بنیادی صفحہ / صحت / اسٹیٹ بینک کی معذور افرادکی معاشی خودمختاری کیلئے جامع پالیسی کا اجرا

اسٹیٹ بینک کی معذور افرادکی معاشی خودمختاری کیلئے جامع پالیسی کا اجرا

رپورٹ: اے پی ا یس
کراچی: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی معذور افراد (پی ڈبلیو ڈی) کی معاشی خودمختاری کو بہتر بنانے کے لیے جامع پالیسی کا اجرا کردیا۔اس پالیسی کا مقصد بینکاری خدمات تک رسائی اور بینک ملازمین کی حیثیت سے معذور افراد کی شمولیت ان کی معاشی خودمختاری کو بہتر بنائے گی۔بینکوں اور غیر سرکاری تنظیموں کے اشتراک سے معذور افراد کی زندگیوں کو بہتر کرنے کی پالیسی تیار کی گئی ہے۔اس تناظر میں اسٹیٹ بینک کی ہدایات کے تحت اب بینکوں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کو پی ڈبلیو ڈی کو مالی نیٹ شامل کرنے کے لیے حکمت عملی کے فریم ورک کو منظور کرنے کی ضرورت ہے جبکہ انتظامیہ اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائے گی۔پالیسی فریم ورک کے تحت بینک جسمانی طور پر معذور، ضعف معذور اور سماعت یا بصارت سے محروم سمیت تمام قسم کے پی ڈبلیو ڈیز کی خصوصی ضروریات کو پورا کرنے کی خدمات فراہم کی جائے گی۔بینکوں سے کہا گیا کہ ضروری فارمز اور دستاویزات کی دستیابی کو یقینی بنائیں، سائن لینگویج کی ترجمانی کی سروس فراہم کریں اور تمام شاخوں اور اے ٹی ایمز میں داخلے کے لیے ریمپ تعمیر کریں۔پالیسی میں شامل ایک شق بینکوں سے تقاضہ کرتی ہے وہ پی ڈبلیو ڈی کے لیے مقرر کردہ جاب کوٹہ کو پورا کریں۔خواتین پی ڈبلیو ڈیز کی حوصلہ افزائی کے لیے بینکوں میں پی ڈبلیو ڈیز کی ملازمت کا کوٹہ کم از کم 25 فیصد حصہ بنایا جائے گا۔صدر عارف علوی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئی پالیسی کا اجرا پی ڈبلیو ڈی کو درپیش مشکلات کے خاتمے میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک کے گورنر ڈاکٹر رضا باقر نے کہا کہ مرکزی بینک، نجی بینکوں کے ساتھ مل کر اس مقصد کی حوصلہ افزائی کرے گا کہ پی ڈبلیو ڈی کو معاشی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا یکساں موقع ملے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بینکوں کو ایسی مصنوعات اور سروسز کی تشکیل اور فراہمی کرنا چاہیے جو پی ڈبلیو ڈی کی خصوصی ضروریات کو پورا کرسکے۔بعدازاں پاکستان کی خاتون اول ثمینہ عارف علوی نے گورنر ہاس میں مختلف اہل افراد میں بلا سود قرضوں کے چیک تقسیم کیے۔ثمنیہ عارف علوی نے کہا کہ حکومت معذور افراد کی مدد کے لیے کوشاں ہے اور پی ڈبلیو ڈی کو قرض اور وظائف فراہم کرنے کے لیے ایک پروگرام شروع کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں ہونے والے ایک سروے میں مجموعی آبادی کا 15 فیصد معذور افراد پر مشتمل ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وقت کی ضرورت ہے کہ پی ڈبلیو ڈیزکو قرضوں اور اسکالرشپ پروگرام سے فائدہ اٹھانے کے لیے معلومات فراہم کریں۔اخوت فانڈیشن کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فانڈیشن نے 500 معذور افراد کو چیک دیے ہیں۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

کورونا وائرس: این سی او سی نے ملک بھر میں نئی پابندیاں عائد کردی

رپورٹ: اے پی ایس پاکستان میں کورونا وائرس کے پھیلا کے پیشِ ...