بنیادی صفحہ / قومی / اے آر وائی کی معطلی آئین،قانون اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ پی ایف یو جے

اے آر وائی کی معطلی آئین،قانون اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی ہے۔ پی ایف یو جے

کیامیڈیا کو سزاوں کے فیصلے کہیں پردے کے پیچھے ہو رہے ہیں؟
اے آر وائی کی بندش ،جمہوری اقدار کی دعویدار سیاسی جماعتوں کے نظریے پر سوالیہ نشان ہے,چینل بند کرنے کی وجہ قرار دی گئی خفیہ ایجنسیوں کی منفی رپورٹس سے ہمیں آگاہ کیا جائے,احتجاج اور قانونی راستے کے تعین کیلئے فیڈرل ایگزیکٹو کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب
رپورٹ:ایسوسی ایٹڈ پریس سروس
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے وزارت داخلہ کی جانب سے منفی ریمارکس کو بنیاد بنا کر ایک بڑے نجی ٹی وی چینل کی بندش پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ پی ایف یو جے کے صدر افضل بٹ اور سیکرٹری جنرل ارشد انصاری نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ 12 اگست شام 7 بجے تک اے آر وائی ٹی وی چینل کو بحال کیا جائے لیکن حکومت نے ان احکامات پر عملدرآمد کی بجائے بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے وزارت داخلہ کے ذریعے "ایجنسیوں کی منفی رپورٹس” کی بنیاد پر جس طرح اچانک اے آر وائی کا اجازت نامہ (این او سی) منسوخ کیا ہے، اس سے کئی شکوک و شبہات نے جنم لیا ہے، کیونکہ اے آر وائی سے وابستہ صحافیوں پر بغاوت کے مقدمات کے اندراج، شوکاز نوٹس سے پہلے ٹی وی چینل کی بندش اور ڈائریکٹر نیوز کی گرفتاری کے فوری بعد چند گھنٹوں میں ایجنسیوں کی منفی رپورٹس، وزارت داخلہ کے خط اور پیمرا کے ہنگامی آن لائن اجلاس سے یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ اے آر وائی کے خلاف انتقامی کارووائی کی جا رہی ہے۔ اس لیے پی ایف یو جے حکومت اور حکومتی اداروں سے مطالبہ کرتی ہے کہ پی ایف یو جے کو ایجنسیوں کے ان منفی ریمارکس سے آگاہ کیا جائے، جس کو بنیاد بنا کر آزادی اظہار رائے کا گلا گھونٹا گیا۔ پی ایف یو جے سمجھتی ہے کہ عدالتوں سے ان مقدمات کا فیصلہ آنے تک انتظار کر لیا جاتا تو یہ تاثر نہ ابھرتا کہ میڈیا کو سزاوں کے فیصلے کہیں پردے کے پیچھے ہو رہے ہیں۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ پی ایف یو جے آزادی اظہار کی علمبردار اور صحافیوں کے معاشی حقوق کی نگہبان ہے۔ اے آر وائی کی بندش سے ہزاروں صحافی اور میڈیا ورکرز بے روزگار ہو گئے ہیں۔ اس لیے اے آر وائی کو فوری طور پر بحال کیا جائے بصورت دیگر پی ایف یو جے پرامن احتجاج کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ پی ایف یو جے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ افراد سے ملک کے آئین، قانون اور اداروں کے احترام کا تقاضا کرتی ہے اور ان سے مطالبہ کرتی ہے کہ آزادی اظہار کے ساتھ ساتھ چینلز کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہیے اور وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو پاکستان کے آئین اور اداروں کے تقدس کے منافی ہوں۔ مشترکہ بیان میں خدشہ ظاہر کیا گیا کہ ایجنسیوں کی منفی رپورٹ کو بنیاد بنا کر اے آر وائی کو کہیں مستقل بند نہ کر دیا جائے اور یہی عمل مستقبل میں دیگر ٹی وی چینلز کا گلا دبانے کا جواز بھی بنایا جا سکتا ہے۔ پی ایف یو جے کی قیادت نے کہا کہ اے آر وائی کی بندش کا فیصلہ نہ صرف آزادی اظہار کے حق منافی ہے بلکہ اس سے دنیا بھر میں پاکستان کے عزت و وقار پر حملے اور مملکت خداداد پاکستان کی جگ ہنسائی کی راہ ہموار ہو گی کیونکہ پاکستان میں 2002 میں نجی ٹی وی چینلز کے لائسنس کی فراہمی کے آغاز سے لے کر اب تک ایسے سنگین اقدامات کی مثال نہیں ملتی، یہ اقدام بذات خود جمہوری اقدار کی دعویدار سیاسی جماعتوں کے نظریے پر سوالیہ نشان ہے۔ پی ایف یو جے موجودہ اتحادی حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ فوری طور پر اے آر وائی کو پرانے نمبروں پر بحال کیا جائے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے موجودہ صورتحال کے تناظر میں فیڈرل ایگزیکٹو کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں آئندہ کی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔ ایک غیر معمولی قدم اٹھاتے ہوئے پاکستان الیکٹرونک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی(پیمرا) نے اے آر وائی نیوز کا آپریٹنگ لائسنس منسوخ کر دیا۔ اس سے قبل وزارت داخلہ کی جانب سے چینل کی سیکیورٹی کلیئرنس واپس لے لی گئی تھی، جس سے ٹی وی کی مستقل بندش کی راہ ہموار ہو گئی تھی۔قبل ازیں ایک نوٹیفکیشن میں، وزارت داخلہ نے کہا تھا کہ ‘ایم/ایس اے آر وائی کمیونکیشن پرائیویٹ لمیٹڈ (اے آر وائی نیوز) کے حق میں جاری کیا گیا این او سی ایجنسیوں کی جانب سے منفی اطلاعات کی بنیاد پر فوری طور پر اور اگلے احکامات تک منسوخ کر دیا گیا ہے۔پیمرا کی جانب سے یہ فیصلہ اپنے 172ویں اجلاس کے دوران کیا گیا جس کی صدارت دوبارہ تعینات ہونے والے چیئرمین سلیم بیگ نے کی۔ریگولیٹری اتھارٹی کے ذرائع نے بتایا کہ سلیم بیگ نے تین دیگر اراکین کی موجودگی میں اجلاس کی صدارت کی، جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے چیئرمین اور سیکریٹری داخلہ سمیت چار اراکین ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شامل ہوئے۔آپریٹنگ لائسنس کی تجدید کے بارے میں تفصیلی معلومات اور پس منظر کے بعد اجلاس کے ورکنگ پیپر میں کہا گیا کہ وزارت داخلہ نے 10.11.2021 کے خط کے ذریعے ابتدائی طور پر اے آر وائی کمیونیکیشن لمیٹڈ کے سیٹلائٹ ٹی وی لائسنس کی تجدید کے لیے این او سی/ سیکیورٹی کلیئرنس دی تھی۔تاہم وزارت نے میسرز اے آر وائی کمیونیکیشن لمیٹڈ (اے آر وائی نیوز) کے حوالے سے 11.8.2022 کے یک خط کے ذریعے این او سی واپس لے لیا ہے۔خط میں کہا گیا کہ ‘وزارت داخلہ کی جانب سے اس بات کے پیش نظر اور اس حقیقت کی بنیاد پر کہ سیکیورٹی کلیئرنس کی لازمی ضرورت پوری نہیں ہوئی این او سی واپس لے لیا گیا ہے، اے آر وائی کمیونیکیشن لمیٹڈ کی جانب سے لائسنس کی مزید 15 سال کی مدت کے لیے تجدید کی درخواست پر عمل نہیں ہوسکے گا۔اگرچہ چیئرمین پیمرا اور ڈی جی طاہر شیخ دونوں نے اجلاس کے نتائج کے حوالے سے سوالات کا جواب نہیں دیا تاہم ذرائع نے تصدیق کی کہ اتھارٹی نے وزارت داخلہ کی جانب سے بھیجے گئے نوٹیفکیشن کی منظوری دے دی ہے اور الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹر اب ملک بھر میں چینل کی نشریات کو ‘قانونی طور پر’ بند کر سکتا ہے۔تاہم کراچی سمیت کئی شہروں میں جمعہ کی شب بھی اے آر وائی کی نشریات جاری رہی کیونکہ اتھارٹی نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ نوٹس جاری نہیں کیا تھا۔اے آر وائی انتظامیہ نے پابندی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نیٹ ورک کو وفاقی حکومت کی جانب سے نشانہ بنایا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ‘نیوز چینل سے وابستہ 4ہزار سے زیادہ میڈیا کارکنوں کے معاشی قتل’ کے مترادف ہے، وزارت داخلہ کے نوٹیفکیشن کو عدالتوں میں لے جایا جائے گا کیونکہ یہ بغیر کسی نوٹس کے جاری کیا گیا۔ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز کے صدر اظہر عباس نے اسے ‘ضرورت سے زیادہ اقدام’ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ اس طرح کے اقدامات کبھی کام نہیں آئے، انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ فیصلہ فوری واپس لے۔ وفاقی وزارت داخلہ نے نجی ٹی وی چینل ‘اے آر وائی نیوز’ کا نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ(این او سی) منسوخ کردیا جبکہ چینل کی انتظامیہ نے حکومتی اقدام کی مذمت کی ہے۔