بنیادی صفحہ / قومی / کیا عمران خان کا چھوٹی پارٹیوں سے اتحاد ایک کمزور حکومت ثابت ہوگا ؟

کیا عمران خان کا چھوٹی پارٹیوں سے اتحاد ایک کمزور حکومت ثابت ہوگا ؟

 

کیامتنازع الیکشن نتائج عمران خان کیلئے مسلسل درد سر بنے رہیں گے ؟
یہ الیکشن تمام دھاندلی زدہ الیکشنز کی ماں ہے۔ یوسف رضا گیلانی
الیکشن کمیشن کا نتائج پر اختیار نہیں رہا۔ مولانا فضل الرحمن


رپورٹ: چودھری احسن پریمی
ایسوسی ایٹڈ پریس سروس،اسلام آباد
امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان نے چھوٹی پارٹیوں اور آزاد جو اتحاد بنایا ہے وہ ایک کمزور حکومت ثابت ہوگا اور سینیٹ میں پاکستان تحریک انصاف کی اقلیت فیصلہ سازی کی راہ میں رکاوٹ بنی رہے گی۔ تاہم ایک کمزور حکومت مقتدر قوتوں کے مفاد میں ہے اور پاکستان کے طاقت ور حلقے 2013 جیسے مضبوط وزیر اعظم کے حق میں نہیں ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ عمران خان کے آنے سے پاکستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عمران خان جس سیاسی نظام کے خلاف نوجوانوں کو متحرک کر کے باہر نکالا، وہ خود بھی اسی نظام کا حصہ بن گئے ہیں، جس سے نوجوان ان سے دور ہو جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار پاکستانی سیاست پر نظر رکھنے والے ماہرین نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک مجلس مذاکرہ میں کیا جس کا عنوان تھا پاکستان: انتخابات کے بعد۔اس مذاکرے کا اہتمام ایک تھینک ٹینک ہڈسن انسٹی ٹیوٹ نے کیا تھا جب کہ مقررین میں فلوریڈا یونیورسٹی کے اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد تقی اور امریکہ کے لئے پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی بھی شامل تھے۔جارج ٹاون یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی ایسوسی ایٹ پروفیسر کرسٹین فیئر نے پاکستان کو درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے آئی ایم ایف کے کردار کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ادا ئیگیوں کے توازن کے حالیہ بحران میں امریکہ آئی ایم ایف پر قرضہ نہ دینے کے لیے دبا وڈال تو سکتا ہے مگر پاکستان میں جوہری ہتھیاروں کی موجودگی کے باعث امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کا ناکام ریاست بننا بہت خطرناک ہے اس لئے، اس بار بھی ہم امریکہ کی طرف سے اس معاملے میں بہت زیادہ دبا نہیں دیکھیں گے۔پروفیسر کرسٹین فیئر کا کہنا تھا کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا بھر کے نوجوانوں میں سیاسی نظام پر اعتماد میں کمی آ رہی ہے وہاں پاکستانی نوجوانوں کا یہ پہلو بہت خوش آئند ہے کہ پچھلی ایک دہائی سے تحریک انصاف کی وجہ سے نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے سیاسی عمل میں شریک ہوئی ہے۔فیئر کا کہنا تھا کہ عمران خان نے پالیسی سازی کی سیاست کو قومی مکالمے کا حصہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں میں جو یہ غصہ پایا جاتا تھا کہ سیاست دان پالیسیاں نہیں بناتے، مسائل کے حل کی بجائے سرپرستی کی سیاست کرتے ہیں۔ عمران خان نے اسے کامیابی سے استعمال کیا ہے۔مگر انہوں نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ جس طریقے سے عمران خان نے مقتدر قوتوں کے ساتھ مل کر اقتدار حاصل کیا ہے اس سے انہوں نے خود کو بھی نظام کا حصہ بنا لیا ہے جس کے خلاف نوجوان طبقے نے ان کا ساتھ دیا ہے۔فیئر کا کہنا تھا اب اسی وجہ سے بہت سے نوجوان عمران خان سے دور ہوتے نظر آ رہے ہیں۔گفتگو میں شریک محمد تقی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ 1970 میں عوامی مینڈیٹ انتخابات کے بعد چرایا گیا تھا جب کہ اس بار مینڈیٹ انتخابات سے پہلے ہی چرا لیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اس طرح کی سیاسی انجنیرنگ ایوب خان کے زمانے سے کرتی آ رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ الیکشن سے پہلے نوازشریف کی نااہلی اور پھر جیل، الیکٹیبلز کو ایک پارٹی میں شامل ہونے کے لیے مبینہ دبا، میڈیا پر پابندیاں اور شدت پسند گروہوں کو انتخابات میں حصہ لینے کی چھوٹ جیسے عوامل انتخابات سے پہلے دھاندلی کا حصہ تھے۔انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ میڈیا اور احتساب کے ادارے اس مقصد کے لئے پہلی دفعہ استعمال ہوئے ہیں۔ ایوب نے ایبڈو کیا اور پروگریسو پیپرز پر پابندی لگا دی۔ یہی کچھ یحیی، ضیا الحق اور مشرف نے کیا اور وہی کھیل اب کھیلا جا رہا ہے۔حسین حقانی کا کہنا تھا کہ ماضی میں بھی کرپشن کے الزامات کو استعمال کر کے مرضی کا سیاسی نظام لایا گیا۔ آصف زرداری کو 11 برس جیل میں ڈالا گیا مگر ان پر کبھی الزامات ثابت نہ ہوئے۔ میڈیا کو حریف سیاست دانوں کے خلاف استعمال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نوازشریف کو نااہل پہلے کیا گیا اور ان کا ٹرائل بعد میں ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مذہبی انتہا پسند جماعتیں پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بن سکی ہیں مگر اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ پہلے کی طرح سڑکوں کی سیاست کرتی رہیں گی۔عمران خان کی حکومت کے مستقبل پر بات کرتے ہوئے محمد تقی کا کہنا تھا کہ کمزور سیاسی اتحاد پر مشتمل حکومت کے ہوتے ہوئے عمران خان کے لئے آگے چل کر بہت مسائل ہوں گے۔ متنازع الیکشن نتائج عمران خان کے لئے مسلسل درد سر بنے رہیں گے جب کہ اپوزیشن کا اتحاد بھی بہت مضبوط ہے اور ن لیگ اور پیپلز پارٹی حلیف بن چکے ہیں۔ سینیٹ میں عمران خان کی پارٹی اقلیت میں ہے۔ یہ اتحاد آگے جا کر ان کے لئے بہت مشکلات کھڑی کر سکتا ہے۔پروفیسر کرسٹین فیئر کا کہنا تھا کہ عمران خان کی کمزور حکومت اور سینیٹ میں اس کی اقلیت مقتدر قوتوں کے مفاد میں ہے۔ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کو 2013 کی طرح کا مضبوط وزیراعظم منظور نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ سیاسی سیٹ اپ میں پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے پاس عمران خان کے علاوہ کوئی آپشن نہیں تھا۔وہ مستقبل میں بھی پاکستانی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں دیکھتیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ خارجہ پالیسی کا اختیار صرف پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے پاس ہے اور عمران خان اس میں خاطر خواہ تبدیلی نہیں لا پائیں گے۔پاکستان کے متوقع وزیر اعظم اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پنجاب میں ہمیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ سب تیار رہیں۔ نئے پاکستان کا آغاز پنجاب سے ہوگا۔انھوں نے کہا کہ پنجاب کے وزیر اعلی کے لیے ایک نوجوان لا رہا ہوں جو کلین ہوگا اور اس پر کسی قسم کا کوئی سوالیہ نشان نہیں۔تحریک انصاف پنجاب کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس چیئرمین عمران خان کی زیر صدارت اسلام آباد میں ہوا، جس میں پنجاب بھر سے نو منتخب اراکین پنجاب اسمبلی سمیت تحریک انصاف میں شامل ہونے والے آزاد امیدوار شریک ہوئے۔اجلاس میں تحریک انصاف کی مرحوم رہنما سلونی بخاری کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ذرائع کے مطابق، پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں وزیر اعلی پنجاب کی تقرری اور کابینہ امور پر مشاورت ہوئی اور وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی نے شرکا کو پارلیمانی امور سے متعلق آگاہ کیا۔بعد ازاں نو منتخب اراکین سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ سب کو مبارکباد دیتا ہوں کیونکہ آپ سب نے اتنا مشکل الیکشن لڑا۔ انتخابات کے روز خیبر پختونخوا میں ہم سب سے آگے تھے جبکہ پنجاب میں پانی پت کی جنگ تھی، پنجاب میں پی ٹی آئی اور ن لیگ کا مقابلہ تھا۔ کئی لوگوں کو ٹکٹ نہیں دیے اور وہ آزاد جیت گئے۔عمران خان نے کہا کہ ملک میں دو قسم کی سیاست ہے، پہلی ذاتی سیاست جو صرف پیسہ کمانے کیلئے ہے، اس نے لوگوں کو ذلت دی کیونکہ لوگ عوام کا نام لے کر اقتدار میں آ کر اپنی ذات کا سوچتے ہیں۔ دوسری سیاست وہ ہے جو پیغمبروں نے کی۔ سارے پیغمبر انسانیت کے لیے کھڑے ہوئے۔ آپ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ میں لوگوں سے وعدہ کر کے آیا ہوں کہ مدینہ کی ریاست بنانی ہے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ پنجاب میں ہمیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ سب تیار رہیں نئے پاکستان کا آغاز پنجاب سے ہی ہوگا۔ اصل جنگ پنجاب میں ہے، آپ سب نے یہ جنگ لڑنی ہے۔ پنجاب میں بہترین وزیرِ اعلی لاوں گا۔چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ پنجاب کے وزیراعلی کے لیے ایک نوجوان لارہا ہوں۔ یہ نوجوان کلین ہوگا۔ اس پر کسی قسم کا کوئی سوالیہ نشان نہیں۔ آپ سب اس نوجوان کو
سپورٹ کریں جب کہ پنجاب میں ہمیں بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے۔ پنجاب کے لوگوں کو ریلیف دینا ہے۔ وہاں کے لوگ کئی دہائیوں سے مفلسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔عمران خان نے کہا کہ پنجاب پولیس کو غیر سیاسی اور خود مختار بنائیں گے اور کے پی پولیس کے طرز کی اصلاحات لائیں گے۔ پنجاب کے اسکولوں اور اسپتالوں کو بہتر سے بہتر بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ میں آپ سے اس کا تقاضا کبھی نہیں کروں گا جس پر میں خود عمل نہ کروں۔ میں فیصلے میرٹ پر اور قوم کے مفاد کے لیے کروں گا جب کہ ذاتی سیاست نے سیاستدانوں کو ذلت دی ہے۔ ذاتی سیاست میں عوام کا نام لے کر اقتدار میں آکر اپنی ذات کا سوچتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں پاکستان تحریکِ انصاف(پی ٹی آئی) ایک ادارہ بنے۔ ہمیں ٹکٹ دینے کے عمل کو بہتر بنانا ہوگا۔ ہم میرٹ پر ابھی سے آئندہ الیکشن کی تیاری کریں گے۔پنجاب میں وزارت اعلی کے لیے پاکستان تحریک انصاف نے نمبر گیم مکمل ہونے کا دعوی کیا ہے اور آزاد ارکان کی حمایت حاصل ہونے کا کہا ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ(ن) بھی آزاد ارکان سے رابطہ میں ہے اور حکومت سازی کی کوششیں کر رہی ہے۔ لیکن اس صورتحال میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت قائم ہوتی نظر آ رہی ہے۔ پاکستان میں حالیہ انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی اور دیگر پانچ جماعتوں پر مشتمل اتحاد کے رہنماں اور ان جماعتوں کے کارکنوں نے بدھ کو اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر احتجاج کیا ہے۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے ان انتخابات کو دھاندلی زدہ قرار دیتے ہوئے ان کے نتائج کو ماننے سے انکار کیا ہے اور پارلیمانی انکوائری کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستان کے سابق وزیر اعظم اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما یوسف رضا گیلانی نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں ہونے والے انتخابات صاف، شفاف نہیں تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ الیکشن تمام دھاندلی زدہ الیکشنز کی ماں ہے اور پاکستان کی تمام پارٹیاں ان انتخابات کو نہیں مانتیں اور تمام مظاہرین سراپا احتجاج ہیں۔ دنیا کو سمجھ آگئی ہے کہ یہ فری اینڈ فئیر الیکشن نہیں تھے۔’اسی احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عوام پر دھاندلی زدہ وزیراعظم مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور الیکشن میں ہونے والی دھاندلی کے خلاف ان کی جماعت کی جدوجہد جاری رہے گی۔احسن اقبال نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ن انتقامی سیاست کو مسترد کرتی ہے اور نیب کے ذریعے ہمارے خلاف جو انتقامی کارروائی جاری ہے ہم اسے بھی مسترد کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم عوام کے ووٹ کی عزت کو بحال کریں گے۔پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم دھاندلی کی قیادت کو بے نقاب کریں گے۔انھوں نے کہا کہ سکولوں اور کچرے کے ڈھیروں سے بیلٹ پیر برآمد ہو رہے ہیں اور وہ اپنے مقصد کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔مسلم لیگ نواز کے سینیئر رہنما راجہ ظفر الحق نے بھی کہا کہ ان کی پارٹی ان الیکشن کو مسترد کرتی ہے اور ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔’اگر الیکشن میں اسی طرح دھاندلی کی گئی تو یہ قوم کا نقصان ہوگا اور جن لوگوں نے یہ زیادتی کی ہے ان کو بھی اس بات کا احساس ہوگا اور اس سے پوری قوم متاثر ہوگی۔’انھوں نے اعادہ کیا کہ وہ پوری دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کی 22 کروڑ عوام ان انتخابات کو مسترد کرتی ہے۔’جن لوگوں نے ووٹ کو عزت نہیں دی انھوں نے پاکستان کا نقصان کیا ہے، انھوں نے سب اداروں کا نقصان کیا ہے۔’جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ان انتخابات میں عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔واضح رہے کہ اس احتجاج میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف شرکت نہ کر سکے اور اس بارے میں پارٹی کی رہنما مریم اورنگزیب نے کہا کہ وہ موسم کی خرابی کی وجہ سے اسلام آباد سفر کرنے سے قاصر رہے۔خیال رہے کہ 25 جولائی کو ہونے والے ان انتخابات میں پاکستان تحریکِ انصاف پارلیمان میں سب سے بڑی جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے تاہم اسے حکومت سازی کے لیے اپنے طور پر سادہ اکثریت حاصل نہیں اور وہ اتحادیوں سے مل کر حکومت بنانے کی تیاریوں میں ہے۔پاکستان مسلم لیگ نواز، پاکستان پیپلز پارٹی، مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل، عوامی نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی، پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی نے تحریکِ انصاف کی مجوزہ حکومت کے خلاف متحدہ اپوزیشن اتحاد بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔احتجاجی مظاہرے کے پیش نظر ریڈ زون میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے اور شاہراہ دستور کو بند کر کے الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر خاردار تاریں لگا دی گئیں۔جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن جسلے میں موجود تھے لیکن مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف موسم کی خرابی کی وجہ سے نہ جا سکے۔واضح رہے کہ 28 جولائی کو جماعت مسلم لیگ نون کے حالیہ انتخابات میں شکست کے بعد بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی جماعتوں نے 25 جولائی کے انتخابات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا تھا۔اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں جمعیت علما اسلام(ف)کے رہنما مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں پورے اتفاق رائے کے ساتھ منعقدہ انتخابات کو مسترد کرتی ہیں، کیونکہ یہ عوام کا مینڈیٹ نہیں بلکہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ان (پاکستان تحریک انصاف) کی اکثریت کے دعوے کو تسلیم نہیں کرتے، اسے چیلنج کرتے ہیں۔خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں بدھ کو جمعیت علما اسلام (ف) کی اپیل پر احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور مختلف مقامات پر شہروں کے درمیان اہم شاہراہوں کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔مولانا ا فضل الرحمان کے اپنے حلقہ انتخاب ڈیرہ اسماعیل خان خیبر پختونخوا کو پنجاب سے ملانے والی شاہرہ کو قریشی موڑ کے قریب بلاک کر دیا گیا تھا۔ مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اگرچہ مظاہرے میں کوئی زیادہ لوگ شامل نہیں تھے لیکن سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کیا گیا تھا۔اسی طرح درہ پیزو کے مقام پر بھی سڑک پر ٹائر جلا کر ڈیرہ اسماعیل خان کا خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع سے رابطہ منقطع کر دیا گیا۔ درہ پیزو میں ٹانک اور لکی مروت سے بھی جماعت کے کارکن پہنچے تھے۔کرک میں انڈس ہائی وے کو ٹائر جلا کر بند کر دیا گیا تھا۔ اس مظاہرے میں مقامی لوگوں کے علاوہ زیادہ تر دینی مدارس کے طالب علم شریک تھے۔ اس کے علاوہ بنوں اور دیگر اضلاع میں بھی انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف مظاہرے کیے گئے۔دوسری جانب بلوچستان میں بھی تمام ہائی ویز کو جمیعت العلما اسلام (ف) کے کارکنوں نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف بطور احتجاج بند کیا تھا۔ جے یو آئی (ف) کی جانب سے صبح آٹھ بجے سے دن دو بجے تک ہائی ویز کو بند کرنے کی کال دی گئی تھی۔اس کال کے باعث بلوچستان بھر میں کوئٹہ چمن، کوئٹہ ژوب، کوئٹہ کراچی، کوئٹہ سبی اور کوئٹہ تفتان ہائی ویز کو جے یو آئی کے کارکنوں نے بند کر دیا۔تاہم بعض علاقوں میں انتظامیہ نے کارروائی کرکے دو بجے سے پہلے ہائی ویز سے رکاوٹوں کو ہٹا دیا۔ مختلف علاقوں میں ہائی ویز کی بندش سے لوگوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ ا۔ اسلام آباد میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اجلاس کے بعد اپوزیشن جماعتوں نے ایوان میں جانے پر اتفاق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک مضبوط اپوزیشن کا کردار ادا کریں گے۔گزشتہ دنوں اسلام آباد میں ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان جماعتوں کے رہنماوں نے کہا کہ وہ ان انتخابات کے نتائج کو مسترد کرتے ہیں لیکن ایوان کے اندر اور باہر احتجاج جاری رکھیں گے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے اس موقع پر کہا کہ تمام سیاسی جماعتیں اپنے منشور اور شناخت کو برقرار رکھتے ہوئے ایوان کے اندر انتخابات میں مشترکہ طور پر حصہ لیں گی۔وفاق اور پنجاب میں حکومت کے لیے نمبر پورے کر لیے ہیں۔انھوں نے کہا کہ سب سے پہلے تو سپیکر کا انتخاب ہوگا جس کا امیدوار پاکستان پیپلز پارٹی سے ہوگا جبکہ وزارت عظمی کے لیے امیدوار مسلم لیگ ن سے ہوگا۔شیری رحمان نے مزید بتایا کہ ڈپٹی سپیکر کا امیدوار متحدہ مجلس عمل سے ہوگا۔کل جماعتی کانفرنس میں تمام جماعتوں نے انتخابات کے نتائج کی تحقیقات کے لیے ایک ایکشن کمیٹی بنائی ہے جس میں تمام جماعتوں کے نمائندوں کو شامل کیا گیا ہے۔ اس کمیٹی کے ارکان اس حوالے سے عنقریب چند ٹی آر اوز بھی وضح کریں گے۔شیری رحمان نے مزید کہا کہ ہم اس دھاندلی زدہ الیکشن کو نہیں مانتے اور اس کے نتائج بھی نامنظور ہیں۔اس موقع پر عوامی نیشنل پارٹی کے
رہنما میاں افتخار حسین نے کہا کہ ہم اپوزیشن کی حیثیت سے مقابلے میں نہیں جا رہے بلکہ جیت کے لیے جا رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم حکومت بنانے کے لیے جا رہے ہیں، اگر میدان لگا تو جو لوگ دبا میں پاکستان تحریک انصاف کی طرف گئے ہیں وہ ہماری طرف بھی آ سکتے ہیں۔پاکستان مسلم لیگ ن کی رہنما مریم اورنگزیب نے اس کل جماعتی کانفرنس کے اختتام سے قبل کہا کہ اب ہم پاکستان تحریک انصاف کو بتائیں گے کہ اپوزیشن ہوتی کیسے ہے۔فواد چوہدری نے بات کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ انھیں تمام 170 اراکین کی حمایت حاصل ہے پاکستان تحریک انصاف اور مرکز میں حکومت مرکز میں حکومت سازی کے لیے اراکین کی مطلوبہ تعداد حاصل کرنے کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی کوششیں جاری ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری نے بات کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ انھیں تمام 170 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ مرکز میں حکومت بنانے اور حلف برداری کے حوالے سے پی ٹی آئی کی جانب سے باقاعدہ اعلان کے بارے میں فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت سازی کے باقاعدہ آغاز میں اب انہیں ‘الیکشن کمیشن کا انتظار ہے جس نے منتخب ہونے والے اراکین کو نوٹیفکیشن جاری کرنے ہیں’۔واضح رہے کہ 2013 کے عام انتخابات کے دس روز بعد الیکشن کمیشن نے منتخب ہونے والے اراکینِ اسمبلی کے نوٹیفیکیشن جاری کر دیے تھے۔تاہم پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کو اب بھی چند اراکین کی حمایت کی ضرورت ہے۔ چھ مزید اراکین کی حمایت حاصل کرنے کے لیے جمعرات کو بھی تحریک انصاف کے رہنما نومنتخب اراکین اسمبلی اور سیاسی جماعتوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں۔خیال رہے کہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف کو مرکز میں حکومت بنانے کے لیے مسلم لیگ ق، عوامی مسلم لیگ، ایم کیو ایم پاکستان، جی ڈی اے اور جمہوری وطن پارٹی کی حمایت حاصل ہے، جبکہ اب تک سات آزاد امیدوار بھی پی ٹی آئی کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریک انصاف باآسانی مطلوبہ ہدف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے گی، لیکن پارلیمان میں اسے ایک سخت حزب مخالف کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ تمام سیاسی جماعتیں دھاندلی کا الزام لگا رہی ہیں، اور ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک نکتہ ان جماعتوں کو متحد رکھے گا’۔ان کے خیال میں حزبِ مخالف کا یہ اتحاد پاکستان تحریک انصاف کے لیے ایک مشکل مرحلہ ہوگا۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اس بات پر دیگر جماعتوں کو قائل کرنا کہ عمران خان کو حکومت کرنے دی جائے، کی وجہ سے ان کے لیے حکومت سازی آسان ہے۔ان کا کہنا تھا: ‘پیپلز پارٹی سمجھتی ہے کہ مینڈیٹ کے خلاف جاتے ہوئے اگر پی ٹی آئی کو حکومت کا موقع نہ دیا گیا تو عوام میں ان کے لیے ہمدردی بڑھے گی جس کا نقصان ان سمیت مسلم لیگ ن اور دیگر مخالف جماعتوں کو ہوگا۔ پاکستان میں سابق حکمران جماعت مسلم لیگ نون کے حالیہ انتخابات میں شکست کے بعد بلائی جانے والی آل پارٹیز کانفرنس میں سیاسی جماعتوں نے 25 جولائی کے انتخابات کو مکمل طور پر مسترد کر دیا گیا ہے۔اسلام آباد میں آل پارٹیز کانفرنس کے بعد صحافیوں سے گفتگو میں جمعیت علما اسلام (ف) کے رہنما مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتیں پورے اتفاق رائے کے ساتھ منعقدہ انتخابات کو مسترد کرتی ہیں، کیونکہ یہ عوام کا مینڈیٹ نہیں بلکہ عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ان (پاکستان تحریک انصاف) کی اکثریت کے دعوے کو تسلیم نہیں کرتے، اسے چیلنج کرتے ہیں۔سیاسی جماعتوں کے اجلاس شہباز شریف نے کی جس میں ایم ایم اے،اسفندیار ولی، حاصل بزنجو، محمود خان اچکزئی، فاروق ستار، آفتاب خان شیرپا، مصطفی کمال نے شرکت کی۔مولانا فضل الرحمن نے بتایا کہ تمام جماعتوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ ان کے منتخب نمائندگان ایوان میں جاکر حلف نہیں اٹھائیں گے۔انھوں نے کہا کہ دھاندلی کے خلاف سیاسی جماعتیں متحد ہیں دوبارہ انتخابات کے انعقاد کے لیے تحریک چلائیں گے۔ احتجاج کریں گے۔ جس کا طریقہ کار ایک دو دن میں طے کیا جائے گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ وہ ایوان میں نہ جانے کے حوالے سے اپنی پارٹی کا فیصلہ پارٹی مشاورت کریں گے۔تاہم اس موقع پر مسلم لیگ ن کے رہنما شہباز شریف نے کہا کہ وہ ایوان میں نہ جانے کے حوالے سے اپنی پارٹی کا فیصلہ پارٹی مشاورت کے بعد سنائیں گے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا جہاں تک حلف نہ اٹھانے کی بات ہے، مجھے اس کے لیے وقت چاہیے۔ تاہم تحریک چلانے اور جلسے کرنے پر ہم متفق ہیں۔انھوں نے کہا کہ مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی سے مشاورت کے بعد ہی اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔حالیہ انتخابات میں تیسری بڑی جماعت کے طور پر سامنے آنے والی پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی انتحابی نتائج کو مسترد کردیا ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت بار بار سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ان کا کہنا ہے کہ ہم نے سنہ 2013 کے انتخابی نتائج کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا لیکن اب برداشت نہیں کریں گے۔ ہم ان انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہیں۔انتخابی نتائج مسترد کیے جانے کے باوجود پیپلز پارٹی نے ایوان میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وہ اے پی سی میں شامل دیگر جماعتوں سے بھی بات کریں گے اور انہیں بھی پارلیمان میں جا کر احتجاج پر قائل کریں گے۔بلاول بھٹو نے نے الیکشن کمیشن کے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کیا۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن استعفی دے دے کیونکہ انھوں نے آزادانہ اور شفاف انتخابات کے انعقاد کا اپنا فرض پورا نہیں کیا۔مولانا فضل الرحمن نے بھی الیکشن کمیشن پر ایسے ہی الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پارلیمان میں الیکشن کمیشن کے لیے اربوں روپے مختص کروائے لیکن پھر بھی ادارے کا نتائج پر اختیار نہیں رہا۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

فواد چوہدری نے الیکشن کمیشن سے معافی مانگ لی

رپورٹ:ایسوسی ایٹڈپریس سروس،اسلام آباد وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے ...