بنیادی صفحہ / قومی / سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر الزام، سابق جج رانا شمیم اسلام آباد ہائیکورٹ طلب

سابق چیف جسٹس ثاقب نثار پر الزام، سابق جج رانا شمیم اسلام آباد ہائیکورٹ طلب


رپورٹ: چودھری احسن پریمی:ایسوسی ایٹڈ پریس سروس
پاکستان کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم کی جانب سے لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے من گھڑت قرار دے دیا۔رانا شمیم نے میاں ثاقب نثار پر سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 2018 کے عام انتخابات سے قبل ضمانت نہ دینے کی ہدایات دینے کا الزام لگایا تھا۔انگریزی اخبار کی تحقیقاتی رپورٹ میں رانا شمیم کے حوالے سے کہا گیا کہ انہوں نے مبینہ حلف نامے میں کہا کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے جج کو کرپشن ریفرنسز میں نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کی ہدایات دیں۔اس ضمن میں خبررساں نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس سروس اور روزنامہ ایف آئی آر بھی اس دستاویز کی صداقت کی تصدیق کی کوشش کر رہا ہے۔مبینہ حلف نامے میں رانا شمیم نے دعوی کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان 2018 میں چھٹیاں گزارنے گلگت بلتستان آئے تھے اور ایک موقع پر وہ فون پر اپنے رجسٹرار سے بات کرتے بہت پریشان دکھائی دیے اور رجسٹرار سے ہائی کورٹ کے جج سے رابطہ کرانے کا کہا۔رانا شمیم نے کہا کہ ثاقب نثار کا بالآخر جج سے رابطہ ہوگیا اور انہوں نے جج کو بتایا کہ نواز شریف اور مریم نواز انتخابات کے انعقاد تک لازمی طور پر جیل میں رہنا چاہیے، جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو ثاقب نثار پرسکون ہو گئے اور چائے کا ایک اور کپ طلب کیا۔دستاویز کے مطابق اس موقع پر رانا شمیم نے ثاقب نثار کو بتایا نواز شریف کو جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے، جس پر سابق چیف جسٹس نے کہا کہ رانا صاحب، پنجاب کی کیمسٹری گلگت بلتستان سے مختلف ہے۔تاہم ثاقب نثار نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کی اور رپورٹ کو خود ساختہ کہانی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب کے معاملے کے حوالے سے میں نے کسی سے یا کسی جج سے کوئی بات نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں رانا شمیم سے صرف وہ گفتگو یاد ہے جب انہوں نے انہیں ان کی اہلیہ کی وفات پر تعزیت کے لیے بلایا تھا۔ثاقب نثار نے کہا کہ اس وقت انہوں نے اپنی مدت میں توسیع کے متعلق شکوہ کیا جبکہ ان کی ان دعووں کے پیچھے کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ دعوے بالکل بے بنیاد ہیں۔سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے معاملے پر عوامی سطح پر بیان جاری نہ کرنے کے حوالے سے سوال پر کہا کہ میں کیوں کروں؟ میں ان کی سطح پر نہیں جھکنا چاہتا۔دریں اثنا پاکستان مسلم لیگ (ن)کے صدر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ دھماکہ خیز رپورٹ عوام کی عدالت میں نواز شریف اور مریم نواز بے گناہی کا ایک اور ثبوت ہے۔انہوں نے کہا کہ رپورٹ نے ملازمین کی گرینڈ اسکیم سے پردہ اٹھا دیا ہے جس کے ذریعے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور ان کی بیٹی کو نشانہ بنایا گیا۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سیکریٹری اطلاعات مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف گھناونی سازشیں کرنے والوں کو اللہ بے نقاب کر رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ تازہ ترین پیش رفت سے نواز شریف اور مریم نواز معصوم ثابت ہوئے ہیں۔مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ واقعے میں ملوث افراد کو سزا دی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ سازش صرف مریم نواز کے خلاف نہیں بلکہ پورے پاکستان اور اس کے لوگوں کے خلاف کی گئی تھی۔لیگی رہنما محمد زبیر کا کہنا تھا کہ وہ ہمیشہ سے اس حوالے سے جانتے تھے لیکن آج یہ مسئلہ عوامی سطح پر آگیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دونوں کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔انہوں نے کہا کہ جب ثاقب نثار بے نقاب ہوگئے ہیں تو نواز شریف اور مریم نواز کے خلاف مقدمات ختم ہونے چاہیے۔دوسری جانب وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ کیسے کیسے لطیفے نواز شریف کو مظلوم ثابت کرنے کے لیے مہم چلا رہے ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ بیوقوفانہ کہانیاں اور سازشی تھیوریاں گھڑنے کے بجائے نواز شریف کو چاہیے وہ ایون فیلڈ اپارٹمنٹ کے لیے اپنی دولت کے ذرائع بتائیں۔وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل نے کہا کہ اچانک سامنے آنے والی پیش رفت کی وجہ ایون فیلڈ ریفرنس میں مریم نواز کی فیصلے کے خلاف درخواست کی سماعت ہے۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسے مخر کرنا چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شمیم صاحب کے خلاف مقدمہ درج ہونا چاہیے، انہوں نے یہ راز اتنے سالوں تک چھپا کر کیوں رکھا۔انہوں نے سوال کیا کہ رانا شمیم کو گلگت بلتستان کا جج کس نے نامزد کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ بھی بتا دیں لندن کے اپارٹمنٹس کے پیسے کہاں سے آئے، ابھی اور ڈرامے بھی ہوں گے عدالتوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر کے مریم بی بی کی اپیل کو رکوانے کے لیے، وڈیو بنانے سے خواب سنانے تک کے بجائے رسیدیں دیں۔جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے انگریزی روزنامہ میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے حوالے سے شائع خبر کو عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کے مترادف قرار دیتے ہوئے گلگت بلتستان کے سابق چیف جج رانا شمیم، اخبار کے ایڈیٹر عامر غوری، میر شکیل الرحمن اور انصار عباسی سمیت فریقین کو طلب کرلیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ سے جاری حکم نامے میں کہا گیا کہ رجسٹرار آفس نے انگریزی اخبار میں چھپنے والی خبر کی طرف توجہ دلائی جس میں یہ کہا گیا کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے 2018 انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کی ہدایت کی۔اس حوالے سے کہا گیا کہ انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی خبر زیر التوا کیس سے متعلق ہے جس کی ڈویژن بینچ کو 17 نومبر 2021 کو سماعت کرنی ہے۔عدالتی حکمنامے میں کہا گیا کہ عدالت سے باہر کسی قسم کا ٹرائل عدالتی کارروائی پر اثرانداز ہونے کے مترادف اور ایک جرم ہے۔اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ انگریزی اخبار میں شائع ہونے والی خبر بادی النظر میں زیر سماعت مقدمے کی عدالتی کارروائی پر اثر ہونے کی کوشش ہے اور سنگین نوعیت کی توہین عدالت ہے جبکہ یہ عدالت کو متنازع بنا کر انصاف کی فراہمی پر عوام کے اعتماد کو مجروح کرنے کے بھی مترادف ہے۔عدالت نے اپنے تحریری حکمنامے میں کہا کہ انصاف کی فراہمی میں شفافیت برقرار رکھنا عوام کے مفاد میں ہے اور بادی النظر میں مذکورہ رپورٹ آزاد عدلیہ اور اس کے ججوں پر عوام کے اعتماد پر اثرانداز ہونے کی کوشش نظر آتی ہے۔انہوں نے کہاکہ قانون کی حکمرانی برقرار رکھنے کے لیے عدالت کے وقار کا تحفظ ناگزیر ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ تنازعات کو شفاف اور کسی اثرورسوخ کے بغیر حل کیا جا سکے۔حکمنامے میں کہا گیا کہ عدالت میر شکیل الرحمن، عامر غوری، انصار عباسی اور سابق چیف جسٹس گلگت بلتستان رانا محمد شمیم کوآج ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کے لیے نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتی ہے۔اس سلسلے میں مزید کہا گیا کہ تمام فریقین پیش ہو کر بتائیں کہ ان کے خلاف توہین عدالت آرڈیننس 2003 کے تحت کارروائی کیوں نہ کی جائے جبکہ اٹارنی جنرل اور ایڈوکیٹ جنرل بھی کل ذاتی حیثیت میں پیش ہوں۔جبکہ اس حوالے سے بتایا گیا تھا کہ چیف جسٹس اطہر من اللہ آج ساڑھے 10 بجے کیس کی سماعت کریں گے۔15 نومبر 2021 کو انگریزی روزنامہ دی نیوز میں صحافی انصار عباسی کی خبر شائع ہوئی جس کی سرخی تھی کہ ثاقب نثار نے 2018 انتخابات سے قبل نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کی ہدایت کی۔انگریزی اخبار دی نیوز میں صحافی انصار عباسی کی تحقیقاتی رپورٹ میں سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم کے حوالے سے کہا گیا کہ انہوں نے مبینہ حلف نامے میں کہا کہ وہ اس بات کے گواہ ہیں کہ ثاقب نثار نے ہائی کورٹ کے جج کو کرپشن ریفرنسز میں نواز شریف اور مریم نواز کو ضمانت نہ دینے کی ہدایات دیں۔مبینہ حلف نامے میں رانا شمیم نے دعوی کیا ہے کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان 2018 میں چھٹیاں گزارنے گلگت بلتستان آئے تھے اور ایک موقع پر وہ فون پر اپنے رجسٹرار سے بات کرتے بہت پریشان دکھائی دیے اور رجسٹرار سے ہائی کورٹ کے جج سے رابطہ کرانے کا کہا۔رانا شمیم نے کہا کہ ثاقب نثار کا بالآخر جج سے رابطہ ہوگیا اور انہوں نے جج کو بتایا کہ نواز شریف اور مریم نواز انتخابات کے انعقاد تک لازمی طور پر جیل میں رہنا چاہیے، جب دوسری جانب سے یقین دہانی ملی تو ثاقب نثار پرسکون ہو گئے اور چائے کا ایک اور کپ طلب کیا۔دستاویز کے مطابق اس موقع پر رانا شمیم نے ثاقب نثار کو بتایا نواز شریف کو جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے، جس پر سابق چیف جسٹس نے کہا کہ رانا صاحب، پنجاب کی کیمسٹری گلگت بلتستان سے مختلف ہے۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی سختی سے تردید کی اور رپورٹ کو خود ساختہ کہانی قرار دیا۔انہوں نے کہا کہ میں نے میاں صاحب کے معاملے کے حوالے سے کسی سے یا کسی جج سے کوئی بات نہیں کی۔ان کا کہنا تھا کہ انہیں رانا شمیم سے صرف وہ گفتگو یاد ہے جب انہوں نے انہیں ان کی اہلیہ کی وفات پر تعزیت کے لیے بلایا تھا۔ثاقب نثار نے کہا کہ اس وقت انہوں نے اپنی مدت میں توسیع کے متعلق شکوہ کیا جبکہ ان کی ان دعوں کے پیچھے کوئی بھی وجہ ہوسکتی ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ دعوے بالکل بے بنیاد ہیں۔سابق چیف جسٹس آف پاکستان نے معاملے پر عوامی سطح پر بیان جاری نہ کرنے کے حوالے سے سوال پر کہا کہ میں کیوں کروں؟ میں اس حد تک گرنا نہیں چاہتا۔جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے نواز شریف اور مریم نوز کی ضمانت روکنے سے متعلق رپورٹس پر کہا ہے کہ ایک چیف جسٹس کی طرف سے عدالتی معاملات اور انتخابات میں مداخلت کا نوٹس لینے والا کوئی ہے۔سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسلام آباد میں خواجہ آصف اور دیگر رہنماں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا محمد شمیم نے لندن میں نوٹری پبلک کے سامنے حلف نامہ دیا ہے اور حلف اٹھا کر بیان دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ بیان یہ کہتا ہے کہ جولائی 2018 میں جب رانا شمیم گلگلت بلتستان کے چیف جسٹس تھے، جہاں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار اپنے اہل خانہ کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے، وہاں ایک چائے کے دوران دونوں موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ رانا شمیم نے حلف نامے میں لکھا ہے کہ ثاقب نثار صاحب بہت پریشان تھے اور بار بار اپنے رجسٹرار کو کہہ رہے تھے کہ آپ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج میاں عامر فاروق صاحب سے رابطہ کریں اور کہیں مجھ سے بات کریں اور اگر بات نہ ہوسکے تو پیغام دیں نواز شریف اور مریم نواز شریف کی ضمانت اسلام آباد ہائی کورٹ میں لگی ہے، عام انتخابات سے پہلے ان کی ضمانت نہیں ہونی چاہیے۔شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ یہ چیف جسٹس آف پاکستان اپنے رجسٹرار کو کہہ رہے تھے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق تک یہ پیغام پہنچائیں۔انہوں نے کہا کہ رانا شمیم نے حلف اٹھا کر اپنے بیان میں کہا ہے کہ چیف جسٹس پاکستان کی جسٹس عامر فاروق سے بات ہوگئی، تو وہ مطمئن ہوگئے کہ پیغام پہنچ گیا ہے اور اس کے بعد ان کی طبعیت اچھی تھی اور اچھے موڈ میں تھے۔ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر رانا شمیم نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ نے اس طرح کے پیغام سے کیوں مداخلت کی ہے کہ آپ نواز شریف کو ایک جعلی کیس میں جو سزا دی گئی ہے، اس پر ضمانت سے بھی روک رہے ہیں اور فون کر رہے ہیں، تو جواب دیا کہ رانا صاحب آپ یہ معاملات نہیں سمجھ سکتے ہیں، گلگت بلتستان کے معاملات کچھ اور ہیں اور پنجاب کا ماحول کچھ اور ہے۔جبکہ سابق وزیراعظم نے کہا کہ رانا شمیم نے یہ بیان از خود بغیر کسی دبا کے جاری کیا ہے اور ٹیلی ویژن پر ان سے سوال کیا گیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی ہے ہاں یہ بیان حلف کے تحت یہ بیان جاری کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سارے معاملے کا پس منظر بھی پاکستان کے عوام کے سامنے رکھنا بھی ضروری ہے، نواز شریف کو ایک اقامے رکھنے پر جو معمولی سی رقم کمپنی سے نہ لینے پر سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ بن کر نااہل قرار دیا اور پاکستان کی وفاقی حکومت ٹوٹ گئی۔ان کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ خود ٹرائل کورٹ بنا اور یہ فیصلہ دیا گیا، یہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا حصہ ہے، حکومت ٹوٹ گئی، اس کے بعد نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا اور انہیں سیاست سے بھی الگ کردیا گیا۔شاہد خاقان عباسی نے بتایا کہ پھر پاناما کے معاملے میں نیب کا ایک ریفرنس تھا، جو چلا، اس پر سپریم کورٹ کی طرف ایک مانیٹرنگ جج تعینات کیا گیا، پاکستان کی تاریخ میں اس سے پہلے ایسی کوئی مثال نہیں ہے اور ایسا کوئی واقعے پہلے نہیں ہوا کہ سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ کا جج مانیٹرنگ کے طور پر مقرر کیا گیا ہو۔ان کا کہنا تھا کہ روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل ہوا، جج محمد بشیر صاحب تھے، تمام ریکارڈ میں نواز شریف یا مریم نواز کا نام نہیں تھا، یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہے لیکن نواز شریف اپنی اہلیہ کی عیادت کے لیے ملک سے باہر تھے اور پاکستان میں انتخابات ہو رہے تھے جبکہ سابق حکومت کے وزیراعظم اور ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے روح رواں عین الیکشن کے درمیان 6 جولائی کو نیب عدالت میں روزانہ کی بنیاد پر ٹرائل کے بعد سزا دی گئی۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف 13 جولائی کو ملک میں واپس آئے اور اپنی بیٹی کے ساتھ جیل چلے گئے، 16 جولائی کو انہوں نے اپیل دائر کی اور 17 جولائی کو یہ اپیل مقرر ہوئی اور اسی دن سابق چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب گلگت بلتستان تشریف لے گئے اور اس عمل پر رانا شمیم نے حلف کے تحت بیان دیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ آج پاکستان کے عوام کے سامنے ہے، ہر پاکستانی کے سامنے موجود ہے، ہر آدمی جو وٹس ایپ، ٹوئٹر اور سوشل میڈیا پر اس کے سامنے یہ رپورٹ ہے۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ بات یہ ہے کہ حقیقت کا علم تین افراد کو ہے، پاکستان کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار، گلگت بلتستان کے سابق چیف جسٹس رانا شمیم اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے موجودہ جسٹس میاں عامر فاروق صاحب کو ہے اور حقیقت یہ جانتے ہیں، سچ ان کو پتہ ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے عوام کا حق ہے کہ ان کو حق اور سچ کا پتہ چلے، کیونکہ جس ملک میں انصاف نہیں ہوگا وہاں کچھ بھی نہیں ہوگا، جب اس سطح کے لوگ ملوث ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ یہاں صرف ایک شخص یا سابق وزیراعظم کی سزا برقرار رکھنے نہیں بلکہ انتخابی عمل میں مداخلت ہو رہی ہے، تو کیا ہم یہ پوچھنے کا حق نہیں رکھتے کہ کب یہ معاملات اس ملک سے ختم ہوں گے، کب ہم اپنی انا اور چھوٹے چھوٹے فائدے حاصل کرنے کے لیے ہم لوگوں کی زندگیوں سے کھیلیں گے، پاکستان کے مستقبل سے کھیلیں گے، اس کا جواب کسی کے پاس ہے۔شاہد خاقان عباسی نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ جب ملک کا چیف جسٹس ایسے معاملات میں ملوث ہوں، میری دعا ہے کہ وہ ملوث نہ ہوں، لیکن جب ملک کا چیف جسٹس ایسے کام کرے گا تو پھر کون سا انصاف رہے گا، پھر ہم کس کے پاس جائیں گے، پھر عدل کہاں گیا، عوام کا اعتماد اور آئین کہاں گیا۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ خرابیاں ہیں، جس کا ذکر ہم باربار کرتے ہیں، ملک کا نظام آئین کے مطابق نہیں ہے اور ملک کے نظام میں مداخلت ہورہی ہے، غیر آئینی مداخلت ہے، ملک کا چیف جسٹس ملوث ہے، دوسرا چیف جسٹس کہہ رہا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک موجودہ جج کا نام آیا ہے کیا ہم اس کو معمولی بات سمجھ کر بھول جائیں، کیا یہ بات پارلیمان میں نہیں آنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ پارلیمان ہی ان ججوں کو مقرر کرتا ہے، کیا پارلیمان پوچھ نہیں سکتا کہ یہ معاملہ کیوں ہوا اور کس نے کیا، یہ وہ چیزیں ہیں جو ملک کے مستقبل کا تعین کرتی ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ آج عام آدمی یہ کہتا ہے کہ اگر ملک کے تین دفعہ کے وزیراعظم نواز شریف کو انصاف نہیں ملے گا تو مجھے کب انصاف ملے گا، جب ملک کا سب سے بڑا جج مداخلت کرکے یہ کوشش کرے گا کہ اس شخص کی ضمانت تک نہ تو پھر سوچ لیں کہ جج محمد بشیر تھا اس نے فیصلہ کیسے کیا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ یہ وہ مسئلہ جو عوام کے سامنے رکھنا ضروری ہے، ان کا کچھ ہونا ضروری ہے، ہم یہاں ایک عمارت جو 20 سال پہلے بنتی ہے اس کو ڈھونڈتے رہتے ہیں، گرانے کی کوشش میں رہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ثاقب نثار صاحب ہسپتالوں کے چکر لگاتے تھے، ڈیم بنانے کی کوشش کی، ہمارا سوال یہ ہے، ہمیں تو رانا شمیم کی بات پر یقین کرنا ہوگا کیونکہ ایک شخص نے حلف کے تحت بیان دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کون سا فورم ہے جہاں پر اس سچ کا تعین کیا جائے گا، کون سا فورم ہے، جب ہم اس ملک کے وزیراعظم کو نکال سکتے ہیں، ایک اقامے کی معمولی تنخواہ اپنے بیٹے کی کمپنی سے نہ لینے پر تو پھر ہم اس قسم کی مداخلت ایک چیف جسٹس کی طرف سے ہو، انصاف کے معاملات پر، ایک ملک کے انتخابات میں مداخلت پر، اس کا نوٹس لینے والا کوئی ہے، کوئی بات کرنے والا ہے۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

براعظم افریقہ میں جمہوریہ کانگو کو ایک کلیدی ملک کی حیثیت حاصل ہے، مخدوم شاہ محمود قریشی

رپورٹ:ایسوسی ایٹڈ پریس سروس جمہوریہ کانگو کی مسلح افواج کے کمانڈر ان ...