بنیادی صفحہ / کاروبار / کیا منی بجٹ یا اصلاحات ؟: چودھری احسن پریمی

کیا منی بجٹ یا اصلاحات ؟: چودھری احسن پریمی

اسد عمر کا کہنا تھا کہ میں وضاحت پیش کررہا ہوں کہ یہ نیا بجٹ نہیں ہے بلکہ معیشت کی بہتری اور صنعتوں کی بہتری کے لیے اصلاحات پیش کی جارہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ایسا کام کرنا ہے کہ آئندہ آئی ایم ایف کے پاس جانا نہ پڑے تاکہ اگلی حکومت یہ نہ کہے کی پچھلی حکومت نے آئی ایم ایف کا قرض دیا۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اگلے ہفتے معاشی فریم بنا کر پیش کریں گے۔بجٹ پیش کرنے کے دوران اپوزیشن کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا اور اسد عمر کی تقریر کے دوران جھوٹے جھوٹے کے نعرے بھی لگائے گئے جبکہ اسد عمر نے بھی گزشتہ حکومتوں کو بھی کارکردگی پر آڑھے ہاتھوں لیا۔اسد عمر نے کہا کہ خوش خبری یہ ہے کہ معیشت میں بہتری آرہی ہے اور خسارے میں کمی آرہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بجٹ کے اندر 6.6 اور اس کے علاوہ 800 ارب کا جو نقصان چھوڑ کر گئے ہیں اس کو پورا نہیں کرسکتے، انہوں نے جو معیشت چھوڑی اس میں برآمدات 70 سے 40 فیصد رہ گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک سرمایہ کاری نہ ہوگی تو ملک کی معشیت ٹھیک نہیں ہوگی، اس لیے سرمایہ کاری بڑھانے کی ضرورت ہے جس کے لیے بچت کی ضرورت ہے لیکن گزشتہ حکومت نے بچت خطرناک حد تک کم چھوڑی ہے جو ایک ریکارڈ ہے۔اسد عمر نے کہا کہ کیمرے میں ریکارڈ ہورہا ہے کہ اگلے انتخابات میں عمران خان کو الیکشن خریدنے نہیں پڑیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ گردشی قرضوں کا خسارہ کم ہوگا اور قرضوں میں کمی آئے گی کیونکہ ہم صرف زبان سے خود کو خادم اعلی نہیں کہیں گے۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ پچھلی پنجاب حکومت نے اتنے اشتہارات دیے کہ 40 ارب روپے کا خسارہ چھوڑا جبکہ پرویز خٹک نے خیبرپختونخوا میں خزانے کو فائدہ پہنچایا۔دوسرا فنانس ترمیمی بل پیش کرتے ہوئے اسد عمر نے کہا کہ کاروبار اہم ہوتے ہیں، جب تک یہ مضبوط نہیں ہوں گے معیشت بہتر نہیں ہوسکتی ہے، اس لیے بینک کی شرح سود کم کرنے اور ان صنعتوں کو قرض کے لیے جو ٹیکس ہوتا ہے اس کو 20 فیصد ٹیکس دیا جائے گا جو آدھا ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ زراعت ہمارا دوسرا ہدف ہے کہ زرعی بینکوں کے ٹیکس کو 39 سے کم کرکے 20 فیصد کررہے ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ تیسرے نمبر پر ہم گھر بنانے کے شعبوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں اور 50 لاکھ روپے کے گھر بنانے کی کوشش کررہے ہیں جس کے لیے چھوٹے گھروں کے لیے جو قرضے دیں گے اس میں ٹیکس 39 فیصد سے کم کرکے 20 فیصد کررہے ہیں اور 5 ارب روپے کی قرض حسنہ کی اسکیم لارہے ہیں جس کے ذریعے غریبوں کے لیے کم لاگت پر گھر بنائیں گے۔انہوں نے کہا کہ بینکنگ کی ڈپازٹ پر ود ہولڈنگ ٹیکس لگا تھا لیکن ہم چاہتے ہیں لوگوں کو فائلر بنانے کی ترغیب دیتے ہوئے ود ہولڈنگ ٹیکس کو ختم کیا جارہا ہے۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ تجارتی برادری کا گلہ تھا کہ 6 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس تھا جو ناانصافی تھی جس کو ہم واپس لے کر جارہے ہیں جو برقرار نہیں رہے گا۔انہوں نے گزشتہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شادی ہالوں پر ٹیکس لگایا گیا تھا، اب ہم 500 اسکوائڑ فٹ کے شادی ہالوں کے ٹیکس کو 20 ہزار سے کم کر کے 5 ہزار روپے کر رہے ہیں۔کاروباری طبقے کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ کاروباری طبقے کے لیے سادہ اور آسان نظام لائیں گے اور مجھے امید ہے کہ اس سے پہلے کی نسبت ٹیکس بھی زیادہ ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ نیوز پرنٹ کی درآمد پر عائد ٹیکس پر مکمل استثنی کا اعلان کرتے ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ زیادہ تر خبریں جو چھپتی ہیں وہ تحریک انصاف کی حکومت کے حق میں نہیں ہوتیں اور زیادہ تر اداریے ہمارے بارے میں اچھی بات نہیں کرنا چاہ رہے لیکن یہ حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں تو آپ کو ایک آزاد صحافت چاہیے اور ایک ایسی صنعت چاہیے جو منافع بخش ہو، جو لفافے دے کر نہیں، چینلز خرید کر نہیں، صحافی خرید کر نہیں بلکہ سب کا کاروبار بڑھا کر۔صنعتی شعبے پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ صنعت کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنا ہے اور اس کو مضبوط کرنا ہے اور مقابلہ کسان، صنعت کار اور مزدور نے کرنا ہے ہمارا کام ان کے لیے برابری کے مواقع دینا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بہت سی مشکلات کے باوجود خام مال کی امپورٹ ڈیوٹی میں کمی کررہے ہیں تاکہ یہ صنعت ترقی کرے اور اسی طرح چھوٹے کاروبار کی حوصلہ افزائی ہو اور صنعت مزید منافع بخش ہو۔برآمدات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومت نے برآمدی کاروں کی کمر توڑ کر رکھ دی تھی لیکن ہماری حکومت درآمد اور برآمدات میں خسارے کو کم کرے گی۔وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اکنامک زون پر توجہ دی جارہی ہے جس میں سی پیک کا کردار اہم ہے اور فیکٹری کے مکمل آلات کے لیے اضافی چیزیں شامل کررہے ہیں۔اسد عمر نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ماحولیات اور سستی بجلی کی پیداوار کے لیے شمسی توانائی اور دیگر متبادل ذرائع پر انحصار کریں اور اس طرح کے متبادل ذرائع پر سرمایہ کاری پر آج سے 5 سال تک کسٹم، سیلز اور انکم ٹیکس سے استثنی حاصل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کھیلوں کو فروغ دینے اور نوجوان کے لیے سرکاری طور پر منظور شدہ اسکیمز ہوں گی اور فرنچائز طرز کی کھیلوں کے لیے جولائی سے ٹیکس ختم کررہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یکم جولائی سے نان بینکنگ پر سپر ٹیکس ختم کیا جارہا ہے اور گزشتہ حکومت کی جانب سے کی گئی کارپوریٹ اسکیم پر ایک فیصد کی سالانہ کمی کو جاری رکھا جائے گا۔اسد عمر نے کہا کہ مارکیٹ میں نجی شعبے نے مقابلہ کرنا ہے، انٹرکارپوریٹ ڈیویڈنڈ پر گروپ کمپنیوں کو ریلیف ملے گا۔انہوں نے کہا کہ اسٹاک ایکسچینج کا اثر مختصر طرز معیشت پر نہیں ہوتا ہے لیکن پچھلے ہفتوں میں 3 ہزار پوائنٹس انڈیکس کا اضافہ ہوا ہے اور اس کے لیے دو چیزوں کو اعلان کررہے ہیں، ٹریڈنگ پر وڈ ہولڈنگ ٹیکس ختم کیا جارہا ہے، دوسری اہم چیز اگر آپ کا 2019 میں کوئی نقصان ہوا ہے تو تین سال تک آف سیٹ کرسکیں گے۔حکومت کی جانب سے ٹیکس میں اضافے پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ 1800 سی سی سے بڑی گاڑیوں کی امپورٹ پر ٹیکس کی شرح پر مزید اضافہ کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موبائل فون کے تین ٹیکسز کو ایک کرکے ٹیکس کی شرح کم کی جارہی ہے لیکن مہنگے موبائلوں کے لیے کم نہیں کی جارہی ہے۔نئی اسکیم کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پرومیزری نوٹ کی اسکیم لارہے ہیں جو فروری کے وسط تک آئے گی اور اسے ایکسپورٹر لے سکیں گے اور اس سے ذریعے بینک سے قرضہ بھی لے سکتے ہیں جس کے بعد لیکویڈٹی کا مسئلہ ختم ہو جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ ایکپسورٹ کے انتظامی معاملات پر مشیر تجاوت پریس کانفرنس کرکے پیدا کی گئی آسانیوں سے تفصیل سے آگاہ کریں گے۔جے آئی ڈی سی پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جے آئی ڈی سی کی اسکیم پر بات کرکے ایوان میں لائیں گے اور فرٹیلائزر میں ریٹ کی کمی کررہے ہیں جس سے کسان کے لیے 200 روپے فی بوری یوریا کی کمی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ کسان کو قرضے لینے میں آسانی کے لیے انڈیکس چار سال سے 4 ہزار یونٹ تھا لیکن اس کو بڑھا کر ہم 6 ہزار یونٹ کررہے ہیں اور کسانوں کے ڈیزل انجن پر موجودہ 17 فیصد ٹیکس میں کمی کرتے ہوئے اسے 7 فیصد کررہے ہیں۔اسد عمر نے اپنی بجٹ تقریر میں طبی سہولیات کا ذکر بھی کیا اور کہا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق اس حوالے سے ڈیوٹیز میں کمی کی ہے۔وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم سخت فیصلے کرنے کو تیار ہیں اور آئی ایم ایف میں جانا پڑا تو بھی جائیں گے۔اپنی تقریر کے آخر میں اسد عمر نے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہتاہوں کہ انہوں نے قوم سے کیا گیا وعدہ پورا کیا اور جس خوب صورتی سے انہوں نے آصف زرداری صاحب کو لاڑکانہ، لاہور، پشاور اور اسلام آباد کی سڑکوں میں گھسیٹا ہے اس پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ حکومت نے ملک میں اس وقت ایک اور منی بجٹ پیش کردیا گیا ہے۔حکومت اور اس کے نمائندے اس کو درست معاشی سمت میں ایک قدم قرار دے رہے ہیں جب کہ حزبِ اختلاف اس کو موجودہ حکومت کی معاشی میدان میں ناکامی سے تعبیر کر رہی ہے۔عوام اس تذبذب کا شکار ہیں کہ یہ بجٹ ان کی زندگی کو کس حد تک متاثر کرے گا۔اگر وہ حکومتی دعوں پر کان دھرتے ہیں کہ اس منی بجٹ کے نتیجے میں کوئی ایسا نیا ٹیکس نہیں لگایا جائے گا جس سے روزمرہ استعمال کی اشیا مہنگی ہوں لیکن اپوزیشن رہنماوں کے مطابق یہ منی بجٹ گرانی کی ایک نئی لہر کو جنم دے گا۔یہ منی بجٹ کیا ہے، کن حالات کے مدِ نظر اسے پیش کی جاتا ہے، کیا یہ معاشی میدان میں حکومتی ناکامی کا ممکنہ اظہار ہوتا ہے اور کن صورتوں میں یہ عام لوگوں کو متاثر کر سکتا ہے۔سادہ الفاظ میں یہ اخراجات اور آمدن کا وہ تخمینہ ہے جو حکو متِ وقت اپنی معاشی ترجیحات کو سامنے رکھتے ہوئے تجویز کرتی ہے۔ یہ تخمینہ جسے منی بل بھی کہا جاتا ہے ایوانِ زیریں میں موجود اکثریتی ممبران کی حمایت حاصل کرنے پر پاس ہو جاتا ہے۔تاہم جاری مالی سال کے دوران کسی بھی وقت اگر حکومت سمجھتی ہے کہ غیر متوقع معاشی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ پہلے سے منظور شدہ اہداف میں ردوبدل کی جائے تو وہ منی بجٹ پیش کر سکتی ہے۔مسلم لیگ ن کی حکومت نے گذشتہ برس اپریل میں مالی سال 2018-2019 کے لیے وفاقی بجٹ پیش کیا۔ موجودہ حکومت ستمبر 2018 میں ایک منی بجٹ پیش کر چکی ہے اور ترجمان وزارتِ خزانہ کہ مطابق ایک اور منی بجٹ جسے وہ ریفارمز پیکج قرار دیتے ہیں گزشتہ 23 جنوری کو وفاقی کابینہ کہ سامنے منظوری کے لیے پیش کیاگیا۔ اس کے فورا بعد اسے منظوری کے لیے ایوانِ زیریں میں پیش کر دیاکردیا گیا۔منی بجٹ کیوں پیش کیا جاتا ہے؟اس ضمن میں نظرثانی شدہ بجٹ پیش کرنے کی دو اہم صورتیں ہو سکتی ہیں۔بعض اوقات کسی بڑے زلزلے، سیلاب یا کسی اور قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے حکومت کو اضافی اخراجات کرنے پڑ سکتے ہیں۔ اس طرح کی صورتحال میں حکومت پہلے سے مختص کردہ آمدن کو اس کے منظور شدہ مصرف سے نکال کر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔اس صورت میں منی بجٹ پیش کیا جا سکتا ہے کیوں کہ حکومت پیسہ استعمال کرنے کے منظور شدہ مصرف میں تبدیلی لا چکی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ حکومت پہلے سے منظور شدہ بجٹ میں ظاہر کردہ آمدن اور اخراجات کے اہداف حاصل کرنے میں ناکام ہو جائے تو اس کو کوئی راستہ تلاش کرنا پڑتا ہے۔انھوں نے کہا پچھلے چھ ماہ میں محصولات میں اضافے کی شرح بہت کم رہی ہے اور اخراجات میں کافی اضافہ دیکھا گیا ہے اور اس کے نتیجے میں بجٹ خسارہ بڑھا ہے۔ان کے مطابق حکومتِ وقت عموما منی بجٹ کو ایک ‘درست اقدام’ قرار دیتی ہے تاہم اس کا بنیادی مقصد آمدن کو بڑھانا اور اخراجات کو کم کرنا ہوتا ہے تاکہ مالی سال کے اختتام پر مقرر کردہ بجٹ اہداف کو حاصل کیا جا سکے۔ اگر منی بجٹ کے ذریعے حکومت ٹیکس میں اضافہ کرتی ہے خاص کر بالواسطہ ٹیکس میں تو اس کا اثر یقینا عام آدمی پر پڑے گا۔ اسی طرح اگر کچھ ایسے حکومتی خرچے کم کر دیے جائیں جن سے عام آدمی مستفید ہو رہے تھے تو اس سے بھی عوام متاثر ہو سکتے ہیں۔ اگر جی ایس ٹی ریٹ کو بڑھایا جاتا ہے جس کے حوالے سے اشارے موجود ہیں تو یقینا اس کا اثر عام عوام پر مہنگائی کی صورت میں پڑے گا۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہے کہ نو ماہ کی قلیل مدت میں تیسرا بجٹ پیش کیا گیا۔ پہلا بجٹ مسلم لیگ نواز کی حکومت اپنے آخری دنوں میں پیش کر گئی تھی اور اس میں بے تحاشہ مراعات تھیں۔اس کے مقابلے میں ستمبر 2018 میں موجودہ حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا پہلا نظرثانی شدہ بجٹ بہت کمزور تھا کیونکہ اس میں ٹیکسز میں اضافہ کیا گیا اور جاری اخراجات میں کوئی کمی نہیں دکھائی گئی تھی۔اور اب دوسرے نظرثانی شدہ بجٹ سے یہ بھی اخذ کیا جا سکتا ہے کہ پہلا نظرثانی شدہ بجٹ کافی حد تک فیل ہو چکا ہے اور مطلوبہ نتائج حاصل کرنے ہیں ناکام رہا ہے۔ کسی حد تک یہ کہہ سکتے ہیں کہ دوبارہ منی بجٹ کا آنا حکومتی ناکامی کا ممکنہ اظہار ہو سکتا ہے۔ ستمبر 2018 میں آنے والے پہلے منی بجٹ میں حکومت کے پاس یہ عذر بہرحال موجود تھا کہ مالی سال 2018-2019 کا بجٹ گزشتہ حکومت نے پیش کیا جس کو موجودہ حکومت نے ‘حقائق کے منافی’ قرار دیتے ہوئے درست کرنے کا عندیہ دیا تھا۔تاہم ان ترامیم کے کچھ ہی ماہ بعد اگر حکومت کہتی ہے کہ وہ مزید ترامیم کرنا چاہتی ہے تو سوالات اٹھیں گے۔جبکہ ترجمان وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کے یہ منی بجٹ نہیں بلکہ ‘انوسٹمنٹ اینڈ ایکسپورٹ پروموشن ریفارمز پیکج’ ہے جو کہ 23 جنوری کو وفاقی کابینہ سے منظوری کے لیے پیش کیاگیا ہے۔ترجمان وزارتِ خزانہ ڈاکٹر خاقان حسن نجیب کا کہنا تھا کہ اس کو منی بجٹ کہنا درست نہ ہو گا بلکہ یہ ‘انوسٹمنٹ اینڈ ایکسپوٹ پروموشن ریفارمز پیکج’ ہے جو کہ 23 جنوری کو وفاقی کابینہ کی منظوری کے لیے پیش کیا گیا ہے۔سرمایہ کاری اور انڈسٹری کے فروغ کے لیے یہ اصلاحاتی پیکج لایا جا رہا ہے اور یہ پہلے سے جاری ‘امپورٹس کمپریشن مئیر’ یا درآمدات کی حوصلہ شکنی کرنے کے اقدامات کا تسلسل ہو گا جس کے مثبت نتائج پہلے ہی سامنے آنا شروع ہو چکے ہیں۔اس کے چیدہ خدوخال یہ ہیں کہ کاروبار کرنے میں آسانیاں پیدا کی جائیں اور اس سلسلے میں درپیش مشکلات کو دور کیا جائے نیز خام مال کی درآمد کو آسان بنایا جائے تاکہ پاکستان کی برآمدات میں اضافہ کیا جا سکے۔ترجمان وزارتِ خزانہ کا کہنا تھا کہ ‘اس میں کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایاگیا ماسوائے پرتعیش مصنوعات کے جیسا کہ 1800 سی سی سے اوپر کی گاڑیاں جن کا عام لوگوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ حکومت یہ سمجھتی ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ بیلنس آف پیمنٹس میں مشکلات پیش آ رہی ہیں پرتعیش مصنوعات کی ملک میں روک تھام کرنی چاہیے۔انھوں نے کہا کہ یوں سمجھیے کہ عام آدمی پر مہنگائی کا بوجھ کم کرنے کے لیے پرتعیش مصنوعات کی درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے گی تاکہ کرنٹ اکاونٹ کو سنبھالا جا سکے اور روپے پر موجودہ دبا کو کم کیا جا سکے۔’ان تمام اقدامات سے عام آدمی کے لیے نوکریوں کے مواقع پیدا ہوں گے اور مہنگائی پر قابو پایا جا سکے گا۔ یہ بل تمام متعلقہ اداروں سے بات چیت کر کے تیار کیا گیا ہے۔ حکومت نے کبھی اس کو منی بجٹ نہیں کہا تاہم اگر مالی سال کے دوران محصولات کے حوالے سے نئے اقدامات کیے جائیں جیسا کے نئے ٹیکسز کا نفاذ یا نافذالعمل ٹیکسز کی شرح میں اضافہ تو اس کو منی بجٹ کہیں گے۔اگر پرتعیش مصنوعات کی درآمدات کی حوصلہ شکنی کے لیے موجودہ ڈیوٹیز کو بڑھایا جا رہا ہے تو یہ منی بجٹ ہے ورنہ تو ایس آر اوز کے ذریعے نئی مراعات یا منصوبوں کا اعلان کیا جا سکتا ہے۔اس قبل جب وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں جو منی بجٹ پیش کیا تھا اس میں بعض ٹیکس رعایتیں دی گئی تھیں جبکہ بعض چیزوں پر ٹیکس میں اضافہ کیا گیا تھا۔اس دوران وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات پر عائد کردہ ٹیکس میں 100 ارب روپے کی کمی کی جا رہی ہے۔یہ ایک طرح سے اسد عمر نے حکومت میں آنے سے پہلے عوام سے کیا گیا اپنا وعدہ پورا کیا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس ٹیکس کی کمی سے پیٹرول یا ڈیزل وغیرہ کی قیمت پر فوری طور پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔یہ ٹیکس اس وقت کارآمد ہو گا جب پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈی میں قیمت میں ایک حد سے زیادہ اضافہ ہو جائے۔حکومت نے درآمد شدہ قیمتی موبائل فونز، 1800 سی سی سے بڑی لگژری گاڑیوں اور کھانے پینے کی درآمد شدہ قیمتی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی میں اضافہ کر دیا تھا جس کے بعد ان مصنوعات کی قیمتوں میں فوری اضافہ متوقع تھا۔ البتہ کم قیمت کے موبائل فونز اور چھوٹی گاڑیوں کی قیمت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہو گا۔وزیر خزانہ نے سگریٹ پر ٹیکس میں اضافے کا اعلان کیا اور کہا کہ پاکستان میں سگریٹ دنیا بھر سے سستا ملتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت سگریٹ کی سمگلنگ روکنے کا بھی بندوبست کر رہی ہے تاکہ مہنگا ہونے کی صورت میں سگریٹ کی سمگلنگ میں اضافہ نہ ہو سکے۔ انہوں نے واضح نہیں کیا کہ سگریٹ کی قیمت میں کتنا اضافہ ہو گا۔اسد عمر نے کہا کہ حکومت نے ترقیاتی اخراجات میں 350 ارب روپے کی کمی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کٹوتی ان ترقیاتی سکیموں میں کی گئی ہے جن پر کام رکا ہوا تھا یا ان کے لیے رقم جاری نہیں کی گئی تھیں۔ جو ترقیاتی سکیمیں چل رہی ہیں ان کا بجٹ کم نہیں کیا جائے گا۔حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت بغیر نئے ٹیکس لگائے 183 ارب روپے کی اضافی آمدن حاصل کرے گی جس میں تقریبا نصف صرف ٹیکس چوری روکی جائے گی۔گزشتہ سال دسمبر میں سینیٹ کو بتایا گیاتھا کہ سابق حکومت نے ڈالر کی قدر کو مصنوعی طور پر کم رکھنے کے لیے ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر سے آٹھ ارب ڈالر کی رقم خرچ کی تھی۔پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کی طرف سے ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں حالیہ دنوں میں تیزی سے کمی کے بارے میں ایک توجہ دلاو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے محصولات کے
وزیر مملکت حماد اظہر نے بتایا کہ موجودہ حکومت کو ورثے میں ملنے والی معیشت انتہائی ابتر حالت میں تھی۔حکومت کی طرف سے معیشت کو بہتر کرنے کی بھرپور کوششیں کرنے کے دعوی کو دھہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال دسمبر میں ڈالر کی قیمت 104 روپے تھی جبکہ مئی میں روپے کی قدر گر کر ڈالر کے مقابلے میں 124 روپے پر پہنچ گئی اور جون میں اس میں مزید گراوٹ دیکھنے میں آئی اور ڈالر 129 روپے کا ہو گیا۔انھوں نے روپے کی قدر میں مزید کمی کے بارے میں گورنر اسٹیٹ بینک کے ایک بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ نہیں ہو گا۔یاد رہے کہ گذشتہ حکومت کے دور ملکی تجارتی خسارے میں شدید اضافہ کی وجہ سے پاکستان کو زرمبادلہ کی شدید کمی کا سامنا ہو گیا تھا۔موجودہ حکومت کو زرمبادلہ کے ذخائر کو بہتر کرنے کے لیے فوری طور بارہ ارب ڈالر کی ضرورت تھی جس کو پورا کرنے کے لیے سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات اور ملیشیا سے مالی تعاون کی مدد کی درخواست کی گئی۔اس صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے حکومت نے آئی ایم ایف سے بھی رجوع کیا تھا اور اس سے آٹھ ارب ڈالر کے امدادی تعاون حاصل کرنے کے لیے بات چیت چل رہی ہے جس کا پہلا دور مکمل ہو چکا ہے۔ تنخواہ دار طبقے کو مہینے کے آخر میں یہ علم نہیں ہوتا کہ ان کے پاس کچھ رقم بچے گی یا نہیں’۔ کچھ یہی رائے پاکستان میں متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے بیشتر افراد کی ہے۔ایک نجی سکول کی ٹیچر کا کہنا ہے کہ حکومت کے پہلے کچھ ماہ نے مایوس کیا ہے ‘میرے لیے اب خاصا مشکل ہو گیا ہے کہ میں اپنی تتنخواہ سے بجٹ ترتیب دوں اور کچھ ایسی ہی صورت حال تنخواہ لینے والے باقی لوگوں کی بھی ہے، اب تو یہ نوبت آ گئی ہے کہ بنیادی ضروریات زندگی کی بنیادی اشیا خریدتے وقت بھی کئی بار سوچنا پڑتا ہے۔ حزبِ مخالف گذشتہ چند مہینوں سے مہنگائی کا شور بپا کیے ہوئے ہے جسے حسبِ روایت موجودہ حکومت سیاسی بیان بازی قرار دیتی رہی ہے۔ڈالر کی قدر میں اضافے اور روپے کی قدر گرنے کی بدولت کئی اشیا مہنگی تو ہوئی ہیں تاہم وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی ریفارمز اور شماریات مخدوم خسرو بختیار نے چند روز قبل وفاقی کابینہ کے ایک اجلاس میں اس تاثر کو رد کرتے ہوئے اسے حزبِ مخالف کا ‘پراپیگنڈہ’ قرار دیا ہے۔لیکن مقامی مارکیٹس میں عام صارف کے لیے گذشتہ ایک سال کے دوران کیا مہنگا ہوا ہے اور کیا سستا یہ جاننے کے لیے ہم نے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں بازار میں بھی معلوم کیں اور سرکاری ادارے کے اعداد و شمار کا بھی تقابلی جائزہ بھی لیا۔مختلف اشیا کا دسمبر 2017 سے دسمبر 2018 کے دوران قیمتوں کا جائزہ لیا گیا، ان میں سے بیشتر کی اوسط قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے جبکہ چند ایک پہلے کی نسبت کم قیمت پر بھی دستیاب ہیں۔پاکستان کے ادارہ برائے شماریات کے مطابق دسمبر سنہ 2018 میں مہنگائی کی شرح 6.2 رہی جو اس سے پچھلے مہینے یعنی نومبر کی نسبت تو کم تھی تاہم دسمبر 2017 سے زیادہ ہے جو اس وقت 4.6 فیصد تھی۔جن اشیا کی قیمتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا ان میں مصالحہ جات سب سے پہلے آتے ہیں جو ایک برس پہلے کے مقابلے میں تقریبا 15 فیصد مہنگے فروخت کیے جا رہے ہیں۔گوشت اور سگریٹ 13 فیصد، چائے 11 فیصد، پھل 10 فیصد جبکہ چاول اور مرغی کی قیمت میں تقریبا نو فیصد اضافہ ہوا ہے۔اسی طرح ایک سال پہلے بعض اشیا کی قیمتیں موجودہ قیمتوں سے خاصی زیادہ تھیں مثلا ٹماٹر ایک برس پہلے کی نسبت آج نصف قیمت پر دستیاب ہیں۔ اسی طرح پیاز 53 فیصد جبکہ آلو 36 فیصد سستے بِک رہے ہیں۔ تازہ سبزیاں بھی گذشتہ برس کی نسبت 27 فیصد کم قیمت پر مل رہی ہیں۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ مہنگائی میں اضافہ صرف تحریک انصاف کی حکومت کے دوران ہی نہیں ہوا بلکہ گذشتہ حکومت اور نگراں حکومت کے وقت بھی دیکھنے میں آیا تھا۔ اعداد و شمار کے مطابق اس ایک سال کے دوران کئی بار ماہانہ مہنگائی کی شرح موجودہ حکومت کے مقابلے میں سابق حکومت کے وقت میں زیادہ تیزی سے بھی بڑھتی رہی ہے۔دوسری جانب گیس کی قیمت میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے، اب صارفیں کو گیس 83 فیصد زیادہ قیمت پر مل رہی ہے، اسی طرح پٹرول ایک سال پہلے 78 روپے فی لٹر تھا جس میں اب تقریبا 23 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 27 فیصد اور ایل پی جی سلینڈر تقریبا 1400 روپے سے بڑھ کر 1600 روپے کے قریب پہنچ گیا ہے۔اور تو اور کئی پابندیوں اور سینسر شپ حتی کہ بندش کی نہج تک پہنچنے والے اخبارات بھی مہنگے ہوئے ہیں۔ ایک اخبار کی قیمت میں تقریبا 27 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ موٹر فیول، کیروسین آئل میں 25 اور 22 فیصد جبکہ سفری سہولتیں استعمال کرنے والی عوام کو آمدورفت کے لیے 15 فیصد زیادہ کرایہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح گاڑی آج 12 مہینے پہلے کے مقابلے میں تقریبا 15 فیصد اور خواتین کے کاسمیٹکس اور لان کے کپڑے 12 فیصد مہنگے مل رہے ہیں۔لیکن اعداد و شمار کے اس پورے گورکھ دھندے کے دوران ایک شہ مستقل ہے یعنی ملازمت پیشہ افراد کی تنخواہ!اخراجات اوپر جا رہے ہیں اور تنخواہ وہیں کی وہیں رکی ہوئی ہے۔ عوام کو اس مہنگائی کا مقابلہ کرنے میں بے حد مشکل کا سامنا ہے۔ پاکستان میں سردی کی شدت اپنے عروج پر ہے لیکن سوشل میڈیا پر عوامی جذبات خاصے گرم دکھائی دیتے ہیں۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت انتخابات سے قبل کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے کی عزم کا اظہار تو کر رہی لیکن عوام کی جانب سے بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی کا شکوہ بھی زوروں پر ہے۔ایک جانب سردی کے موسم میں قدرتی گیس اور بجلی کی عدم فراہمی کا شکوہ بہت سے شہریوں کی زباں پر ہے تو دوسری جانب تحریک انصاف کے حمایتی حکومت کی کارکردگی کو سراہانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھ رہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نیا پاکستان کے نعرے کے ساتھ آئی تھی اور اب سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ بنیادی سہولیات کی عدم موجودگی میں ‘کدھر ہے نیا پاکستان’، اور ٹوئٹر پر یہی اس وقت صف اول کا ٹرینڈ بھی ہے ۔مہنگائی، بے روزگاری، جرائم جیسے مسائل نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔اور اب سردی کے موسم میں صبح و سویر ے گیس کی لوڈشیڈنگ سے گھریلو زندگی بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔ گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑگئے ہیں۔ بچے سکول و کالج ناشتہ کیے بغیر جانے پر مجبور ہیں۔جس نئے پاکستان کے وعدے کیے گئے تھے ویسا تو کچھ نہیں ہے یہ تو 2013 سے پہلے جیسا پرانا پاکستان بنتا جا رہا ہے بجلی ہے نہ گیس نہ پانی البتہ مہنگائی کا طوفان شدت اختیار کر چکا ہے۔تاہم بیشتر صارفین کی جانب سے روزگار کے مواقع کی کمی، بجلی اور گیس کے اضافی بلوں اور دیگر سہولیات کے فقدان کے بارے میں شکایات کا انبار حاوی نظر آرہا ہے۔گذشتہ پانچ ماہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کی نوکریاں چلی گئیں۔ میڈیا ورکرز کو فارغ کیا گیا۔ ہاوسنگ سیکٹر میں ملازمتیں ختم ہو رہیں۔ وہ ایک کروڑ نوکریاں کہاں ہیں جس کا وعدہ پی ٹی آئی نے کیا تھا۔ اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin