بنیادی صفحہ / قومی / 22 اے ختم کرنے پر وکلاء کا ملک گیر احتجاج کا اعلان

22 اے ختم کرنے پر وکلاء کا ملک گیر احتجاج کا اعلان

رپورٹ: چودھری احسن پریمی
ملک بھر میں وکلا برادری عدالتی کارروائیوں کا بائیکاٹ کر رہی ہے، اس احتجاج کا اعلان پاکستان بار کونسل نے کیا تھا جس کی حمایت بار ایسوسی ایشنز نے بھی کی ہے۔اس احتجاج کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ کراچی بار نے وکلا کو متنبہ کیا کہ اگر کوئی وکیل کسی عدالت میں پیش ہوا تو اس سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ وکلا کی ناراضگی عدالتوں سے ایف آئی آر درج کرنے کا حکم جاری کرنے کے اختیارات واپس لینے پر سامنے آئی ہے۔پاکستان کے ضابطہ فوجداری کی شق 22 اے اور بی کے تحت سیشن ججز کو یہ اختیار حاصل تھا کہ وہ ایف آئی آر درج کرنے کا حکم جاری کرسکتے ہیں۔ طریقہ کار کے مطابق اگر کسی شخص کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے لیکن پولیس ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کرتی ہے تو وہ سیکشن 22 اے کے تحت سیشن کورٹ میں ذاتی طور پر یا وکیل کے ذریعے پیش ہوکر آگاہ کرتا ہے۔اگر عدالت درخواست کے مندرجات سے مطمئن ہے تو اسی وقت ایف آئی آر دائر کرنے کا حکم جاری ہوتا ہے ورنہ پہلے مرحلے میں ایس ایچ او کو نوٹس جاری ہوتا ہے اور دوسرے مرحلے میں ایف آئی آر درج ہو جاتی ہے۔پاکستان میں عدالتی اصلاحات اور کارکردگی بہتر بنانے کے لیے نیشنل جوڈیشل کمیٹی قائم ہے، جس کے سربراہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جبکہ پانچوں ہائی کورٹس کے چیف جسٹس اس کے رکن ہوتے ہیں۔ کمیٹی کے حالیہ اجلاس میں سیشن جج سے ایف آئی آر دائر کرانے کے اختیارات واپس لے لیے گئے۔سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر اور موجودہ فیصلے کے خلاف سرگرم سینئر وکیل علی احمد کرد کا کہنا ہے کہ سیشن ججز کو یہ اختیار پارلیمنٹ میں قانون سازی کے ذریعے دیا گیا تھا جبکہ کمیٹی نے ایک انتطامی حکم کے ذریعے یہ اختیار واپس لیا ہے جو اس کا اختیار نہیں ہے۔نیشنل جوڈیشل کمیٹی کے سیکریٹری ڈاکٹر محمد رحیم اعوان نے ایک وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ سول کورٹس سے اختیارات واپس نہیں لیے گئے تمام اضلاع میں شکایتوں کے ازالے کے لیے ایس پی تعینات کیے گئے ہیں۔اگر مدعی کو مذکورہ افسر نہیں سنتا تو پھر وہ ہائی کورٹ سے رجوع کر کے ایف آئی آر درج کرنے کی استدعا کرسکتا ہے۔پاکستان میں حالیہ دنوں جبری گمشدگیوں کے اکثر مقدمات عدالتوں کے حکم پر ہی دائر کیے گئے ہیں، انسانی حقوق کمیشن کے چیئرمین حارث خلیل کا کہنا ہے کہ مسئلہ صرف لاپتہ افراد کا نہیں بلکہ تمام مقدمات میں ایسا ہی ہوتا ہے اگر ایف آئی آر درج کرانے والا کمزور ہو تو اسے اس شق کے تحت ایک طرح سے ریلیف ملتا ہے۔یہ فیصلہ اس لحاظ سے مثبت نہیں ہے کہ ضابطہ فوجداری کی شق 22 اے لوگوں کو ریلیف فراہم کرتی ہے، زیادہ بڑا مسئلہ جعلی ایف آئی آر درج ہونا نہیں بلکہ زیادہ مسئلہ جائز ایف آئی آر کا درج نہ ہونا ہے، محض عدالت کا وقت بچانے کے لیے ایسا نہیں کرنا چاہیے۔سپریم کورٹ بار کے سابق صدر علی احمد کرد کا کہنا ہے کہ اختیارات کی واپسی بنیادی انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، تمام وکلا ایک طرف اور کچھ جج دوسری طرف ہیں، اس کا مطلب ہے کہ کہیں کچھ غیر قانونی ہے یا کہیں بے ضابطگی ہوئی ہے۔پولیس اور جوڈیشل افسران کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی شق 22 اے کے تحت جو ایف آئی آر دائر ہوتی ہیں ان میں زیادہ تر خاندانی، کمرشل یا ذاتی معاملات ہوتے ہیں۔سول مقدمات میں دس سال لگ جاتے ہیں لہذا فریق فوجداری مقدمات کے ذریعے اپنا مقصد فوری حاصل کرلیتے ہیں۔ پولیس افسران اس ایف آئی آر کو فرمائشی ایف آئی آر قرار دیتے ہیں۔سندھ پولیس کو حال ہی میں دی گئی ایک بریفنگ میں بتایا کہ اس سیکشن 22 اے کے تحت دائر 98 فیصد ایف آر آرز کی تفتیش کے دوران الزامات ثابت نہیں ہوئے اس لیے انھیں خارج کیا گیا۔اس بریفنگ میں شریک ایک ایس ایس پی سطح کے افسر نے بتایا کہ اس سیکشن کا غلط استعمال اس حد تک ہے کہ رشتہ داری نبھانے کے لیے بھی اس کا استعمال کیا جاتا ہے۔سپریم کورٹ بار کے سابق صدر علی احمد کرد کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ججز کی جانب سے وکلا کی روزی پر ایک لات مارنے کے برابر ہے، اگر ججز وکلا کی روزی روٹی کی راہ میں رکاوٹ بنیں گے تو وکلا اسے کسی صورت میں قبول نہیں کریں گے۔وکلاء ماضی میں بھی ایسے احتجاج کرتے رہے ہیں جن میں ان کو تشویش رہی ہے۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

بھارت کے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ خطرہ ہے۔ شیریں مزاری

ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام آباد: انسانی حقوق کی ...