بنیادی صفحہ / قومی / پاکستان میں دہشت گردوں کی باقیات فعال ہونے کا خدشہ ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار

پاکستان میں دہشت گردوں کی باقیات فعال ہونے کا خدشہ ہے۔ میجر جنرل بابر افتخار

 


رپورٹ: چودھری احسن پریمی:ایسوسی ایٹڈ پریس سروس
پاک فوج کے ترجمان اور شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام کا سب سے برا اثر پاکستان پر ہی پڑے گا اور اس کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی باقیات اور خفیہ ٹھکانے کے دوبارہ فعال ہونے کا خدشہ ہے۔ایسوسی ایٹڈ پریس سروس کے مطابق گزشتہ روز ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ خطے کی صورتحال پر بہت گہری نگاہ ہے، اگرچہ افغان عمل کی کامیابی میں ہم اپنا کردار انتہائی سنجیدگی سے ادا کررہے ہیں کیونکہ افغان امن عمل کے حوالے معاونت میں پاکستان نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی مگر اس کے ساتھ ساتھ اس بات کو بھی سمجھنا ہو گا کہ ہم اس پورے عمل کے ضامن ہرگز نہیں ہیں اور بالآخر یہ فیصلہ افغان فریقوں نے ہی کرنا ہے کہ انہوں نے آگے کس طرح سے چلنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ امریکی انخلا کے بعد صورتحال بگڑنے کی صورت میں متوقع اثرات سے نمٹنے کے لیے ہم نے بہت تیاری کی ہے اور ہم نے اپنے ملک کی سیکیورٹی اور حفاظت کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رکھے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں اگر بدامنی اور عدم استحکام ہو گا تو سب سے برا اثر پاکستان پر ہی پڑے گا اور پرامن افغانستان میں بھی سب سے زیادہ اسٹیک پاکستان کا ہی ہے، ہم نے بارہا کہا ہے کہ پاکستان میں امن کا افغانستان میں امن و استحکام سے براہ راست تعلق ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے سیکیورٹی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں لڑائی اور تشدد کے نتیجے میں پاکستان میں دہشت گرد تنظیموں کی باقیات اور خفیہ ٹھکانے کے دوبارہ فعال ہونے کا خدشہ ہے اور بلوچستان میں بھی کچھ عناصر کو تقویت مل سکتی ہے اور وہاں موجود مختلف دہشت گرد گروپس اور غیرملکی خفیہ ایجنسیاں کی مدد سے وہ آپس میں اتحاد کر سکتے ہیں اور حالیہ واقعات اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ہم بہت عرصے سے اقدامات کررہے ہیں، ہم نے دہشت گردی کی طویل اور صبرآزما جنگ لڑی ہے اور ہمیں اس میں بے مثال کامیابی ملی جنہیں ہم کسی صورت میں رائیگاں نہیں جانے دیں گے۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ 2017 سے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے وژن کے مطابق مغربی زون کی مینجمنٹ کے حوالے سے بہت موثر اقدامات اٹھائے گئے، مغربی سرحد پر حفاظتی باڑ کی تنصیب تقریبا مکمل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر 90 فیصد باڑ لگائی جا چکی ہے اور باقی بھی جد مکمل ہو جائے گی، پاک ایران سرحد پر بھی باڑ لگانے کا کام بہت تیزی سے جاری ہے، اس کے علاوہ سرحد پر سینکڑوں چوکیاں تعمیر کی گئیں، بارڈر کنٹرول سسٹم کو اپ گریڈ کیا ہے اور وہاں جدید بائیو میٹرک سسٹم کی تنصیب کی گئی ہے جبکہ پاک افغان سرحد پر تمام غیرقانونی کراسنگ پوائنٹس کو سیل کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ قبائلی اضلاع میں ایف سی کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور پولیس کی ٹریننگ کی فوج نگرانی کررہی ہے جس کے تحت 40 ہزار پولیس اہلکاروں اور 7ہزار لیویز کے جوانوں کی ٹریننگ کی گئی، ایک جامع نظام نصب کیا گیا ہے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ حال ہی میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات کا افغانستان میں پیدا ہونے والی صورتحال سے تعلق بنتا ہے لیکن ہمارے آپریشنز اور کارروائیوں کی بدولت اس وقت پاکستان میں دہشت گردوں کا کوئی منظم نیٹ ورک موجود نہیں ہے اور ان حملوں میں ملوث عناصر کی قیادت افغانستان میں بیٹھی ہوئی ہے اور انہیں را اور بھارت کی مکمل سپورٹ حاصل رہی ہے لیکن یہ حملے ان کی جھنجلاہٹ کو ظاہر کرتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مئی سے اب تک خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کے تقریبا 150 سے زائد چھوٹے بڑے واقعات ہو چکے ہیں، اسی طرح قبائلی اضلاع اور بلوچستان میں سیکیورٹی فورسز نے ساڑھے 7ہزار سے زائد آپریشنز کیے ہیں جن میں 42 دہشت گرد مارے گئے اور ہمارے اپنے بھی کئی جوان اور افسران شہید اور زخمی ہوئے۔