بنیادی صفحہ / قومی / حکومت کا شہباز شریف کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کا فیصلہ

حکومت کا شہباز شریف کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کا فیصلہ

رپورٹ: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس
قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف نے منی بجٹ پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ عمران نیازی آئی ایم ایف کے آگے ڈٹ جائے گا لیکن ایک ارب ڈالر کی خاطر عمران نیازی گھٹنے ٹیک چکے ہیں۔قومی اسمبلی کا اجلاس بدھ کو منعقد ہوا جہاں منی بجٹ پر بحث کی گئی اور قائد حزب اختلاف نے منی بجٹ پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔شہباز شریف نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو سمیت سابقہ حکومتوں کی کاوشوں سے پاکستان ایٹمی طاقت بنا لیکن اس منی بجٹ سے ہمارے پاں بیڑیوں میں جکڑے جائیں گے، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ہاتھ میں آپ کے کشکول ہو اور دوسرے میں ایٹمی طاقت ہو، کیا کبھی آگ اور پانی اکٹھے چل سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے، یا کشکول رکھیں یا آپ کو اپنی ایٹمی طاقت پر سمجھوتہ کرنا ہو گا لہذا ہمیں بہت سوچ سمجھ کر یہ فیصلے کرنے ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ وزیر خزانہ نے کہا تھا کہ عمران نیازی آئی ایم ایف کے آگے ڈٹ جائے گا، انہوں نے کہا تھا کہ منی بجٹ نہیں آئے گا اور ٹیکس فری بجٹ ہو گا، آج سات ماہ بعد منی بجٹ بھی آ رہا ہے اور اب ٹیکسز بھی لگائے جا رہے، پی ٹی آئی حکومت نے صرف ایک ہی چیز میں اعلی مہارت حاصل کی ہے اور وہ یوٹرن ہے، جو دعوی کرتے ہیں اس پر مکر جاتے ہیں، ٹیکس فری بجٹ اور منی بجٹ پر بھی انہوں نے اپنی روایات کے مطابق یوٹرن مارا۔قائد حزب اختلاف نے مزید کہا کہ غربت ور بیرزگاری سے ستائے ہوئے عوام پر اس منی بجٹ میں مزید 350ارب روپے کے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں، اس سے بڑا ظلم اور کیا ہو سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب اسد عمر وزیر خزانہ بنے تو انہوں نے منی بجٹ میں 400ارب روپے کے ٹیکس لگائے، اس کے بعد شبر زیدی اور عبدالحفیظ شیخ کی جوڑی آئی، انہوں نے 700ارب کے ٹیکس لگائے اور پھر شوکت ترین آئے اور انہوں نے 300ارب روپے کے ٹیکس بڑھائے اور 350ارب روپے کے ٹیکس لگانے کا مزید نسخہ اس منی بجٹ میں لے آئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ سارے ملا کر 1700ارب روپے کے ٹیکس بنتے ہیں اور اس کے باوجود بھی جی ڈی پی کی مناسبت سے ٹیکس کی شرح وہ نہیں ہے جو ہم نے 2018 میں چھوڑی تھی۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ ہمیں جو اطلاعات موصول ہو رہی ہیں اس کے مطابق اس سال پاکستان کی سب سے زیادہ درآمدات ہوں گی، یہ سال تاریخ میں سب سے زیادہ خسارے والا سال ہو گا، تجارتی خسارہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کووڈ نے ایک طرح سے ان کو ریسکیو کر لیا کیونکہ ہمارا تجارتی خسارہ توازن میں رہا لیکن جونہی برآمدات اور درآمدات بڑھیں تو یہ خسارہ دن رات بڑھ رہا ہے اور ان کے کنٹرول میں نہیں ہے، نہ یہ ڈالر کو کنٹرول کر سکے، نہ مہنگائی اور غربت کو کنٹرول کر سکے، نہ بیروزگاری اور خسارے کو کنٹرول کر سکے، نہ یہ مری کے حادثے کو کنٹرول کر سکے، ان کے بس میں ہے کیا، اس سے زیادہ نااہل اور منحوس حکومت پاکستان کی تاریخ میں آج تک نہیں آئی۔مسلم لیگ(ن) کے صدر نے کہا کہ ہمارا گردشی قرضہ 2700ارب روپے پر پہنچ چکا ہے، ہم نے جب حکومت چھوڑی تو یہ 1100ارب تھا، ان تین سالوں میں بجلی کی قیمتیں ایک سے زائد مرتبہ بڑھائی گئیں اور اس کی وجہ حکومتی بینچوں سے یہ پیش کی گئی کہ ہم گردشی قرضوں کو کنٹرول کریں گے لیکن نہ یہ گردشی قرضے کنٹرول ہوئے جبکہ بجلی کی قیمتوں نے پاکستان کی صنعت اور زراعت کو برباد کردیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آج ایک ارب ڈالر کی خاطر عمران نیازی گھٹنے ٹیک چکا ہے، جو قوم بھیک مانگتی ہے اور بھیک کی عادی ہو جاتی ہے وہ کبھی ترقی نہیں کرسکتی۔انہوں نے کہا کہ عوام سے پوچھیں کہ مہنگائی ہے یا نہیں، چند ہفتے قبل خیبر پختونخوا کے غیور عوام نے انہیں بلدیاتی انتخابات میں بتا دیا کہ مہنگائی ہے یا نہیں، اس بدترین شکست نے ان کی آنکھیں کھول دی ہوں گی اور اب انہیں وہاں غریب اور غربت دونوں نظر آتی ہو گی۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف نے کہا کہ اگر آپ کو غریب اور غربت نظر نہیں آرہی تو میں آپ کو بلاخوف و تردید کہہ سکتا ہوں کہ عوام کو پی ٹی آئی اگلے الیکشن میں نظر نہیں آئے گی اور جب شفاف الیکشن ہوں گے تو پاکستان کے کروڑوں عوام کو آٹے دال کا بھا بتائیں گے اور عبرتناک سبق سکھائیں گے۔شہباز شریف نے کہا کہ حکومت نے کبھی اپوزیشن کی بات ماننا پسند نہیں کیا کیونکہ یہ اپنی انا میں گرفتار ہیں، ضد میں رہتے ہیں اور خود کو آئنسٹائن سمجھتے ہیں۔ جبکہ وفاقی کابینہ نے نواز شریف کے معاملے میں مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف کے خلاف لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرلیا۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ وفاق نے طے کیا تھا کہ نواز شریف ملک سے باہر جانا چاہیں تو 7 ارب کا ضمانتی بونڈ دیں گے، اس وقت شہباز شریف نے عدالت سے رجوع کیا اور ان کی شخصی ضمانت پر نواز شریف ملک سے باہر گئے،17 مہینے گزر جانے کے بعد یہ ثابت ہوچکا ہے کہ نواز شریف کا باہر جانا مکمل فراڈ تھا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی صحت سے متعلق بھیجی جانے والی رپورٹس کو پنجاب حکومت نے مسترد کردیا ہے کیونکہ وہ رپورٹس نواز شریف کی پچھلی رپورٹس سے مطابقت نہیں رکھتیں، نواز شریف کی صحت کا ڈراما رچایا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ نے پاکستان ایمبسی کو حکم دیا تھا کہ وہ شریف فیملی سے رابطے میں رہیں اورایمبسی کے ڈاکٹرز نواز شریف کی میڈیکل رپورٹس کا جائزہ لیں، پاکستان ایمبسی ہائی کورٹ نے دو بار شریف فیملی سے رابطہ کیا اور دونوں دفعہ شریف فیملی نے رپورٹس دینے سے انکار کردیا، یہ ثابت کرتا ہے کہ نواز شریف کو باہر بھیجنے کے فراڈ میں شہباز شریف برابر ملوث اور ذمہ دار ہیں۔