بنیادی صفحہ / انٹرٹینمنٹ / مردانگی کی تشریح عورت کے لباس سے شروع ہوکر وہیں ختم ہوتی ہے، پرتیکا

مردانگی کی تشریح عورت کے لباس سے شروع ہوکر وہیں ختم ہوتی ہے، پرتیکا

رپورٹ؛ایسوسی ایٹڈ پریس سروس
شوبز کی دنیا میں نیو انٹری ماڈل و اداکارہ پرتیکا نے کہا ہے کہ حالیہ دور میں مردانگی کی تشریح اتنی مختصر ہوچکی ہے کہ وہ عورت کے لباس سے شروع ہوکر وہیں پر ختم ہوتی ہے۔ پرتیکا نے خواتین کے لباس پر تنقید کرنے والے افراد سے سوال کیا کہ وہ جاننا چاہتی ہیں کہ مردانگی کے ہاتھوں مجبور ہونے کا آئیڈیا کیا ہے۔ پرتیکا نے حال ہی میں ہونے والے لکس اسٹائل ایوارڈز کے دوران خواتین کے لباس پر ہونے والی تنقید پر بات کی اور کہا کہ بعض لوگوں نے ایوارڈ میں شرکت کرنے والے فنکاروں پر نامناسب کمنٹس کیے۔ پرتیکا نے بتایا کہ میرا سیٹھی کی اداکارہ اشنا شاہ کے ساتھ لکس اسٹائل ایوارڈز کی تصویر پر ایک شخص نے کمنٹ کیا کہ اب اگر وہ مردانگی کے ہاتھوں پر مجبور ہوکر کچھ کردیا یا کہ دیا تو پھر آپ بولیں گی۔انہوں نے سوال کیا کہ مردانگی کے ہاتھوں مجبور ہوکر کچھ کرنے کا آئیڈیا کیا ہے؟ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ اب مردانگی کی تشریح اتنی مختصر ہو چکی ہے کہ ان کی غیرت اور مردانگی عورت کے لباس سے شروع ہوکر وہیں پر ختم ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں مذکورہ آدمی کا کمنٹس نامناسب لگا، جس کی وجہ سے انہوں نے آواز اٹھائی۔انہوں نے لکھا کہ پاکستانی معاشرے میں ایک خودمختار عورت اور روادار آدمی دونوں رہ سکتے ہیں مگر لوگوں نے مردانگی کو اتنا محدود کردیا ہے کہ عورت کے لباس میں اگر کسی کو شوخی نظر آتی ہے تو مردانگی کو ٹھیس پہنچتی ہے۔انہوں نے لوگوں کو تجویز دی کہ وہ مردانگی کی تشریح کو بڑا کرنے سمیت اپنی سوچ کو بھی بڑھائیں۔پرتیکا نے کہا کہ میرا سیٹھی نے دلیل دی کہ اگر کوئی مرد ان کے سامنے کسی ہوئی جینز پینٹ پہن کر بیٹھا ہوگا تو وہ انہیں یہ نہیں کہیں گی کہ وہ انہیں گناہ کی دعوت دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عورتیں ایسی باتیں نہیں کرتیں اور ساتھ ہی سوال کیا کہ خواتین ایسی باتیں کیوں نہیں کرتیں؟ پھر خود ہی جواب دیا کہ کیوں کہ ان کی سوچ وہاں نہیں جاتی اور یہ کہ معاشرے نے انہیں اتنا حق ہی نہیں دیا کہ وہ مرد کو کچھ کہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ مرد حضرات کیوں خواتین کے سر پر داروغہ بن کر کھڑے رہتے ہیں اور کیوں انہیں ہر وقت پولیس کی طرح ہدایات کرتے رہتے ہیں؟پرتیکا نے کہا کہ میرا سیٹھی نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ ہم سب نے ایک دائرے کے اندر رہ کر زندگی گزارنی ہے اور یہ کہ انہیں ایسے دائروں کا علم ہے، کیوں کہ وہ بھی معاشرے میں رہتے ہیں۔ خواتین کو کسی کی ماں اور بہن کہنے کے بجائے انہیں ذاتی طور پر بھی اہمیت دی جانی چاہیے، وہ یقینا کسی نہ کسی کی ماں اور بہن ہوتی ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ان کی اپنی ذاتی اہمیت بھی ہے۔پرتیکا نے کہا کہ میرا سیٹھی کی کہانیاں بہت ہی زیادہ بولڈ ہیں، جن سے یقینا کچھ لوگوں کو مسائل ہوں گے۔اگرچہ میرا سیٹھی نے خواہش ظاہر کی کہ کوئی ادارہ یا شخص ان کی کہانیوں کو اردو میں ترجمہ کرے اور وہ انہیں ترجمے کے حقوق دینے کو تیار ہیں۔انہوں نے یہ انکشاف بھی کیا کہ کہانیوں کی کتاب شائع کرنے کے بعد ایک ڈراما پروڈیوسر نے انہیں ڈراما لکھنے کا کہا ہے اور وہ اس متعلق سوچ رہی ہیں، تاہم فی الحال کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔پرتیکا نے کہا کہ اگرچہ میرا سیٹھی معروف والدین کی بیٹی ہونے کے ناتے انہیں جہاں فوائد ملے، وہیں انہیں کچھ تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔میرا سیٹھی نے جو لوگ ان کے والدین کی عزت کرتے ہیں، انہوں نے انہیں بھی عزت دی اور جو لوگ ان کے والدین کو ناپسند کرتے ہیں، انہوں نے ان پر بھی تنقید کی لیکن اب انہیں ایسی باتوں سے فرق نہیں پڑتا۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

سپین میں مقیم پاکستانی بزنس مین باسط وڑائچ کی آر پی او گوجرانوالہ سے ملاقات

سپین میں مقیم معروف پاکستانی بزنس میں باسط وڑائچ کا پاکستان کے ...