وفاقی وزارت داخلہ سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ‘اے آر وائی کمیونیکیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ(اے آر وائی) نیوز کو جاری این او سی منسوخ کردیا گیا ہے اور اس پر فوری عمل درآمد ہوگا’۔نوٹیفیکیشن کے مطابق ایجنسیوں کی جانب سے ناسازگار رپورٹ کی بنیاد پر اے آر وائی نیوز کو جاری کیا جانے والا این او سی اگلے احکامات آنے تک فوری طور پر منسوخ کیا جا رہا ہے۔اے آر وائی کی انگریزی ویب سائٹ میں اس اقدام کو پاکستان مسلم لیگ(ن)کی سربراہی میں اتحادی حکومت کی جانب سے نیوز چینل سے منسلک 4 ہزار سے زائد میڈیا کارکنان کا معاشی قتل قرار دیا۔چینل نے ردعمل میں کہا کہ یہ صحافی برادری کے خلاف ایک نیا قدم ہے اور یہ بغیر کسی نوٹس کے کیا گیا ہے۔چینل کی انتظامیہ نے مزید بتایا کہ انتظامیہ چینل کی نشریات معطل کرنے کے اقدام کی مذمت کرتی ہے، وفاقی حکومت چینل کو نشانہ بنا رہی ہے۔خیال رہے کہ دو روز قبل سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے نیوز چینل کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کا جواب دینے کی مدت میں 15 اگست تک کی توسیع کرتے ہوئے اے آر وائی نیوز کو کیبل میں بحال کرنے کا حکم دے دیا تھا۔عدالت نے چینل کے وکیل کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) رہنما شہباز گل کو مزید عدالتی احکامات تک چینل میں پیش نہ کرنے کی یقین دہانی پر پیمرا کو چینل کا لائسنس معطل یا منسوخ کرنے سے 17 اگست تک روک دیا تھا۔جسٹس ذوالفقار احمد خان کی سربراہی میں سنگل جج بینچ نے کہا تھا کہ شوکاز نوٹس کا مناسب جواب جمع کرانے پر پیمرا چینل کی گزارشات پر غور کرنے کے لیے آزاد ہوگا اور مدعی کو اس بات کو یقینی بنانے کا منصفانہ موقع دیا جائے گا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں لیکن 17 اگست تک کوئی حتمی حکم جاری نہیں کیا جائے گا۔دوسری جانب پی ٹی آئی کے رہنما شہباز گِل کی جانب سے اے آر وائی سے بات کرتے ہوئے متنازع بیان کے سلسلے میں درج مقدمے کے تحت چینل کے سینیئر نائب صدر کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم سندھ ہائی کورٹ نے ان کا نام مقدمے سے خارج کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے رہائی کا حکم دیا تھا۔پی ٹی آئی رہنما کے متنازع بیان پر 8 اگست کو کراچی کے علاقے میمن گوٹھ کے پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے میں اے آر وائی کے سی ای او سلمان اقبال، اینکر پرسنز ارشد شریف، خاور گھمن اور عماد یوسف کو مقدمے میں نامزد کیا گیا تھا۔ایف آئی آر ریاست کی جانب سے میمن گوٹھ تھانے کے اسٹیشن ہاس آفیسر انسپکٹر عتیق الرحمن نے درج کروائی تھی جس میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 121، 505، 153، 153-اے، 131، 124-اے، 120، 34 اور 109 شامل کی گئی تھیں۔ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ اے آر وائی نیوز کی جانب سے 8 اگست کو نشر ہونے والے نیوز بلیٹن کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس میں شہباز گل نے پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز ریمارکس ادا کیے۔ایف آئی آر میں الزام لگایا تھا کہ پروگرام میں اس طرح کے خیالات کا اظہار کر کے پی ٹی آئی اور اے آر وائی نیوز واضح طور پر مسلح افواج کے ان حصوں کے درمیان تقسیم پیدا کر رہے ہیں جنہوں نے پارٹی سے وفاداری کا اظہار کیا اور جو وفاداری کا اظہار نہیں کرتے۔شکایت کنندہ نے مزید الزام لگایا تھا کہ شہباز گل مسلح افواج میں نفرت اور بغاوت کے بیج بو رہے ہیں، وہ سرکاری افسران کو حکومت کی ہدایات پر عمل کرنے کے خلاف دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔شکایت کنندہ نے مزید کہا کہ یہ ایک پہلے سے سوچی سمجھی، منظم سازش ہے جسے سندھ اور دیگر صوبوں میں مسلح افواج اور سرکاری محکموں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جارہا ہے۔ایف آئی آر میں کہا گیا تھا کہ یہ واضح ہے کہ پروگرام میں حصہ لینے والے افراد نے پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور سی ای او کے ساتھ مل کر سازش کی تھی اور ان تمام افراد کی طرف سے کیے گئے اس عمل کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔حکومت کی جانب سے اے آر وائی کا لائسنس منسوخ کرنے اقدام پر سیاست دانوں اور صحافیوں نے مذمت کی۔پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کے سیکریٹری جنرل فرحت اللہ بابر نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘اے آر وائی کی سیکیورٹی کلیئنر منسوخ، اس کی 101 معقول وجوہات ہوسکتی ہیں لیکن سوال ہے کہ منسوخی کا اہل کون ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘کیسے اور کس طرح قواعد پر عمل کیا گیا جواب دینا ہوگا، بے ربط طریقے سے ریاستی طاقت کا استعمال بیک فائر ہوگا’۔معروف صحافی طلعت حسین نے ‘سنجیدہ معاملہ’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا جاسکتا ہے۔انہوں نے لکھا کہ ‘گل اقساط کے نتائج ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں’۔کالم نگار شمع جونیجو نے کہا کہ ‘یہ ایک انتہائی قدم ہے’ اور کہا کہ ‘اے آر وائی نیوز کا این او سی ایجنسیوں کی منفی رپورٹس کے باعث منسوخ کردیا گیا ہے’۔پی ٹی آئی کے سینئر رہنما اسد عمر نے کہا کہ ‘تاریخ کے دھارے کو بزدل غیرقانونی اقدامات سے نہیں روکا جاسکتا ہے’۔پی ٹی آئی کے ایک اور رہنما فرخ حبیب نے اس اقدام کی مذمت کی اور کہا کہ حکومت عوام دشمن اقدامات سے ملک کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) اور کیبل آپریٹرز کو اے آر وائے نیوز کی نشریات فوری طور پر بحال کرنے کی ہدایت کی ہے۔ سندھ ہائی کورٹ نے پیمرا کی جانب سے نیوز چینل کو جاری کیے گئے شوکاز نوٹس کا جواب دینے کی مدت میں 15 اگست تک کی توسیع کردی۔ساتھ ہی عدالت نے چینل کے وکیل کی جانب سے عدالت کو اس بات کی یقین دہانی کے بعد کہ پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کو مزید عدالتی احکامات تک چینل پر پیش ہونے کی اجازت نہیں ہوگی پیمرا کو چینل کا لائسنس معطل یا منسوخ کرنے سے 17 اگست تک روک دیا۔تاہم جسٹس ذوالفقار احمد خان کی سربراہی میں سنگل جج بینچ نے کہا کہ شوکاز نوٹس کا مناسب جواب جمع کرانے پر پیمرا چینل کی گزارشات پر غور کرنے کے لیے آزاد ہوگا اور مدعی کو اس بات کو یقینی بنانے کا منصفانہ موقع دیا جائے گا کہ تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے لیکن 17 اگست تک کوئی حتمی حکم جاری نہیں کیا جائے گا۔وکیل نے مزید کہا کہ مدعی ان افراد کے حوالے سے انتہائی احتیاط برتیں گے جو اس طرح کے الفاظ کہنے یا کسی مقف کا اظہار کرنے کا رجحان رکھتے ہیں اور مستقبل میں اسی طرح کے شوکاز نوٹس کے اجرا کی بنیاد بن سکتے ہیں۔بینچ نے یہ ہدایات نیوز چینل کی انتظامیہ کی جانب سے 8 اگست کو پیمرا کی جانب سے جاری کردہ شوکاز نوٹس کو مسترد کرتے ہوئے دائر مقدمے کی ابتدائی سماعت کے دوران جاری کیں۔پیمرا کے وکیل نے کہا کہ اتھارٹی نے چینل پر پابندی کا کوئی حکم جاری نہیں کیا اور نہ ہی کسی کیبل آپریٹر کو چینل کو کیبل سے ہٹانے کا کوئی حکم جاری کیا۔عدالت نے درخواست پر پیمرا اور دیگر مدعا علیہان کے ساتھ ساتھ ڈپٹی اٹارنی جنرل کو بھی 17 اگست کے لیے نوٹس جاری کردیے۔ نیوز پروگرام کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کے متنازع ریمارکس کے حوالے سے کراچی پولیس نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر (سی ای او) سلمان اقبال اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کر لی ہے۔