اگر ہمیں اس بارے میں فیصلہ کرنے کا موقع دیا جائے تو ہم اگلا بجٹ پیش کر کے ہی تحلیل کرنا چاہیں گے۔انھوں نے کہا کہ اس وقت بہت سارے ایم پی ایز کو فنڈ تقسیم کیے جانے ہیں تاکہ بزدار حکومت میں شروع ہونے والے پراجیکٹس پر کام کم از کم شروع ہو سکے۔ جبکہ سابق صدر آصف علی زرداری نے نجی ٹی وی چینل ایک خصوصی انٹرویو میں اس امکان کو رد نہیں کیا ہے کہ انتخابات سے قبل نہ صرف سابق وزیراعظم عمران خان گرفتار ہو سکتے ہیں بلکہ وہ توشہ خانہ ریفرنس جیسے کسی کیس میں نااہل بھی ہو سکتے ہیں۔سیاسی رہنماوں کو نااہل کرنے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے کہا کچھ حدود ہونی چاہئیں تاکہ یہ نا ہو کہ آپ نے پیسہ اکٹھا کیا اور نکل لیے۔ ان کے مطابق عمران خان نے تحفہ فروخت کیا ہے اور یہ ان کے خلاف سیدھا مقدمہ ہے۔توشہ خانہ اور دیگر معاملات میں عمران خان کے احتساب پر انھوں نے کہا کہ عمران خان کا احتساب کرنا ہے تو وہ نیب کرے گا، اگر نیب نے احتساب نہ کیا تو خود جواب دے گا۔انھوں نے کہا توشہ خانہ ریفرنس میں انھیں بھی سزا ہوئی اور وہ کیس 25 سال بعد اب جا کر ختم ہوا ہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر آج تک اقتدار میں رہے اور کبھی توشہ خانہ سے کوئی تحفہ لے کر فروخت نہیں کیا ہے۔آصف زرداری نے کہا ہے کہ مقدمات کی بنیاد پر عوام فیصلہ نہیں کرتے ہیں۔ وہ جس رہنما کو چاہتے ہیں اسے ووٹ دیتے ہیں۔ ان کے مطابق ان کے خلاف سالہا سال سے مقدمات قائم کیے گئے مگر لوگ انھیں ووٹ دیتے ہیں تو پھر یہ کون ہوتے ہیں مجھے روکنے والے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے بتایا ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلیوں کو تحلیل سے بچانے کے لیے وہاں عدم اعتماد لے کر آئیں گے۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں بھی ان کے پاس اراکین کی تعداد پوری ہے، بس کچھ گمراہ دوست ہیں، جنھیں واپس لے کر آنا ہے۔جب ان سے اگست یا اکتوبر سے قبل انتخابات سے متعلق سوال پوچھا گیا تو آصف زرداری نے کہا کہ میں نہیں سمجھتا کہ پہلے انتخاب ہمیں یا جمہوریت کو سوٹ کرتا ہے۔آصف زرداری نے کہا کہ اگر پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل ہوں گئیں تو پھر یہاں انتخابات ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق دیکھتے ہیں وہ (عمران خان)کتنے ایم پی اے لے کر آتے ہیں۔ سابق صدر نے کہا کہ اگر وہ اسمبلیاں توڑیں گے تو ہم الیکشن لڑیں گے، اگر نہیں توڑیں تو اپوزیشن کرتے رہیں گے۔انشااللہ ہم پنجاب اورخیبرپختونخوا میں عدم اعتماد لائیں گے۔ کے پی میں سیٹیں ہیں تھوڑے دوست گمراہ ہیں، ان کو واپس لانا ہے۔
Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

نواز شریف پہلے سے بڑھ کر طاقت سے واپس آئے گا۔مریم نواز شریف

نواز شریف کے خلاف سازش کرنے والے سارے کردار اپنے انجام کو ...