انہوں نے کہا کہ ہماری پاک فوج ملک دشمن عناصر کی مکمل سرکوبی کے لیے ہر طرح تیار اور پرعزم ہیں اور امن اور ترقی کے دشمنوں کو ہم کسی صورت کامیاب نہیں ہونے دیں گے، ہم اس وقت انتہائی جارحانہ انداز میں آپریشنز کررہے ہیں اور یہ عناصر بھاگ رہے ہیں۔میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ پچھلے 20سال میں ہم نے دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی اور اس دوران 86ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے ساتھ ساتھ 152ارب ڈالر سے زائد کا نقصان برداشت کیا ہے، اس جنگ میں ہم نے ہزاروں آپریشنز کر کے 46ہزار مربع کلومیٹر کا علاقہ دہشت گردوں سے خالی کرایا، اس دوران 18ہزار سے زائد دہشت گرد مارے گئے اور میں آج پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان میں آج کوئی بھی منظلم دہشت گردی کا نیٹ ورک موجود نہیں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب ہم نے ردالفساد شروع کیا تو ہماری سوچ یہی تھی کہ طاقت کا استعمال صرف ریاست کا استحقاق ہے اور اسی وژن کے تحت جنر قمر جاوید نے پورے پاکستان کے طول و عرض میں ردالفساد آپریشن شروع کروایا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ زمینی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان میں دہشت گردی کی معاونت اور سہولت کاری کے سدباب کے لیے قانون سازی ہوئی اور دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں نے پاکستان کی معاونت اور خطے میں امن کے حوالے سے کلیدی اور تعمیری کردار کو تسلیم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مغربی سرحد پر لگائی گئی باڑ پاکستان کے ساتھ ساتھ افغانستان کے لیے بھی یکساں فائدہ مند ہے اور چیف آف آرمی اسٹاف نے اسے امن کی باڑ کہا ہے کیونکہ یہ کسی کو تقسیم نہیں کررہی بلکہ امن کو فروغ دے گی، پاکستان میں بدامنی پھیلانے والے عناصر افغانستان کی سرزمین سے کارروائیاں کرتے ہیں اور ہم اپنی سرزمین کسی کے خلاف استعمال ہونے دیں گے اور نہ کسی کی سرزمین اپنے خلاف استعمال ہونے دیں گے۔ایک سوال کے جواب میں ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہندوستان کا افغانستان میں اثرورسوخ بہت زیادہ ہے اور انہوں نے اس کا استعمال بھی کیا ہے، میں یہ سمجھتا ہوں کہ انہوں نے افغانستان میں جو اربوں کی سرمایہ کاری کی اس کا مقصد وہاں اپنے قدم جما کر پاکستان کو نقصان پہنچانا تھا۔انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال پر بھارت کے رویے اور ان کی جانب سے دیے جانے والے بیانات سے عیاں ہو چکا ہے کہ وہ موجودہ صورتحال سے انتہائی جھنجلاہٹ کا شکار ہیں اور سب کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس تمام تر صورتحال کو بھارت خراب کرنے کی ہر ممکن کوشش کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں چاہے کسی کی بھی حکومت ہو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اگر افغانستان میں استحکام ہے تو بھارت کے لیے وہاں سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کرنا مشکل ہو گا اور وہ اس پورے امن عمل کو سبوتاژ کرنے کی پوری کوشش کررہے ہیں۔افغانستان کے نائب صدر امر صالح کی جانب سے پاک فضائیہ کی جانب سے افغان ایئرفورس کو دھمکانے کے الزام کو پاک فوج کے ترجمان نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ بیان انتہائی غیرذمے دارانہ ہے جس کو میں پورے وثوق کے ساتھ مسترد کرتا ہے، تمام ممالک اپنے اپنے دائرہ اختیار میں اپنے طریقے سے کارروائی کرنے کا حق رکھتے ہیں، افغانستان کو بھی یہ حق حاصل ہے اور پاک فضائیہ کے حوالے سے دیے گئے اس بیان میں کوئی صداقت نہیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ پرتشدد واقعات میں کچھ افغان فوجی جان بچا کر پاکستان کی طرف آ گئے تھے، ہم نے انہیں مکمل احترام کے ساتھ کھانا اور تحائف دیے اور باجوڑ ایجنسی میں ہونے والے اس واقعے کے بعد انہیں سپاہی کے اعزاز کے ساتھ افغان حکام کو واپس کردیا اور ہم نے ہمیشہ عالمی اقدار کا احترام کیا ہے۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ 26 جون کو کرم ایجنسی میں ایک ٹیلی کام کمپنی کے 16 مزدوروں کو اغوا کیا گیا تھا، 10 کو انہوں نے اگلے دن چھوڑ دیا اور ایک کی لاش ملی تھی، پانچ مزدوروں کی بازیابی کے لیے وہاں آپریشن کیے گئے اور 11 جولائی کو ہم
نے ان میں سے تین دہشت گردوں کو مار دیا جبکہ اس دوران ہمارے ایک کیپٹن اور سپاہی کی شہادت بھی ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ ان شہادتوں کے باوجود ہم نے یہ آپریشن جاری رکھا اور بقیہ پانچ افراد کو بازیاب کرا لیا ہے اور اس میں ملوژث عناصر کے خلاف بھی کارروائیاں جاری ہیں۔جبکہ دفتر خارجہ نے پاکستان میں افغان سفیر کی بیٹی پر تشدد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت خارجہ اور متعلقہ سیکیورٹی حکام سفیر اور ان کے اہل خانہ سے قریبی رابطے میں ہیں اور وزیر اعظم نے ملزمان کی فوری گرفتاری کی ہدایت کی ہے۔افغان وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں دعوی کیا گیا تھا کہ پاکستان میں افغان سفیر نجیب اللہ علی خیل کی صاحبزادی سلسلہ علی خیل کو دارالحکومت اسلام آباد میں نامعلوم افراد نے اغوا کرنے کے بعد کئی گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنایا۔پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں افغان سفیر کی بیٹی پر اسلام آباد میں تشدد کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اس پریشان کن واقعے کی اطلاع کے فوری بعد اسلام آباد پولیس نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔وزارت خارجہ نے بتایا کہ وزارت خارجہ اور متعلقہ سیکیورٹی حکام سفیر اور ان کے اہل خانہ سے قریبی رابطے میں ہیں اور اس سلسلے میں مکمل تعاون کر رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ سفیر اور ان کے اہل خانہ کی سیکیورٹی کو بہتر بنا دیا گیا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے اور گرفتاری کی کوشش کر رہے ہیں۔دفتر خارجہ نے کہا کہ اس بات کا اعادہ کیا جاتا ہے کہ سفارتی مشن کے ساتھ ساتھ سفارتی عملے اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت انتہائی اہمیت کی حامل ہے، ایسے واقعات کو برداشت نہیں کیا جاسکتا ہے۔اس بیان کے اجرا کے بعد وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے بھی معاملے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان نے انہیں ہدایت کی ہے کہ افغان سفیر کی بیٹی کے اغوا میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نے انہیں یہ بھی کہا کہ اسلام آباد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کو ترجیحی بنیادوں پر حقائق منظر عام پر لانے اور 48 گھنٹوں کے اندر ملزموں کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی جائے۔وزیر داخلہ نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر مزید کہا وزیر اعظم کی ہدایات کے مطابق معاملے کی مکمل تحقیقات اور اس میں ملوث افراد کو گرفتار کرنے کے لیے تمام تر کوششیں کی جارہی ہیں جبکہ اسلام آباد پولیس افغان سفیر کی بیٹی اور اہل خانہ سے مستقل رابطے میں ہے۔یاد رہے کہ افغانستان نے سفیر کی بیٹی پر تشدد کا دعوی کرتے ہوئے پاکستان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ واقعے میں ملوث افراد کی شناخت کر کے ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔افغان وزارت خارجہ کی جانب سے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے سفرا، ان کے اہل خانہ اور پاکستان میں افغان سیاسی اور قونصلر مشن کے عملے کے اراکین کی حفاظت اور سلامتی کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا گیا تھا۔وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں پاکستان پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر ضروری اقدامات کرے تاکہ افغان سفارت خانے اور قونصل خانوں کی مکمل حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے اور ساتھ ہی بین الاقوامی معاہدوں اور کنونشن کے مطابق ملکی سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت بھی کی جا سکے۔دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمن نے کہا کہ افغان سفیر کی بیٹی ایک نوجوان خاتون تھی جنہیں اسلام آباد میں گھومنے پھرنے میں کسی بھی طرح کی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے اس واقعے کو پاکستان پرحملہ قراردیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وزارت داخلہ فوری طور پر ایسے آسان اہداف کو بہتر سیکیورٹی فراہم کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو پہلے ہی افغانستان میں تشدد میں اضافے کے نتیجے میں عدم استحکام کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ افغانیوں کی زیر قیادت امن اہم ہے۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

امید ہے کہ پی ایم ڈی اے کا غلط خیال دفن ہو چکا ہے۔

میڈیا ریگولیشن پر غیر ضروری تنازعہ بالآخر کسی حل کی طرف جا ...