نجی چینل کے مطابق پولیس نے اے آر وائے نیوز کے سربراہ عماد یوسف کو بھی ڈی ایچ اے میں واقع ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا ہے۔اے آر وائے نیوز کی ویب سائٹ پر پوسٹ کی گئی ایف آئی آر کی کاپی کے مطابق 8 اگست کو درج مقدمے میں پروڈیوسر عدیل راجا، یوسف اور اینکر پرسن ارشد شریف اور خاور گھمن کو بھی نامزد کیا گیا ہے۔ایف آئی آر ریاست کی جانب سے میمن گوٹھ پولیس اسٹیشن کے اسٹیشن ہاس آفیسر انسپکٹر عتیق الرحمن نے درج کروائی تھی۔یہ مقدمہ تعزیرات پاکستان کی دفعات 121، 505، 153، 153-اے، 131، 124-اے، 120، 34 اور 109 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ اے آر وائے نیوز کی جانب سے 8 اگست کو نشر ہونے والے نیوز بلیٹن کا ایک کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا جس میں شہباز گل نے پاک فوج کے خلاف نفرت انگیز ریمارکس ادا کیے تھے۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ ارشد شریف اور خاور گھمن نے اس پروگرام میں تجزیہ کار کے طور پر شرکت کی۔ایف آئی آر میں الزام لگایا کہ پروگرام میں اس طرح کے خیالات کا اظہار کر کے پی ٹی آئی اور اے آر وائے نیوز واضح طور پر مسلح افواج کے ان حصوں کے درمیان تقسیم پیدا کر رہے ہیں جنہوں نے پارٹی سے وفاداری کا اظہار کیا اور جو وفاداری کا اظہار نہیں کرتے۔شکایت کنندہ نے مزید الزام لگایا کہ شہباز گل مسلح افواج میں نفرت اور بغاوت کے بیج بو رہے ہیں، وہ سرکاری افسران کو حکومت کی ہدایات پر عمل کرنے کے خلاف دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔شکایت کنندہ نے مزید کہا کہ یہ ایک پہلے سے سوچی سمجھی، منظم سازش ہے جسے سندھ اور دیگر صوبوں میں مسلح افواج اور سرکاری محکموں کے درمیان نفرت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ یہ واضح ہے کہ پروگرام میں حصہ لینے والے افراد نے پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور سی ای او کے ساتھ مل کر سازش کی تھی اور ان تمام افراد کی طرف سے کیے گئے اس عمل کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔نجی ٹی وی چینل اے آر وائے نیوز کے سینئر وائس پریذیڈنٹ اور صحافی عماد یوسف کو کراچی میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا گیا جس کی صحافی برادری اور
سیاستدانوں نے شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ایک سینئر پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے پر بتایا کہ اے آر وائے کے کچھ افراد کے خلاف میمن گوٹھ میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور اسی سلسلے میں چینل کے سینئر عہدیدار کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔اے آر وائے نیوز کے کنٹرولر نیوز سراج احمد نے عماد کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ دو پولیس موبائل اور ایک ویگو میں سوار کچھ افراد رات دو سے ڈھائی بجے عماد کی کراچی کے علاقے ڈی ایچ اے میں رہائش گاہ پر پہنچے، یہ افراد دیوار پھلانگ کر گھر میں داخل ہوئے اور صحافی کو حراست میں لے لیا۔اے آر وائے نیوز کے مطابق چینل کے ہیڈ آف نیوز عماد یوسف کو کراچی کے علاقے ڈیفنس سے گرفتار کیا گیا، چھاپہ مار ٹیم آدھی رات کو مرکزی دروازے کے اوپر سے کودی اور گھر میں تور پھوڑ کرنے کے ساتھ ساتھ چادر اور چاردیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔سینئر صحافیوں اور صحافتی برادری نے عماد یوسف کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ۔جسے بعد ازاں رہا کردیا گیا۔اے آر وائے نیوز کے سینئر صحافی اور تجزیہ کار کاشف عباسی نے بھی عماد یوسف کی گرفتاری کا دعوی کرتے ہوئے کہا کہ عماد کو کراچی میں ان کی رہائش گاہ سے اٹھا لیا گیا ۔انہوں نے اس عمل ہراساں کرنے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو آدھی رات کو ان کے گھر سے اٹھا لینا انتہائی نامناسب حرکت ہے۔سینئر صحافی عمران ریاض خان نے کہا کہ پاکستانی میڈیا کو بدترین حالات کا سامنا ہے، معروف چینل اے آر وائے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور صحافیوں کو مستقل ہراساں اور گرفتار کیا جا رہا ہے، کراچی میں سینئر صحافی عماد یوسف کو آدھی رات کو ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کر لیا گیا۔اے آر وائے سے منسلک ایک اور سینئر صحافی ارشد شریف نے بھی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہیڈ آف نیوز عماد یوسف کی گرفتاری بدترین ریاستی فاشزم، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور آزادی صحافت کو دبانے کے مترادف ہے۔ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا نیوز ڈائریکٹر ایسوسی ایشن(ایمنڈا) نے اے آر وائے نیوز کے ہیڈ آف نیوز کی گرفتاری پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ایمنڈا نے عماد یوسف کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو چینلز، صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے خلاف انتہائی خطرناک رجحان قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ چینلز پر نشر ہونے والے پروگرامز میں مہمانوں، تجزیہ کاروں اور سیاستدانوں کی رائے، تبصروں اور بیانات پر میڈیا سے وابستہ افراد کی گرفتاری کو کسی صورت جائز قرار نہیں دیا جا سکتا اور اے آر وائے کی جانب سے متعلقہ تبصرے سے لاتعلقی، لاعلمی اور مذمت کی وضاحت کے بعد عماد یوسف کی گرفتاری سمجھ سے بالاتر ہے۔ایمنڈا نے وزیراعظم، وزیر اطلاعات اور وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ وہ حالیہ واقعات کا فی الفور نوٹس لیں اور ان کے سدباب کے لیے اقدامات کریں۔تحریک انصاف کی سینئر رہنما شیریں مزاری نے اپنی ٹوئٹ میں گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اے آر وائے نیوز کے عماد یوسف کو رات گئے گرفتار کر لیا گیا، پہلے ہی ارشد شریف جیسے صحافیوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی شرمناک ہے کہ میڈیا کی آزادی کے لیے آوازیں اٹھانے والے آج صرف اس لیے خاموش ہیں کیونکہ وہ اے آر وائے کو ناپسند کرتے ہیں۔تحریک انصاف کے ایک اور مرکزی رہنما اسد عمر نے بھی اس عمل کی مذمت کی اور کہا کہ اے آر وائے کی بندش اور سینئر نائب صدر عماد یوسف کی گرفتاری فاشزم ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے سیاستدانوں کے خلاف کریک ڈان کیا گیا، پھر میڈیا پر طاقت کا استعمال کیا جا رہا ہے، کیا اگلی باری عدلیہ کی ہے؟۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی ٹی وی چینل اے آر وائے نیوز کو اپنے شو میں سابق وزیرِا عظم عمران خان کے ترجمان شہباز گل کا تبصرہ نشر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کا بیان مسلح افواج کی صفوں میں بغاوت کے جذبات اکسانے کے مترادف تھا۔اے آر وائے کے ساتھ گفتگو کے دوران ڈاکٹر شہباز گل نے الزام عائد کیا تھا کہ حکومت، فوج کے نچلے اور درمیانے درجے کے لوگوں کو تحریک انصاف کے خلاف اکسانے کی کوشش کر رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ فوج میں ان عہدوں پر تعینات اہلکاروں کے اہل خانہ عمران خان اور ان کی پارٹی کی حمایت کرتے ہیں جس سے حکومت کا غصہ بڑھتا ہے۔انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا تھا کہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کا اسٹریٹجک میڈیا سیل پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور مسلح افواج کے درمیان تفرقہ پیدا کرنے کے لیے غلط معلومات اور جعلی خبریں پھیلا رہا ہے۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

سازش اپوزیشن نے نہیں کی تھی، سازش عمران خان نے کی تھی، اسحق ڈار

آڈیو لیک : ملک کے ساتھ کتنا بڑا کھیل کھیلا گیا، مریم ...