بنیادی صفحہ / قومی / چیف جسٹس سے ‘موٹر وے ریپ’ پر از خود نوٹس لینے کی استدعا

چیف جسٹس سے ‘موٹر وے ریپ’ پر از خود نوٹس لینے کی استدعا

پولیس کی ناکامی سے ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں
حکومت پولیس میں سیاسی مداخلت کو روکے ۔ چیف جسٹس گلزار احمد
بدعنوانی شرم کا ایک بیج ہے ، اور کسی پولیس آفیسر کو اسے فراموش نہیں کرنا چاہئے
لاہور سی سی پی او عمر شیخ کی مذمت کے نشانہ سے پولیس کی بدنامی اور جنسی استحکام کو تقویت ملی ہے
گزشتہ ایک برس کے دوران پنجاب میں لڑکیوں کے اغوا کے تقریبا 14 ہزار 850 کیسز رپورٹ پنجاب میں 2014 سے جون 2017 کے دوران 10 ہزار ریپ کی کیسز رپورٹ ہوئے
رپورٹ: چودھری احسن پریمی:ایسوسی ایٹڈ پریس سروس
خواتین کے لئے پیغام واضح ہے: خاموشی آپ کا بہترین انتخاب ہے۔ عوامی طور پر ، گھر کے تقدس میں ، جہاں بھی آپ کو صنف پر مبنی تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، خاموشی بہترین آپشن ہے۔ لاہور۔ سیالکوٹ موٹروے پر ایک نوجوان لڑکی کے ساتھ اجتماعی عصمت دری نے ایک بار پھر اس بات کی تاکید کی ہے کہ پاکستان میں جنسی تشدد کی لعنت کو روکنا اتنا مشکل کیوں ہے؟ متاثرہ افراد سے ہمدردی کی عوامی سطح پر آمد کے باوجود ، جس نے اپنے بچوں کے ساتھ مل کر ایک مشکل آزمائش برداشت کی ہے ، وہ شاید اس کے پیچھے کبھی پیچھے نہیں رہ پائے گی ، حقیقت یہ ہے کہ اس معاشرے میں بدانتظامی کی ایک گہری رگ دوڑتی ہے۔ لاہور سی سی پی او عمر شیخ کی مذمت کا نشانہ بننے والے اس انتہائی ذہنیت سے چشموں کا۔ جب شہر کا اعلی پولیس اہلکار بہت سارے الفاظ میں یہ کہتا ہے کہ جو خواتین ایک مخصوص گھنٹہ کے بعد اپنے گھروں سے باہر نکل جاتی ہیں وہ شکاری مردوں سے محفوظ رہنے کی توقع نہیں کرسکتی ہیں ، تو وہ اپنے دفتر کی بدنامی کرنے سے زیادہ کام کرتا ہے۔

اس کی غیر معمولی جنسی طور پر جنسی استحکام کو تقویت ملی ہے جو عورتوں پر قابو پانے کی بنیاد ہے ، نہ صرف عوامی شعبے میں بلکہ گھریلو بھی۔ مزید برآں ، مسٹر شیخ نے جنسی زیادتی کے معاملات سے نمٹنے کے بارے میں سب سے بنیادی پروٹوکول کو بہلاتے ہوئے عصمت دری سے بچ جانے والے افراد کے بارے میں تفصیلات جاننے کے لئے بھی پرچی چھوڑ دی۔یہی وجہ ہے کہ خواتین کی ایک چھوٹی سی اقلیت ہی عصمت دری یا گھریلو تشدد جیسے جرائم کی اطلاع دہندگی کا خطرہ لیتی ہے۔ بیشتر افراد ایسے بے پرواہ ، بے حس پولیس اہلکاروں کے ذریعہ سوالات کیے جانے کے امکان کو دیکھ رہے ہیں جو ایک ایسے معاشرے کی پیداوار ہیں جہاں خواتین کی اخلاقی سلوک تقریبا ایک قومی تفریح ہے۔ یہ مشورے کہ انہوں نے کسی نہ کسی طرح اس کے لئے طلب کیا۔ – اس کا شکار کلاسک دوشیزہ – جس میں عورت پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اسے یہ ثابت کرنے کے لئے کہ اسے اس پر تشدد کے دورے کی توقع کیوں نہیں کی جانی چاہئے – ان کے دکھوں کو ملا دیتا ہے۔ صنف پر مبنی تشدد کے مرتکب افراد کو کتاب تک

پہنچانے کی لڑائی اکثر اس طرح پہلی ہی رکاوٹ سے ہار جاتی ہے۔کچھ فوری اقدامات کے لئے کہا جاتا ہے۔ صنفی حساسیت کو وقتا فوقتا ورکشاپ بنانے کے بجائے پولیس کی تربیت کا لازمی جزو ہونا چاہئے۔ مزید برآں ، جو اہلکار اپنے تعصبات پر غور کرنے اور اس کے مطابق اپنے طرز عمل میں ترمیم کرنے سے قاصر ہیں ان کا جوابدہ ہونا ضروری ہے۔ بدعنوانی شرم کا ایک بیج ہے ، اور کسی پولیس آفیسر کو اسے فراموش نہیں کرنا چاہئے۔ شواہد اکٹھا کرنے کے عمل ، بشمول طبی معائنے اور متاثرہ شخص کے بیان کو حاصل کرنے ، کو مزید صدمے سے بچنے کے لئے تیار رہنا چاہئے۔ ایک مثبت پیشرفت میں ، ذلت آمیز اور بدنام دو انگلیوں والی ورجنٹی ٹیسٹ – جس پر اکثر عصمت دری کے شکار افراد کے بارے میں یہ نتیجہ اخذ کیا جاتا ہے کہ ان کے خلاف عدالت میں ان کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے – بالآخر پاکستان میں اس کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔ آخر کار ، اس ملک میں پولیس کو لڑکے کے کلب سے مشابہت روکنے کی ضرورت ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں خواتین کی بھرتیوں میں مزید تیزی لانا ہوگی اور ان میں سے بیشتر افراد کو سینئر عہدوں پر ترقی دی جانی چاہئے۔ صنف پر مبنی تشدد کا نشانہ بننے والے خواتین پولیس افسران تک رسائی حاصل کرنی چاہئے جو خاص طور پر اس قسم کے جرائم سے نمٹنے کے لئے تربیت یافتہ ہیں۔ پاکستانی خواتین اپنے ملک میں خود کو محفوظ محسوس کرنے کی مستحق ہیں۔جبکہ گزشتہ روز لاہور موٹر وے پر خاتون سے ریپ کیس میں پنجاب حکومت کے نامزد مرکزی ملزم وقار الحسن نے گرفتاری پیش کرتے ہوئے اپنے اوپر عائد الزام کو مسترد کردیا۔واضح رہے کہ گزشتہ روز آئی جی پنجاب نے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ اس واقعے میں عابد کے ساتھ وقار الحسن شریک ملزم تھا، ملزمان کا تمام ریکارڈ موجود ہے، ہم ان کے پیچھے ہیں اور جلد ان تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔ماڈل ٹان کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس حسنین حیدر نے وقارالحسن کی گرفتاری کے لیے شیخوپورہ میں چھاپہ مار کارروائی کی تھی جہاں اس کے دوست نے انہیں یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ جلد ہی گرفتاری پیش کردے گا۔بعدازاں وقار الحسن اور اس کے دوست نے پولیس سے رجوع کیا اور ماڈل ٹاون میں گرفتاری پیش کردی۔حسنین حیدر نے بتایا کہ ملزم وفار الحسن نے سی آئی اے ماڈل ٹان میں گرفتاری دی اور ساتھ ہی موٹر وے پر خاتون کے ساتھ ریپ کے واقعہ میں ملوث ہونے سے انکار کردیا۔انہوں نے بتایا کہ ملزم نے اپنے اوپر لگنے والے تمام الزام سے انکار کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ ملزم وقار الحسن کی اسپیئر پارٹس کی دکان ہے اور موٹرسائیکل کا مکینک بھی ہے۔علاوہ ازیں ایک ذرائع نے بتایا کہ ملزم کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے پنجاب فرانزک ایجسنی سے رابطہ کرلیا گیا جبکہ ملزم کا بیان ریکارڈ کرانے کے لیے اعلی افسران کے سامنے پیش کیا جائے گا۔جبکہ موٹروے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے خلاف ملک میں غم و غصہ دن بدن شدت اختیار کرتا جارہا ہے جبکہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ متاثرہ خاتون اور ان کے دو بچوں کی حفاظت میں ناکام متعلقہ ذمہ داران کے خلاف ازخود کارروائی کا آغاز کریں۔ درخواست وکیل مریم فرید خواجہ کی جانب سے پیش کی گئی۔علاوہ ازیں دو دیگر وکلا مہراج ترین اور شائستہ تبسم سلطان پور کی جانب سے سپریم کورٹ میں ایک مشترکہ پٹیشن دائر کی گئی جس میں عدالت عالیہ کے قائم مقام جج کی سربراہی میں کمیشن کے ذریعے المناک واقعے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا۔مریم خواجہ نے اپنی درخواست میں افسوس کا اظہار کیا کہ سیالکوٹ ۔لاہور موٹر وے پر پیش آنے والے واقعے نے پولیس کا غیر معمولی رویہ ظاہر کیا جب کہ لاہور کے کیپٹل سٹی پولیس افسر (سی سی پی او) محمد عمر شیخ نے مایوس کن ریمارکس دیے جس میں انہوں نے الزام لگایا کہ متاثرہ کے برتا سے مذکورہ واقعہ پیش آیا۔مراسلے میں کہا گیا کہ سی سی پی او کے ریمارکس سے قوم اور خاص طور پر خواتین پاکستان میں خطرہ اور غیر محفوظ محسوس کررہی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے سے غیر محفوظ ماحول کی عکاسی ہوتی ہے جس میں خواتین کو رہنا اور کام کرنا پڑتا ہے۔اس کے علاوہ مراسلے میں چیف جسٹس سے درخواست کی گئی کہ انکوائری میں سیف پولیسنگ اور پولیس اصلاحات کے لیے اصول، اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لیے سفارشات اور متعلقہ قوانین کے موثر نفاذ کے لیے تجاویز پیش کرنا چاہیے۔دوسری جانب ایڈووکیٹ جہانگیر خان جدون کے توسط سے دائر مشترکہ پٹیشن میں سپریم کورٹ سے درخواست کی گئی کہ وہ سیکریٹری داخلہ، پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل، موٹر وے

پولیس اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل اور لاہور کے سی سی پی او کو حکم دیں کہ وہ واقعے کی موثر تحقیقات کریں اور مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لائیں۔پٹیشن میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ ذمہ داران کو 24 گھنٹے کے اندر ملک بھر میں موٹر ویز اور شاہراہوں پر عوام کے تحفظ کے لیے لائحہ عمل مرتب کرنے کا پابند کیا جائے۔درخواست میں افسوس کا اظہار کیا گیا کہ عصمت دری کی بات کی جاتی ہے تو پاکستان ان 10 بدترین ممالک میں شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران پنجاب میں خواتین، بچوں اور لڑکیوں کے اغوا کے تقریبا 14 ہزار 850 کیسز رپورٹ ہوئے۔درخواست میں کہا گیا کہ واقعے سے پاکستان کا نام بدنام ہوا کیونکہ بین الاقوامی میڈیا نے خاص طور پر خواتین کے لیے ملک میں سلامتی کی ابتر صورتحال کی مذمت کی ہے۔درخواست میں چیف جسٹس سے استدعا کی گئی کہ وہ اس معاملے میں از خود

کارروائی کے ذریعے آئین کے آرٹیکل 4 ، 5 ، 9 ، 14 اور 25 میں شامل عوام کے بنیادی حقوق کو نافذ کرے اور پولیس حکام بالخصوص موٹر وے پولیس کی بے پرواہی کی تحقیقات کرے۔پٹیشن میں کہا گیا کہ پنجاب میں 2014 سے جون 2017 کے دوران 10 ہزار ریپ کی کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ پولیس کی ناکامی سے ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ رہے ہیں۔درخواست میں عدالت عظمی سے استدعا کی گئی کہ وہ جواب دہندگان کی عدم فعالیت کی وجہ سے اجتماعی عصمت دری کے واقعے میں ذمہ داری کا تعین کریں اور متاثرہ اور دیگر خواتین کو قانون کے مطابق تحفظ فراہم کریں۔درخواست میں عدالت عظمی سے استدعا کی گئی کہ وہ لاہور کے سی سی پی او کے متنازع بیان کے بعد عہدے پر فائز رہنے کے لیے نااہل قرار دیں۔ اس سے دوروز قبل چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے لاہور کے قریب موٹروے پر خاتون کے ساتھ اجتماعی زیادتی کے واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں پولیس میں سیاسی مداخلت عام ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں عوام کی جان و مال محفوظ نہیں۔پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے زیر اہتمام کمرشل و اوورسیز کورٹس ججز کے لیے منعقدہ چھ روزہ تربیتی ورکشاپ کے اختتامی سیشن سے خطاب کے دوران چیف جسٹس نے موٹروے واقعے سے متعلق کہا کہ امن و امان حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں پولیس کا شفاف نظام وقت کہ اہم ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں پولیس میں سیاسی مداخلت عام ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں عوام کی جان و مال محفوظ نہیں، معصوم مسافروں کو ہائی وے پر سنگین جرائم کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حالیہ واقعہ بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ بات شرمناک ہے کہ ہائی وے پر شہریوں کی حفاظت کا موثر نظام موجود نہیں، حکومت ہوش کے ناخن لے اور محکمہ پولیس کی ساکھ کو بحال کرے اور پولیس میں کسی بھی سیاسی شخص کی مداخلت کا راستہ روکے۔چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب پولیس میں ہونے والے تبادلے اس بات کی علامت ہے کہ پولیس کے محکمے میں کس قدر سیاسی مداخلت ہے، پولیس فورس نظم و ضبط کے بغیر کام نہیں کرسکتی اور اس وقت تک عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا جب تک پولیس فورس میں پیشہ ورانہ مہارت نہ ہو۔واضح رہے کہ گزشتہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب لاہور موٹروے کے قریب 2 مسلح افراد نے مبینہ طور پر ایک خاتون کو اس وقت گینگ ریپ کا نشانہ بنایا تھا جب وہ گاڑی بند ہونے پر وہاں مدد کی منتظر تھیں۔لاہور کی ڈیفنس ہاسنگ سوسائٹی کی رہائشی 30 سال سے زائد عمر کی خاتون اپنے 2 بچوں کے ہمراہ رات کو تقریبا ایک بجے اس وقت موٹروے پر پھنس گئیں جب ان کی گاڑی کا پیٹرول ختم ہوگیا تھا، اس دوران جب وہ مدد کے لیے انتظام کرنے کی کوشش کر رہی تھیں تب 2 مرد وہاں آئے اور انہیں اور ان کے بچوںجن کی عمر 8 سال سے کم تھی بندوق کے زور پر قریبی کھیت میں لے گئے۔بعد ازاں حملہ آوروں نے بچوں کے سامنے خاتون کا ریپ کیا، جس کے کچھ وقت بعد پولیس اور خاتون کا ایک رشتے دار جسے پہلے کال کی گئی تھی وہ جائے وقوع پر پہنچے، تاہم تب تک حملہ آور فرار ہوگئے تھے اور خاتون سے کیش اور دیگر قیمتی سامان بھی لے گئے تھے۔اس واقعے کے بعد سی سی پی او عمر شیخ کی جانب سے ایک متنازع بیان دیا گیا جس میں کہا گیا کہ ‘خاتون رات ساڑھے 12 بجے ڈیفنس سے گوجرانوالہ جانے کے لیے نکلیں، میں حیران ہوں کہ تین بچوں کی ماں ہیں، اکیلی ڈرائیور ہیں، آپ ڈیفنس سے نکلی ہیں تو آپ جی ٹی روڈ کا سیدھا راستہ لیں اور گھر چلی جائیں اور اگر آپ موٹروے کی طرف سے نکلی ہیں تو اپنا پیٹرول چیک کر لیں’۔سی سی پی او کے اس ریمارکس پر عوام کی جانب سے سخت مذمت کی گئی اور ان کو ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اسی معاملے پر آج وزیر قانون پنجاب راجا بشارت سے جب سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے بیان سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ سی سی پی او کے بیان سے اتفاق نہیں کرتا اور سمجھتا ہوں کہ وہ مناسب بیان نہیں تھا، اس وقت ہماری مکمل توجہ ملزمان کو گرفتار کرنے میں ہے تاہم اس وقت اگر ہم انتظامی معاملات میں الجھ گئے تو ہم شاید اصل ہدف حاصل نہ کرسکیں۔سی سی پی او کی برطرفی کے مطالبے پر انہوں نے کہا کہ حکومت اور وزیراعلی اس مطالبے سے آگاہ ہیں اور یہ ان کا اختیار ہے کہ انہوں نے کیا فیصلہ کرنا ہے۔جبکہ پنجاب کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لاہور کے قریب ایک خاتون کے ریپ کے معاملے میں نامزد دو میں سے ایک ملزم اب پولیس کی تحویل میں ہے اور اس سے تفتیش کی جا رہی ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم اپنے والدین اور اہلِ خانہ کے ہمراہ تھانے اتوار کی صبح لاہور کے ماڈل ٹان تھانے میں پیش ہوا جہاں دیے گئے بیان میں اس نے کہا ہے کہ اس کا ریپ کے اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔دی ڈی ایس پی ماڈل ٹان حسنین حیدر کے مطابق ملزم اب پولیس کی تحویل میں ہے اور اسے ڈی آئی جی ہیڈ کوارٹر لے جایا جا رہا ہے۔جب ان سے ملزم گرفتاری کی تفصیلات دریافت کی گئیں تو ان کا کہنا تھا کہ کچھ دیر بعد ہی بتائی جا سکیں گی۔ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ملزم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگرچہ وہ ماضی میں مرکزی ملزم کے ساتھ وارداتوں میں ملوث رہا ہے تاہم اس ریپ کے واقعے سے اس کا کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی وہ موبائل نمبر جس کا ذکر پولیس حکام نے کیا اس کے زیر استعمال ہے۔پولیس ذرائع کے مطابق ملزم کا ڈی این اے حاصل کر کے اسے تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور نتیجہ آنے کے بعد ہی اس بارے میں مزید تفصیلات سامنے آئیں گی۔گذشتہ روز صوبے کے وزیراعلی کی سربراہی میں اعلی حکام کی پریس کانفرنس میں پولیس کی تحویل میں موجود ملزم کے بارے میں بتایا گیا تھا کہ وہ دو ہفتے قبل ہی ضمانت پر رہا ہوئے تھے اور غالب امکان ہے کہ وہ وقوعے کے وقت مرکزی ملزم کے ساتھ موجود تھے۔دوسری جانب پنجاب کے وزیر اطلاعات فیاض اللہ چوہان نے گفتگو میں کہا ہے کہ جیو فینسگ کے ذریعے ملنے والی معلومات کے مطابق ملزمان کا پتہ لگایا گیا۔جب ان سے پوچھا گیا کہ پولیس کی تحویل میں موجود ملزم صحت جرم سے انکاری ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ہر ملزم عموما جرم سے انکاری ہی ہوتا ہے اس واقعے کی تمام تحقیقات کی جائیں اور چند گھنٹوں میں سامنے آ جائیں گی۔جبکہ گزشتہ ہفتہ کی شام وزیر اعلی عثمان بزدار نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ تین روز قبل موٹروے پر ہونے والے ریپ کے واقعے میں ملوث دو ملزمان کی شناخت ہو گئی ہے اور ان کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کو 25، 25 لاکھ روپے انعام سے دیا جائے گا۔وزیر اعلی کا کہنا تھا کہ پولیس نے 72 گھنٹوں سے بھی کم وقت میں اصل ملزمان کی شناخت کرنے می کامیاب ہو گئی۔سی سی پی او لاہور عمر شیخ کے کیس سے متعلق متنازع بیان دیے جانے کے معاملے پر وزیر اعلی نے کہا کہ سی سی پی او کو شوکاز نوٹس جاری کر دیا گیا ہے اور سات روز میں جواب نہ دینے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی پنجاب انعام غنی نے کیس کے سلسلے میں اب تک ہونے والی پیشرفت کے متعلق بتایا کہ ملزم کا پہلے ڈی این اے ٹیسٹ ہوا تھا جس سے نمونے میچ کر گئے۔آئی جی پنجاب کا کہنا تھا کہ ساتھی ملزم کے ڈی این اے کے بارے میں پولیس کو ’95-96 فیصد’ یقین ہے اور ان کے پاس پتہ اور شناختی کارڈ کا نمبر بھی موجود ہے اور امید ہے کہ انھیں جلد پکڑ لیا جائے گا۔انعام غنی کا کہنا تھا کہ ملزمان کی معلومات عوام تک پہنچ گئی تھیں جس کی وجہ سے انھیں یقینی طور پر اطلاع مل گئی ہوگی اور وہ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ایک ملزم کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ جب اس کے گھر پر چھاپہ مارا گیا جس میں وہ اور اس کی بیوی دونوں فرار ہو گئے لیکن ان کی چھوٹی بچی گھر سے ملی۔پریس سے خطاب کرتے ہوئےپنجاب کے آئی جی نے بتایا کہ ہم نے اس پورے علاقے کی جیو فینسنگ کرائی۔ ہم نے ان کا دیٹا لیا، الیکشن کمیشن کا جتنا ریکارڈ ہے ہم نے وہ لیا اور وہاں سے ہم نے فنگر پرنٹس اٹھائے اور ساتھ ہی جو باقی ڈی این ایکے لیے چیزیں تھیں وہ اٹھائیں۔ان کا کہنا تھا کہ جمعے کی رات تقریبا 12 بجے کے قریب سائنسی شواہد کی بنیاد پر یہ تصدیق ہوئی کہ یہ عابد علی نام کا ایک لڑکا ہے جو بہاول نگر، فورٹ عباس کا رہنے والا ہے۔ اس کی طرف یہ ساری چیزیں جاتی ہیں۔ہمارے پاس صرف اتنی معلومات تھی کہ کوئی مائنر تھا جس کا کسی مقدمے میں ٹیسٹ لیا گیا تھا اس سے یہ میچ کر رہا ہے۔ نہ ہمارے پاس کوئی شناختی کارڈ تھا، نہ کوئی نمبر تھا، نہ کوئی فیملی کی تفصیلات تھیں۔اور ہماری ٹیم نے راتوں رات بہاول نگر میں اس پر اچھا کام کیا۔ ہم اس جگہ تک پہنچے، ہم اس ریکارڈ تک پہنچے اور ہم نے اس لڑکے کا سارا ریکارڈ وہاں سے نکلوایا، اس کی فیملی کے بارے میں پتہ کیا، اس کا شناختی کارڈ حاصل کیا، اس کا نمبر ملا اور پھر اس کی بنیاد پر اس کے پتے پر پہنچنے میں آپ سب کو معلوم ہے کہ رات کے وقت کتنی مشکلات آئی ہوں گی کیونکہ سارے دفاتر بند تھے۔ لیکن راتوں رات ہم نے ساری تفصیلات وہاں سے لے لی۔آئی جی پنجاب نے بتایا کہ ہمارے پاس جو پہلے سے تفصیلات موجود تھیں ان سے ان کا میچ کیا تو پتہ چلا کہ لڑکے کے نام پر چار ٹیلیفون نمبر تھے جو کہ وہ مختلف اوقات میں بند کر چکا تھا۔ لیکن ہم پھر ایک اور نمبر تک پہنچے جو اس کے استعمال میں تھا لیکن اس کے نام پر نہیں تھا۔ اس نمبر سے جو ہمارے خدشات تھے اس کی جیوفینسنگ نے بھی تصدیق کر دی۔ اسی سے ہم اس کے ساتھی تک بھی پہنچ گئے۔ اس کے بارے میں ہم 95-96 فیصد وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت اس کے ٹیلفون کی بھی وہاں موجودگی پائی گئی ہے۔ اس ٹیلیفون سے ہمیں اس کا پتہ اور سی این آئی سی وغیرہ ملا۔ایک گاوں ہے قلعہ ستار شاہ جو ضلع شیخوپورہ، تھانہ فیکٹری ایریا میں آتا ہے۔ ہمیں پتہ چلا کہ اس کی رہائش وہاں ہے، ہم نے اس کا پتہ چلایا۔ ساتھ ہی اس کے ساتھ شریک ملزم علی ٹان قلعہ ستار شاہ، شیخوپورہ کا رہنے والا تھا۔ اس تک بھی ہم پہنچ گئے۔ دونوں جگہ ہم نے چھاپے مارے۔ ہمارے چھاپے کی باتیں چونکہ سامنے آ چکی تھی اس لیے ملزمان ہوشیار ہو گئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ہم سادہ وردی میں وہاں گئے لیکن ان کے گھر چونکہ کھیتوں میں تھے اس لیے انھوں نے دیکھ لیا کہ ایک گاڑی وہاں آ کر رکی ہے اس لیے ملزم عابد اور ان کی اہلیہ فرار ہو گئے۔ وہ دونوں نہیں ملے لیکن ان کا گھر اور ان کی ایک بچی ہمیں وہاں ملی۔ اس کے سارے ریکارڈ نکاح نامہ اور دیگر دستاویزات ہمارے پاس آ گئیں اور تصدیق ہو گئی۔ دوسرے ملزم کا نام وقار الحسن ہے اور وہ علی ٹان کا رہنے والا ہے۔ اس کے ہاں جب ہم نے چھاپے مارے تو وہ بھی وہاں سے فرار ہو چکا تھا کیونکہ باتیں باہر نکل چکی تھیں۔موٹروے ریپ واقعے پر ملک بھر میں شدید غم و غصے کا اظہار جاری ہے اور ہفتے کے روز بھی کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں مظاہرے ہوئے جس میں بڑی تعداد میں شرکت ہوئی۔مظاہرین کے شرکا نے اپنے مطالبات میں بالخصوص سی سی پی او لاہور کے رویے کی مذمت کرتے ہوئے ان کے استعفی کا مطالبہ کیا۔اس کے علاوہ انھوں نے پولیس اور عدلیہ کے لیے مناسب تربیت کا مطالبہ کیا تاکہ جنسی تشدد کے مقدمات میں بین بالاقوامی بہتر طریقوں سے کام ہو اور مقدمات کی تفتیش اور سماعت کے دوران خواتین کی تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعلی نے پورے کیس کی خود نگرانی کی ہے.امن و امان حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے اور پولیس کا شفاف نظام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پولیس فورس نظم و ضبط کے بغیر کام نہیں کرسکتی۔ جب تک پولیس میں پیشہ ورانہ مہارت نہ ہو. اس وقت تک عوام کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جاسکتا. اس کے لیے پولیس کو سیاست کی بیڑیوں سے آزاد کرنا ہو گا۔اس سے پہلے پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وزیرِ اعلی عثمان بزدار نے لاہور کے علاقے گجر پورہ میں موٹروے کے قریب خاتون کے ساتھ ریپ اور ڈکیتی کے مقدمے کی تفتیش اور مستقبل میں ایسے واقعات کے انسداد کے لیے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس کی سربراہی پنجاب کے وزیرِ قانون کریں گے۔ان کے علاوہ اس ٹیم میں محکمہ داخلہ پنجاب کے ایڈیشنل چیف سیکریٹری، ایڈیشنل آئی جی سپیشل برانچ پنجاب، ڈی آئی جی انویسٹیگیشن پنجاب، اور ڈائریکٹر جنرل پنجاب فارینزک سائنس ایجنسی شامل ہوں گے۔دریں اثنا پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل انعام غنی نے بھی ڈی آئی جی انوسٹی گیشن لاہور شہزادہ سلطان کی سربراہی میں چھ رکنی خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے جس میں پولیس کے مختلف یونٹس کے افسران شامل ہیں۔پولیس ٹیم کو ہدایت کی گئی ہے کہ اگر اس کے سربراہ چاہیں تو فارینزک ماہرین کی خدمات سے استفادہ کر سکتے ہیں۔اس ٹیم کے ارکان میں ایس ایس پی انوسٹی گیشن لاہور ذیشان اصغر، آر او سپیشل برانچ لاہور جہانزیب نذیر، آر او سی ٹی ڈی لاہور نصیب اللہ خان، ایس پی سی آئی اے لاہور عاصم افتخار، انچارج جینڈر کرائمز سول لائنز لاہور فضہ اعظم شامل ہیں۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

ادارتی صحافتی آزادی کے تصور کا مذاق اڑایا جارہا ہے

حقیقت سے آگے اور کچھ نہیں ہوسکتا جدید معاشرے میں سنسرشپ کی ...