بنیادی صفحہ / قومی / ہم طالبان کی کارروائیوں کے ذمہ دار نہیں۔ وزیراعظم عمران خان

ہم طالبان کی کارروائیوں کے ذمہ دار نہیں۔ وزیراعظم عمران خان


رپورٹ: چودھری احسن پریمی:ایسوسی ایٹڈ پریس سروس
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے ہماری حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ افغان عوام جسے منتخب کریں گے ہمارے اس کے ساتھ بہترین تعلقات ہوں گے، ہمارا کوئی پسندیدہ نہیں ہے اور نہ ہی نوے کی دہائی کی طرح اب افغانستان میں تزویراتی گہرائی (اسٹریٹجک ڈیپتھ) جیسی کوئی پالیسی ہے۔اسلام آباد میں پاک افغان یوتھ فورم کے تحت وزیراعظم کی افغانستان کے میڈیا نمائندگان سے ملاقات اور سوال و جواب کا سیشن منعقد کیا گیا۔ایک افغان صحافی کی جانب سے افغانستان، بھارت اور پاکستان پر مشتمل سہ فریقی مذاکرات سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ 5 اگست کو بھارت نے یکطرفہ طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کو مسترد کرتے ہوئے کشمیریوں سے ان کی ریاست کا حق چھین لیا۔انہوں نے کہا کہ 1948 میں اقوامِ متحدہ کی قرارداد میں کشمیریوں کے استصوابِ رائے کا حق رکھا گیا تھا جو انہیں نہیں دیا گیا اس لیے کشمیر کے عوام نے اس حق کی جدوجہد کی جس کی پاکستان نے حمایت کی تاہم 5 اگست 2019 کو بھارت نے کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے بعد پاکستان نے بھارت کے ساتھ تمام سفارتی تعلقات منقطع کردیے اور جب تک بھارتی حکومت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بحال نہیں کردیتی، ہم بھارت، افغانستان کے ساتھ سہ فریقی مذاکرات نہیں کرسکتے۔انہوں نے کہا کہ میں افغانستان گیا ہوں، افغان صدر اشرف غنی کے ساتھ میرے اچھے تعلقات ہیں اور ہمارے باہمی تعلقات بھی اچھے ہیں لیکن افغان رہنماں کے حالیہ بیانات میں افغانستان کی صورتحال کا الزام پاکستان پر لگایا گیا جو بڑی بدقسمتی کی بات ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ طالبان کو پہلے امریکا کے ساتھ اور پھر افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کے لیے مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے پاکستان سے زیادہ کسی ملک نے دبا نہیں ڈالا، ہم نے اپنی بھرپور کوشش کی اور کسی ملک نے اتنی محنت نہیں کی جتنی ہم نے کی۔وزیراعظم نے کہا کہ اس بات کی تصدیق امریکا کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے بھی کی۔افغانستان میں کھیل کی سرگرمیوں کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ 3 سال کے دوران میرے پاس کھیلوں کے لیے وقت نہیں تھا کیوں کہ دیگر مسائل تھے لیکن میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ کرکٹ کی تاریخ میں جتنے کم وقت میں افغانستان میں بہتری آئی وہ کسی اور ملک کی ٹیم میں نہیں آئی۔انہوں نے کہا کہ افغانستان جس مقام پر پہنچ چکا ہے وہاں تک پہنچنے کے لیے دیگر ممالک کو 70 برس لگے ہیں، افغانوں نے بنیادی طور پر مہاجر کیمپوں میں کرکٹ سیکھی جو قابل ستائش ہے۔افغانستان کے بارے میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سول حکومت میں کتنی ہم آہنگی پائی جاتی ہے کے جواب میں وزیراعظم نے کہا کہ افغانستان میں ایک احساس یہ پایا جاتا ہے کہ پاکستان کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ کنٹرول کرتی ہے اور بدقسمتی سے اسے بھارت نے جان بوجھ کر پروان چڑھایا۔انہوں نے مزید کہا کہ میری حکومت کی خارجہ پالیسی گزشتہ 25 برسوں سے میری پارٹی کے منشور کا حصہ ہے اور میرا ہمیشہ یہ موقف رہا ہے کہ افغانستان کا کوئی عسکری حل نہیں ہے، ہمیں ہمیشہ کہا گیا کہ بالآخر افغانستان کا مسئلہ سیاسی تصفیے کے ذریعے حل ہوگا، میری حکومت کا 3 سال سے یہی موقف ہے جو میں 15 برسوں سے کہہ رہا ہوں۔وزیراعظم نے کہا کہ حکومت کو پاک فوج کی مکمل حمایت حاصل ہے اور میں نے ہمیشہ بھارت کے ساتھ امن چاہا ہے، فوج نے بھارت کے ساتھ امن سے متعلق میرے تمام اقدامات کی حمایت کی ہے، یہ بھارت ہے جو امن نہیں چاہتا۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیوں کہ بھارت کو اس وقت آر ایس ایس نظریات کی حامی جماعت کنٹرول کررہی ہے جو پاکستان اور مسلمان مخالف ہے اور اس کا مظاہرہ آپ نے کشمیر اور بھارت کے دیگر علاقوں میں دیکھا ہے کہ بھارت مسلمانوں کے ساتھ کس طرح کا برتا کررہا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ یہی چیزیں بھارت کے ساتھ امن میں رکاوٹ ہیں لیکن پاک فوج نے میرے ہر اقدام کی حمایت کی ہے اور ہمارے بیچ کوئی اختلاف نہیں ہے، دنیا کے تمام ممالک سے بڑھ کر پاکستان، افغانستان میں امن چاہتا ہے کیوں کہ وہاں امن کی صورت میں پاکستان کا وسطی ایشیائی ممالک سے رابطہ ہوگا۔انہوں نے کہا ہم نے ازبکستان کے ساتھ مزار شریف-پشاور ریلوے لائن کے لیے پہلے ہی سمجھوتہ کیا ہوا ہے اس لیے ہمارے مستقبل کی تمام اقتصادی حکمت عملیوں کا انحصار افغانستان میں امن سے منسلک ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام افغان عوام کو پڑوسیوں کے بجائے بھائی سمجھتے ہیں جنہوں نے 40 سال مشکلات برداشت کی ہیں، اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کو امن کی اشد ضرورت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر افغان حکومت اور طالبان کے درمیان خانہ جنگی جاری رہتی ہے تو اس کے اثرات پاکستان کے قبائلی اضلاع پر پڑیں گے اور جب ہم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں حصہ لیا اس کے نتیجے میں جنگ کے اثرات ہمارے قبائلی اضلاع پر آئے اور 70 ہزار پاکستانیوں کی جانیں ضائع ہوئیں۔اور آخری چیز جس کا ہمیں خدشہ ہے وہ یہ کہ اگر یہ خانہ جنگی طویل المدتی ہوئی تو پاکستان میں منتقل ہوگی، پاکستان میں پہلے ہی 30 لاکھ افغان مہاجرین مقیم ہیں اور شورش کے نتیجے میں مزید آئیں گے اور پاکستان کی اقتصادی صورتحال مزید افغان مہاجرین برداشت نہیں کرسکتی۔انہوں نے مزید کہا کہ اس لیے افغانستان کے سیاسی حل کے لیے پاکستان اپنی ہر ممکن کوشش کررہا ہے۔ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان میں طالبان جو کچھ کررہے ہیں اس کا ہم سے کوئی لینا دینا نہیں ہے آپ کو طالبان سے اس بارے میں بات کرنی چاہیے کہ وہ کیا کررہے ہیں، ہم اس کے ذمہ دار نہیں ہیں اور نہ ہی ہم طالبان کے ترجمان ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ لیکن 2 راستے ہیں 20 سال تک افغانستان میں امن کے لیے عسکری حل کی کوشش کی جاتی رہی جو ناکام ہوگئی، دوسرا ایک جامع حکومت بنائی جائے جو واحد ہے، ہم صرف افغانستان میں امن چاہتے ہیں، پاکستان میں 30 لاکھ افغان مہاجرین مقیم ہیں اور تقریبا تمام پشتون ہیں جن میں سے اکثریت طالبان کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ روزانہ تقریبا 25 سے 30 ہزار افغان مہاجرین افغانستان آتے اور جاتے ہیں تو پاکستان کس طرح یہ چیک کرسکتا ہے وہاں کون لڑنے کے لیے جارہا ہے لیکن پاکستان مستقل یہ کہہ رہا ہے کہ اگر تمام افغان مہاجرین اپنے ملک واپس چلے جائیں تو ہمیں ذمہ دار ٹھہرا سکتے ہیں لیکن جب 30 لاکھ موجود ہوں اور چند سو افغانستان لڑنے کے لیے جائیں اور ان کی لاشیں واپس پاکستان آئیں تو ہمیں کیسے ذمہ دار ٹھہرایا جاسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 5 لاکھ افراد کے مہاجر کیمپ موجود ہیں تو ہم کیسے ان مہاجر کیمپوں میں جائے اور فیصلہ کرے کہ کون طالبان کا حامی ہے کون نہیں، پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد برائے نام تھی اس لیے پاکستان سے جانے اور آنے والوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ہم نے بھاری لاگت سے سرحد پر باڑ لگائی ہم سرحد پر نقل و حرکت کنٹرول کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں خانہ جنگی میں پاکستان کا کیا مفاد ہوسکتا ہے؟ ان دنوں میں پاکستان کی کوشش تھی کہ افغانستان میں اپنے حامی رکھے لیکن اب میری حکومت کا اس بات پر یقین ہے کہ افغانستان کو باہر سے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا، افغانستان کی ایک تاریخ ہے اور افغان ہمیشہ آزاد رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ افغان عوام جسے منتخب کریں گے ہمارے اس کے ساتھ بہترین تعلقات ہوں گے، ہمارا کوئی پسندیدہ نہیں ہے اور نہ ہی نوے کی دہائی کی طرح اب افغانستان میں تزویراتی گہرائی کی کوئی پالیسی ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ افغان صدر اشرف غنی چاہتے تھے کہ ہم سرحد پار نقل و حرکت روکنے کی کوشش کریں، ہم نے انہیں بتایا کہ ہم مشترکہ معائنہ کریں گے، آپ ہمیں بتائیں کہ لوگ کہاں سے سرحد عبور کررہے ہیں ہم ان کے خلاف کارروائی کریں گے، ہم نے انہیں اس کی یقین دہانی کروائی ہے۔بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر آدھے افغانستان پر طالبان کا قبضہ ہے تو وہ پاکستان آ کر کیا کریں گے، انہوں نے پاکستان میں طالبان کے خاندانوں کی بات کی تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان ان کے اہلِ خانہ کو جیل میں ڈال دے، پاکستان کیا کرسکتا ہے؟ اور اگر کچھ طالبان رہنماں کے خاندان یہاں موجود بھی ہیں تو ہم ان پر صرف یہی اثر رسوخ استعمال کرسکتے تھے کہ جس کی وجہ سے انہوں نے امریکیوں سے مذاکرات کیے اور اگر ہم انہیں جیل میں ڈال دیتے تو یہ اثر رسوخ ختم ہوجاتا۔انہوں نے مزید کہا کہ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ افغان حکومت چاہتی ہے کہ ہم ان کے خلاف عسکری کارروائی کریں، ہم سب کچھ کریں گے لیکن عسکری طاقت استعمال نہیں کریں گے، پہلے ہم کسی اور کی جنگ لڑتے رہے اور 70 ہزار پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اس لیے پاکستان میں اتفاق رائے ہیکہ عسکری کارروائی نہیں ہوگی اس کے علاوہ ہم اپنی بھرپور کوشش کریں گے جتنا بھی ہوسکے گا طالبان پر دبا ڈالیں گے کیوں کہ امن ہمارے مفاد میں ہے۔افغان سفیر کی بیٹی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس ان کی استعمال کی گئی ٹیکسیوں کی تفصیلات موجود ہیں اور ہم نے لوگوں سے تفتیش کی لیکن ان کے بیان اور کیمروں کی فوٹیج بالکل مختلف ہیں بدقسمتی سے ہمیں سوالوں کے جواب نہیں ملے اور وہ واپس چلے گئے ہیں اس لیے ہم ان سے تصدیق نہیں کرسکتے اور ہم افغانستان سے آنے والی ٹیم کو تمام تر معلومات فراہم کریں گے۔کوئٹہ اور پشاور میں طالبان کی موجودگی کے بارے میں سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ہم ہمیشہ افغان حکومت سے کہتے رہے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے کہ یہ کوئٹہ شوری یا پشاور شوری کہاں ہیں؟ لیکن اگر یہ مہاجرین کیمپوں میں موجود ہیں تو وہاں لاکھوں افراد ہیں اس لیے ہمارے لیے آسان نہیں کہ بتائیں کہ کون آرہا ہے کون جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جدید دور کا سب سے بڑا فوجی مشن نیٹو اگر افغانستان میں ناکام ہوئی ہے تو اس کا پاکستان سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جبکہ دہلی میں گزشتہ روز جمعرات کو اگرچہ انڈیا اور امریکہ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں کووڈ کی وبا اور دوطرفہ دلچسپی کے دیگر عالمی امور پر تبادلہ خیال بھی ہوا لیکن جے شنکر اور بلنکن کی گفتگو میں افغانستان کی سلامتی کی صورتحال سب سے اہم مسئلہ تھا۔انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن نے کہا کہ پر امن اور مستحکم افغانستان امریکہ اور انڈیا کے مشترکہ مفاد میں ہے۔بلنکن نے کہا کہ انڈیا خطے میں امریکہ کا قابل اعتماد حلیف ہے اور انڈیا نے افغانستان میں استحکام اور ترقی لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے اور امید ہے کہ آئندہ بھی انڈیا اس کردار کو ادا کرتا رہے گا۔انڈین وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے افغانستان میں جمہوریت کے استحکام اور مضبوطی پر بھی زور دیا۔ امریکی وزیر خارجہ سے ملاقات کے بعد انھوں نے کہا کہ انڈیا اور امریکہ دونوں کو یقین ہے کہ افغانستان میں بحران کا فوجی حل نہیں ہو سکتا۔امریکی فوجی اگست کے آخر تک مکمل طور پر افغانستان سے چلے جائیں گے۔ سکیورٹی کی نئی صورتحال میں طالبان نے افغانستان میں تیزی سے پیش قدمی کی ہے اور وہ دعوی کرتے ہیں کہ انھوں نے ملک کے آدھے سے زیادہ حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔طالبان کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے بلنکن نے کہا: طالبان عالمی سطح پر پہچان چاہتے ہیں، وہ افغانستان کے لیے عالمی حمایت اور پابندیوں سے فرار چاہتے ہیں، لیکن ملک کو طاقت کے ساتھ حاصل کرنا اور لوگوں کے حقوق پامال کرنا ان مقاصد کے حصول کا راستہ ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا۔بلنکن نے کہا کہ ‘جیسے جیسے طالبان شہروں کی طرف بڑھ رہے ہیں، ان کی سرگرمیاں پریشان کن ہوتی جا رہی ہیں۔ ہم افغان حکومت اور افغانستان کی سکیورٹی فورسز کی حمایت کرتے ہیں۔ ایک ایسا ملک جو اپنے ہی شہریوں پر ظلم کرتا ہے وہ قابلِ قبول نہیں ہے۔بلنکن نے کہا کہ اگر طالبان نے طاقت کے ذریعے افغانستان پر قبضہ کر لیا تو افغانستان ایک ناکام ریاست بن جائے گا۔انھوں نے کہا کہ اگرچہ امریکی فوجی افغانستان سے نکل رہے ہیں، امریکہ افغانستان میں متحرک رہے گا۔ بلنکن نے کہا کہ امریکہ کا کابل میں ایک مضبوط سفارتخانہ ہے اور امریکہ افغانستان میں ترقیاتی پروگراموں کو جاری رکھے گا اور سکیورٹی کی مدد فراہم کرے گا۔تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس گفتگو میں امریکہ نے انڈیا کو یقین دلایا ہو گا کہ افغانستان میں اس کے مفادات کا خیال رکھا جائے گا۔پریس کانفرنس کے دوران بلنکن نے کواڈ کے بارے میں بھی بات کی۔ جاپان، آسٹریلیا، امریکہ اور انڈیا کی اس گروہ بندی کے مقاصد ابھی واضح نہیں ہیں۔ تاہم بلنکن نے اپنے بیان میں اشارہ کیا کہ کواڈ فوجی اتحاد نہیں ہو گا۔انھوں نے کہا کہ کواڈ کیا ہے؟ یہ اتنا آسان اور اتنا اہم ہے۔ چار ہم خیال ممالک اکٹھے ہو رہے ہیں تاکہ وہ ہمارے لوگوں کی زندگی کو متاثر کرنے والے اہم ترین امور پر متحد ہو کر کام کرسکیں۔ انڈو پیسیفک کا علاقہ کھولیں۔’انڈین وزیر خارجہ جے شنکر سے بات چیت کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں بلنکن نے کہا انڈیا کے عوام اور امریکہ کے عوام انسانی وقار اور مواقع کی برابری، قانون کی حکمرانی اور بنیادی آزادیوں پر یقین رکھتے ہیں۔ اس میں مذہبی آزادی بھی شامل ہے۔’اس آزادی کو جمہوریت کی اساس بتاتے ہوئے بلنکن نے میڈیا میں جاری ایک بیان میں کہا کہ انڈیا اور امریکہ دونوں ہی ‘بڑھتی جمہوریتیں’ ہیں جنھوں نے ان امور پر دوستانہ گفتگو کی۔اسی دوران تبتی نمائندے سے ملاقات کو چین کے لیے ایک اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔دالائی لامہ کے نمائندے کے ساتھ بلنکن کی ملاقات سے چند دن قبل، انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ان کی سالگرہ کی مبارکباد دالائی لامہ کو بھیجی۔ماہرین کا خیال ہے کہ یہ امریکہ اور انڈیا کی طرف سے چین کی طرف اشارہ ہے کہ آنے والے وقت میں تبت کے معاملے کو اٹھایا جا سکتا ہے۔دالائی لامہ اور مودی کے درمیان ملاقات بھی ممکن ہے۔ یہ سب اس وقت ہوا جب شی جن پنگ تبت کا دورہ کیا اور اپنی پالیسیوں کا اظہار کیا۔ یہ انڈیا اور امریکہ کے تبت کے معاملات اٹھانے کا اشارہ ہے۔’اسی دوران چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز کے ایڈیٹر ہو ژی جن نے بلنکن کی دالائی لامہ کے نمائندے سے ملاقات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘بلنکن کی کارکردگی سے چین پر امریکی دبا پر کوئی اضافی اثر نہیں پڑے گا، صرف اس سے عوام کو مدد ملے گی۔ چینی عوام امریکہ کی چین سے دشمنی کے بارے میں زیادہ پر اعتماد ہوں گے۔ امریکہ یہ غلط کارڈ کھیل رہا ہے، یہ شرمناک ہے۔’بلنکن اور جے شنکر کی ملاقات کے ساتھ ہی طالبان رہنما ملا برادر نے چین کا دورہ کیا ہے اور وزیر خارجہ وانگ یی سے ملاقات کی ہے۔ چین اس وقت افغانستان میں سرمایہ کاری نہیں کر رہا لیکن مستقبل میں چین افغانستان میں بھی اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

امید ہے کہ پی ایم ڈی اے کا غلط خیال دفن ہو چکا ہے۔

میڈیا ریگولیشن پر غیر ضروری تنازعہ بالآخر کسی حل کی طرف جا ...