وفاقی وزیر نے بتایا کہ اٹارنی جنرل کو وفاقی کابینہ نے ہدایت کی ہے کہ لاہور ہوئی کورٹ میں شہباز شریف کوطلب کرکے انہیں حکم دیں کہ وہ اپنے بیان حلفی کے مطابق نواز شریف کو واپس لانے کے اقدامات کریں ورنہ پھر شہباز شریف کو نااہل کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ جعلی بیان حلفی دینا جرم اور آرٹیکل 63 کی خلاف ورزی ہے جس کے تحت شہباز شریف کو سزا ملنی چاہیے۔وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ اسکولز اور بازاروں کی بندش سے متعلق غلط فہمی نہ پھیلائی جائے، پاکستان میں کورونا کی شرح دگنی ہوگئی اور نئی لہر یقینی طور پر سر اٹھا رہی ہے لیکن پاکستان میں 2 بلین ڈالر کی مفت ویکیسنیشن لگائی جاچکی ہے اس لیے حکومت نے متفقہ طو ر پر فیصلہ کیا ہے کہ اس بار لاک ڈاون نہیں کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی معیشت مکمل لاک ڈاون کی متحمل نہیں ہوسکتی، صورتحال کا باریکی سے جائزہ لے رہے ہیں اور شہریوں سے بھی اپیل کی ہے کہ اسکولز، ریسٹورنٹ اور دیگر پبلک مقامات پر ماسک کی پابندی لازمی کریں۔فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں 15 اپریل کو ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے پہلے الیکٹرانک ووٹنگ مشینیں الیکشن کمیشن کو فراہم کردیں گے تاکہ اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات ای وی ایم پر ہو سکیں۔ان ہاوس تبدیلی کے سوال پر وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ زور لگانے کا حق سب کو حاصل ہے۔ مسلم لیگ ن کیاندرونی حالات دیکھ کر تو یہی لگ رہا ہے کہ بہت جلد ان کے اپنے لوگ پارٹی چھوڑ جائیں گے۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا کہ حکومت نے سیاحت کے شعبے کو سب سے زیادہ فروغ دینے کی کوشش کی، 75 سال میں ایک بھی نیا تفریحی مقام نہیں بنایا گیا، تحریک انصاف حکومت میں پہلی بار 13 نئے سیاحتی مقامات بنائے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزارت عظمی سنبھالنے سے پہلے وزیراعظم کمراٹ گئے اور ان کی تصاویر وائرل ہوئیں تو ایک لاکھ لوگ وہاں اکٹھے ہوگئے تھے، اس سے پتا چلتا ہے کہ سیاحت کے شعبے میں کتنا پوٹینشل موجود ہے، اسی لیے وزیر اعظم اسے بڑی اہمیت دیتے ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی معاشی بنیادوں کو کھڑا کرنا ہے تو سیاحت کو بنیادی شعبے کی حیثیت دینا ہوگی،اس مقصد کیلئے مری کی انتظامی ہیبت تبدیل کررہے ہیں، نئے قوانین لے کر آرہے ہیں اور تمام انتظامی معاملات کو ازسرنو ترتیب دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سانحہ مری کے معاملے میں اس بات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ کیا اس واقعے کو ہونے سے روکا جا سکتا تھا؟معاملے کی تفتیش کے لیے پنجاب حکومت نیاعلی افسران پر مشتمل انکوائری کمیٹی بنادی ہے۔ جو سات دن میں اپنی رپورٹ دے گی، واقعے کے بعد تمام سول ایجنسیز اور افواج پاکستان نے 24 گھنٹوں کے اندر لاکھوں لوگوں کو جس طرح ریسکیو کیا وہ وہ قابل تعریف ہے اور اس سے ریسکیو شعبے پر اعتماد بڑھا۔انہوں نے کہا کہ وفاقی کابینہ نے اعظم جمیل کو معاون خصوصی برائے سیاحت متعین کیا ہے، اعظم جمیل کو سیاحت کی کوآرڈی نیشن کمیٹی کا بھی سربراہ بنادیا گیا ہے اورانہیں سیاحت کے شعبے کو مزید منظم کرنے کی ذمہ دا ری دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سانحہ مری کیباوجود کالام، کاغان ،ناران اور دیگر بالائی علاقوں میں اس وقت بھی سیاحت کا دباو اور کئی لوگ وہاں اب بھی موجود ہیں۔فواد چوہدری نے کہا کہ خیبر پختونخوا اور پنجاب حکومت ان تمام شہروں میں بھی تمام صورتحال کا بغور جائزہ لے رہی ہے، سانحہ مری کے بعد انتظامیہ کو مزید چوکنا رہنے کی ضرورت ہے، سیاحوں کی تعداد حد سے زیادہ بڑھے تو انتظامیہ کولوگوں کو بروقت متنبہ کرنا ہوگا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ ناران کاغان میں گزشتہ روز ایسی ہی صورتحال کا سامنا تھا جس کیبعد انتظامیہ نے وارننگ جاری کی تھی لیکن اب انتظامیہ کو بروقت وارننگز جاری کرنے کا سلسلہ شروع کرنا ہوگا۔فواد چوہدری نے میڈیا سے بھی اپیل کی کہ سیاحتی مقامات پر گنجائش کے حوالے سے وارننگز کو عوام تک پہنچانے کے لیے مقامی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں۔سانحہ مری میں اموات کی اصل تعداد سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا 22 لوگوں کے ڈیتھ سرٹیفیکیٹس تو موجود ہیں اگر اس کے علاوہ کوئی اموات ہیں توالزام لگانے والے ثبوت بھی فراہم کریں۔انہوں نے بتایا کہ سانحہ مری پر کمیشن بنادیا گیا ہے جو 7 دن میں رپورٹ پیش کرے گا ۔وفاقی وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ نے وزارت تجارت کی سفارش پر کاپی رائٹ بورڈ آف انٹلیکچوئل پراپرٹی آرگنائزیشن کے چیرمین اور ممبران کو تعینات کیا ہے، آصف رشید کوا رگنائزیشن کا چیئرمین تعینات کیا گیا ہے، پنجاب سے آرگنائزیشن کے 2 اور باقی صوبوں سے ایک ایک ممبر تعینات کیا گیا ہے۔وزارت خزانہ کی سفارش پر سکیورٹی ایکسچینج اینڈ کمیشن کو اسلام آباد کیپٹل ٹیرٹری ٹرسٹ ایکٹ 2020 کے تحت کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹ فنڈ کا ریگولیٹر بنانے کی منظوری دی گئی ہے،منظوری کا مقصد غیرقانونی سرمائے کو بیرون ملک منتقل کرنے سے روکنے کے لیے دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں اوورسیز پاکستانیوں کیلئے 4 سو کنال پر بہت بڑا ہاوسنگ پروجیکٹ لانچ کیا جارہا ہے جس میں 6 ہزار اپارٹمنٹس بنائے جائیں گے،اس کا بنیادی مقصد روشن اکاونٹ اسکیم کا حصہ بننے والے پاکستانیوں کے لیے ڈالرز کے ذریعے پاکستان میں پراپرٹی خریدنے کا عمل ممکن بنایا جاسکے، اس پروجیکٹ سے پاکستان 2 بلین ڈالر کما سکے گا اور اوورسیز پاکستانیوں کو بھی اس کا بہت فائدہ ہوگا۔انہوں نے مزید بتایا کہ کابینہ نے وزارت داخلہ ، وزارت خزانہ اور بور ڈ آف انویسٹنمٹ کو ایسی اسکیم تشکیل دینے کی ہدایت کی ہے جس سے غیر ملکیوں کے لیے بھی پاکستان میں قانونی طور پر پراپرٹی خریدنا ممکن بنایا جاسکے۔انہوں نے بتایا کہ مالی سال 21-22 کے لیے سی ڈی اے کے بجٹ کی منظوری دی گئی ہے، سی ڈی اے نے کابینہ کو بتایا ہے کہ 2017-18 میں سی ڈی اے نے 53 ہزار 8 سو 17 مربع گز زمین بیچی جس سے محض 12 اعشایہ 9 ارب روپے محصولات حاصل ہوئے جبکہ 2021 میں سی ڈی اے نے 46 ہزار 7 سو 83 مربع گز زمین بیچی اور اس سے 31 اعشایہ 1 ارب روپے حاصل کیے، مسلم لیگ (ن) دور کے برعکس موجودہ دور میں سی ڈی اے نے کم زمین بیچ کر بھی دگنا منافع حاصل کیا ہے، اس منصوبے کو سی ڈی اے قوانین کے تحت پورا تحفظ حاصل ہوگا۔وزارت صنعت و پیداوار کی سفارش پر چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینیرنگ ڈیولپمنٹ بورڈ رضا عباس شاہ کے کنٹریکٹ میں توسیع وزارت قانون کی تجویز پر دو سال کے لیے موخر کردی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ کابینہ نے وزارت توانائی کی سفارش پر 2020-21 کے چوتھے کوارٹر کے بجلی کے نرخوں کی ایڈجسٹمنٹ کی منظوری د ی ہیجس کے تحت بجلی کے نرخوں کی ایڈجسٹمنٹ 3 اقساط میں صارفین کو دی جائے گی۔ 1 روپیہ فی یونٹ 3 مہینے میں ایڈجسٹ ہوگا جس سے صارفین پر بوجھ کم پڑے گا۔فواد چوہدری نے کہا کہ کابینہ نے ایف بی آر کی سفارش پر نان کسٹم گاڑیوں کی ریگولیشن کی منطوری 2023 تک موخر کردی ہے بین المذاہب ہم آہنگی کی پالیسی ایک ہفتے کے لیے موخر کردی گئی ہے۔ نینشل کمیشن برائے اقلیت میں میں ڈاکٹر لیاقت مسیح کی بطور ممبر تعیناتی کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کابینہ نے سائنس ٹیکنالوجی اور انوویشن پالیسی 2021 کی منظوری دی ہے۔ فیڈرل گورنمنٹ اینالسٹ کی تعیناتی موخر کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی اصلاحات کے 22 دسمبر 2021 کو ہونے والے منعقدہ اجلا س کی بھی توثیق کی گئی ہے۔انہوں نے بتایا کہ نجکاری کے 31 دسمبر 2021 کے منصوبوں کی بھی منظوری دی گئی ہے۔جس کے تحت گدو اور ماری پاور پلانٹ کی نجکاری جاری رہے گی اور اسے جلد از جلد مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر اطلا عاات نے بتایا کہ سمبڑیال کھاریاں موٹروے پروجیکٹ کی منظوری بھی دی گئی ہے، وزیر اعظم نے کھاریاں راولپنڈی موٹروے پروجیکٹ جلد از جلد مکمل کرنے پر زور دیا ہے اور اگلے ہفتے اس حوالے سے میٹنگ بھی ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ چائنا سے ایک ہزار میٹرک ٹن کھاد برآمد کرنے کی منظوری دی گئی ہے، اس مد میں چینی آئی پی پیز کو 50 ارب روپے دے دئیے گئے ہیں جس سے چینی آئی پی پیز کے ساتھ تنازع بھی حل ہوگیا ہے۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

سیاسی غلاظت کا خوش گوار دور جس میں کوئی اور نہیں اتر سکتا

عمران کے مسائل زدہ نقطہ نظر مریم سے مخصوص نہیں ہیں عمران ...