بنیادی صفحہ / قومی / پی ایف یو جے کا دھرنا آزاد میڈیا کے خلاف مذموم عزائم کو ناکام بنانا ہے۔ناصر زیدی

پی ایف یو جے کا دھرنا آزاد میڈیا کے خلاف مذموم عزائم کو ناکام بنانا ہے۔ناصر زیدی


میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے خلاف صحافیوں کا احتجاج، پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا
صحافت کی آزادی کوئی آپشن نہیں بلکہ عوام کا آئینی حق ہے۔شاہد خاقان عباسی سابق وزیراعظم
دھرنے کا مقصد پی ایم ڈی اے کی تشکیل کے خلاف یکجہتی اور آزاد میڈیا پر منصوبہ بند حملے کو پہلے سے کم کرنا ہے۔مجوزہ پی ایم ڈی اے صرف میڈیا میں ہیرا پھیری کا طریقہ کار نہیں بلکہ یہ جمہوریت اور پارلیمانی نظام کو کمزور کرنے کا بھی کام کرے گا ۔سیکریٹری پی ایف یو جے
رپورٹ: چودھری احسن پریمی: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس
پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جے) پاکستان میڈیا ڈویلپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کے نام پر سنسر شپ کا نیا ہیڈ کوارٹر قائم کرنے کے حکومتی منصوبوں کے خلاف پارلیمنٹ کے باہر تاریخی دھرنا دیا ہے۔پی ایف یو جے نے پوری صحافی برادری ، سول سوسائٹی ، انسانی حقوق گروپوں ، ٹریڈ یونینز ، ورکرز ایسوسی ایشنز ، طلبا گروپوں ، ڈیجیٹل حقوق کے علمبرداروں اور شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ اس دھرنے میں شامل ہوںجو آج سینیٹ اور قومی اسمبلی کے مشترکہ

اجلاس سے صدر مملکت پاکستان کا سالانہ خطاب کے موقع پر ہوگا۔پی ایف یو جے کے سیکریٹری ناصر زیدی کا کہنا ہے کہ یہ وقت ایک مشترکہ مقصد کے ارد گرد اتحاد کا ہے۔ مجوزہ پی ایم ڈی اے صرف میڈیا سیکٹر کو ریگولیٹ کرنے کا ادارہ نہیں ہوگا بلکہ یہ ریاست کے مرکزی سنسر شپ آفس کے طور پر کام کرے گا جس کا مقصد پاکستان کے تمام شہریوں کے اظہار رائے کی آزادی کو منظم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم میڈیا ، سول سوسائٹی اور تمام شعبہ ہائے زندگی سے متعلقہ شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ آج 13 ستمبر 2021 کی صبح اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے باہر پرامن دھرنے میں شامل ہوکر اس میں شرکت کریں۔اتوار 12 ستمبرکی رات پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا کیمپ قائم کیا گیا اور آج پیر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے اختتام تک قیادت نے کیمپ میں رات گزاری تھی۔ دھرنے کا مقصد پی ایم ڈی اے کی تشکیل کے خلاف یکجہتی اور وسیع پیمانے پر حمایت جمع کرنا اور شہریوں کے اظہار رائے کی آزادی کے تحفظ کی حکمت عملی بنانا ، صحافیوں کے حقوق کا دفاع کرنا اور ملک میں آزاد میڈیا پر منصوبہ بند حملے کو پہلے سے کم کرنا ہے۔ .پی ایف یو جے کے رہنماوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے میڈیا ورکرز کے حقوق ، صحافیوں کی حفاظت اور ان کا معاشی گلا گھونٹنے کے خلاف مسلسل حملے اپنی بلند ترین حد تک پہنچ چکے ہیں جس سے میڈیا سیکٹر تباہی کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔پی ایم ڈی اے ایک منصوبہ بند ون ونڈو آپریشن ہے جس میں کئی میڈیا ریگولیٹرز کے بجٹ کو جمع کرنے کے ذریعے وسیع پیمانے پر سنسر شپ نافذ کی جاتی ہے جس کے ذریعے میڈیا پر کریک ڈان کرنے کے لیے حکومتی پراکسیوں کو بڑے پیمانے پر وسائل فراہم کیے جاتے ہیں تاکہ یہ مکمل طور پر گرفت میں آ جائے اور پیشہ ورانہ کوریج فراہم کرنے کے لیے بہت کمزور ہو جائے۔لہذا مجوزہ پی ایم ڈی اے صرف میڈیا میں ہیرا پھیری کا طریقہ کار نہیں ہے ، یہ جمہوریت اور پارلیمانی نظام کو کمزور کرنے کا بھی کام کرے گا ، یہی وجہ ہے کہ تمام صحافیوں ، کارکنوں ، طلبا ، اساتذہ ، وکلا ، کارکنوں اور دیگر شہریوں کے لیے اس میں شامل ہونا ضروری ہے۔ یہ دھرنا پاکستان میں جمہوریت اور آزاد میڈیا کے خلاف مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لیے ہے۔شہزادہ ذوالفقار اور ناصر زیدی نے پوری میڈیا کمیونٹی اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ آنے والے "میڈیا مارشل لا” کی مخالفت کرتے ہوئے صحافیوں اور شہریوں کے اظہار رائے کی آزادی اور معلومات تک رسائی کے حقوق کے لیے اتحاد اور عزم ظاہر کریں۔ صحافیوں نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کی جانب سخت قوانین پر مشتمل پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے)کو مسترد کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دے دیا۔اسلام آباد میں ملک بھر سے صحافی تنظیموں کے عہدیداروں اور کارکنوں نے میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کے خلاف احتجاج کیا اور پارلیمنٹ کے سامنے پہنچ کر دھرنا دے دیا ہے۔صحافیوں کے احتجاج اور دھرنے میں اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے رہنماں نے بھی شرکت اور خطاب کیا، اس کے علاوہ وکلا، برطرف سرکاری ملازمین، انسانی حقوق کے کارکن اور سول سوسائٹی کے نمائندے بھی دھرنے میں شریک ہیں۔میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام اور آزادی اظہار رائے کے خلاف حکومتی پالیسیوں پر صحافیوں، برطرف سرکاری ملازمین، وکلا اور انسانی حقوق کے کارکنوں نے اسلام آباد پریس کلب سے پارلیمنٹ ہاوس تک ریلی نکالی۔مظاہرے کے شرکا نے حکومت کی پالیسیوں کو مزدور دشمن قرار دیتے ہوئے حکومت مخالف نعرے بازی کی۔مظاہرے سے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین نے خطاب کیا اور حکومت کی یک طرفہ پالیسیوں پر شدید تنقید کی۔مظاہرے کے شرکا نے متنازع قوانین واپس لینے تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا۔صحافی تنظیموں کے رہنماں پیر کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے صدر مملکت کے خطاب کے دوران بھی احتجاج کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔خیال رہے کہ حکومت نے میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے پاکستان ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے نام سے نیا قانون متعارف کرنے کا اعلان کیا تھا، جس میں میڈیا اداروں اور صحافیوں کے حوالے سے سخت قوانین تجویز کیے گئے ہیں۔گزشتہ ماہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ مجوزہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی(پی ایم ڈی اے) کے تحت ٹی وی چینلز پر 25 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا جہاں اس سے قبل موجودہ قوانین کے تحت چینلز پر 10 لاکھ روپے تک جرمانہ ہوتا ہے۔ڈیجیٹل براڈ کاسٹرز کے ساتھ ایک نشست میں وفاقی وزیر نے نشاندہی کی تھی کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) ایک امیر ادارہ تھا لیکن بدقسمتی سے اس نے اپنے قیام سے اب تک صحافیوں کی تربیت، تحقیق اور ڈیجیٹل میڈیا پر ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کیا۔انہوں نے کہا تھا کہ اس وقت پاکستان میں میڈیا کو کنٹرول کرنے والے سات قوانین موجود ہیں، سوشل میڈیا کو پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے، پریس کا انتظام پریس کونسل کے پاس ہے، الیکٹرانک میڈیا کو پیمرا دیکھتا ہے، لیبر ریگولیشنز پر عمل درآمد کو ٹریبیونل برائے اخبارات ملازمین (آئی ٹی این ای) دیکھتا ہے جبکہ آڈٹ بیورو آف سرکولیشن(اے بی سی)اخبار کی رجسٹریشن کے امور پر نظر رکھتا ہے۔وفاقی وزیر نے واضح طور پر کہا تھا کہ تمام قوانین کو ختم کیا جا رہا ہے تاکہ ان کی جگہ ایک اتھارٹی یعنی پی ایم ڈی اے لے سکے۔فواد چوہدری نے مزید کہا تھا کہ مجوزہ قانون میں مجرمانہ ذمہ داری کی کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اس کے تحت 25 کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔دوسری جانب میڈیا انڈسٹری کی تمام نمائندہ تنظیموں اور ایسوسی ایشنز نے مجوزہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کو مسترد کرتے ہوئے اس کو کالا قانون قرار دے دیا تھا۔آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی(اے پی این ایس)، کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز(سی پی این ای)، پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن (پی بی اے)، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس(پی ایف یو جے) اور ایسوسی ایشن آف الیکٹرانک میڈیا ایڈیٹرز اینڈ نیوز ڈائریکٹرز (اے ای ایم ای این ڈی) نے اس حوالے سے مشترکہ بیان جاری کیا تھا۔مشترکہ بیان میں قانون پر تنقید کی گئی تھی اور ایک سے زیادہ مرکزی ادارے کی تشکیل کے ذریعے میڈیا کے تمام حصوں پر ریاستی کنٹرول نافذ کرنے کی طرف اٹھایا جانے والا قدم قرار دیا گیا تھا اور کہا تھا کہ بظاہر پی ایم ڈی اے کا مقصد آزادی اظہار اور پریس کو دبانا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ قانون ایک پلیٹ فارم سے میڈیا پر وفاقی حکومت کا کنٹرول سخت کرنے کی کوشش ہے لیکن اس میں اس حقیقت کو نظر انداز کیا گیا کہ پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا الگ الگ حصے ہیں اور ان کی اپنی الگ خصوصیات ہیں۔انہوں نے کہا تھا کہ ایک ادارے کے ذریعے تمام اقسام کے میڈیا اداروں کو ریاستی کنٹرول میں لانے کا اقدام آمرانہ سوچ کی نشاندہی کرتا ہے جس کی جمہوری طور پر منتخب حکومت میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔میڈیا انڈسٹری کی نمائندہ تنظیموں نے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات کے اراکین پر زور دیا تھا کہ وہ مجودہ ادارے کو مکمل طور پر مسترد کردیں۔حکومت کی تجویز کے مطابق پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی ملک میں پرنٹ، براڈکاسٹ اور ڈیجیٹل میڈیا ریگولیشن کی مکمل طور پر ذمہ دار ہوگی۔ جبکہ سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے وفاقی حکومت کی جانب سے میڈیا سے متعلق نیا قانون لانے کی تیاریوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی مارشل لا حکومت میں بھی صحافت کو دبانے کے لیے ایسے حربے استعمال نہیں کیے گئے، صحافت کی آزادی کوئی آپشن نہیں بلکہ عوام کا آئینی حق ہے۔اسلام آباد میں حکومت کے مجوزہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کے خلاف صحافیوں کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کیا پیمرا کافی نہیں تھا، صحافیوں کو اٹھانا، ٹیلی فون کرنا کافی نہیں تھا کہ آج پی ایم ڈی اے کی ضرورت پڑ گئی کہ ملک میں عوام تک حق سچ کی آواز نہ پہنچنے پائے۔انہوں نے کہا کہ جس ملک میں صحافت آزاد نہیں ہوگی، جو ایک آئینی حق ہے، یہ کوئی آپشن نہیں ہے کہ ہم صحافت کو آزاد کریں یا نہ کریں بلکہ یہ ملک کے عوام کا ایک آئینی حق ہے، کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کریں اور ان تک دوسروں کی رائے پہنچے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بدقسمتی ہے کہ وہی لوگ جو یہاں سے چند سو میٹر پر 5 مہینے دھرنا کرتے رہے، اس کی لائیو کوریج ہوتی رہی، پی ٹی وی پر حملے کی بھی لائیو کوریج ہوتی رہی لیکن آج اسی مقام پر سیکڑوں پولیس اہلکار ڈنڈے لے کر کھڑے ہیں کہ صحافی جو احتجاج کر رہے ہیں وہ کیسے روکیں۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں ہے، ہمارا آج یہاں آنے کا مقصد یہ تھا کہ جو احتجاج صحافی کر رہے ہیں ہم اس میں برابر کے شریک ہیں، اس لیے نہیں کہ کوئی سیاسی فائدہ ملے گا بلکہ اس لیے کہ یہ پاکستان کے عوام کا حق ہے جو آج سلب کیا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جس ملک میں اس قسم کے کالے قانون ہوں گے، اس ملک میں کوئی آزادی نہیں رہتی، جب صحافت کی آزادی نہیں رہتی تو پھر عوام اور شہری کی آزادی بھی چلی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی بہت سے آمروں نے ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک لوگوں نے یہ کوشش کی لیکن یہ پہلی نام نہاد جمہوری حکومت ہے جو آج صحافت کو دبانے کی پوری طرح اور ہر طریقے سے کوشش کر رہی ہے۔سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ کسی مارشل لا حکومت نے بھی یہ حربے استعمال کیے ہوں کہ صحافی کی آواز دبے، لوگوں کو دہشت، معاشی حملوں سے ڈرا اور آج ایک قانون بنایا جا رہا ہے

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

قانون کی بالادستی سے فکری انقلاب آسکتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان

وزیر اعظم کاقومی رحمت اللعالمین ۖ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب ...