بنیادی صفحہ / کالم / عبدالرشید ترابی کا کامیاب دورہ برطانیہ و یورپ . عمرسرفراز

عبدالرشید ترابی کا کامیاب دورہ برطانیہ و یورپ . عمرسرفراز

 

کنونیئر کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل ممبر قانون ساز اسمبلی و سابق امیر جماعت اسلامی عبدالرشید ترابی تحریک کشمیر برطانیہ،تحریک کشمیر ڈنمارک،تحریک کشمیر ناروے اور اٹلی کی دعوت پربرطانیہ اور یورپ کا دورہ کررہے ہیں اس موقع پر انہوں نے برمنگھم،ڈنمارک،ناروے،کوپن ہیگن اور اٹلی میں کشمیر اور برما کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے حوالے سے کانفرنسز میں بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے،دورے کے دوران عبدالرشید ترابی نے ممبران پارلیمنٹ،انسانی حقوق کی تنظیموں کے سربراہان،دانشوروں اور میڈیا پرنسز سمیت سفارتکاروں سے ملاقاتیں کر کے انہیں کشمیر کی تازہ ترین صورت حال سے آگاہ کیا۔اس حوالے سے عبدالرشید ترابی نے برمنگھم میں مقبوضہ کشمیر اور برما میں ہونے والے مظالم کو بے نقاب کرنے کے لیے کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اس موقع پر عبدالرشید ترابی نے کہا کہ اقوام متحدہ اپنے چارٹر کے چپٹر 7کے مطابق برما اور ہندوستان کے خلاف طاقت کا استعمال کرے تا کہ برما اور مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کی منظم نسل کشی کور وکا جا سکے،جس طرح اقوام متحدہ نے دیگر خطوں میں طاقت کا استعما ل کر کے وہاں کے لوگوں کو حقوق دلائے ہیں اسی طرح یہاں بھی سیاسی اور سفارتی دباؤ استعمال کر کے کشمیریوں اور روہنگیا کے مسلمانوں کو حقوق دلوائے،نریندر مودی اور سوچی کے معاہدے کے بعد روہنگیا میں مسلمانوں کا قتل عام تیز ہوا اور نریندر مودی نے اس قتل عام پر سوچی حکومت کی بھرپور حمایت کی،کانفرنس سے تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب،تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے سربراہان،میڈیا پرسنز نے شرکت کی،عبدالرشید ترابی نے کہا کہ اگر چہ برما میں ظلم وستم پہلے بھی ہو رہا تھا لیکن تازہ لہر اس وقت شروع ہوئی جب بھارت اور برما کی حکومت کے درمیان تازہ معاہدہ  ہوا جس میں بندر گاہ تعمیر کرنے اور مشرق کی ریاستوں سے روڈ کے ذریعے رابطے بڑھانے کے لیے کام کا آغاز ہوا تو اس راستے میں مسلم اکثریت آتی تھی جس کے خاتمے کا منصوبہ بنایا گیا برمی حکومت نے ظلم کی انتہا کی تو روہنگیا مسلمانوں کے لیے دو ہی راستے تھے یا ہندوستان جائیں یا بنگلہ دیش جائیں ہندوستان کی حکومت نے راستہ بند کر دیا اور بنگلہ دیش نے بھی بھارت کے دباؤ میں آکر ان مسلمانوں کی مدد کرنے کے بجائے ان کو روکا، انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے برطانیہ کی حکومت کا اچھا موقف رہا ہم اس کی تحسین کرتے ہیں عبدالرشید ترابی نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر کے اندر بھی نریندر مودی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے قتل عام کر رہے ہیں اور اطلاعات ہیں کہ جس طرح 1947ء میں جموں ریجن کے اندر لاکھوں مسلمانوں کو قتل کیا گیا تھا اسی طرح کی منصوبہ بندی کر کے مسلمانوں کا قتل عام کیا جا سکتا ہے انہوں نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر کے اندر بدترین انسانی حقوق کی پامالیاں ہو رہی ہیں عالمی برادری اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانی حقوق کی پامالی رکوانے کے ساتھ ساتھ ریلیف بھی فراہم کرے اور یہاں کے مسلمانوں کو بنیادی اور پیدائشی حق فراہم کروانے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کریں۔

برمنگھم میں انسانی حقوق کے نمائندوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالرشید ترابی نے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم کی انتہا ہو رہی ہے انسانوں کو گاجر مولی کی کاٹا جارہا ہے مساجد پر قفل لگائے گے ہیں قائدین حریت کو عید اور جمعہ کی نماز ادا کرنے کی اجازت نہیں ہے، برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد یہ تحریک کشمیریوں کی داخلی تحریک بن کر ابھری اور ساری دنیا کی توجہ حاصل کی اس ماحول کو متاثر کرنے کے لیے ہندوستان نے لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ یکطرفہ طور پر شروع کررکھی ہے آزاد کشمیر کے 11سب ڈویژنز فائرنگ اور شیلنگ کی ذد میں سویلین کو شہید کیا جا رہا ہے ان کے مال واسباب کو نشانہ بنایا جارہا ہے ہندوستان کی فوج کا ہدف ہے کہ وہاں کے عوام خوفزدہ ہو کر کشمیر کی تحریک کی پشتیبانی سے پیچھے ہٹیں مگراللہ کے فضل وکرم سے وہاں کے عوام ڈٹے ہوئے ہیں وہ کسی صورت تحریک کی پشتیبانی سے دستبردار نہیں ہو سکتے۔

اس موقع پر عبدالرشید ترابی نے کہا کہ برما میں جو بدترین ریاستی دہشت گردی ہو رہی ہے جسے بین الاقوامی ادارے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں ریاستی دہشت گردی قرار دے رہے ہیں لاکھوں لوگ متاثر ہیں،فوج،پولیس کے ساتھ وہاں کے سویلین بدھ مسلح کر کے مسلمانوں کا انخلا کیا جا رہا ہے جس طرح کشمیر کی ڈیموگرافی تبدیل کرنے کی سازش ہو رہی ہے اسی طرح برما میں بھی ہو رہا ہے اس کے پیچھے نریندر مودی کی حکومت ہے انہوں نے کہا کہ روہنگیا مسلمان جو ہجرت کر کے بنگلہ دیش یا ہندوستان جاسکتے ہیں ہندوستان نے اپنی سرحدین ان کے لیے بند کر دی ہیں اور جو برمی مسلمان پہلے سے ہندوستان میں رہائش پذیر ہیں ان کو نکالنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں عبدالرشید ترابی نے کہا کہ 12سال زلزلہ کو ہو گے جتنی بڑی تباہی ہوئی تھی اتنا ہی جلد بحالی کا عمل مکمل ہوا لوگوں نے اپنی سطح پر اور این جی اوز یہاں کی کمیونٹی،ساری دنیا کی حکومتوں اور اداروں نے اپنا کردار ادا کیا جس سے انفراسٹریکچر بحال ہوا جس پر کشمیری شکر گزار ہیں انہوں نے کہاکہ ابھی بھی سینکڑوں سکول اور سرکاری دفاتر زیر تعمیر ہیں اداروں کی تعمیر کے لیے وسائل کی ضرورت ہے انہوں نے کہا کہ حکومت نے ان اداروں کو بجٹ میں شامل کیا ہے۔

برمنگھم میں تحریک کشمیر برطانیہ کے زیر اہتمام بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کی کانفرنس منعقد ہوئی،جس میں عبدالرشید ترابی بطور مہمان خصوصی شریک ہوئے اور خطاب کیا کانفرنس سے تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب،تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی،رنجیت سنگھ،ٹن کن،فاروق مشعل،نہال ابویوسف،مفتی عبدا لمجید ندیم،فلسطین سالیڈیریٹی کے راہنما نعیم ملک،ساؤتھ کیمرون کمیونٹی کے راہنما برنڈ کونفوراور کمفورٹ کونفور،خواجہ سلیمان سمیت دنیا بھر سے آئے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیموں کے سربرہان نے خطاب کیا،کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالرشید ترابی نے کہاکہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہا ہے 8لاکھ قابض بھارتی افواج کالے قوانین کی آڑ میں مظالم کی انتہا کر رہی ہے،انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے اندر جا کر خود حالات مانیٹر کریں،ہزاروں گمنام قبروں کی دریافت ہو چکی،ہزاروں کشمیری نوجوان آج بھی لاپتہ ہیں،ہزاروں عفت ماب خواتین کی آبروریزی ہو چکی ہے اور آج بھی قابض بھارتی افواج بچیوں اور خواتین کو بے آبرو کررہی ہے،پیلٹ گنز اور کیمیائی ہتھیاروں سے ہزاروں لوگوں کو مفلوج کیا جا چکا ہے سکولوں کو فوجی چھاونیوں میں تبدیل کیا جا چکا ہے ایک سازش کے تحت مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے،مسلمانوں کو مذہبی رسومات اور عبادت کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی گائے کے ذبیح پر پابندی ہے مقبوضہ کشمیرمیں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ دیگر اقلیتں بھی محفوظ نہیں ہیں ہندوستان نے مظالم میں تاریخ کے سارے سامراجوں کو مات دے دی ہے ہندوستان نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا عالمی ریکارڈ توڑ دیا ہے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی ذمہ داری تھی کہ وہ ہندوستان کو کٹہرے میں کھڑا کرتے لیکن ایسا نہ ہو سکا اگر چہ انسانی حقوق کی کئی تنظیموں نے ہندوستان کو بے نقاب کیا ہے ہم ان کی تحسین کرتے ہیں لیکن جس سطح پر ہندوستان انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مرتکب ہو رہا ہے اس سطح پر ہندوستان کے خلاف انسانی حقوق کی تنظیموں کی کارکردگی نہیں ہے انہوں نے کہا کہ عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں کی خاموشی اور عالمی برادری کی بے حسی کی شہ پا کر ہندوستان اپنے مظالم میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ کررہا ہے انہوں نے کہاکہ عالمی برادری کے وعدے پر 65ہزار مسلح مجاہدین نے جنگ بندی کی تھی لیکن عالمی برادری ابھی تک کشمیریوں کو ان کا حق نہ دلا سکی جو افسوس ناک ہے انہوں نے کہا کہ برطانیہ کشمیر کے مسئلے کا عینی شاید ہے وہ اس مسئلے کے حل کے لیے بھرپور کردارا دا کرے عبدالرشید ترابی نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ ہر قیمت پر مقبوضہ کشمیرمیں جا کر وہاں کے حالات کا خود مشاہدہ کریں۔

تحریک کشمیر ڈنمارک کے زیر اہتمام ڈینش پارلیمنٹ میں کشمیر کانفرنس منعقد ہوئی جس میں صدر ریاست سردار مسعود خان نے خصوصی شرکت کی،کانفرنس سے عبدالرشید ترابی،ممبران پارلیمنٹ زینا سٹیمپ،چارلوٹ برگس، غلام محمد صفی عنصر منظور حسین،محمد غالب،فہیم کیانی،عدیل احمد آسی،سید ذوالفقار گردیزی،مزمل ایوب،میاں منیر حسین،ظفر احمد سمیت انسانی حقوق کی تنظیموں کے سربراہان سمیت دیگر راہنماؤں نے شرکت کی،کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ریاست سردار مسعود خا ن نے کہاکہ کشمیریوں کی جدوجہد حق و انصاف پر مبنی ہے،اقوام متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ کشمیریوں کو ان کا پیدائشی اور بنیادی حق دلوائے،کشمیری اقوام متحدہ کے چارٹر اور قراردادوں کے مطابق جدوجہد کررہے ہیں،مسئلہ کشمیرپاکستان اور بھارت کے درمیان زمین کا تنازعہ نہیں ہے بلکہ ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کے بنیاد ی حق کا مسئلہ ہے،بھارت انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہے انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں اس کا نوٹس لیں،کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کنونیئر کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل ممبر قانون ساز اسمبلی و سابق امیرجماعت اسلامی عبدالرشید ترابی نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا پرامن حل تلاش نہ کیا گیا تو پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیر پر ایٹمی جنگ ہو گی جس سے پوری دنیا متاثرہو گی،اقوام متحدہ نے کشمیریوں سے انصاف کیا ہوتا اور اپنا عہد نبھایا ہوتا تو 6لاکھ کشمیری شہداء کا خون اقوام متحدہ اور عالمی برادری کے سر نہ ہوتا،یورپی ممالک،یورپی یونین کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہندوستان پر دباؤ بڑھائیں تا کہ وہ کشمیریوں کو ان کا حق فراہم کرے،نریندر مودی حالات کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے مقبوضہ کشمیر کے اندر بدترین ریاستی دہشت گردی کا ارتکاب کیا جا رہا ہے کشمیر سے توجہ ہٹانے کے لیے سیز فائر لائن پر بلا اشتعال فائرنگ کی جارہی ہے جس سے بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ چھڑنے کا خطرہ موجود ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان اگر ایٹمی جنگ ہو ئی تو پوری دنیا اس سے متاثر ہو گی،نریندر مودی اسرائیلی طرز پر کشمیرمیں مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنے کے لیے انتہا پسند ہندوؤں کو آباد کرنے کے منصوبے بنا رہے ہیں ان حالات میں عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے ناروے کی پارلیمنٹ اور یہاں کے ممبران اسمبلی انسانی حقوق کی تنظیموں نے کشمیریوں کا بھرپور ساتھ دیا ہے اہل کشمیر ان کے شکر گزار ہیں انہوں نے کہاکہ کشمیریوں کو امید ہے کہ ناروے کے زندہ دل لوگ کشمیریوں کے ساتھ رہیں گے،کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ڈینش پارلیمنٹ کے ممبران نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ انہوں نے پہلے بھی کشمیریوں کے حق کی حمایت کی ہے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی مذمت کی ہے اور آئندہ بھی اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے،اس موقع پر تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کو پورے یورپ میں اجاگر کیا جائے گا یورپی برادری کشمیریوں کا ساتھ دے تا کہ کشمیری اپنا حق حاصل کر سکیں،کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی نے کہاکہ ناروے کے عوام اور حکومت نے ہمیشہ کشمیریوں کا ساتھ دیا ہے ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں،اس موقع پر غلام محمد صفی،عنصر منظور حسین،محمد غالب،فہیم کیانی،عدیل احمد آسی،سید ذوالفقار گردیزی،مزمل ایوب،میاں منیر حسین،ظفر احمد اور دیگر قائدین نے خطاب کیا۔

ڈنمارک کانفرنس;

تحریک کشمیر ڈنمار ک کے زیر اہتمام انٹرنیشنل کشمیر کانفرنس منعقد ہوئی جس میں صدر ریاست آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر سردار مسعود خان،وفاقی وزیر مذہبی امور سردار محمد یوسف،عبدالرشید ترابی پاکستان کے سفیر ذوالقفار گردیزی،امریکن کشمیر کونسل کے صدر ڈاکٹر امتیاز،غلام محمد صفی، عدیل آسی،انصرمنظور،تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب،تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی اور دیگر قائدین نے خطاب کیا،کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ریاست سردار مسعود خان نے کہا کہ 50لاکھ کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی یورپی ممالک میں بڑی طاقت ہیں یہ لوگ متحد و متفق ہو کر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کریں اور ہندوستان کو ہر فورم پر بے نقاب کریں،پاکستانی اور کشمیری سیاست دان اور کارکن اندرونی اختلافات کو بالا طاق رکھ کر مسئلہ کشمیر کے ون پوائنٹ ایجنڈے کو سامنے رکھتے ہوئے اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا کریں، تحریک کشمیر برطانیہ اور یورپ بھرپور انداز سے مسئلہ کشمیر اجاگر کررہی ہے میں پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں،تحریک کشمیر ڈنمارک کے زیر اہتمام اتنی منظم اور ممبران پارلیمنٹ کی شرکت میں نے کہیں نہیں دیکھی انہوں نے کہا کہ برطانیہ کے یورپ سے الگ ہو نے کے بعد یورپ کی اپنی اہمیت ہے یورپی ممالک میں مسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنے کے لیے تحریک کشمیر یورپ اور ڈنمارک کے ساتھ تمام کشمیری اور پاکستانی کمیونٹی بھرپور تعاون کرے،اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر سردار یوسف نے کہا کہ پاکستان کشمیریوں کے فریق کی حیثیت سے دنیا کے ہر فورم پر کشمیریوں کی مدد اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا،حکومت چاہیے کوئی بھی ہو پاکستانی قوم کی کشمیریوں سے وابستگی کو کوئی نظر انداز نہیں کر سکتا ہمارے وزیر اعظم نے اقوام متحدہ میں بھارت کی سازشوں اور قبضے کو بے نقاب کیاتحریک کشمیرڈنمارک یورپ اور برطانیہ کی خدمات قابل تحسین ہیں میں تمام سفارتی مشنز کو کہتا ہوں کہ وہ خود بھی متحرک ہوں اور تحریک کشمیر کی شاخوں کے ساتھ بھی بھرپور تعاون کریں،انہوں نے کہاکہ یورپی ممالک میں کشمیر اور پاکستانی کمیونٹی سے بھرپور تعلقات اور رابطے استوار کرنے کی ضرورت ہے تا کہ مسئلہ کشمیر ہر سطح پر اجاگر ہو سکے.

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے عبدالرشید ترابی نے کہاکہ تحریک کشمیر ڈنمارک کو خراج تحسین پیش کیا کہ انہوں نے بھرپور انداز سے کانفرنسز اور استقبالیہ تقاریب کا اہتمام کیا جس سے مسئلہ کشمیر اجاگر ہوا انہوں نے کہاکہ جنوبی ایشیا کا امن مسئلہ کشمیر کے حل سے مشروط ہے انہوں نے کہاکہ کشمیریوں نے ذہنی طور پر آزادی حاصل کر لی ہے اور بھارت کے قبضے کو مسترد کر چکے ہیں اس کی تصدیق ریاستی دہشت گردی ظلم و تشدد کے باوجود کشمیریوں کا اپنی تحریک سے وابستہ رہنا ہے،انہوں نے کہاکہ کشمیری اور پاکستانی یورپی ممالک میں سیاست کو نظر انداز کرتے ہوئے تحریک آزادی کشمیر کو فوکس کریں یہاں کی نئی نسل اور جمہوری اداروں تک اپنی بات پہنچائیں انہوں نے کہاکہ عوامی بیداری سے حکومتیں اپنی پالیسیاں بناتی اور بدلتی ہیں 1990میں قاضی حسین احمد مرحوم،نوابزادہ نصر اللہ اور سردار ابراہیم کی قیادت میں وفد نے پوری دنیا کا دورہ کیا اسی کے نتیجے میں او آئی سی سمیت دیگر اداروں نے بھرپور کشمیریوں کی حمایت کی عوامی سطح پر دباؤ بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں تا کہ تحریک کو کامیابی کی منزل سے ہمکنار کیا جائے،حریت کانفرنس کے کنونیئر غلام محمد صفی نے کہا کہ کشمیری آزادی کے لیے پر عزم ہیں وہ آزادی سے کم کوئی حل قبول نہیں کریں گے بھارتی ظلم وجبر کو مسترد کرتے ہوئے آزادی کی منزل کی جانب گامزن ہیں۔

دریں اثنا تحریک کشمیرڈنمارک کے زیر اہتمام کوپن ہیگن میں کنونیئر کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل عبدالرشید ترابی سمیت دیگر قائدین کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی جس میں تمام سیاسی،مذہبی جماعتوں کے قائدین اور سماجی کارکنوں نے شرکت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبدالرشید ترابی نے کشمیر کی تازہ ترین صورت حال پر گفتگو کی،تقریب سے حریت کانفرنس کے کنونیئر غلام محمد صفی،تحریک کشمیر یورپ کے صدر محمد غالب،تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر فہیم کیانی تحریک کشمیر ڈنمارک کے صدر عدیل آسی تحریک کشمیر یورپ کے سیکرٹری جنرل انصر منظور،امریکن کشمیر کونسل کے صدر ڈاکٹر امتیاز،ظفر قریشی،مزمل ایوب،چوہدری شریف سمیت دیگر قائدین نے خطاب کیا،استقبالیہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عبدالرشید ترابی نے کہاکہ ہندوستان نوشتہ دیوار پڑھ لے شکست بھارت کا مقدر ہے کشمیر کے پیر وجوان بیدار ہو چکے آزادی سے کم کوئی حل قبول نہیں کریں گے،کشمیری جہاں بھی جائے گا ہندوستان کا بیڑا غرق کر دے گا،کشمیریوں نے اپنے حصے کا کام کر دیا ان کی جدوجہد کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم عالمی سطح پر اپنی آواز کو بلند کریں اور انسانی حقوق کے اداروں اور میڈیا کو متحرک کریں، انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے پاور پالیٹکس کی وجہ سے ہماری سیاسی قیادت کی ترجیح مسئلہ کشمیر نہیں ہے اس کے باوجود ہم نے کوشش کی ہے کہ ساری قیادت اگھٹی ہو کل جماعتی کشمیر رابطہ کونسل ہے اس کے پلیٹ فارم سے ہم نے تمام سیاسی جماعتوں کو متحد کر کے حق خودارادیت کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر سب کو متحد کیا ہے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور چارٹر کی روشنی میں جو عالمی برادری نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا اس کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر اگھٹے ہیں یہ بڑی کامیابی ہے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر ہم پروگرامات منعقد کرتے ہیں جہاں جہاں کشمیری موجود ہیں برطانیہ اور یورپ میں حق خودارادیت کے ون پوائنٹ ایجنڈے پر متفق اور اگھٹے ہو کر جدوجہد کریں تحریک کشمیر نے ڈنمارک پارلیمنٹ میں کانفرنس منعقد کی اس کے علاوہ ممبران پارلیمنٹ سے ملاقاتیں ہوئیں،محمد غالب اور فہیم کیانی اور ان کی ٹیم کی کوششوں سے اچھے پروگرامات منعقد ہوئے،کونسلرز کا کنونشن،مودی کی آمد کے موقع پر اینٹی مودی مارچ ہوا کشمیر کے حوالے سے جو سرگرمی ہو جو بھی پارٹی کرے اس کی حوصلہ افزائی کریں سب مل کر اپنی صفوں میں اتحادو یکجہتی کا مظاہرہ کریں یہاں کے ادارے،پارلیمنٹ،ممبران پارلیمنٹ سے ملاقاتیں اس سلسلے کو آگے بڑھائیں،لارڈ صاحبان،ممبران پارلیمنٹ،کونسلرز ہماری بڑی قوت ہیں اس کا دائرہ کار بڑھاکر ساری امت اور قیادت تک یکجہتی کا پیغام پہنچائیں یہ انسانیت،امت اور کشمیریوں کی آزادی کا مسئلہ ہے۔

عبدالرشید ترابی کی قیادت میں بھارتی ظلم کے تحریک کشمیر برطانیہ سکاٹ لینڈ اور سکاٹش ہیومین رائٹس کے زیر اہتمام احتجاجی مظاہر ہ ہوامظاہرے میں سکاٹش ممبران پارلیمنٹ نے شرکت کی اور کشمیریوں کے حق میں نعرے لگائے،مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے عبدالرشید ترابی نے کہا کہ بھارت نے 27اکتوبر 1947کو کشمیر پر جارحیت کر کے قبضہ کیا اور آج تک طاقت کی بنیاد پر اس قبضے کو برقرار رکھے ہوئے ہے کشمیریوں نے اس قبضے کے خلاف مزاحمت کی اور 65ہزار مسلح مجاہدین آزادی کے لیے لڑ رہے تھے،مجاہدین نے اقوام عالم کے وعدے پر سیز فائر کیا اقوام متحدہ نے کشمیریوں سے وعدہ کیا کہ وہ کشمیریوں کو ان کا بنیادی اور پیدائشی حق دلائے گی لیکن 70گزرنے کے باوجود وہ حق ابھی کشمیریوں کو حق نہیں دیا گیا اور کشمیری اپنے حق کے لیے جدوجہد کررہے ہیں عبدالرشیدترابی نے کہاکہ جس طرح سکاٹ لینڈمیں ریفرنڈم کروایا گیا اسی طرح کشمیریوں کو بھی ریفرنڈم کے ذریعے حق دیا جائے کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں انہوں نے کہاکہ نریندر مودی مستند دہشت گرد ہے بھارت کے ظلم اور بربریت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ  اور مارچ کیا گیا، مظاہرین نے آزادی کے حقْ اور بھارت کے خلاف مختلف بینرز اور پلے کارڈز اٹھارکھے تھے احتجاجی مظاہرے سے تحریک کشمیر برطانیہ کے سرپرست اعلیٰ سید طفیل حسین شاہ، تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی، سکاٹ لینڈ کے صدر کونسلر حنیف راجہ  ِ ڈاکٹر گل اور دیگر کمیونٹی لیڈروں نے خطاب کیااور مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے غاصبانہ قبضہ کے خلاف شدید نعرے لگائے ”کشمیریوں کا قتل عام بند کیا جائے،اقوام متحدہ شرم کروکشمیر یوں کے ساتھ انصاف کیا جائے  انسانی حقوق کی پامالیوں کو بند کیا جائے،بھارتی فوج کشمیر سے نکل جائے، ہم کیا چاہتے آزادی اور بھارت کو دہشت گرد ملک قرار دیا جائے  اور اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کیا جائے“ احتجاجی مظاہرے سے تحریک کشمیر برطانیہ کے صدر راجہ فہیم کیانی نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کشمیریوں نے کبھی بھی بھارت کے غاصبانہ قبضہ کو تسلیم نہیں کیا گذشتہ تیس سالوں میں ایک لاکھ سے زائدکشمیری شہید ہوچکے ہیں بھارت  نام نہاد جمہوریت کے نام پر دنیا کودھوکہ دے رہا ہے اور بھارت کے ناپاک عزائم  سے خطے کے امن کو شدید خطرہ ہے،اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے تحریک کشمیر سکاٹ لینڈ کے صدر کونسلر حنیف راجہ نے کہا کہ کشمیری پوری دنیا میں یوم سیاہ منا کر دنیا پر واضع کرنا چاہتے ہیں بھارت  کے غاصبانہ قبضہ کو تسلیم نہیں کرتے کشمیریوں نے ہمیشہ پُرامن راستہ اختیار کیا ہے اور بھارت کی ہٹ دھرمی دنیا کے لیے بڑا خطرہ ہے مظاہرے سے سید طفیل حسین شاہ،ڈاکٹر گل اور دیگر کمیونٹی کے سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا مقبوضہ کشمیر کے مظلوم و محکوم عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔ اسلامک سوسائٹی اٹلی نے عبدالرشیدترابی کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا جس میں اٹلی میں پاکستانی اور کشمیری کمیونٹی کے ساتھ انسانی حقوق کے نمائندوں،پاکستانی قونصلیٹ رضوان صلابت اور اہل دانش نے شرکت کی اس موقع پرعبدالرشیدترابی نے کہا کہ پاکستان کی پُرامن کوششوں کا بھارت نے کبھی مثبت جواب نہیں دیا،بھارت نے ہمیشہ مذاکر ات کو کشمیریوں کے خلاف بطور ہتھیار استعمال کیا،مسئلہ کشمیر کی وجہ سے خطے میں پائی جانے والی کشیدگی کے نتیجے میں بھارت اور پاکستان کے درمیان ایٹمی جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں نریندرمودی کے عزائم انتہائی خطرناک ہیں عالمی برادری نے اگر بھارت کو مذاکرات کے لیے مجبور نہ کیا تو اس کا ذمہ دار پاکستان نہیں ہوگا،کشمیریوں نے ہمیشہ امن کا راستہ اختیار کیا ہے اور دنیا کو بارہا توجہ دلائی جارہی ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پُرامن اور دیرپا حل کے لیے کشمیریوں کے ساتھ انصاف کرئے۔

عبدالرشیدترابی نے کہا کہ یورپین ممالک میں مسئلہ کشمیر پر لابنگ کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تحریک کشمیر یورپ اس ضمن میں  سفارتی سطح پر سیاسی اور جماعت وابستگیوں سے بالا تر ہوکر مسئلہ کشمیر کو یورپین ایوانوں تک پہنچانے کے لیے کمیونٹی کی رہنمائی کررہی ہے کہ کس طرح حق اور انصاف پر مبنی کشمیریوں کی جد جہدو کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے اور دنیا کی توجہ مبذول کرائی جائے کہ وہ بھارت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کرئے بھارت اور پاکستان70سال سے مسئلہ کشمیر حل نہیں کر سکے وقت اور حالات کا تقاضہ ہے کہ اقوام متحدہ مداخلت کرئے۔

اس موقع پر پاکستانی قونصلیٹ رضوان صلابت نے کہا کہ حکومت پاکستان اور پاکستان کے عوام مظلوم اور محکوم کشمیری عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے پاکستان سیاسی اور سفارتی محاذ پر کشمیریوں کی حمائت جارہی رکھے گا کشمیریوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی آزادی ان کی منزل ہے اور عالمی امن کے علمبرداروں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لیے  اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔تحریک کشمیر یورپ کے سنیئرنائب صدر محمود شریف نے کہا کہ عبد الرشید ترابی کی تحریک آزادی کے لیے بڑی خدمات ہیں انہوں نے ہر محاذ اور سطح پر اپنا کلیدی کردارادا کیا ہے ان کی کوششوں سے آزاد خطے میں کشمیر رابطہ کونسل کا  اتحاد معرض وجود میں آیا اور ضرورت اس امر کی ہے کہ کشمیر اور پاکستانی کمیونٹی اتحاد اور یکجہتی سے کشمیر کاز کے لیے مشترکہ کوششیں کرئے عبدالرشید ترابی کا دورہ یورپ اس کے دورس نتائج بر آمد ہونگے تحریک کشمیر اٹلی کی قیادت نے مسلہ کشمیر پر اپنی سفارت کوششوں کو مزیدتیز کیا ہے۔

جنیوا میں یو این ہیومن رائٹس کمیشن کے سامنے بھر پور مظاہرہ کیا ہے۔اٹلی کے شہر روم سے بشیر امرہ، تحریک کشمیر اٹلی بریشا کے صدر تنویر قادرحافظ بلال اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا،تقرب میں کمیونٹی کے سرکرہ سیاسی اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔اس موقع پر عبدالرشید ترابی نے اٹلی کی حکمران پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ گو عید وگاپیرتی سے ملاقات کی اور مسئلہ کشمیر کے حوالے سے تازہ صورت حال سے آگاہ کیا،عبدالرشیدترابی نے کہاکہ کشمیریوں نے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے تمام پر امن راستے اور ذرائع استعمال کیے لیکن ہندوستان کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے یہ مسئلہ 70سال گزرنے کے باوجود بھی حل طلب ہے،ہندوستان نے خود اقوام متحدہ میں جا کر یہ وعدہ کیا کہ وہ کشمیریوں کو رائے شماری کے ذریعے اپنے مستقبل کے فیصلے کا حق دے گا،عالمی برادری کی ضمانت پر 65ہزار مسلح مجاہدین نے سیز فائر کیا،اگر ہندوستان نے کشمیریوں کو یہ حق نہ دیا تو خطے میں بڑی جنگ کو کوئی نہیں روک سکتا جس سے پوری دنیا متاثرہو گی۔

عبدالرشید ترابی نے اٹلی کے ممبر پارلیمنٹ کو مقبوضہ کشمیر کی تازہ ترین صورت حال اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے آگاہ کیا اورکہا کہ مسئلہ کشمیر  پُرامن طور پر حل نہ ہونے وجہ سے خطے میں پائی جانے والی کشیدگی سے نہ صرف خطے کا امن خطرے میں ہے بلکہ یورپی ممالک کے مفادات اور امن بھی خطرے میں ہے،بھارت کا طرز عمل انتہائی خطرناک ہے نریندر مودی کا انسانی حقوق کے حوالے سے ریکارڈ پوری دنیا کے سامنے کہ انہوں نے اقلیتوں کا قتل عام شروع کر رکھا جس کی وجہ سے ماضی میں ان پر یورپ میں داخلے پر پابندیاں عائد تھی اور وہ خطے کے لیے بڑے خطرناک ثابت ہونگے یورپین ممالک بھارت بھی سیاسی اور سفاتی دباؤ ڈالین تو مذاکرات کے لیے راہ ہمورا ہوسکتی  ہے۔

عبدالرشید ترابی نے کہا کہ یورپین پارلیمنٹ نے کشمیر پر ایک قرادداد بھی منظور کی تھی اورایک فیکٹ فائنڈنگ مشن بھی مقبوضہ کشمیر کا دورہ کر چکا ہے اور وفد نے واپسی پر کہا تھا کہ کشمیر ایک خوبصورت جیل ہے یہی وجہ ہے کہ اس کے بعد بھارت نے اپنے مظالم پر پردہ ڈالنے کے لیے پارلیمنٹرین، میڈیا اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر ہر طرح کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں عبد الرشید ترابی نے ممبر پارلیمنٹ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بھارتی حکمرانوں کے وعدوں پر مبنی ایک کتابچہ بھی پیش کیا،اس موقع پر گفتگوکرتے ہوئے اٹلی کی حکمران جماعت کے ممبر پارلیمنٹ گوعیدو گالپیرتی نے کہا کہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو ان کا بنیادی اور پیدائشی حق فراہم کرے۔

اس کے علاوہ عبدالرشید ترابی نے وفود سے ملاقاتیں کیں،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے نمائندوں کے ذریعے یورپی عوام تک کشمیریوں کی آواز پہنچائی اٹالین ریڈیو،اسلام ٹی وی،جنگ فورم سمیت یورپ میں کام کرنے والے میڈیا ہاوسز،اینکر پرسنز،ممبران پارلیمنٹ،اسلامی تحریکوں کے سربراہان،حکومتی نمائندوں اور سفارتکاروں سے ملاقاتیں کر کے مسئلہ کشمیر کی سنگینی سے آگاہ کیا۔تحریک کشمیر برطانیہ اور تحریک کشمیر یورپ نے ان ساری کانفرنسز کا انعقاد کروایا جس پر صدر ریاست نے بھی تحریک کشمیر برطانیہ اور یورپ کی تحسین کی۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

منہاس گروپ آف راکٹ سائنس کو کھلا چیلنج

اسلام علیکم امیدوار وزیر اعظم آزادکشمیر اس کے بعد امیدوار سنئیر وزیر ...