بنیادی صفحہ / قومی / کپتان کی ٹیم میں اکھاڑ پچھاڑ، نئے کھلاڑی شامل

کپتان کی ٹیم میں اکھاڑ پچھاڑ، نئے کھلاڑی شامل

پنجاب میں ابتر انتظامی اور سیاسی صورت حال حکومت کی مجموعی کارکردگی معیشت پر اثر اندازتھی ۔
پاکستان کی معیشت انا، ضد اور تکبر کی زد میں ہے۔شہباز شریف
رپورٹ: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)
حکومت نے وفاقی کابینہ میں بڑی تبدیلیاں کرتے ہوئے فواد چوہدری سمیت متعدد وزرا کے قلمدان تبدیل کردیئے۔ مجموعی طور 6 وفاقی وزارتوں کے قلمدان میں ردوبدل کیا گیا، فواد چوہدری سے اطلاعات و نشریات کی وزارت واپس لے کر انہیں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کا وزیر بنا دیا گیا۔اس کے علاوہ غلام سرور کو وفاقی وزیر ہوا بازی کا قلمدان سونپا گیا ہے، اس سے قبل ان کے پاس وزارت پیٹرولیم کا قلمدان تھا، انہوں نے پارٹی چھوڑنے کی دھمکی بھی دی تھی۔ بریگیڈئیر (ر) اعجاز شاہ سے وزیر امور پارلیمان کی وزارت لے کر انہیں وفاقی وزیر داخلہ مقرر کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ سال انتخابات میں کامیابی کے بعد پہلی مرتبہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت نے وزیر داخلہ مقرر کیا ہے۔علاوہ ازیں شہریار آفریدی کو ریاستی اور سرحدی علاقوں (سیفرون) کا وزیر جبکہ وفاقی وزیر برائے نجکاری محمد میاں سومرو کو ایوی ایشن ڈویژن کا اضافی قلمدان بھی دے دیا گیا۔اعظم سواتی، جو گزشتہ سال سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی وزارت سے مستعفی ہوگئے تھے، کو وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور جبکہ ماہر معیشت، ٹیکنو کریٹ اور سابق وزیر خزانہ ڈاکڑ عبدالحفیظ شیخ کو مشیر خزانہ مقرر کردیا گیا۔کابینہ ڈویژن کے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیراعظم نے کئی وزرا کو اپنا معاون خصوصی بھی مقرر کیا ہے، جن میں فردوس عاشق اعوان کو اطلاعات و نشریات ڈویژن کے لیے وزیراعظم کا معاون خصوصی اور ندیم بابر کو پیٹرولیم ڈویژن کے لیے وزیراعظم کا معاون خصوصی مقرر کیا گیا۔اس کے علاوہ عامر کیانی سے وازرت صحت واپس لے لی گئی جبکہ ظفر اللہ مرزا کو وزارت صحت کے لیے وزیراعظم کا معاون خصوصی مقرر کردیا گیا۔مذکورہ اعلان سے کچھ دیر قبل فواد چوہدری نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ وزیر اعظم نے کابینہ میں تبدیلیوں کا فیصلہ کیا ہے اور وزیر اعظم آفس تبدیلیوں سے متعلق اعلان کرے گا۔یہ بھی یاد رہے کہ کابینہ میں تبدیلی ایسے وقت میں کی گئی ہے جب کچھ ہی گھنٹے قبل وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا تھا۔اسد عمر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وزیر اعظم عمران خان کابینہ میں ردوبدل کے نتیجے میں چاہتے ہیں کہ میں وزارت خزانہ کی جگہ توانائی کا قلمدان سنبھال لوں لیکن میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں کابینہ میں کوئی بھی عہدہ نہیں لوں گا۔انہوں نے کہا کہ میرا ماننا ہے کہ عمران خان پاکستان کی واحد امید ہیں اور انشااللہ نیا پاکستان ضرور بنے گا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسد عمر کی جانب سے یہ فیصلہ ایک ایسے موقع پر کیا گیا ہے جب گزشتہ ہفتے ہی وہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) سے بیل آٹ پیکج پر گفتگو کے لیے واشنگٹن گئے تھے اور ان کی وہاں عالمی بینک کے حکام سے بھی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔تاہم اسی دورے کے دوران ان کو عہدے سے ہٹائے جانے اور کابینہ میں اہم تبدیلیوں کے حوالے سے قیاس آرائیاں شروع ہو گئی تھیں جسے حکومت نے مسترد کردیا تھا۔یاد رہے کہ آئی ایم ایف سے بیل آٹ پیکج کے تمام معاملات اسد عمر طے کر چکے ہیں اور معاہدے پر دستخط کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کے وفد کا دورہ رواں ماہ کے آخر میں متوقع ہے.اس سے قبل ذرائع ابلاغ میں 15 اپریل کی صبح سے ہی یہ خبریں زیر گردش تھیں کہ حکومت نے وزیر خزانہ سمیت 5 اہم وزارتوں کے قلمدان میں تبدیلی کا فیصلہ کر لیا ہے اور جلد ہی اس سلسلے میں اعلان متوقع ہے تاہم وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ان خبروں کی تردید کی تھی۔انہوں نے کہا تھا کہ حکومتی وزرا کے قلمدان تبدیل کیے جانے کے حوالے سے خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وزرا کی تبدیلی وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے اور میڈیا اس ضمن میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے۔انہوں نے مزید لکھا تھا کہ اس وقت پاکستان اہم مرحلے سے گزر رہا ہے اور اس نوعیت کی قیاس آرائیوں سے ہیجان جنم لیتا ہے، جو ملک کے مفاد میں نہیں۔بعدازاں 16 اپریل کو پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے اے آر وائی نیوز اور بول نیوز کو وفاقی کابینہ اور وفاقی وزر ا کے قلمدان میں تبدیلی کی خبر نشر کرنے پر شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔پیمرا کی جانب سے دونوں نشریاتی کو بھیجے گئے نوٹس میں کہا گیا تھا کہ یہ خبر جعلی تھی کیونکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے فوری طور پر ایسی کسی خبر کو مسترد کردیا تھا۔پاکستان پیپلز پارٹی کے قیام میں اہم کردار ادا کرنے والے عبدالنبی شیخ کے صاحبزادے عبدالحفیظ شیخ سندھ کے شہر جیکب آباد میں پیدا ہوا۔اعلی تعلیم کے لیے وہ امریکا منتقل ہوئے جہاں انہوں نے بوسٹن یونیورسٹی سے اکنامکس میں ماسٹرز کیا جس کے بعد انہوں نے 1984 میں وہیں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی میں پروفیسر کے طور پر تعینات ہوئے اور بعد ازاں انہوں نے ورلڈ بینک کے ساتھ تعلق جوڑتے ہوئے عالمی بینک کے معاشی آپریشنز برائے سعودی عرب کے صدر بنے۔سنہ 2000 میں حفیظ شیخ پاکستان واپس آئے اور سندھ حکومت میں بطور وزیر خزانہ، منصوبہ بندی اور ترقی اپنے فرائض انجام دیے۔بعد ازاں پرویز مشرف کے دور حکومت میں انہوں نے وفاقی وزیر برائے نجکاری اور سرمایہ کاری کا قلمدان سنبھالا جہاں ان کی بہترین خدمات پر پاکستان کی تاجر برادری نے 2004 میں انہیں سال کا بہترین شخص قرار دیا۔2011 میں پیپلز پارٹی کی حکومت نے انہیں وفاقی وزیر خزانہ تعینات کیا تاہم 2013 کے انتخابات سے قبل انہوں نے اپنے عہدے سے استعفی دیا تھا۔ڈاکٹر حفیظ شیخ عالمی سطح پر نامور ماہر معاشی امور ہیں جنہیں معاشی پالیسیاں بنانے کا 30 سال کا تجربہ حاصل ہے۔فردوس عاشق اعوان 2017 میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے سے قبل پیپلز پارٹی کے اہم رہنما تھے۔انہوں نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز 1990 میں صحت کے نظام میں بہتری اور سوسائٹی برائے صحت، ترقی کے قیام کے ساتھ کیا تھا۔2002 میں وہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 286 سے خواتین کے لیے مخصوص نشست پر رکن منتخب ہوئیں۔2008 میں ان کو این اے 111 سے انتخابات میں کامیابی حاصل ہوئی اور وہ وفاقی وزیر برائے بہبود آبادی تعینات ہوئیں۔بعد ازاں انہوں نے پیپلز پارٹی ہی کے دور حکومت میں وزیر اطلاعات کے عہدے پر بھی اپنی خدمات دیں۔2013 کے انتخابات میں انہوں نے دوبارہ سے این اے 111 سے انتخابات میں حصہ لیا تاہم اس بار وہ ناکام ہوئیں۔2015 میں انہوں نے پیپلز پارٹی پنجاب کی نائب صدر کے عہدے سے استعفی دیا جس کے 2 سال بعد انہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔ندیم بابر اورینٹ پاور اینڈ صبا پاور کمپنی کے سابق چیف ایگزیکٹو ہیں اور 1994 نجی سطح پر بجلی پیداواری کی توانائی پالیسی کے بعد سے توانائی کے شعبوں میں اپنی خدمات دے رہے ہیں۔ستمبر 2018 میں انہوں نے وزیر اعظم کی خواہش پر توانائی کے شعبوں میں اصلاحات کی 8 رکنی ٹاسک فورس کے سربراہ تعینات ہوئے تھے۔سالانہ بجٹ سے صرف ایک ماہ قبل اور عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف سے مذاکرات کے بیچوں بیچ پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر کی تبدیلی کے فیصلے کو ‘سرپرائز’ تو نہیں لیکن ایک غیر روائتی سیاست دان کا اہم اور مشکل فیصلہ ضرور قرار دیا جا رہا ہے۔اس کے ساتھ ہی یہ سوالات بھی پوچھے جانے لگے کہ وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے اپنی کابینہ کے ایک ایسے رکن کو تبدیل کرنا جسے ان کی ٹیم کا ‘اوپنگ بیٹس مین’ کہا جاتا ہو، کیا جماعت کے اندر جاری کھینچا تانی کا نتیجہ ہے یا یہ فیصلہ صرف اور صرف کارکردگی کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ یہ سوال بھی ذہنوں میں اٹھنے لگے کہ کیا یہ تحریک انصاف کی حکومت کے لیے بڑا سیاسی دھچکا نہیں ہے اور اپنی ناکامی کا اعتراف نہیں۔تحریک انصاف کے مختلف دھڑوں میں کشمکش کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ جہاں تک اسد عمر کی کارکردگی کا تعلق ہے تو سب کو علم تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت کو جو معیشت ورثے میں ملی تھی اس کو نو ماہ کے قلیل عرصے میں بحران سے نکالنا ممکن نہیں تھا۔پاکستان میں نجی ٹی وی چینل ‘ہم’ کے سربراہ اور سیاسی امور کے تجزیہ نگار محمد مالک نے عمران خان کے اس فیصلے کو ‘سیاسی مصلحت’ قرار دیتے ہوئے بتایا کہ تبدیلی کا یہ سلسلہ صرف وفاق تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کا دائر پنجاب تک وسیع ہو گا جہاں عثمان بزدار کی اہلیت اور صلاحیت پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اسد عمر کے علاوہ اگلے چوبیس گھنٹوں میں وفاقی کابینہ میں تین سے چار تبدیلیاں متوقع ہے اور پنجاب جہاں بیروکریسی میں تبدیلیاں کی گئی ہیں سیاسی سطح پر بھی تبدیلیاں ہونے کا قوی امکان ہے۔محمد مالک کے خیال میں اسد عمر کی اب تک کی کارکردگی میں کوئی بنیادی جھول یا خرابی نہیں تھی بلکہ آبادی کے لحاظ سے ملک کے سب سے بڑے صوبے میں ابتر انتظامی اور سیاسی صورت حال حکومت کی مجموعی کارکردگی معیشت پر اثر انداز ہو رہی ہے۔اس فیصلے کا تناظر پیش کرتے ہوئے محمد مالک نے کہا کہ ‘یہ مشکل وقت تھا حکومت کے لیے، اپوزیشن کا دبا تھا، مہنگائی بڑھ رہی تھی، آئی ایم ایف سے امداد ملنے میں تاخیر ہو رہی تھی۔”ملک کی پچاس فیصد سے زیادہ آبادی والے صوبے کی معیشت کام نہ کرے تو اس کا اثر وفاق پر ضرور پڑتا ہے۔’انھوں نے کہا کہ اسد عمر تحریک انصاف میں ایک انتہائی قدر آور شخصیت تھے اور جہانگیر ترین کے قانونی وجوہات کی بنا پرالگ ہوجانے کے بعد اسد عمر کا کابینہ سے علیحدہ ہو جانا حکمران جماعت کے لیے ایک بڑا نفسیاتی دھچکا ہے۔ایک اور نجی ٹی چینل کے جواں سالہ تجزیہ کار خاور گھمن اس فیصلے کو تحریک انصاف کے لیے ایک دھچکا تو تسلیم کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی وہ اس کو عمران خان کا دبنگ اور مشکل فیصلہ قرار دیتے ہیں۔خاور گھمن کے مطابق عمران خان نے اسد عمر کو تبدیل کر کے ایک طرح سے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ اتنی اہم وزارت کے لیے ان کا انتخاب درست نہیں تھا۔لیکن خاور گھمن کے خیال میں اس طرح کا مشکل فیصلہ کر کے عمران نے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ایک غیر روایتی سیاست دان ہیں اور کٹھن اور مشکل فیصلے کرنے سے نہیں گھبراتے۔دنیا ٹی وی کے تجزیہ کار کا مزید کہنا تھا کہ مشکل فیصلہ لے کر عمران نے اپنی قائدانہ صلاحیت تو ثابت کر دی لیکن اصل چینلج آنے والے دنوں میں معیشت کو بہتر کرنے کا ہے۔ ‘آپ نے ایک چانس تو لے لیا ہے لیکن آپ کو دوسرا چانس کوئی نہیں دے گا۔’انھوں نے کہا کہ اسد عمر کے متبادل کا انتخاب عمران خان کے لیے اصل چیلنج ہو گا اور انھیں ایک ایسا وزیر خزانہ چاہیے جو ملک کو اس بحران سے نکال سکے۔اسد عمر کو ہٹائے جانے کے مزید عوامل پر بات کرتے ہوئے خاور گھمن نے کہا کہ جماعت کے اندر سے آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں تھیں کہ مہنگائی اور عوام کو درپیش مشکلات کی وجہ سے پارٹی کے منتخب ارکان اپنے حلقوں میں نہیں جا پا رہے۔اس کے ساتھ ہی خاور کے مطابق ملک کے دیگر مقتدر حلقوں کی طرف سے بھی دبا بڑھ رہا تھا کہ اگر وزیر خزانہ معیشت کو بحال نہیں کر پا رہا تو اس کو تبدیل کریں۔اسد عمر کی طرف سے کابینہ سے علیحدہ ہونے اور توانائی کی وزارت کا قلمدان قبول نہ کرنے کے فیصلے پر محمد مالک کا کہنا تھا کہ خزانہ جیسی اہم وزارت کے بعد کوئی دوسری وزارت قبول کرنا کوئی احسن قدم نہ ہوتا۔ پاکستان کے وزیر خزانہ اسد عمر نے کابینہ چھوڑنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے اپنے دور میں ملکی معیشت کی بہتری کے لیے مشکل فیصلے کیے اور ان کی جگہ لینے والے وزیرِ خزانہ کو بھی معاشی چیلنجز کا سامنا رہے گا۔اسد عمر نے جمعرات کو پہلے سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کیے بیان میں کہا کہ وہ اپنی وزارت سے الگ ہو رہے ہیں اور پھر ایک پریس کانفرنس میں اپنے اعلان کی وجوہات بیان کیں۔اسد عمر نے اپنے پیغام میں کہا وزیرِ اعظم کابینہ میں رد و بدل کے نتیجے میں چاہتے ہیں کہ میں وزارت خزانہ کی جگہ توانائی کا قلمدان سنبھال لوں۔ لیکن میں نے ان کی مرضی سے فیصلہ کیا ہے کہ میں کابینہ میں کوئی بھی عہدہ نہیں لوں گا۔ان کا مزید کہنا تھا مجھے یقین ہے کہ عمران خان پاکستان کی واحد امید ہیں اور انشااللہ نیا پاکستان ضرور بنے گا۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اپنے دور میں معیشت کی بہتری کے لیے مشکل فیصلے کیے اور نئے وزیر خزانہ کو بھی معاشی چیلنجر کا سامنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ تحریکِ انصاف کی حکومت کے قیام کے وقت جہاں پاکستانی معیشت تھی وہ بدترین صورتحال تھی جس سے باہر نکلنے کے لیے فیصلے کیے گئے تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اب معیشت بہتر ہو گئی ہے۔اسد عمر نے کہا کہ پاکستان میں معیشت کی بنیادی چیزوں کو جب تک ٹھیک نہیں کیا جائے گا مسائل حل نہیں ہوں گے۔ انھوں نے واضح کیا کہ وہ پی ٹی آئی نہیں چھوڑ رہے اور عمران خان کے ساتھ کھڑے ہیں۔اسد عمر کا کہنا تھا کہ جو بھی نیا وزیرِ خزانہ آئے گا تو اسے مشکل حالات دیکھنے کو ملیں گے۔ نیا وزیرِ خزانہ جو بھی آئے گا، ایک مشکل معیشت کو سنبھالے گا۔سبکدوش ہونے والے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو کچھ مشکل فیصلوں اور پاکستانیوں کو صبر کی ضرورت ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ ہم بہتری کی جانب جا رہے ہیں، لیکن ہمیں مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔ جو بھی آئے، فیصلے جو کرے اس کے ساتھ کھڑے ہونے کی ضرورت ہے اور یہ نہ ان سے کوئی امید رکھے کہ معجزے ہوں گے اور اگلے تین مہینے کے اندر دودھ اور شہد کی ندیاں بہیں گی۔ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے وزیرِ خزانہ کا عہدہ پاکستان کی بہتری کے لیے قبول کیا تھا اور اگر کوئی ان کے خلاف سازشیں کر رہا تھا تو اس سے انھیں فرق نہیں پڑتا۔اسد عمر حال ہی میں امریکہ میں آئی ایم ایف کے حکام سے مذاکرات کے بعد وطن واپس آئے تھے۔اسد عمر نے کہا کہ آئی ایم ایف سے اچھی شرائط پر معاہدہ ہو رہا ہے اور آنے والا بجٹ آئی ایم ایف سے ہونے والے معاہدے کے تناظر میں بنے گا اور یہ بجٹ مشکل بھی ہو گا۔خیال رہے کہ اسد عمر حال ہی میں امریکہ کے دورے کے بعد وطن واپس آئے تھے اور ان کی جانب سے وزارتِ خزانہ چھوڑنے کا اعلان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب پاکستان آئی ایم ایف کے حکام سے بیل آٹ پیکیج کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔اسد عمر سمیت چند دیگر وزرا کی وزارتیں تبدیل کرنے کے بارے میں چند روز سے پاکستانی میڈیا میں خبریں گردش کر رہی تھیں، تاہم وفاقی حکومت نے ان خبروں کو کئی بار مسترد کیا تھا۔حکومتی ذرائع کے مطابق اسد عمر کی جانب سے وزارت چھوڑنے کے بعد وفاقی وزیر برائے توانائی عمر ایوب وزیر خزانہ کے لیے مضبوط امیدوار ہیں۔اس کے علاوہ سابق وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کو مشیر خزانہ بنائے جانے کا بھی امکان ہے۔ شوکت ترین پاکستان پیپلزپارٹی کے دور میں وزیر خزانہ رہے ہیں۔قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور پاکستان مسلم لیگ نواز کے صدر میاں شہباز شریف نے وزیر خزانہ کے عہدے سے ہٹائے جانے پر اپنے بیان میں کہا ہے کہ پہلے دن کہا تھا کہ پاکستان کی معیشت انا، ضد اور تکبر کی زد میں ہے۔انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم ضد، انا اور تکبر کو چھوڑ کر معیشت کو ترجیح دیں۔ میاں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت نے پہلے دن سے ہی میثاق معیشت کی پرخلوص پیشکش کی تھی۔ انھوں نے کہا کہ اگر وقت ضائع نہ کیا جاتا تو ملک کو موجودہ معاشی تباہی کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حکومت کو اقتدار میں آنے کے8 ماہ کے بعد معلوم ہوا کہ ان کی پالیساں غلط تھی پاکستان مسلم لیگ نواز کی ترجمان مریم اونگزیب نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف اور اسد عمر کی پالیسیاں اتنی ہی اچھی تھیں اور تمام خرابیوں کی ذمہ دار پاکستان مسلم لیگ ن کی ہی تھی تو پھر اسد عمر کو مستعفی ہونے کے لیے کیوں کہا گیا؟۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اسد عمر کے ہٹائے جانے کے بعد مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کو اقتدار میں آنے کے8 ماہ کے بعد معلوم ہوا کہ ان کی پالیساں غلط تھی۔انھوں نے کہا کہ جن وزرا کے تعلقات کالعدم تنظیموں سے رہے ہیں ان کو بھی ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے۔پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین کی طرف سے یہ مطالبہ سامنے آیا تھا کہ جن وزار کے تعلقات عام انتخابات کے دوران کالعدم تنظیموں سے رہے ہیں ان کو ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے، جس کے بعد اسد عمر نے وضاحت کی تھی کہ ان کا تعلق کبھی بھی کالعدم تنظیموں سے نہیں رہا۔بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان سینیٹر غلام مصطفی کھوکھر نے کہا کہ اسد عمر کا وزارت سے الگ ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ حکومت سے نہ تو ملکی معیشت چل رہی ہے اور نہ ہی خارجہ امور۔انھوں نے کہا کہ عمران خان کی ٹیم پورے پچاس اوور بھی نہیں کھیل پائے گی۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

علی زیدی کا سپریم کورٹ سے عذیر بلوچ جے آئی ٹی پر سوموٹو نوٹس لینے کی اپیل

مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کا مقصد عوام کے سامنے حقائق لانا ہوتا ہے۔ ...