بنیادی صفحہ / قومی / لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم آئی ایس آئی سربراہ ہونگے

لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم آئی ایس آئی سربراہ ہونگے

رپورٹ:چودھری احسن پریمی؛ایسوسی ایٹڈ پریس سروس
وزیراعظم کے دفتر سے انٹر سروسز انٹیلی جنس(آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل(ڈی جی) کے طور پر لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی تعنیاتی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، وہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کی جگہ لیں گے، جس کا اطلاق 20 نومبر 2021 سے ہوگا۔اس حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ وزیراعظم نے سمری دیکھی اور لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی بطور ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلیجنس(آئی ایس آئی) تعیناتی کی منظوری دے دی ہے۔وزیراعظم کے سیکریٹری اعظم خان کے دستخط سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ سمری کے چھٹے پیراگراف میں دیے گئے افسران کے پینل کو وزیراعظم نے دیکھا اور لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کی تعیناتی کی منظوری دے دی۔مزید کہا گیا کہ نوٹیفکیشن کا اطلاق 20 نومبر 2021 سے ہوگا۔نوٹیفکیشن میں مزید کہا گیا کہ آئی ایس آئی کے موجودہ ڈی جی 19 نومبر تک بطور ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز انٹیلیجنس اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔واضح رہے کہ یہ نوٹیفکیشن آئی ایس پی آر کے اعلان کے 20 روز کے بعد جاری کیا گیا ہے۔وزارت دفاع کی سمری میں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم، چیف آف لاجسٹک اسٹاف جی ایچ کیو لیفٹیننٹ جنرل ثاقب محمود ملک اور کمانڈر سدرن لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی کے نام آئی ایس آئی کے سربراہ کی تعیناتی کے لیے تجویز کیے گئے تھے۔واضح رہے کہ دو ہفتے قبل میڈیا پر یہ خبریں گردش کررہی تھیں کہ ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر سے متعلق وزارت دفاع کی جانب سے سمری وزیر اعظم ہاوس پہنچ چکی ہے اور اس ضمن میں سرکاری سطح پر باقاعدہ نوٹی فکیشن جاری ہونے کا انتظار ہے۔ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹیفکیشن کے اجرا سے قبل چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی۔بیان میں کہا گیا کہ ملاقات وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان آئی ایس آئی کے سربراہ کی تبدیلی اور نئے سربراہ کی تعیناتی کے وقت کے حوالے سے مشاورت کا حصہ تھی۔وزیراعظم آفس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اس عمل کے دوران وزارت دفاع سے ایک فہرست موصول ہوئی اور وزیراعظم نے تمام نامزد افسران کا انٹرویو کیا۔بیان میں کہا گیا کہ وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان آج مشاورت کا آخری دور ہوا اور تفصیلی مشاورتی عمل کے بعد لیفٹنینٹ جنرل ندیم انجم کو نئے ڈی جی آئی ایس آئی تعینات کرنے کی منظوری دی گئی۔