بنیادی صفحہ / قومی / فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن سے معافی مانگ لی

فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن سے معافی مانگ لی

رپورٹ:ایسوسی ایٹڈپریس سروس،اسلام آباد

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے سنگین الزامات کیس میں الیکشن کمیشن پاکستان(ای سی پی) سے معافی مانگ لی۔اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دو رکنی بینچ نے سنگین الزامات کیس کی سماعت کی۔سماعت کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ بہت سارے بیانات میرے نہیں ہیں، یہ میری نوکری بھی ہے۔الیکشن کمیشن نے ریمارکس دیے کہ پہلی بار ایسی نوکری دیکھ رہے ہیں جس میں گالی دینا شامل ہے جس پر وفاقی وزیر نے گالی دینے کے الزام کی تردید کی۔فواد چوہدری نے کمیشن سے معافی کی استدعا کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ میں خود وکیل ہوں جواب میں الجھنا نہیں چاہتا، کیس ختم کرنے کی درخواست کرتا ہوں، میں حکومت کا ماتھ پیس ہوں، معاملے پر معذرت قبول کریں۔تاہم الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری کو تحریری معافی نامہ دینے کی ہدایت کردی۔دوسری جانب وفاقی وزیر اعظم سواتی کی غیر حاضری پر ان کے وکیل نے موقف اپنایا کہ اعظم سواتی سینیٹ اجلاس کے باعث پیش نہیں ہوسکتے۔کمیشن نے ریمارکس دیے کہ الیکشن کمیشن میں پیش نہیں ہوتے جواب جمع نہیں کرایا، سینیٹ کا بہانہ بناتے ہیں، جس کے بعد الیکشن کمیشن نے فواد چوہدری سے تحریری معافی نامہ اور اعظم سواتی کے وکیل سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت 3دسمبر تک ملتوی کردی۔واضح رہے کہ حکومت کی جانب سے الیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کرانے کے فیصلے اور اس پر اپوزیشن کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن کے اعتراضات کے بعد سامنے آنے والا تنازع اس وقت طول پکڑ گیا تھا۔جب 10 ستمبر کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکشن (ترمیمی)ایکٹ 2021 میں مجوزہ ترامیم پر تبادلہ خیال کے دوران اعظم سواتی نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن ہمیشہ دھاندلی میں ملوث رہا ہے اور ایسے اداروں کو آگ لگا دینی چاہیے۔اسی دن شام میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر ‘اپوزیشن کے آلہ کار’ کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر انہیں سیاست کرنی ہے تو الیکشن کمیشن چھوڑ کر الیکشن لڑیں۔الیکشن کمیشن کی جانب سے 16 ستمبر کو جاری نوٹسز میں دونوں وزرا سے ادارے اور اس کے سربراہ یعنی چیف الیکشن کمشنر کے خلاف لگائے گئے الزامات کی حمایت میں ثبوت فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔بعد ازاں الیکشن کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن پر عائد کیے گئے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزرا فواد چوہدری اور اعظم سواتی کو نوٹسز جاری کر دیے تھے۔نوٹس جاری ہونے کے بعد بھی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے 20 ستمبر کو چیف الیکشن کمشنر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ‘اپوزیشن کی زبان میں بات کررہے ہیں اور ہماری حکومت کا مقابلہ کررہے ہیں’۔23 ستمبر کو وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ای سی پی سے نوٹس کا جواب دینے کے لیے چھ ہفتوں کی مہلت طلب کی تھی۔27 اکتوبر کو وفاقی وزیر اطلاعات فواد حسین چوہدری اور وزیر ریلوے اعظم سواتی کو ای سی پی اور سی ای سی پر سنگین الزامات سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران پیش نہ ہونے پر شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے۔شوکاز نوٹس کے باوجود الیکشن کمیشن کے روبروپیش نہ ہونیپر11 نومبر کو دونوں وزرا کو دوسرا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 16 نومبر تک ملتوی کی تھی۔الیکشن کمیشن میں سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں اور میرا پیشہ بھی وکالت ہے اور ہم ججوں اور اداروں کا احترام کر کے آگے چلنے پر یقین رکھتے ہیں اور ہم نے اسی حیثیت کی وضاحت پیش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے امید ہے کہ الیکشن کمیشن اس پر مثبت ردعمل کا اظہار کرے گا۔سابق چیف جسٹس پر الزامات کے حوالے سے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ہم نے ہمیشہ دیکھا ہے کہ جب بھی نواز شریف یا مریم نواز کی پیشی ہوتی ہے کوئی نہ کوئی سازش گھڑی جاتی ہے، کوئی ویڈیو ریلیز کی جاتی یا کوئی حلف نامہ سامنے آجاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے جس طرح پہلے فوج کے خلاف مہم شروع کی تھی اب اسی طرح اداروں کے خلاف مہم شروع کی ہے۔فواد چوہدری نے کہا کہ یہ ایسا عمل ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی جب لیگی رہنماں کو سپریم کورٹ میں بلایا گیا تھا تو انہوں نے سپریم کورٹ پر حملہ کردیا تھا اور یہ بھی عدالت پر حملہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ حملہ ایسے شخص کی طرف سے کیا گیا جس کے خرچے لندن میں نواز شریف کا خاندان اٹھا رہا ہے اور جو انہوں نے حلف نامہ دیا اس کی فیس بھی نواز شریف نے دی اور اس وقت حسین نواز شریف ان سے معاملات طے کر رہے ہیں۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ اگر آپ کسی کا استعمال کرتے ہوئے اداروں کی ساکھ خراب کریں گے تو نتیجتا بحران پیدا ہوگا۔انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے نوٹس لیا ہے، اس کی کارروائی کے حوالے سے کیا پیشرفت سامنے آتی ہے آگے دیکھا جائے گا۔آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) کے استعمال کے معاملے پر وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پارلیمان کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے، ای وی ایم اور انتخابی اصلاحات پی ٹی آئی کا ذاتی ایجنڈا نہیں ہے یہ قومی ایجنڈا ہے، جب الیکشن ہوتے ہیں ہم کہتے ہیں ہمیں اصلاحات چاہیے جب حکومت اصلاحات کی طرف جارہی ہے تو اپوزیشن شور مچا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ میں اپوزیشن کو کہتا ہوں کہ اجلاس میں وہ کھلے دل سے ترامیم پر گفتگو کریں جہاں وہ ترامیم چاہتے ہیں، وہ ترامیم لے کر آئیں ہم تبادلہ خیال کریں گے، لیکن اصلاحات ہونا لازمی ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ بل کل ہم منظور کروا رہے ہیں، ہمارے اتحادی ہمارے ساتھ ہیں، ہمیں تمام معاملات میں اصلاحات چاہیے، انتخابات میں اصلاحات، میڈیا اور قوانین میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔ جبکہ حکومت نے بالآخر آج بدھ کے روز پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کرلیا تاکہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینز (ای وی ایم) کے استعمال سے متعلق بل سمیت متنازع بلز منظور کرائے جاسکیں۔قانون سازی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے پیر کو حکومتی اتحادیوں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم)اور پاکستان مسلم لیگ (ق) کا اجلاس طلب کیا تھا۔ اجلاس کے بعد بھی اتحادی ای وی ایم اور 90 لاکھ سے زائد سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹنگ کا حق دینے سے متعلق بلز کی حمایت کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہیں۔دوسری جانب وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا اصرار ہے کہ حکومتی اتحادیوں نے وزیر اعظم عمران خان کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا اور انہیں بل کے حق میں ووٹ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔نیوز کانفرنس میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ اتحادی جماعتوں کے تحفظات دور کر دیے گئے ہیں اور حکومت نے متفقہ طور پر بدھ کو پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مشترکہ اجلاس میں انتخابی اصلاحات سمیت دیگر زیر التوا بلز پیش کیے جائیں گے۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ وزیر اعظم نے اتحادیوں کے تحفظات سنے اور ان کے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اتحادیوں نے وزیر اعظم کو یقین دلایا ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش کیے جانے والے تمام 8 یا 10 بلز کی حمایت کریں گے۔دوسری جانب مسلم لیگ (ق) کے سیکریٹری اطلاعات کامل علی آغا نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی رہنما چوہدری پرویز الہی نے ابھی تک اس بات کا فیصلہ نہیں کیا کہ ان کی جماعت بلز کی حمایت کرے گی یا نہیں۔انہوں نے بتایا کہ مسلم لیگ (ق)کی قیادت نے مسلسل 2 روز لاہور میں اجلاس کیے اور اس نتیجے پر پہنچی کہ اگر پارٹی اب بھی حکمران اتحاد سے جڑی رہتی ہے تو یہ ان کے لیے نقصان دہ ہوگا۔کامل علی آغا کا کہنا تھا کہ پارٹی کو حکومت کی ناقص معاشی پالیسیوں، قیمتوں میں بے مثال اضافے، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ، گیس اور بجلی کی قلت، ملک میں بڑھتی ہوئی کرپشن اور لاقانونیت پر تحفظات ہیں۔یہ تاثر دیتے ہوئے کہ ایم کیو ایم نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا، ایم کیو ایم کے سربراہ خالد مقبول نے رابطہ کرنے پر کہا کہ اس معاملے پر پارٹی اجلاس کے بعد بات کریں گے۔تاہم ایک نجی ٹی وی چینل پر خالد مقبول صدیقی کا یہ بیان چلا کہ ای وی ایم کے استعمال پر ایم کیو ایم کے تحفظات دور نہیں کیے گئے۔یاد رہے کہ 10 نومبر کو جب وزیر اعظم عمران خان نے حکمران اتحاد کے اراکین پارلیمنٹ پر زور دیا تھا کہ وہ پارلیمنٹ میں قانون سازی کے حق میں ووٹ دے کر جہاد کریں، اس کے چند ہی گھنٹوں بعد حکومت نے ای وی ایم سے متعلق بل کی منظوری کے لیے بلائے گئے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کو ملتوی کردیا تھا۔وزیر اطلاعات نے بتایا تھا کہ اتحادی جماعتوں نے وزیر اعظم سے کہا تھا کہ قانون سازی کی حمایت کے لیے انہیں اپوزیشن سے رابطہ کرنے کا وقت دیں جس پر اجلاس ملتوی کیا گیا تھا۔تاہم پیر کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں بات کرتے ہوئے وزیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے بتایا کہ پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بدھ کو دوپہر 12 بجے ہوگا۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

پاکستان، کینیڈا کے ساتھ دو طرفہ تعلقات کو خصوصی اہمیت دیتا ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود

کینیڈین وزیر خارجہ کا وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو ٹیلیفون ...