بنیادی صفحہ / کاروبار / مالی سال 2021-22 کا بجٹ پیش، پینشن میں 10 فیصد اضافہ

مالی سال 2021-22 کا بجٹ پیش، پینشن میں 10 فیصد اضافہ

رپورٹ: چودھری احسن پریمی:ایسوسی ایٹڈ پریس سروس
وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے قومی اسمبلی میں مالی سال 22-2021 کا 8 ہزار 487 ارب روپے حجم کا بجٹ پیش دیا۔اسپیکر اسد قیصر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ تقریر کا آغاز ہوتے ہی اپوزیشن بینچوں سے شور شرابہ شروع ہوگیا اور نعرے بازی کی گئی۔ایوان میں بجٹ سیشن سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ شوکت ترین نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کا یہ تیسرا بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں ہم معیشت کے بیڑے کو کئی طوفانوں سے نکال کر ساحل تک لے آئے ہیں، مشکلات تو درپیش ہیں مگر معیشت کو مستحکم بنیاد فراہم کردی گئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان مشکل حالات کا مقابلہ کیا اور کامیابی کی جانب گامزن ہیں، یہ کامیابی وزیراعظم کی مثالی قیادت کے بغیر ممکن نہیں تھی۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں کون سے حالات ورثے میں ملے، یہ بات سب کو معلوم ہے کہ بہت زیادہ قرضوں کی وجہ سے ہمیں دیوالیہ پن کی صورتحال کا سامنا تھا۔بجٹ تقریر پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہمیں ورثے میں 20 ارب ڈالر کا کرنٹ اکانٹ کا تاریخ خسارہ ملا، 25 ارب ڈالر کی درآمدات تھیں، اس عرصے کے دوران برآمدات میں منفی 0.14 فیصد جبکہ درآمدات کا اضافہ 100 فیصد اضافہ ہوا تھا۔انہوں نے مزید کہا کہ شرح سود کو مصنوعی طور پر کم رکھا گیا تھا اور تمام قرضے اسٹیٹ بینک سے لیے گئے جس کی وجہ سے مالیاتی حجم میں شدید عدم توازن پیدا ہوا، اسٹیٹ بینک سے قرضوں کا حجم 70 کھرب روپے کی خطرناک سطح تک پہنچ گیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.6 فیصد تھا جو گزشتہ 5 سالوں میں سب سے زیادہ تھا، بیرونی زرِمبادلہ کے ذخائر بڑی حد تک قرضے لے کر بڑھائے گئے تھے جو جون 2013 میں 6 ارب ڈالر تھے اور 2016 کے آخر میں بڑھتے ہوئے 20 ارب ڈالر ہوگئے تھے لیکن مسلم لیگ (ن) کی حکومت کے آخری 2 سالوں میں بڑی تیزی سے کم ہوکر صرف 10 ارب ڈالر رہ گئے تھے، اس دور میں بیرونی قرضوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا تھا۔جبکہ بجٹ تقریر کے اہم نکات درج ذیل ہیں۔3 منٹ سے زائد دورانیے کی موبائل فون کالز، انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال اور ایس ایم ایس پیغامات پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ،یکم جولائی 2021 سے تمام وفاقی ملازمین کے لیے 10 فیصد ایڈہاک ریلیف کا اعلان،تمام ملازمین کی پینشن میں 10 فیصد اضافہ،کم از کم ماہانہ تنخواہ 20 ہزار روپے کردی گئی،تنخواہ دار طبقے پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔مقامی سطح پر بنائی جانے والی 850 سی سی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی چھوٹ اور سیلز ٹیکس میں کمی،آئی ٹی کی خدمات کی برآمدات کے لیے زیرو ریٹنگ کی اجازت،پھلوں کے رس پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کا خاتمہ،قرآن پاک کی پرنٹنگ اور اشاعت میں استعمال ہونے والے آرٹ اور پرنٹنگ پیپرز کی درآمد پر چھوٹ،وفاقی پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی)کے لیے 40 فیصد اضافے سے 900 ارب روپے مختص،زراعت کے شعبے کے لیے 12 ارب روپے مختص،بجلی کی ترسیل کے لیے 118 ارب روپے مختص،موسمیاتی تبدیلیوں کے تخفیف کے منصوبوں کے لیے 14 ارب روپے مختص،کورونا ویکسین کی خریداری کے لیے ایک ارب 10 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز،کووڈ 19 ایمرجنسی فنڈ کے لیے 100 ارب روپے مختص،سندھ کو خصوصی گرانٹ کے لیے 12 ارب روپے مختص جبکہ وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ مسلم لیگ کے آخری دو سال میں جون 2018 تک 10 ملین ڈالر رہ گئے اس دور میں بیرونی قرضے میں اضافہ ہوا۔انہوں نے کہا کہ یہ تباہی کی داستان ہے جس کے بعد معشیت کی بحالی کی ذمہ داری ہم پر عائد ہوگی۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود 5.5 شرح نمو کا ڈھول پیٹا گیا اور بلا سوچے سمجھے قرضے لیے گئے، انہوں نے کہا کہ یہ ساری ادائیگیاں ہمیں کرنی پڑیں ورنہ ملک ڈیفالٹ کرجاتا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم حقیقی منظر پیش کررہے ہیں، قبرستان میں کھڑے ہو کر قبروں کو کھودنے کے بجائے قوم کو روشنی کی طرف لے جایا جائے، وزیر خزانہ نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے معیشت کی بحالی میں تھوڑا وقت لگا۔شوکت ترین کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کی حکومت مشکل فیصلے میں خوفزدہ نہیں ہوتی جس کی وجہ سے 20 ارب کرنٹ اکانٹ خسارے کو اپریل 2019 کو 800 ملین ڈالر کا سرپلس میں تبدیل کردیا گیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کی پالیسی اپنائی گئی، ہم استحکام سے معاشی نمو کی طرف گامزن ہوئے ہیں جبکہ کورونا کی وجہ سے معاشی نمو میں ایک سال کی تاخیر ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کورونا کی دو لہروں کا مقابلہ کرنا پڑا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ معاشی ترقی کی شرح ہر شعبے میں ریکارڈ کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کپاس کے علاوہ تمام دیگر زرعی اشیا کی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جبکہ صنعتی ترقی بھی غیر معمولی رہی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ بڑے صنعتی شعبے میں 9 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ ماضی میں نمو منفی 10 فیصد تھی۔انہوں نے کہا ہم کورونا وبا کے پھیلا کو روکنے میں کامیاب رہے اگرچہ مارچ سے مئی کے دوران تیسری لہر کا سامنا کرنا پڑا لیکن کاروبار کی بندش سے گریز کیا۔انہوں نے کہا کہ احساس پروگرام کے ذریعے ایک کروڑ 20 لاکھ گھرانوں کی مدد کی گئی اور پہلے سال میں ایک کروڑ 15 لاکھ گھرانوں کو امداد دی گئی۔وزیرخزانہ نے کہا کہ ترسیلات زر کی تاریخی سطح ریکارڈ کی گئی، بیرون سرمایہ کم آمدنی والے طبقے سے ہے، جس کی وجہ ان افراد کی اشیا کی خرید و فروخت میں اضافہ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بیرونی ترسیلات زر اس سال 29 ارب ڈالر پر پہنچے گی، یہ سب سمندر پار پاکستانیوں کا عمران خان پر اعتبار کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ فصلوں کی پیداوار میں تاریخی اضافے سے کسانوں کو 3 ہزار 100 ارب روپے کی آمدنی ہوئی جبکہ گزشتہ برس یہ رقم 2 ہزار 300 ارب روپے تھی، جس سے آمدنی میں 32 فیصد اضافہ ہوا۔شوکت ترین نے کہا کہ لارج اسکیل مینوفیکچرنگ میں نمو سے لوگوں کے چھینے ہوئے روزگار کووڈ سے پہلے کی سطح پر بحالی کی نشاندہی ہو رہی ہے بلکہ روزگار میں مزید اضافہ ہوا ہے کیونکہ گزشتہ ایک دہائی میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ خدمات کے شعبے میں اضافہ خاص طور پر ای کامرس کے ذریعے آن لائن خریداروں کے ذریعے روزگار میں بہتری کا عکاس ہے۔انہوں نے کہا کہ کووڈ-19 کے باوجود گزشتہ ایک سال میں فی کس آمدنی میں 15 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس وصولیوں میں 18 فیصد کا زبردست اضافہ ہوا، جس کی وجہ معشیت کی غیر معمولی کارکردگی ہے، ٹیکس کی وصولی 4 ہزار ارب کی نفسیانی حد عبور کرچکی ہے۔بجٹ تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ ریفنڈ میں پچھلے سال کے مقابلے میں 75 فیصد زائد پیسے دیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ برآمدات ماضی کے مقابلے میں اب بہت زیادہ ہیں، اس سال برآمدات میں شاندار نمو دیکھنے میں آئی، جس میں 14 فیصد اضافہ ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ ادائیگیوں کے توازن میں قابو پالیا گیا ہے اور سرپلس ہوگیا ہے، غذائی اجناس فصلیں تباہ ہونے پر برآمد کرنا پڑی۔شوکت ترین نے کہا کہ ترسیلات زر میں 25 فیصد کا اضافہ ہوا اور 29 ارب تک پہنچ گئی ہیں اور بہتری کے ساتھ اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ سرکاری خزانے میں 3 مہینے سے زیادہ درآمدات کے لیے کافی ہے، ڈالر 155 روپے پر ٹریڈ ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان غذائی اجناس میں خسارے کا ملک بن گیا ہے، عالمی مارکیٹ میں غذائی اجناس بلند ترین سطح پر ہے۔شوکت ترین نے کہا کہ صوبوں کے تعاون سے زرعی پیداوار میں اضافہ اور فوڈ سیکیورٹی یقینی بنانے کے لیے جامع پلان ترتیب دیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ برآمدات میں اضافہ ادائیگیوں کے توازن میں جاری مسلسل بحران سے نکالنے اور بار بار آئی ایم ایف پروگرام کی طرف جانے سے بچنے کے لیے نہایت اہم ہے، اس لیے ہم اس سیکٹر کے لیے کافی مراعات کا اعلان کر رہے ہیں اور ایک ایسا پلیٹ فارم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں صنعتیں منتقل کی جائیں گی، روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے اور برآمدات میں اضافہ ممکن ہوسکے گا۔شوکت ترین نے کہا کہ اس وقت پاکستان میں کم از کم ایک کروڑ رہائشی مکانات کی کمی ہے، وزیراعظم کے ہاسنگ اور تعمیرات پیکج سے اس شعبے میں بہت سی معاشی سرگرمیوں اور اس شعبے سے وابستہ صنعتوں کو فروغ ملا ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت اس پروگرام کے فروغ کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھارہی ہے، اس سلسلے میں پالیسی سازی اور اس کے نفاذ میں ربط کے لیے نیا پاکستان ہاسنگ اتھارٹی قائم کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اس پروگرام کے فروغ کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات اٹھارہی ہے، اس سلسلے میں پالیسی سازی اور اس کے نفاذ میں ربط کے لیے نیا پاکستان ہاسنگ اتھارٹی قائم کی گئی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اس اقدام کے تحت ہاسنگ اسکیموں کے لیے ٹیکسوں میں رعایت کا ایک پیکج خاص طور پر واضح کیا گیا ہے، اس کے علاوہ حکومت کم آمدنی والے افراد کو گھر بنانے میں مدد کے لیے 3 لاکھ روپے کی سبسڈی دے رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پہلی مرتبہ مورٹگیج فنانسنگ شروع کی گئی ہے، تمام صوبائی حکومتیں اس اقدام میں معاونت کی غرض سے اراضی کا تعین اور ہاسنگ منصوبوں کا آغاز اور نجی شعبے کی ہاسنگ اسکیموں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ بینک لوگوں کی رقوم کی فراہمی کے پروگرام میں شرکت کر رہے ہیں اور اس ضمن میں بینکوں کو 100 ارب روپے کی فراہمی کی درخواستیں موصول ہوئی ہیں جس میں سے 70 ارب روپے کی فراہمی کی منظوری کی جاچکی ہے اور ادائیگی کا سلسلہ شروع ہوچکا ہے۔انہوں نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے لیے بجٹ 630 ارب روپے سے بڑھا کر 900 ارب روپے کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترقیاتی بجٹ میں 40 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا گیا۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پی ایس ڈی پی کے تحت ہمارا وژن بہت سادہ ہے، ہم زیادہ منافع بخش پروگرام میں سرمایہ کاری کریں گے جس سے بود و باش میں بہتری آئے گی اور کرپشن کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ اس مرتبہ قومی اقتصادی کونسل نے 2 ہزار 135 ارب روپے کے تاریخی ترقیاتی بجٹ کی منظوری دی ہے، جو کونسل کی طرف سے گزشتہ سال کے لیے منور کردہ بجٹ سے 33 فیصد زیادہ ہے۔شوکت ترین نے فوڈ سیکیورٹی کے حوالے سے کہا کہ ہماری حکومت نے زراعت کے شعبے کو غیر معمولی ترجیح دی ہے۔انہوں نے کہا کہ امسال گندم، چاول، گنے میں بہت زیادہ پیداوار ہوئی۔وزیر خزانہ نے کہا کہ اسی وجہ سے نیشنل ایگریکلچر ایمرجنسی پروگرام کا اعلان کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس پروگرام کا مقصد لائیو اسٹاک اور زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ مویشی، ماہی گیری، آپباشی کے شعبے کا اعادہ کیا جائے گا جبکہ ہم نے اگلے سال زراعت کے لیے 12 ارب روپے مختص کیے ہیں۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ ٹڈی دل اور فوڈ سیکیورٹی پراجیکٹ کے لیے ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان تیزی سے پانی کی کمی کا شکار ہو رہا ہے اور وزیراعظم عمران خان چھوٹے ڈیموں کی تعیمر کے لیے خواہاں ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تین بڑے ڈیمز کی تعمیرات ہماری ترجیحات میں شامل ہیں جس میں داسو ہائیڈروپاور پراجیکٹ پہلے میں کے لیے 57 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ دیامیر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے 23 ارب روپے جبکہ مہمند ڈیم کے لیے 6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ نیلم جہلم پاور پراجیکٹ کے لیے 14 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت 13 ارب ڈالر مالیت سے 17 منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں جبکہ 21 ارب ڈالر سے 21 منصوبے جاری ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ اسٹریجک نوعیت کے 26 منصوبے زیر غور ہیں جن کی مالیت 28 ارب ڈالر ہے۔وزیر خزانہ نے کہا کہ ایم ایل ون ایک اہم منصوبہ، جس کی لاگت 9.3 ارب ڈالر ہے، اسے تین مراحلے میں مکمل کیا جائے گا، پیکج ون کا آغاز مارچ 2020 شروع ہوچکا جبکہ پیکج ٹو جولائی 2021 اور پیکج تھری جولائی 2022 میں شروع ہوگا۔شوکت ترین نے کہا کہ ہم ساری کی ساری بجلی صارفین کو فراہم کرنے کی صلاحیت سے محروم ہیں اس لیے ہماری سرمایہ کاری میں ترجیحات یہ ہوگی کہ اس چیلنج پر پورا اتریں۔انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے حصول کے لیے بجٹ میں 118 ارب روپے مختص کیے ہیں۔وزیر خزانہ نے کہا کہ کراچی میں کے ون اور کے ٹو منصوبے اور تربیلا ہائیڈرو پاور پلانٹ کی پانچویں توسیع کے لیے 16 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے پسماندہ علاقوں کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکج شروع کیے ہیں، اس مقصد کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں۔بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ زرعی شعبے کی طلب کو پورا کرنے کے لیے آبی وسائل میں بہتری ہمارا نصب العین ہے، جس کے لیے ساڑھے 19 ارب روپے رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے 54 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن میں 30 ارب روپے اگلے 10 سالہ ترقی منصوبے کے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر حکومت یقین رکھتی ہے، اتھارٹی کے پاس مختلف مراحل میں 50 منصوبے موجود ہیں جن کی مجموعی لاگت 2 ہزار ارب روپے، جس میں ریل، صحت، لاجسٹک اور دیگر منصوبے شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ 710 ارب روپے کے مزید 6 منصوبے رواں سال شروع ہوں گے، جس کے لیے حکومت وائبلیٹی گیپ فنڈز کی مد میں 61 ارب روپے ادا کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے بلین ٹری سونامی منصوبہ ہے اور مالی سال میں 14 ارب روپے مختص کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سماجی شعبے میں وزیراعظم ترجیح دیتے ہیں، اس میں صحت، تعلیم، پائیدار ترقی کے اہداف، موسمیاتی تبدیلی اور دیگر شعبہ جات ہیں اور اس مد میں پی ایس ڈی پی میں 118 ارب روپے کے فنڈ مختص کر رہے ہیں۔شوکت ترین نے کہا کہ وسائل بالخصوص ریونیو کو موبلائز کرنا ہماری معاشی پالیسی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، ٹیکس رجیم میں ٹیکسٹائل ہماری معاشی پالیسی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے، ٹیکس نظام پر اعتماد کی کمی کی وجہ سے یہ اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔مجوزہ ٹیکس پالیسی نئے ٹیکس گزاروں کی نشاندہی کے بعد ٹیکس نیٹ میں اضافہ، ٹیکس استثنی اور مراعات سے متعلقہ شقوں کا بتدریج خاتمہ کرے گی اور ٹیکس شرح میں کمی پر زور دے گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ ٹیکس گزاروں کا تحفظ بھی کیا جائے گا تاکہ ان کے واجب الادا ٹیکس پر مزید کوئی بوجھ نہ ڈالا جائے۔قبل ازیں وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس اسلام آباد میں ہوا جس میں بجٹ کی تجاویز پر تبادلہ خیال اور منظوری دی گئی۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

پاکستان اسٹاک ایکسچینج : چار سال کے بعد 48 ہزار کی سطح عبور کر گیا

رپورٹ: اے پی ایس پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے تیز رفتاری کے ساتھ ...