یاد رہے کہ انٹر سروسز انٹیلی جنس(آئی ایس آئی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) کی تعنیاتی وزیراعظم کی صوابدید پر ہوتی ہے لیکن وزیراعظم، ملک کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی کے سربراہ کی تعیناتی آرمی چیف کے ساتھ مشاورت سے کرتے ہیں۔6 اکتوبر کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ‘آئی ایس پی آر’ نے ایک جاری بیان میں کہا تھا کہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم کو آئی ایس آئی کا نیا ڈائریکٹر جنرل تعینات کردیا گیا ہے۔اس سے قبل آئی ایس پی آر نے کہا تھا کہ موجودہ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کو کور کمانڈر پشاور تعینات کردیا گیا ہے۔تاہم وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے آئی ایس آئی کے نئے ڈائریکٹر جنرل کے تقرر کا نوٹی فکیشن جاری ہونے میں تاخیر کے باعث ابہام پیدا ہوا تھا۔بعد ازاں نوٹیفکیشن کے اجرا میں تاخیر کے باعث سوشل میڈیا پر سول اور عسکری قیادت کے درمیان اس معاملے پر اتفاق رائے نہ ہونے کی خبریں گردش کرنے لگی تھیں تاہم حکومت نے اس معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی تھی۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات میں دعوی کیا گیا تھا کہ وزیر اعظم نے کابینہ کے اجلاس میں اس بات پر زور دیا تھا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ کے تقرر کے لیے ممکنہ افراد کے ناموں کے ساتھ ایک سمری ان کو بھیجی جائے اور ان تینوں میں سے کسی کو ڈی جی آئی ایس آئی کے طور پر منتخب کرنا ان کا اختیار ہے۔11 اکتوبر کو وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے میڈیا سے گفتگو کے دوران معاملے سے متعلق سوال پر اپنے مخصوص انداز میں واضح جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری کو سول ملٹری معاملات پر بات کرنے کا اختیار ہے۔12 اکتوبر کو پریس کانفرنس میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ وزیر اعظم کو ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کا اختیار ہے اور انہوں نے اس حوالے سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے تفصیلی ملاقات کی ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت، انٹر سروسز انٹیلی جنس کے ڈائریکٹر جنرل کے تقرر پر قانونی اور آئینی طریقہ کار پر عمل کرے گی۔اس معاملے کے بارے میں گردش کرنے والی افواہوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میں سوشل میڈیا پر دیکھ رہا ہوں، بہت سے لوگ ہیں جن کی کچھ خواہشات ہیں، میں انہیں بتانا چاہتا ہوں کہ وزیراعظم آفس کبھی بھی پاک فوج اور آرمی چیف کے احترام کو مجروح نہیں کرے گا اور آرمی چیف اور فوج کبھی بھی ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی جو پاکستان کے وزیراعظم یا سول سیٹ اپ کے احترام کو مجروح کرے۔دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما عامر ڈوگر نے بتایا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کو آگاہ کیا کہ انہوں نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید پڑوسی ملک افغانستان کی نازک صورتحال کی وجہ سے مزید کچھ عرصے کے لیے آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل رہیں۔عامر ڈوگر نے کہا کہ عمران خان کی رائے تھی کہ حکومت تمام اداروں کو آن بورڈ لینا چاہتی ہے، وزیر اعظم کی باڈی لینگویج کافی مثبت ہے اور وہ پراعتماد لگ رہے ہیں۔پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم نے کابینہ کو بتایا ہے کہ وہ ایک منتخب وزیر اعظم اور ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ڈی جی آئی ایس آئی کے تقرر کے آئینی اور قانونی طریقہ کار کے بارے میں عامر ڈوگر نے وضاحت کی کہ وزیراعظم کو تین ناموں کے ساتھ ایک سمری بھیجی جانی تھی جس میں سے انہوں نے ایک کو منتخب کیا جسے وہ اس عہدے کے لیے موزوں سمجھتے تھے۔بعد ازاں 13 اکتوبر کی صبح ایک ٹوئٹ میں وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آئی ایس آئی کے نئے ڈائریکٹر جنرل کے تقرر کے معاملے پر وزیر اعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے درمیان مشاورت کا عمل مکمل ہو چکا ہے اور نئے تقرر کا عمل شروع ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ پھر سول اور فوجی قیادت نے یہ ثابت کیا ہے کہ ملک کے استحکام، سالمیت اور ترقی کے لیے تمام ادارے متحد اور یکساں ہیں۔واضح رہے کہ اب تک آئی ایس آئی کے آنے والے سربراہ کے تقرر کے لیے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا تھا۔بہت سارے فوجی تجزیہ کار یہ کہتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دنوں میں ایک فوجی (ملٹری)نہیں بلکہ انٹیلی جنس(خفیہ معلومات کی) جنگ لڑی گئی۔ اس سے اس امر کی نشاندہی ہوتی ہے کہ امریکہ اور پاکستان کے درمیان انٹیلی جنس تعاون نے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کیا۔پاکستان اور امریکہ کے درمیان ‘انٹیلی جنس شیئرنگ’ (خفیہ معلومات کے تبادلے) کا معاہدہ نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کے فوری بعد ہوا تھا جسے کبھی عوام کے سامنے نہیں لایا گیا۔ یہ معاہدہ ایک ایسے وقت فعال ہوا جب افغانستان میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عناصر افغانستان سے بھاگ کر ہمسایہ ممالک میں پناہ کے لیے سرگرداں تھے۔ ابتدائی برسوں میں زیادہ تر القاعدہ رہنماں کو پاکستان کے بڑے شہری مراکز سے گرفتار کیا گیا۔ نائن الیون حملوں سے جڑے بڑے نام اور ملزم خالد شیخ محمد کو راولپنڈی جبکہ رمزی بن الشیبہ کو کراچی سے گرفتار کیا گیا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ میں انٹیلی جنس تعاون معاہدے پر کامیابی سے عمل درآمد اس وقت ہوا جب دونوں ممالک پاکستان کے شہری مراکز میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے عناصر کا تعاقب کر رہے تھے۔ القاعدہ کے مشہور ناموں کی پاکستان کے بڑے مراکز سے گرفتاری ظاہر کرتی ہے کہ انٹیلی جنس شئیرنگ کا انتظام مشکلات کو نہیں بڑھا رہا تھا کیونکہ کسی قابل ذکر مزاحمت کے بغیر ہی القاعدہ عناصر گرفتار ہو رہے تھے۔تاہم جیسے ہی انسداد دہشت گردی کی کارروائی کی توجہ کا مرکز تبدیل ہو کر قبائلی علاقے بنا تو پاکستان اور امریکہ کے درمیان انٹیلی جنس شئیرنگ میں عملی اور سیاسی نوعیت کی مشکلات کا سامنا کیا جانے لگا۔ عملی مشکلات کی بہترین مثالیں پاکستان حکومت اور شدت پسندوں کے درمیان قبائلی علاقوں میں ہونے والے امن معاہدے تھے۔ معاہدے سے مقامی اور القاعدہ کے شدت پسندوں کے درمیان ایک تفریق پیدا ہوگئی جو ان علاقوں میں چھپے ہوئے تھے۔ادھر ملک کے اندر اپوزیشن نے آئی ایس آئی اور اس کی قیادت پر سیاسی انجینئرنگ (جوڑ توڑ) کا الزام لگایا اور اپنی مدت پوری کرنے والے ڈی جی آئی ایس آئی پر الزام عائد کیا کہ وہ 2018 کے پارلیمانی انتخابات میں عمران خان کی کامیابی کے پیچھے اصل منصوبہ کار اور معمار تھے۔اس ادارے کے بارے میں ایسا کیا ہے کہ پاکستان کے اندر اور باہر سے اسے تنقید کا سامنا رہتا ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ سیاسی تناظر میں کسی بھی اغوا، قتل، دھمکی کا الزام آئی ایس آئی پر دھر دیا جاتا ہے؟ان سوالات کے جواب دینا آسان نہیں لیکن آئی ایس آئی کے ایک حاضر سروس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ آئی ایس آئی پاکستان کی ‘پریمئیر’ انٹیلی جنس ایجنسی ہے جو خطے میں جو کچھ ہو رہا ہوتا ہے، اس سے باخبر ہوتی ہے۔انھوں نے کہا کہ افغانستان میں امن مذاکرات ہوں تو پاکستان اس میں موجود ہوتا ہے، طالبان کابل میں حکومت بنائیں تو دنیا ہماری طرف دیکھتی ہے، افغانستان سے مغربی سفارتکاروں کے انخلا کا معاملہ ہو تو ہماری مدد درکار ہوتی ہے، آپ جس بھی معاملے کی بات کریں، اس میں ہماری اہمیت دکھائی دے گی۔افغان دارالحکومت کابل پر طالبان کے قبضے کے بعد سے اب تک عہدے پر مدت ملازمت مکمل کرنے والے ڈی جی آئی ایس آئی نے دو بار کابل کے دورے کیے ہیں جہاں وہ سینئر طالبان رہنماں سے ملے۔ اسی وقت پاکستان واشگنٹن میں افغانستان صورتحال پر مخصوص توجہ مبذول کیے امریکہ کے ساتھ بات چیت کر رہا تھا۔1979 سے 2021 تک کے عرصے کے دوران آئی ایس آئی افغان صورتحال اور اس کے پاکستان پر پڑنے والے اثرات سے نمٹنے میں مصروف رہی۔ ایک غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق بلاشبہ یہ آئی ایس آئی کی بہت بڑی کامیابی ہے کہ اس تنظیم نے پاکستان کو بڑے نقصان یا افغان صورتحال کے نتیجے میں آنے والے بڑے منفی اثرات سے بچایا اور گزشتہ چالیس سال کے دوران خطے میں اپنے سلامتی کے اہداف کو حاصل کیا۔آئی ایس آئی کی بنیادی ذمہ داری ملک کی مسلح افواج کا عملی اور نظریاتی تحفظ یقینی بنانا ہے جس کا اظہار اس ادارے کے نام یعنی انٹر سروسز انٹیلی جنس سے عیاں ہوتا ہے۔ آئی ایس آئی میں سویلین بھی اعلی عہدوں پر فائز ہیں لیکن وہ اس ادارے کے تنظمی ڈھانچے میں غلبہ یا طاقت نہیں رکھتے۔مصنف ڈاکٹر ہین ایچ کیسلنگ نے اپنی کتاب آئی ایس آئی آف پاکستان میں اس ادارے کا ‘آرگنائزیشنل چارٹ(تنظیمی خاکہ) شامل کیا ہے۔ جرمن سیاسی ماہر ڈاکٹر کیسلنگ کی اسے کتاب کے مطابق انھوں نے 1989 سے 2002 کا عرصہ پاکستان میں گزارا ہے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں واضح کیا ہے کہ یہ ایک جدید آرگنائزیشن ہے جس کی توجہ کا بنیادی محور خفیہ معلومات جمع کرنا ہے۔ ان کے مطابق سات ڈائریکٹوریٹس اور محکموں کی متعدد پرتیں یا تہوں کے علاوہ ‘وِنگز’ (منسلک شعبے) ہیں جو کسی بھی جدید انٹیلی جنس ایجنسی کی طرح آئی ایس آئی میں بھی ہیں۔مذکورہ مصنف کی پرانی معلومات ہیں تاہم اب اس تنظیم کے تقریبا سترہ کے الگ بھگ ڈائریکٹوریٹ ہیں جن میں مزید آٹھ ڈائریکٹوریٹ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے دور میں بنائے گئے ہیں۔آئی ایس آئی کے تنظیمی ڈھانچے میں فوج کا غلبہ زیادہ ہے، اگرچہ بحریہ اور فضائیہ سے تعلق رکھنے والے افسران بھی تنظیم کا حصہ ہیں۔ ڈی جی آئی ایس آئی غیر ملکی انٹیلی جنس ایجنسیوں اور اسلام آباد میں قائم غیر ملکی سفارت خانوں میں تعینات فوجی اتاشیوں سے رابطوں کے مرکز کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اسی طرح درپردہ وہ انٹیلی جنس امور پر وزیراعظم کے چیف ایڈوائزر کے طور پر کام کرتے ہیں۔ مسلح افواج آرمی، ائیر فورس اور نیوی میں ایک الگ انٹیلی جنس ایجنسی ہوتی ہے جس میں ملٹری انٹیلی جنس، ائیر انٹیلی جنس اور نیول انٹیلی جنس شامل ہیں جو اپنی اپنی متعلقہ فوج کے لیے ضروری معلومات جمع کرتی اور فرائض بجا لاتی ہیں۔آئی ایس آئی اور ان افواج کی ہر متعلقہ انٹیلی جنس ایجنسی کے امور کار میں کبھی کبھار ایک ہی قسم کی معلومات بھی اکٹھی کر لی جاتی ہیں کیونکہ سب ہی فوجی پیش رفت پر نظر رکھتی ہیں اور دشمن کی چالوں اور حرکتوں کی نگرانی کرتی ہیں۔ لیکن فوج کی ترکیب میں دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں کے مقابلے میں آئی ایس آئی سب سے بڑی، سب سے زیادہ موثر اور طاقتور انٹیلی جنس ایجنسی سمجھی جاتی ہے۔آئی ایس آئی ملک میں سب سے بڑی اور وسیع انٹیلی جنس ایجنسی تصور ہوتی ہے لیکن اس میں افرادی قوت کتنی ہے، اس بارے میں مقامی میڈیا یا غیر سرکاری شعبے میں کوئی تخمینہ یا اندازے دستیاب نہیں ہیں۔ آئی ایس آئی کے بجٹ کو کبھی عوام کے سامنے نہیں لایا گیا تاہم واشنگٹن میں قائم فیڈریشن آف امریکن سائنٹسٹس کی کئی برس پہلے کی جانے والی تحقیق کے مطابق آئی ایس آئی میں دس ہزار افسران اور سٹاف ممبر ہیں، جن میں مخبر اور اطلاع دینے والے افراد شامل نہیں۔ اطلاعات کے مطابق یہ چھ سے آٹھ ڈویژنز پر مشتمل ہے۔فوجی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایس آئی کا ‘آرگنائزیشنل ڈیزائن(تنظیمی نقشہ) بنیادی طور پر اسے ‘کانٹر انٹیلی جنس آپریشنز’ (جوابی خفیہ کارروائیوں) پر توجہ مرکوز کرنے والی انٹیلی جنس ایجنسی بناتا ہے۔ لیکن اس کی کیا وجہ ہے؟بریگیڈئیر(ر) فیروز ایچ خان وہ افسر تھے جنہوں نے پاکستان کی سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ میں کلیدی عہدوں پر فرائض انجام دیے اور Eating Grass کے عنوان سے کتاب تصنیف کی۔بریگیڈئیر(ر) فیروز ایچ خان نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ پاکستان کے تیسرے آمر جنرل ضیا الحق کو افغانستان میں سویت یونین کی مداخلت نے پریشان کر دیا تھا۔ اس پریشانی کے پیچھے بڑی وجہ بلاشبہ یہ حقیقت کارفرما تھی کہ طاقت کے نشے میں بدمست عالمی قوت ہمارے ملک کے دروازے پر دستک دے رہی تھی۔ ایسی صورتحال میں کارٹر انتظامیہ کی طرف سے فراہم کی جانے والی فوجی اور مالی مدد اطمینان کا ذریعہ تھی لیکن فوجی آمر کے لیے امریکی پیشکش ایک اور طرح کی پریشانی کا باعث تھی۔ امریکی مدد پاکستان کی معیشت کو توانا کرے گی اور فوجی استعداد کار میں اضافہ کرے گی لیکن دوسری طرف امریکہ کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون کے لیے زیادہ معلومات اور پاکستان کے اندر نگرانی کی سرگرمیاں درکار ہوں گی جس سے پاکستان کے قومی راز محفوظ رکھنے کی مشکل درپیش آسکتی تھی۔بریگیڈئیر فیروز لکھتے ہیں کہ جنرل ضیا نے پاکستان میں امریکہ کے خفیہ معلومات جمع کرنے کی کارروائیوں کو ‘نیوٹرائلائز’ (بے اثر) کرنے اور کانٹر انٹیلی جنس کے شعبے میں پاکستان انٹیلی جنس سروسز کی استعداد کار بڑھانے اور اسے ترقی دینے کا فیصلہ کیا۔انہوں نے لکھا کہ اس کا مطلب انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) کے کانٹر انٹیلی جنس وِنگ کے لیے فراخدلانہ بجٹ کی فراہمی تھا۔ان دنوں امریکی انٹیلی جنس آپریشن زیادہ تر پاکستان کے خفیہ جوہری پروگرام سے متعلق تھے۔ دوسری جانب افغان جنگ کے نتیجے میں مغربی انٹیلی جنس کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد اسلام آباد میں مستقل بنیادوں پر خیمہ زن ہوچکی تھی۔ اس وقت کی فوجی حکومت نے حالات کے تقاضے کے تحت پاکستان کی انٹیلی جنس سروسز کو اس انداز سے تشکیل دیا کہ اس کی توجہ کا بنیادی محور ‘کاونٹر انٹیلی جنس’ آپریشنز تھا۔فوجی اصلاحات کی تشریح سے متعلق لغت میں ‘کاونٹر انٹیلی جنس’ کا مطلب کچھ یوں دیا گیا ہے: کانٹر انٹیلی جنس معلومات کا حصول اور غیرملکی حکومتوں، غیر ملکی تنظیموں، غیر ملکی افراد یا بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں یا ان کی ایما پر عناصر کی طرف سے کی جانے والی جاسوسی، دیگر انٹیلی جنس ایجنسیوں کی سرگرمیوں، سبوتاژ یا قتل کر دینے کی کارروائیوں سے بچنے کے لیے کی جانے والی سرگرمیاں ہیں۔فیروز ایچ خان کے نکتہ نظر کے مطابق جنرل ضیا الحق پاکستان کی انٹیلی جنس سروس آئی ایس آئی کی نقشہ سازی کے معمار تھے، وہ ایک ایسے انداز میں کاونٹر انٹیلی جنس کو چلانا چاہتے تھے جو دیگر تمام انٹیلی جنس سے بڑھ کر ہو یا اسے دیگر پر فوقیت و برتری حاصل ہو۔ لہذا پاکستان انٹیلی جنس سروسز کے ڈھانچے کا خاکہ وضع کیا گیا تاکہ وہ ترقی کرے، نشوونما پائے اور شفاف انداز میں آگے بڑھتی جائے اور اس کی اضافی توجہ ملک کے اندر اور باہر کانٹر انٹیلی جنس پر مرکوز ہو۔فیروز ایچ خان نے لکھا کہ ضیا الحق کے پاس آگے بڑھنے کی راہ قلیل تھی لیکن انہیں دا لگانا تھا۔ جوہری معاملے کو سفارت کاری سے کم کیا جاسکتا تھا اور امریکی انٹیلی جنس کے ذریعے معلومات کے حصول میں خطرات موجود تھے، اس مسئلے کو بہتر کانٹر انٹیلی جنس سے حل کیا جاسکتا تھا۔آج تک آئی ایس آئی کے اندر ڈائریکٹوریٹس کانٹر انٹیلی جنس کی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں جسے ‘جوائنٹ کانٹر انٹیلی جنس بیورو(مشترکہ جوابی خفیہ کارروائیوں کے بیورو)کے نام دیا گیا ہے، جو سب سے بڑا ڈائریکٹوریٹ ہے۔جرمن پولیٹیکل سائنٹیسٹ ڈاکٹر ہین جی کیسلنگ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ‘ایکسٹرنل'(بیرونی امور) ‘جے سی آئی بی’ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ان کے مطابق اس کی ذمہ داری بیرون ملک تعینات پاکستانی سفارت کاروں کی نگرانی ہے، اس کے ساتھ ساتھ مشرق وسطی، جنوبی ایشیا، چین، افغانستان اور سابق سویت وسط ایشیا کی نو آزاد ریاستوں میں انٹیلی جنس آپریشن کرنا ہے۔’جوائنٹ کانٹر انٹیلی جنس بیورو(جے سی آئی بی) کے چار ڈائریکٹوریٹس ہیں جن میں سے ہر ایک کو ایک الگ ذمہ داری تفویض ہے، اے) ایک ڈائریکٹر غیرملکی سفارت کاروں اور غیرملکیوں کی فیلڈ نگرانی کو سنبھالتا ہے، بی) ایک اور ڈائریکٹر بیرون ملک سیاسی انٹیلی جنس (معلومات) جمع کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے، سی) تیسرے ڈائریکٹر کی ذمہ دادری ایشیائی یورپ اور مشرق وسطی میں انٹیلی جنس (معلومات) کا حصول ہے، ڈی) چوتھا ڈائریکٹر انٹیلی جنس امور میں وزیراعظم کے معاون کے طورپر خدمات انجام دیتا ہے۔ یہ ڈائریکٹوریٹ آئی ایس آئی کا سب سے بڑا ڈائریکٹوریٹ ہے۔ اس کی ذمہ داریوں میں خود آئی ایس آئی اہلکاروں کی نگرانی بھی شامل ہے جبکہ سیاسی سرگرمیوں کا حساب رکھنا بھی ہے۔ یہ پاکستان کے تمام بڑے شہروں اور خطوں میں موجود ہے۔’ڈاکٹر ہین کیسلنگ کی کتاب کے مطابق آئی ایس آئی کا دوسرا بڑا ڈائریکٹوریٹ بلاشبہ جوائنٹ انٹیلی جنس بیورو (جے آئی بی) ہے جو حساس سیاسی موضوعات سے متعلق ہے، اس میں سیاسی جماعتیں، مزدور یونینز، افغانستان، انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں اور وی آئی پی سکیورٹی شامل ہے۔جے آئی بی بیرون ملک پاکستان کے فوجی اتاشیوں اور فوجی مشیروں سے متعلق امور کار اور مناصب کو بھی کنٹرول کرتا ہے۔ ڈاکٹر کیسلنگ نے اپنی کتاب میں لکھا کہ جوائنٹ انٹیلی جنس نارتھ (جن) جموں وکشمیر کا ذمہ دار ہے۔ اس کی بنیادی ذمہ داری انٹیلی جنس (معلومات) جمع کرنا ہے۔ ڈاکٹر کیسلنگ نے اپنی کتاب میں لکھا کہ ‘جوائنٹ انٹیلی جنس میسی لی نئیس’ (متفرق) یورپ، امریکہ، ایشیائی اور مشرق وسطی میں جاسوسی پر مامور ہے اور ایجنٹس(جاسوسوں) کے ذریعے آئی ایس آئی ہیڈکوارٹرز سے براہ راست یا پھر اپنے بیرون ملک تعینات افسران کی مدد سے بالواسطہ طورپر رازداری سے خفیہ معلومات جمع کرتا ہے۔ یہ اپنی جارحانہ کارروائیاں کرنے کے لیے تربیت یافتہ جاسوس انڈیا اور افغانستان میں استعمال کرتا ہے۔ایک غیر ملکی میڈیا رپورٹ کا کہنا ہے کہ ایک ریٹائرڈ سینئر فوجی افسر کے کے مطابق آئی ایس آئی پاکستان آرمی کے سائے میں کام کرتی ہے جو بے تحاشہ فوجی قوت فراہم کرتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق ان کے تعلقات کار میں بعض اوقعات دراڑیں بھی دیکھی گئی ہیں جو ماضی میں نمایاں ہوکر سامنے آئیں۔ اسی ریٹائرڈ سینئر فوجی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ فوجی ماہرین مثال دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ 12 اکتوبر1999 کی بغاوت نواز شریف حکومت کے خلاف تو تھی ہی لیکن یہ آئی ایس آئی کی آرگنائزیشن کے خلاف بھی تھی جو بظاہر اپنے ڈی جی(لیفٹیننٹ جنرل(ر) ضیاالدین بٹ کے ساتھ تھی جسے اس وقت کے وزیراعظم نے چیف آف آرمی سٹاف (بری فوج کا سربراہ) تعینات کر دیا تھا۔ریٹائرڈ سینئر فوجی افسر کے مطابق دوسری مرتبہ یہ دراڑ اس وقت نظر آئی جب مشرف دور میں آئی ایس آئی نے اپنا میڈیا وِنگ شروع کردیا تھا جس نے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کیے۔ایک سینئر صحافی نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ ‘آئی ایس آئی کا میڈیا وِنگ بعض اوقات خودمختار اور آزادانہ انداز میں کام کرتا ہے اور اس مقصد کے بالکل برعکس ہوتا ہے جو آئی ایس پی آر کہہ رہا ہوتا ہے۔ میڈیا پر اس وِنگ کے دبا کا آئی ایس پی آر کے دبا کے ساتھ متوازی اثر مرتب ہو رہا ہوتا ہے۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن سے معافی مانگ لی

رپورٹ:ایسوسی ایٹڈپریس سروس،اسلام آباد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ...