بنیادی صفحہ / قومی / کیا جمہوریت کا راستہ سمیٹا جارہا ہے؟ تحریر: چودھری احسن پریمی

کیا جمہوریت کا راستہ سمیٹا جارہا ہے؟ تحریر: چودھری احسن پریمی

ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام آباد
جمہوریت کو کھلے معاشرے کا ذریعہ بنایا جانا چاہئے جو معلومات کا اشتراک کرے۔جب معلومات موجود ہے، تو روشنی ہے. جب بحث ہوتی ہے، وہاں حل ہوتے ہیں. جب کوئی احتساب یاقانون کا کوئی قاعدہ نہیں، وہاں بدعنوان، فساد، ذلت اور غصہ ہے. جمہوریت صرف آئین اور قانون سازی کا نام نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک ثقافت اور عمل ہے اور قانون کی تعمیل اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کا احترام کرنے کا نام بھی ہے۔اسی طرح صحافت یہ ہے کہ ہمیں جمہوریت کیلئے کام کرنے کی ضرورت ہے۔جمہوریت صرف ووٹ کا سوال ہی نہیں ہے۔ اس میں ہر شہری کے معاشرے میں زندگی میں شامل خیالات میں حصہ لینے کے امکانات اور صلاحیت کو تقویت دینے پر مشتمل ہوتا ہے۔ہوسکتا ہے کہ جمہوریت کا راستہ سمیٹا جارہا ہو لیکن یہ دریا کی مانند ہے جس میں بہت سے خم ہیں ، لیکن آخر کار یہ دریا سمندر تک پہنچ جاتا ہے۔جمہوریت کبھی اکیلے کام نہیں کرتی بلکہ جمہوریت ہمیشہ ایک ایسی چیز ہوتی ہے جسے ایک قوم کر رہی ہوتی ہے۔تاریخ کا سبق واضح ہے: آخر میں جمہوریت ہمیشہ جیتتی ہے۔یہ میرا ہی نہیں بلکہ سب کا اصول ہونا چاہیے کہ اکثریت کی مرضی ہمیشہ قائم رہنی چاہئے۔ایسی مثالی جمہوریت جس میں غریبوں کو امیر سے زیادہ طاقت حاصل ہو ، کیونکہ یہ ان میں سے بہت زیادہ لوگ ہیں ، اکثریت کی مرضی سب سے زیادہ ہے۔جمہوریت اگرچہ اکثریت کا قانون ہے لیکن اس میں اقلیت کا تحفظ ہے۔جمہوریت میں فرد نہ صرف حتمی طاقت حاصل کرتا ہے بلکہ آخری ذمہ داری بھی نبھاتا ہے۔ جمہوریت کتنی مضبوط ہے، اس کی جانچ کے لیے ہارورڈ یونیورسٹی کے 2 پروفیسر اسٹیون لیوٹسکی اور ڈینیئل زیبلیٹ ایک چیک لسٹ پیش کرتے ہوئے خبردار کرتے ہیں کہ الیکشن تمام مسائل کا حل نہیں ہے۔ مطلق العنان حکمران بھی منتخب ہوتے ہیں اور جمہوریت کا لبادہ اوڑھے رکھتے ہیں، جبکہ اس کی روح کو کھوکھلا کردیتے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ ادارے اکیلے ہی منتخب مطلق العنان حکمرانوں کو لگام دینے میں کامیاب نہیں ہوسکتے بلکہ جہاں سیاسی جماعتوں اور شہریوں پر آئین کی حفاظت لازم ہوتی ہے، وہاں اس کی جمہوری روایات کے ذریعے حفاظت بھی لازم ہے۔ اپنی تازہ ترین کتاب How Democracies Die ج(مہوریتوں کی موت کیسے ہوتی ہے) میں وہ لکھتے ہیں: مضبوط جمہوری روایتوں کے بغیر آئینی ضوابط اور چیک اینڈ بیلنس کا نظام جمہوریت کی مضبوطی کا وہ سبب نہیں بنتے جیسا کہ ہم سمجھتے ہیں۔ ادارے سیاسی ہتھیار بن جاتے ہیں جن کا استعمال وہ لوگ ان کے خلاف کرتے ہیں، جن کا ان اداروں پر اختیار نہیں ہوتا۔ایک اور سنسنی خیز اقتباس ہے جو نشاندہی کرتا ہے کہ مطلق العنان حکمران کس طرح جمہوریت کو کھوکھلا کرتے ہیں۔ عدالتوں اور دیگر اداروں پر دھونس جما کر، میڈیا اور نجی شعبے کو خرید کر یا زبردستی خاموش کروا کر)اور سیاست کے قواعد تبدیل کرکے، جس میں میدان مخالفین کے لیے ناموافق بنا دیا جاتا ہے۔ مطلق العنانیت کے انتخابی راستے کا افسوسناک انجام یہ ہے کہ جمہوریت کے قاتل جمہوری اداروں کا ہی آہستگی، غیر محسوس اور قانونی انداز میں استعمال کرتے ہیں تاکہ جمہوریت کو قتل کیا جاسکے۔ جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ موجودہ حکمرانوں سے ملک، حکومت اور معیشت کچھ بھی نہیں چل رہا اور سنہ 2020 صاف شفاف الیکشنز اور عوامی راج کا سال ہو گا۔بلاول بھٹو نے راولپنڈی میں عین اسی مقام پر ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہی ہے جہاں آج سے 12 برس قبل پارٹی کی سابق چیئرمین بینظیر بھٹو کو خودکش حملے میں قتل کر دیا گیا تھا۔طبعیت کی خرابی کے باعث پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری جلسے میں شرکت نہ کر سکے تاہم بلاول کے خطاب سے قبل ان کے والد کا ویڈیو پیغام سٹیج سے سنایا گیا۔بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان پر سیاسی یتیموں کا راج ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں بینظیر بھٹو متنبہ کرتی تھیں۔ہماری خود مختاری کا حال یہ ہے کہ ہمارا وزیرِ اعظم این او سی کے بغیر کسی دوسرے ملک کا دورہ نہیں کر سکتا، ملک کی معاشی پالیسیاں آئی ایم ایف بنا رہا ہے، یہ وہ جمہوریت نہیں جس کے لیے ہم نے قربانیاں دیں، یہ وہ آزادی نہیں جس کا وعدہ قائد اعظم نے کیا تھا۔بلاول کا کہنا تھا کہ آج پھر دھرتی پکار رہی ہے کہ وہ خطرے میں ہے، پارلیمان پر تالا لگ چکا ہے، میڈیا آزاد نہیں اور عدلیہ پر حملے ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صوبوں سے ان کا حق چھین کر وفاق کو کمزور کیا جا رہا ہے، انتہا پسندی پوری معاشرے میں پھیل چکی ہے، تمام طبقہ ہائے فکر کے لوگ سراپا احتجاج ہیں اور عوام کا معاشی قتل ہو رہا ہے۔پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ یہ تجربہ فیل ہو چکا ہے، آئینی اور معاشی بحران ہے، سیاسی رہنماں اور خواتین کو سیاسی بنیادوں پر گرفتار کیا جا رہا ہے۔ سیاسی یتیم گھبرا چکے ہیں اور ان کا کٹھ پتلی راج لڑکھڑا رہا ہے۔میری والدہ کو صرف اس لیے قتل کیا گیا کیونکہ وہ وہ طاقت کا سرچشمہ صرف عوام کو مانتی تھیں اور وہ کسی آمر کے سامنے سر جھکانے کو تیار نہیں تھیں۔انھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے پہلے ایک سال میں دس لاکھ لوگ بے روزگار ہوئے ہیں اور جب ہم حکومت کی توجہ بے روزگاری کی جانب مبذول کرواتے ہیں تو وہ کہتے ہیں کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ایک طرف یہ صورتحال ہے جبکہ دوسری جانب بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے آٹھ لاکھ لوگوں کو نکالا گیا ہے جو کہ درحقیقت غریبوں کا معاشی قتل ہے۔بلاول نے کہا کہ خیبر سے کراچی تک عوام کہہ رہے ہیں کہ الوداع الوداع سیاسی یتیم الوداع، الوداع الوداع سلیکٹڈ حکومت الوداع۔انھوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ملک کو آزادی دلوائے گی، ووٹ کا تحفظ کرے گی، نوجوانوں اور کسانوں کو ان کا حق دلوایا جائے گا، مزدوروں کو ان کی محنت کا صلہ دیا جائے گا اور بینظیر کے نامکمل مشن کو مکمل کیا جائے گا۔جیالوں میرا ساتھ دو۔ ہمارا ملک، جمہوریت اور آزادی خطرے میں ہے یہ ہم پر فرض ہے کہ ہم نے اسے بچانا ہے اور بے نظیر کے مشن کو مکمل کرنا ہے۔اپنی تقریر کے آغاز میں بلاول بھٹو زرداری نے اپنے نانا اور والدہ کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے ملک اور قوم کے لیے ان کی خدمات کو دہرایا۔انھوں نے کہا کہ ان کی والدہ پاکستان میں عوامی راج قائم کرنے کے لیے واپس آئی تھیں مگر 27 دسمبر کو اسی لیاقت باغ میں انھوں نے اپنے آخری جلسے سے خطاب کیا اور دنیا میں پاکستان کی پہچان بننے والی خاتون کو بم دھماکے میں سرِعام شہید کر دیا گیا۔انھوں نے کہا کہ ان کی والدہ کے دن دیہاڑے ہوئے قتل کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت نے نہ صرف اپنے غم اور غصے کو قابو میں رکھا بلکہ انتقام اور انتشار کی سیاست سے گریز کرتے ہوئے مفاہمت اور برداشت کی سیاست کی اور پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا۔سنہ 2008 میں بننے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت تمام سیاسی سٹیک ہولڈرز کو لے کر چلی اور 1973 کا آئین 18ویں ترمیم کے ذریعے بحال کیا۔جہاں آپ غلط یا عدم مساوات یا نا انصافی کو دیکھتے ہیں، تو بولتے ہیں، کیونکہ یہ تمہارا ملک ہے. یہ تمہاری جمہوریت ہے. اسے بناو۔حفاظت کرو. اسے آگے بڑھائیں.اگرچہ جمہوریت کے خلاف سب سے بہترین دلیل اوسط ووٹر کے ساتھ پانچ منٹ کی بات چیت ہے.تاہم دنیا اس بات پر متفق ہے کہ دنیا میں حکمرانی کا بہترین نظام جمہوریت ہے۔ ملک کو چلانے کا طریقہ کار ہوتا ہے، ملک کو چلانے کے لیے آئین ہوتا ہے۔ ہمارے ملک میں آئین کی تاریخ بہت بری رہی ہے، لمبے عرصے تک بننے ہی نہیں دیا گیا۔ آخر بنا تو اس کو بار بار توڑا گیا۔بلاشبہ جمہوری استحکام کے لیے سیاسی نظام میں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ جس کے لیے ہمیں بین الادارتی مذاکرات درکار نہیں بلکہ ایک نئے سماجی معاہدے کی ضرورت ہے جو قانون کی بالادستی کی ضمانت دے اور جس کے تحت تمام ریاستی ادارے آئین کی سختی کے ساتھ پیروی کریں۔اگر ہم امن کا ایک معاشرہ چاہتے ہیں، تو ہم تشدد کے ذریعے ایسے معاشرے کو حاصل نہیں کرسکتے ہیں. اگر ہم امتیاز کے بغیر کسی معاشرے کی خواہش رکھتے ہیں تو ہم اس معاشرے کی تعمیر کے عمل میں کسی کے خلاف متصادم نہیں ہونا چاہئے. اگر ہم ایسے سماج کی خواہش رکھتے ہیں جو جمہوری ہے تو پھر جمہوریت کو ایک ذریعہ بننا چاہیے۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

وزیراعظم کا کورونا فورس بنانے کا اعلان

ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام آباد وزیراعظم عمران خان ...