بنیادی صفحہ / کالم / یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر

یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر


تحریر: ارفع اظہر خان
یہ داغ داغ اجالا، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فیض کی "صبحِ آزادی” کا پہلا بند جو انھوں نے اگست 1947 میں زیب قرطاس کیا تھا!
فکر فردا "1947” پر نظر ثانی کرتے ہی ہولے سے کہیں دور جا کر اس کو تکتے تکتے انگشت بدنداں رہ جاتی ہے کیونکہ آج نومبر 2018 ۔۔۔ وقت کا پہیہ 71 برس بیت جانے کے باوجود بھی میرے پاکستان کو اس شب گزیدہ سحر سے نہیں نکال سکا جس کی آرزو تھی، ایک خواہش تھی، چاہت قلب تھی۔۔۔!
آسیہ بی بی کی رہائی اور مذہبی جماعتوں کا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا انوکھا اظہار طائف کی ان وادیوں میں لے جاتا ہے جہاں میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر پتھر زنی کی گئی تھی۔ ان کی شدید توہین اور مذمت کے باوجود لب رحمت اللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف دعا نکلی۔ گویا صرف برداشت اور صبر کا درس دیا گیا۔دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیشہ احسن طریق سے ہر امر کو سر انجام دینے کی تلقین کی ہے جبکہ حالاتِ حاضرہ میں اس کے بر عکس بیشتر مولوی صاحبان اور ان کے ہمراہ پیروکار آسیہ بی بی کی رہائی کو اپنے سر پر سوار کرکے کہیں ٹائر جلا رہے ہیں تو کہیں ہڑتالیں کر رہے ہیں۔ان کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا یہ انداز کہیں کوئی ایمبولینس رکوا رہا تھا اور کہیں عوام اور ان کی جائیدادوں کا بے جا نقصان کروا رہا تھا۔ کج ذہن فرطِ حیرت میں مبتلا ہے کہ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کس طرز کا اظہارِ عقیدت ہے۔۔۔ نہ برداشت کرنے کا مادہ ہے، نہ دل مردہ میں احساس!
اے مذہب کے ٹھیکدارو!
کب جان لہو ہو گی، کب اشک گہر ہو گا
کس دن تری شنوائی اے دیدہ تر ہو گی
مولویوں کے اس رویے کے پیش نظر ملک میں 80 سے زائد مادر علمی میں تعطیل کا اعلان کردیا گیا جبکہ یہ ملاں حضرات احتجاج جس گوہر قابل صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کر رہے ہیں وہ علم کا ایسا سر چشمہ تھے جنہوں نے مقدور بھر علم پھیلانے کی سعی کی۔متعدد ختم نبوت کی محفلیں منعقد کی جا رہی ہیں جن میں سب مل جل کر از سر نو اسی بات پر گفتگو کر رہے ہیں جو پہلے سے ہی حتمی ہے پھر جوش میں آ کر جلوس نکالے جا رہے ہیں۔ وطن عزیز کے دفاع کی بجائے اس میں افراتفری اور نفسا نفسی کا عالم برپا کر کے اس عظیم رہنما سے محبت کا اظہار کر رہے ہیں جنہوں نے ہر لحظہ اس سب سے اجتناب و پرہیز کرنے کا حکم دیا۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم! دہر میں آسودگی نہیں ملتی
تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی
ہزاروں لالہ وگل ہیں ریاض ہستی میں
وفا کی جس میں ہو بو، وہ کلی نہیں ملتی
التماس ہے کہ اس سب سے قبل چیف جسٹس ثاقب نثار کا تحریری فیصلہ ایک مرتبہ ضرور پڑھ لیجئے۔مضطرب ہوں کہ وہ پل کب آئیں گے جب ہم اس مملکت خداد کو حقیقی اصطلاح میں "اسلامی جمہوریہ پاکستان” پکار سکیں گے۔۔۔
ابھی گرانی شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

نوٹ: تمام مضامین اور مراسلات قارئین کی معلومات کیلئے شائع کئے جاتے ہیں۔ ان مضامین و آراء سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

منہاس گروپ آف راکٹ سائنس کو کھلا چیلنج

اسلام علیکم امیدوار وزیر اعظم آزادکشمیر اس کے بعد امیدوار سنئیر وزیر ...