بنیادی صفحہ / قومی / چاندی کے بدلے سونا: بحریہ ٹاون کی 460 ارب روپے کی پیشکش قبول

چاندی کے بدلے سونا: بحریہ ٹاون کی 460 ارب روپے کی پیشکش قبول

رپورٹ: چودھری احسن پریمی
ایسوسی ایٹڈ پریس سروس
عدالت عظمی نے کراچی میں نجی ہاوسنگ سوسائٹی بحریہ ٹان کی انتظامیہ کی طرف سے ان پر مقدمات ختم کرنے کے لیے 460 ارب روپے کی پیشکش قبول کرلی ہے اور قومی احتساب بیورو کو ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے سے روک دیا ہے۔عدالت نے بحریہ ٹاون کے خلاف ریفرنس کو معاہدے کی خلاف ورزی سے مشروط کردیا ہے۔اس سے پہلے سپریم کورٹ بحریہ ٹان انتظامیہ کی طرف سے 450 ارب روپے کی پیشکش مسترد کرچکی ہے اور عدالت نے ریمارکس دیے تھے کہ بحریہ ٹاون کی انتظامیہ پیشکش پر دوبارہ غور کرے۔بحریہ ٹاون کراچی کے خلاف عدالت عظمی کے فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے جمعرات کو اس کی سماعت کی۔اس تین رکنی عمل درآمد بینچ نے جب عدالتی کارروائی کا آغاز کیا تو عدالت نے بحریہ ٹاون کے وکیل علی ظفر سے استفسار کیا کہ ان کے موکل نے عدالت کی طرف سے دی گئی تجویز پر کیا فیصلہ کیا ہے جس پر علی ظفر کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاون مقدمات ختم کرنے کی مد میں 460 ارب روپے دینے کو تیار ہے ۔بینچ میں موجود جج صاحبان نے آپس میں مشاورت کے بعد یہ پیشکش قبول کرلی ۔سپریم کورٹ کی طرف سے یہ پیشکش قبول کیے جانے کے بعد یہ طے پایا کہ بحریہ ٹاون یہ رقم سات سال میں ادا کرے گا۔عدالتی حکم کے مطابق بحریہ ٹاون کی انتظامیہ اس سال 27 اگست تک 25 ارب روپے ڈاون پیمنٹ کے طور پر جمع کروائے گی جبکہ ستمبر میں تقریبا ڈھائی ارب روپے ماہانہ کے حساب سے جمع کروانے ہوں گے۔پہلے چار سال تک ڈھائی ارب روپے جمع کروانے کے بعد باقی تین سالوں کے دوران باقی ماندہ رقم چار فیصد مارک اپ کے ساتھ جمع کروانا ہوگی۔عدالت نے اپنے حکم میں یہ بھی کہا ہے کہ مسلسل دو اقساط کی عدام ادائیگی پر بحریہ ٹاون کراچی نادہندہ تصور کی جائے گی۔سپریم کورٹ نے یہ بھی حکم دیا ہے کہ بحریہ ٹاون کراچی کی انتظامیہ ان کے ملکیتی پارکس، سنیما اور دیگر اثاثوں کو عدالت کے پاس گروی رکھوائے گی۔عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ مکمل ادائیگی کے بعد زمین بحریہ ٹان کے نام منتقل کردی جائے گی۔عدالت نے بحریہ ٹاون کراچی کے ڈائریکٹر کو حکم دیا ہے کہ وہ اس ضمن میں بیان حلفی جمع کروائیں۔سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کی طرف سے بحریہ ٹاون کی طرف سے حاصل کی جانے والی رقم ان کے اکاونٹ میں منتقل کرنے کی استدعا مسترد کردی۔ سپریم کورٹ اس معاملے میں رقوم کی ادائیگی کی نگرانی کرے گی۔بینچ میں موجود جسٹس فیصل عرب نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی کارروائی میں سندھ حکومت نے کہا تھا کہ زمین منتقل ہونے کی وجہ سے صوبائی حکومت کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔واضح رہے کہ گذشتہ سال جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بحریہ ٹاون کراچی میں ہزاروں کنال اراضی غیر قانونی طریقے سے منتقل کرنے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے نیب کے حکام کو بحریہ ٹاون کے علاوہ متعلقہ سرکاری ملازمین کے خلاف تحقیقات کرنے اور اس کے نتیجے میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔بحریہ ٹاون کی انتظامیہ کے خلاف بحریہ ٹان راولپنڈی اور بحریہ ٹاون مری سے متعلق مقدمات بھی سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہیں۔ سندھ کے محکمہ ریونیو نے کراچی میں بحریہ ٹاون کو دی جانے والی ہزاروں ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ منسوخ کر دی ہے۔یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لیے مختص 14617 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ کا حکم نامہ بھی مسترد کردیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد کے لیے قائم کمیٹی جس میں سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو محمد حسین سید، سیکریٹری لینڈ یوٹیلائزیشن آفتاب میمن، سیکریٹری بلدیات خالد حیدر شاہ، ملیر ڈولپمنٹ اتھارٹی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل عمران عطا سومرو، ڈپٹی کمشنر ملیر شہزاد فصل شامل تھے نے 4 مئی کے فیصلے کا جائزہ لیا۔28 اکتوبر کو کمیٹی کا یہ اجلاس منعقد ہوا جس کے منٹس کے مطابق کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے لیے مختص 17617 ایکڑ زمین کی الاٹمنٹ کا حکم نامہ منسوخ کیا جائے گا اسی طرح سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں ملیر ڈویلمپنٹ اتھارٹی کو دی گئی 11680 ایکڑ زمین واپس لی جائے گی۔ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل عمران عطا سومرو نے کہا کہ عدالتی فیصلے کی تعمیل کی گئی ہے۔سپریم کورٹ نے بحریہ ٹاون کو ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی زمین کی منتقلی کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور فیصلہ دیا تھا کہ حکومت سندھ کی زمین حکومت کو واپس کردی جائے اور بحریہ ٹان نے جس زمین کا تبادلہ کیا ہے وہ زمین واپس بحریہ ٹان کے حوالے کی جائے۔سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ چونکہ اس وقت تک بحریہ ٹان میں بڑے پیمانے پر کام ہو چکا ہے جس سے تیسرے فریق ( بحریہ ٹان کے الاٹیز) کے مفادات بھی وابستہ ہو چکے ہیں لہذا بحریہ ٹان کو 1912 کالونائزیشن ایکٹ کے تحت دوبارہ زمین الاٹ کی جائے لیکن اس کے لیے کیا شرائط ہونی چاہییں، زمین کی قیمت کیا ہو؟ کیا یہ قیمت وہ ہو جس کے تحت بحریہ نے لوگوں کو زمین فروخت کی ہے؟ ڈویلپمنٹ پر بحریہ ٹان نے کتنی سرمایہ کاری ہے، ان سوالات کے جوابات کا تعین عدالتی فیصلے پر عملدارآمد کرانے والا بینچ کرے گا۔کراچی میں ایک بڑے عرصے تک بدامنی کا سایہ اور بجلی کی لوڈشیڈنگ کا اندھیرا رہا اس صورتحال میں بحریہ ٹان نے 2013 کے ماہ نومبر میں ایک جدید شہر کی تعمیر کا اعلان کیا، جس میں مقامی پاور جنریشن اور سکیورٹی کے فول پروف انتظامات کا وعدہ کیا گیا۔ اس شہر میں رہائش اور کاروبار کے لیے درخواستیں طلب کی گئیں، اس درخواست فارم کی قیمت 15000 روپے مقرر کی گئی جو رقم ناقابل واپسی تھا۔ان پلاٹوں کا رقبہ 125 گز سے لے کر ایک ہزار گز تھا، چند ماہ میں قرعہ اندازی کے بعد ان پلاٹوں، تعمیری گھروں اور فلیٹس کے فائل کی قیمت لاکھوں روپے تک پہنچ گئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس وقت لوگوں سے یہ درخواستیں طلب کی گئیں اس وقت تک یہ کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ اس ہاسنگ سکیم کا آغاز کہاں کیا جا رہا ہے۔ جس کا عکس سپریم کورٹ کے فیصلے میں بھی نظر آتا ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں سوال کیا ہے کہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا میں جب بحریہ ٹاون نے منصوبے کا اعلان کیا تو کیا اس وقت بحریہ ٹاون یا اس کے ڈائریکٹرز کے پاس ملیر ضلع میں متعلقہ زمین موجود تھی؟ کیا لوگوں سے درخواستیں طلب کرنے سے قبل بحریہ ٹان نے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے یہ ہاسنگ سکیم منظور کرائی تھی۔بحریہ ٹاون اس وقت کراچی حیدرآباد سپر ہائی وے پر زیر تعمیر ہے۔ اس کی ابتدا کراچی کے ضلع ملیر سے ہوئی اور یہ بڑھتے بڑھتے اس وقت تک جامشورو ضلع کی حدود میں داخل ہوچکا ہے۔ گوگل میپ کے ذریعے اس کی پیمائش کی جائے تو یہ 30 ہزار ایکڑ پر پھیل چکا ہے۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹاون کے مالکان کو ایک ایک پائی کا حساب دینا پڑے گابحریہ ٹان کا کہنا ہے کہ انھوں نے پانچ ہزار ایکڑ زمین عام لوگوں سے خرید کی جبکہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے اسے 9385 ایکڑ زمین فراہم کی۔ بحریہ ٹان نے جن عام لوگوں سے زمین خریدی ان تمام کی زمینیں بحریہ ٹان کے زیر استعمال علاقے میں نہیں تھیں بلکہ بلوچستان اور ضلع ٹھٹہ و دیگر علاقوں موجود تھی۔ بحریہ نے ان زمینوں کا ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے تبادلہ کیا۔بحریہ ٹاون کے سربراہ ملک ریاض نے سپریم کورٹ کو آگاہ کیا تھا کہ زمین کا تبادلہ 1982 سے جاری ہے، بحریہ نے ایم ڈی اے سے چار دیہات کی زمینوں کا تبادلہ کیا ہے، جس کے لیے چالیس لاکھ روپے جمع کرائے گئے ہیں، اس موقع پر بحریہ کے وکیل علی ظفر نے پیشکش کی تھی کہ ان کا موکل 1800 ایکڑ زمین کے لیے پانچ ارب روپے اضافی جمع کرانے کے لیے تیار ہے۔سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس پر ریمارکس دیے کہ چاندی کے بدلے سونا لیا گیا ہے۔ عدالت نے فیصلہ میں کہا ہے کہ ایم ڈی اے نے ایک بہترین زمین کے ٹکڑا کا دو دراز علاقے میں موجود ٹکڑیوں کے شکل میں تبادلہ کردیا اور یہ تبادلہ کالونائزیشن ایکٹ 1912 کی خلاف ورزی ہے۔بحریہ ٹاون نے ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے سے ایک لاکھ 25 ہزار فی ایکڑ کے حساب سے زمین خریدی۔ سندھ بورڈ آف ریونیو نے ایم ڈی اے کو یہ زمین انکریمینٹل ہاسنگ سوسائیٹی ( سستے گھروں کی تعمیر) کے لیے دی تھی جس کی وصف میں بتایا گیا ہے کہ حکومت کے تعاون سے خاندانوں کے لیے گھروں کی تعمیر کی جائے گی جن کا سائز 120 مربع گز سے زیادہ نہیں ہوگا۔سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ بھی معلوم ہوتا کہ بحریہ ٹان کے قیام سے چند سال قبل 2006 میں اس علاقے میں زمینوں کی قیمتیں زیادہ تھیں لیکن بحریہ کی آمد سے صرف دو سال قبل یعنی 2011 میں قیمتوں میں اچانک کمی آگئی، عدالت نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کچھ واقعات میں تو یہ قیمتیں 2006 میں موجود قیمت سے بھی نصف تک چلی گئیں۔ایم ڈی اے کا موقف تھا کہ کوئی بھی بلڈر 2006 میں اس وقت کی مقررہ قیمت پر سرمایہ کاری کے لیے تیار نہ تھا۔ بحریہ ٹان میں موجودہ وقت 125 گز کا پلاٹ مختلف کیٹگریز میں تیس سے پچاس لاکھ رپے میں دستیاب ہے۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں ریمارکس دیے تھے کہ ایم ڈی اے نے پراپرٹی ڈیلر کا کردار ادا کیا جبکہ حکومت سندھ ریاست کی زمین کے تحفظ کے بجائے بحریہ ٹان کی ساتھی بن گئی۔ بحریہ ٹان کے وکیل عدالت کو بتا چکے ہیں کہ بحریہ نے 500 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی ہے جس میں سے 213 ارب لوگوں کے پاس اقساط کی شکل میں موجود ہیں۔ملیر ضلع 2557 مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے، جس میں پہاڑی علاقے کے ساتھ، میدانی علاقے، ندی نالے اور زرعی زمینیں آجاتی ہیں، یہاں کئی سو گاں موجود ہیں لیکن انھیں ریگولرائزڈ نہیں کیا گیا۔ باجود اس کے یہاں کے لوگ قیام پاکستان سے قبل سے یہاں آباد ہیں۔قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے میں الاٹیز کو تحفظ دیا گیا ہے صرف بحریہ ٹاون سے اصل رقم وصول کی جارہی ہے۔دیہہ لنگجی، کونکر، کاٹھوڑ اور بولھاڑی میں مقیم لوگوں اور ان کے مرغی فارم اور زمینیں پولیس کی مدد سے حاصل کی گئیں، مقامی رہائشی الزام عائد کرتے ہیں کہ ان کے نوجوانوں کو حراست میں لے لیا جاتا اور زمین سے دستبردار کروا لیا جاتا، حالانکہ ان کے پاس حکومت کی لیز موجود تھی لیکن انھیں پہلا حق دینے کے بجائے بحریہ ٹان کو زمین دے دی گئی۔مقامی لوگوں نے کراچی انڈیجنس رائٹس الائیس کے نام سے تنظیم بنائی جو گزشتہ چار سالوں سے سراپا احتجاج ہے۔ تنظیم کے رہنما گل حسن کلمتی کا کہنا ہے کہ جن افسران نے غیر قانونی الاٹمنٹ کی ہے ان کے خلاف بھی تحقیقات ہونی چاہیے جو نہیں ہوئی اور بحریہ ٹاون کی لالچ کہاں تک جائے گی اس کے سامنے بند باندھنے کی ضرورت ہے۔یاد رہے کہ دس روز قبل بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے بھی اخبارات میں ایک اشتہار جاری کرکے عوام کو متنبہ کیا تھا کہ ادارے نے 1330 ایکڑ کی فروخت اور تشہیر کی اجازت دی تھی تاہم سپریم کورٹ میں جاری سماعت کے دوران یہ انکشاف ہوا ہے کہ بحریہ ٹان جاری کردہ این او سی سے بالاتر سرگرمیاں کر رہی ہے، کئی مرلہ بنگلے اور عمارتوں کی تعمیر کی جارہی ہے، جن کی سندھ بلڈنگ کنٹرول سے اجازت نہیں لی گئی۔بحریہ ٹان کے الاٹیز نے بھی سپر ہائی وے پر احتجاج کرکے اپنا عدالت سے نظر ثانی کی اپیل کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں ان کی جمع پونجی لگی ہے تاہم قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے میں الاٹیز کو تحفظ دیا گیا ہے صرف بحریہ ٹان سے اصل رقم وصول کی جارہی ہے۔ قومی احتساب بیورو (نیب) نے کراچی، لاہور اور راولپنڈی میں بحریہ ٹان کے منصوبوں کے خلاف باقاعدہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔نیب کی جانب سے پیر کو جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ تحقیقات ادارے کے چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال کے احکامات پر شروع کی گئی ہیں۔بیان کے مطابق چیئرمین نیب نے متعلقہ ڈائریکٹر جنرلز کو ہدایات دی ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں بحریہ ٹاون کے خلاف تفتیش کو تین ماہ میں قانون کے مطابق منطقی انجام تک پہنچائیں۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب نے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ عدالتی فیصلے پر من و عن عمل کیا جائے اور اس سلسلے میں کوئی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔خیال رہے کہ چار مئی کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں کراچی میں بحریہ ٹان کی اراضی سے متعلق درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے بحریہ ٹاون کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ کو غیر قانونی قرار دے دیا تھا۔عدالت نے اپنے اس فیصلے میں معاملہ نیب کو بھیجنے اور تین ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔عدالت نے بحریہ ٹان کراچی میں رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت کا عمل بھی روکنے کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ کی جانب سے فیصلے میں ملیر ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کی زمین کی غیر قانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات کا بھی حکم دیا گیا تھا۔عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی کہا تھا کہ بحریہ ٹان کے ساتھ زمین کا تبادلہ قانونا ممکن ہے لیکن تبادلے کی شرائط اور قیمت کا تعین عدالت کا عمل درآمد بینچ کرے گا۔ سپریم کورٹ نے نجی تعمیراتی کمپنی بحریہ ٹان کی انتظامیہ کو کراچی میں شروع کیے گئے منصوبے میں پلاٹ خریدنے والوں سے رقم وصول کرنے سے روک دیا ہے۔عدالت نے رقم کی وصولی کو عدالتی احکامات کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون کے خلاف کوئی اقدام قابل قبول نہیں ہے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے زمین خریدنے والوں سے کہا ہے کہ وہ یہ رقم عدالت عظمی کے حکم پر کھولے گئے بینک اکانٹ میں جمع کروائیں۔ سپریم کورٹ نے یہ احکامات عدالت عظمی کے فیصلے کے خلاف بحریہ ٹان کی طرف سے دائر کی گئی نظرثانی کی درخواست پر دیے۔ نظرثانی کی یہ درخواست بحریہ ٹان کے وکیل اور نگراں وزیر قانون ایس ایم ظفر کی طرف سے دائر کی گئی تھی تاہم بیرسٹر اعتزاز احسن بحریہ ٹان کی طرف سے عدالت میں پیش ہوئے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ نے بحریہ ٹان کو سرکاری زمین کی الاٹمنٹ اور تبادلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے بحریہ ٹان کراچی کو رہائشی، کمرشل پلاٹوں اور عمارتوں کی فروخت سے روک دیا تھا۔ ریٹائر ہونے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کے اکثریتی فیصلے میں اس معاملے کو قومی احتساب بیورو (نیب)کو بھیجنے اور تین ماہ میں تحقیقات مکمل کر کے ذمہ داران کے خلاف ریفرنسز دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بحریہ ٹاون کی انتظامیہ کس حکم سے لوگوں کو پیسے جمع کروانے کے لیے نوٹس بھجوا رہی ہے۔بحریہ ٹاون کی انتظامیہ کے وکیل اعتزاز احسن نے کہا کہ ان کے موکل کی طرف سے ایسا کوئی نوٹس لوگوں کو نہیں بھجوایا گیا جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو پھر ابھی بحریہ ٹان کے سربراہ کو بلا لیتے ہیں، معاملہ صاف ہو جائے گا۔بحریہ ٹان کے وکیل اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ بحریہ ٹان کے مالک نے صحرا میں شہر کھڑا کر دیا ہے جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی رابن ہڈ کی طرح لوگوں کا مال چوری کر کے عوام میں بانٹ دے اور صحرا میں شہر بنا دے تو کیا اس کے عمل کو درست قرار دیا جاسکتا ہے۔عدالت کا کہنا تھا کہ ہمیں اس شخص سے کوئی ہمدردی نہیں جو غیرقانونی کام کر کے لوگوں کو نقصان پہنچائے۔سماعت کے دوران عدالت نے بحریہ ٹان کے وکیل سے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ نے کراچی میں بلند عمارتوں کی تعمیر پر پابندی عائد کر رکھی ہے تو بحریہ ٹان کو کراچی میں 20 منزلہ عمارت تعمیر کرنے کی اجازت کس نے دی۔اس پر اعتزاز احسن نے کہا کہ پابندی اب لگی ہے جبکہ تعمیرات پہلے ہوئی ہیں۔ بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ تعمیرات اب بھی جاری ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بحریہ ٹاون کا مقدمہ نیب کے پاس پہلے سے ہے۔ انھوں نے اعتزاز احسن سے کہا کہ وہ اپنے موکل (ملک ریاض) سے کہیں کہ نیب کے سامنے پیش ہوں۔سماعت کے دوران اعتزاز احسن نے کہا کہ بحریہ ٹان کے پیسے حکومت کی طرف نکلتے ہوں گے جس پر چیف جسٹس نے ملک ریاض کا نام لیے بغیر کہا کہ حاجی صاحب (ملک ریاض) کو کہیں کہ عدالت کے سامنے آ کر کھڑے ہو جائیں اور یہاں آکر بات کریں۔ انھوں نے کہا کہ کیا انھیں عدالت میں آکر کھڑا ہونا معیوب لگتا ہے؟عدالت کی طرف سے سماعت ملتوی کرنے کے بعد ملک ریاض اپنے وکلا کے ہمراہ کمرہ عدالت میں پیش ہوئے اور وہ عدالت کو بحریہ ٹان کی طرف سے رفاہ عامہ کے کام کے بارے میں بتایا جس پر بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کسی کو رشوت دینے یا غیر قانونی ذرائع سے حاصل کی گئی آمدنی سے رفاہ عامہ کے کام کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔عدالت نے بحریہ ٹان کے مالک کو 27 جون تک پانچ ارب روپے جمع کراونے کا حکم دیا اور کہا کہ بحریہ ٹان کراچی کو اپنا کام دوبارہ شروع کرنے کے معاملے کو بھی دیکھا جائے گا۔عدالت نے نظرثانی کی درخواست کی سماعت کو 20 جولائی تک ملتوی کر دیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کراچی میں نجی ہاسنگ سوسائٹی بحریہ ٹان کے تین ہزار ایکڑ سے زیادہ علاقے میں مزید تعمیراتی کام پر پابندی عائد کرتے ہوئے قومی احتساب بیورو کو سرکاری زمین کے نجی زمین سے تبادلے کی تحقیقات دو ماہ میں مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پیر کو یہ حکم ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے مبینہ طور پر سرکاری زمین کے نجی زمین سے تبادلے اور اس کی غیر قانونی طریقے سے الاٹمنٹ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیا۔سپریم کورٹ میں محمود اختر نقوی نامی شہری نے ایک درخواست دائر کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ہزاروں ایکڑ سرکاری زمین کنسالیڈیشن کے نام پر اپنے کنٹرول میں لا کر اس کا نجی زمین سے تبادلہ کر دیا ہے اور اس کارروائی کا مقصد بحریہ ٹان کو فائدہ پہنچانا ہے جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو کروڑوں رپے کا نقصان پہنچا ہے۔
بحریہ ٹاون کے زیرِ استعمال زمین
ایم ڈی اے کی جانب سے بحریہ ٹاون کو فراہم کی گئی کل زمین: 9385.185 ایکڑ
وہ زمین جس پر تعمیراتی کام مکمل ہو چکا: 9140.260 ایکڑ
زمین پر جس پر تعمیراتی کام نہیں ہوا: 244.925 ایکڑ
ایم ڈی اے کی منتقلی نہ ہونے کے باوجود بحریہ ٹان کے زیرِ استعمال زمین: 2271.79 ایکڑ
بحریہ ٹاون کے زیرِ استعمال کل زمین: 12156.964 ایکڑ
سماعت کے موقع پر عدالت کو قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ سروے آف پاکستان سے بحریہ ٹاون کو دی گئی زمین کا سروے کرایا گیا ہے۔ اس سروے ٹیم میں ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ڈپٹی کمشنر ملیر اور بحریہ ٹاون کے نمائندے شامل تھے اور اس سروے میں بحریہ ٹان کا نقشہ بنایا گیا ہے۔عدالت میں پیش کی گئی سروے رپورٹ کے مطابق ایم ڈی اے کی جانب سے بحریہ ٹان کراچی میں فراہم کیا جانے والا کل رقبہ 12156 ایکڑ ہے جس میں سے عدالت نے 3015 ایکڑ رقبے پر تا حکمِ ثانی تعمیراتی کام پر پابندی عائد کی ہے۔تاہم حکم نامے میں اس بقیہ 9141 ایکڑ رقبے کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی جہاں تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے یا جاری ہے۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ بیرسٹر ضمیرگھمرو کا عدالت میں کہنا تھا کہ سرکاری زمین کا نجی زمین سے تبادلہ نہیں کیا جاسکتا اور ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو حکومت نے متعلقہ زمین الاٹ ہی نہیں کی اور اتھارٹی یہ زمین الاٹ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ تقریبا مکمل ہے لیکن اس میں سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے کچھ معلومات لینی ہے اور بحریہ ٹان میں شامل ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے کچھ دیہوں کی نشاندہی کرنی ہے تاہم سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو رضوان میمن نے ایسے کسی نقشے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ بحریہ ٹاون کو الاٹ کی گئی زمین کے سروے کا کام 27 جون کو شروع کیا گیا تھا جو 15 جولائی کو اختتام پذیر ہوا۔عدالت نے اپنے حکم میں 3015 ایکڑ رقبے پر تا حکمِ ثانی تعمیراتی کام پر پابندی عائد کی ہے۔نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں لیکن ابھی اس تبادلے کے ذمہ داروں کا تعین کرنا ہے، جس کے لیے مہلت دی جائے۔بورڈ آف ریونیو کے وکیل فاروق ایچ نائک نے بھی ان کے موقف کی تائید کی اور کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی نیب پر انگلیاں اٹھائے اور یہ دبا میں آ کر غلط لوگوں کو شامل کر لے اس لیے اسے آزاد چھوڑ دیا جائے۔اس پر عدالت نے قومی احتساب بیورو کو ہدایت کی کہ وہ دو ماہ کے اندر رپورٹ مکمل کر کے عدالت میں پیش کرے۔ اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

بھارت کے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ خطرہ ہے۔ شیریں مزاری

ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام آباد: انسانی حقوق کی ...