بنیادی صفحہ / قومی / پی ٹی آئی کے مرکزی رہنمانعیم الحق سپرد خاک

پی ٹی آئی کے مرکزی رہنمانعیم الحق سپرد خاک

نعیم الحق پارٹی سے ہمیشہ مخلص اور وفادار رہے۔عمران خان
نعیم الحق نے تحریک انصاف کی کامیابی کے لیے انتھک محنت کی ۔ فردوس عاشق اعوان
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما نعیم الحق کو مسجد عائشہ میں نماز جنازہ کے بعد کراچی علاقے گزری کے قبرستان میں سپرد خاک کردیا۔نعیم الحق کی نماز جنازہ کراچی کے علاقے ڈیفنس ہاسنگ اتھارٹی کے خیابان اتحاد پر قائم مسجد عائشہ میں نمازِ عصر کے بعد ادا کی گئی۔پی ٹی آئی کے مرحوم رہنما کی نماز جنازہ میں وزیر داخلہ اعجاز شاہ، گورنر پنجاب چوہدری سرور، وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار سمیت متعدد وفاقی و صوبائی وزرا نے شرکت کی۔اس سے قبل وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر رہنما متوفی نعیم الحق کی رہائش گاہ پہنچے تھے۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فردوس عاشق اعوان نے نعیم الحق کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ ‘فرنٹ لائن پر موجود ایک

وزیر اعظم کے معاون خصوصی نعیم الحق مرحوم کی خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس سروس کے چیف ایڈیٹر چودھری محمد احسن پریمی کے ساتھ ایک یادگار تصویر

سپاہی کی طرح نعیم الحق نے وزیر اعظم عمران خان کے بیانیے کا ہر موڑ پر دفاع کیا اور ان کے نظریے کو حقیقت میں تبدیل کرنے کے لیے انتھک محنت کی’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم ان کے عزم کی تکمیل جاری رکھیں گے’۔واضح رہے کہ تحریک انصاف کے بانی رکن اور وزیر اعظم عمران خان کے قریبی ساتھی نعیم الحق گزشتہ روز 70 سال کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئے تھے، وہ طویل عرصے سے کینسر کے مرض کا شکار تھے۔ان کے سوگواران میں ایک بیٹا اور بیٹی شامل ہیں۔2 سال قبل نعیم الحق میں کینسر کی تشخیص ہوئی تھی تاہم گزشتہ چند مہینوں میں ان کی صحت مزید خراب ہوئی تھی جس کے بعد انہیں کراچی کے ایک ہسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔تحریک انصاف کراچی چیپٹر نے نعیم الحق کی وفات پر 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا۔خیال رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے رواں ماہ کے اوائل میں کراچی کے دورے کے دوران نعیم الحق کی عیادت بھی کی تھی۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر بیان جاری کرتے ہوئے نعیم الحق کے انتقال پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘ایک دیرینہ دوست کے انتقال پر غمزدہ ہوں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘نعیم الحق، تحریک انصاف کے 10 بانی اراکین میں سے تھے اور 23 سال کی جدوجہد میں میرے ساتھ کھڑے رہے، کامیابی ہو یا ناکامی نعیم الحق پارٹی سے ہمیشہ مخلص اور وفادار رہے’۔واضح رہے کہ نعیم الحق تحریک انصاف کے بانی ارکان میں شامل تھے، وہ پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے تھے۔نعیم الحق، وزیر اعظم عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی رہنما اور وزیر اعظم عمران خان کے معاون خصوصی نعیم الحق طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔پی ٹی آئی سندھ کے رہنما خرم شیر زمان نے اعلان کیا کہ نعیم الحق کی نماز جنازہ بروز اتوار بعد نماز عصر، مسجد عائشہ خیابان اتحاد میں ادا کی جائے گی۔وزیر اعظم عمران خان نے پی ٹی آئی کے بانی رہنما کی وفات پر دلی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘دیرینہ دوست نعیم الحق کے انتقال پر غمزدہ ہوں، وہ تحریک انصاف کے 10 بانی اراکین میں سے تھے اور 23 سال کی جدوجہد میں میرے ساتھ کھڑے رہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘کامیابی ہو یا ناکامی نعیم الحق پارٹی سے ہمیشہ مخلص اور وفادار رہے۔’وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘نعیم الحق کے انتقال پر شدید دکھ ہے، انہوں نے نہایت ہمت کے ساتھ کینسر جیسے مرض کا مقابلہ کیا۔’انہوں نے کہا کہ ‘نعیم الحق دیرینہ ساتھی اور تحریک انصاف کے روح رواں تھے، ان کے انتقال سے پی ٹی آئی پرخلوص، زیرک لیڈر سے محروم ہوگئی ہے۔’معاون خصوصی برائے اطلاعات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے اپنے بیان میں کہا کہ ‘نعیم الحق نے تحریک انصاف کی کامیابی کے لیے انتھک محنت کی اور پارٹی کے منشور اور وژن کے لیے کام کیا۔’انہوں نے کہا کہ ‘نعیم الحق نے شوکت خانم ہسپتال کے لیے بھی بہت کام کیا۔’پی ٹی آئی رہنما اور وزیر سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘نعیم الحق نے شیر کی طرح بہادری سے کینسر کا مقابلہ کیا۔’انہوں نے کہا کہ ‘نعیم الحق اچھے دوست اور ساتھی تھے جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔’گورنر سندھ عمران اسمعیل نے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما نعیم الحق کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ‘مرحوم نعیم الحق وزیر اعظم عمران خان کے دلیر ساتھی تھے۔’ان کا کہنا تھا کہ ‘میرا ان سے 28 سال کا ساتھ تھا، اللہ تعالی انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔’مسلم لیگ (ن)کے صدر اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے بھی نعیم الحق کی وفات پر اظہار افسوس کیا۔انہوں نے نعیم الحق کے اہل خانہ اور پی ٹی آئی سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ ‘اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔’واضح رہے کہ نعیم الحق تحریک انصاف کے بانی ارکان میں شامل تھے، وہ پارٹی کے مرکزی سیکریٹری اطلاعات کی ذمہ داریاں بھی انجام دے چکے تھے۔نعیم الحق، وزیر اعظم عمران خان کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔وزیر اعظم عمران خان نے رواں ماہ کے اوائل میں کراچی کے دورے کے دوران نعیم الحق کی عیادت بھی کی تھی۔ پیشے کے اعتبار سے ایک بینکر اور کاروباری شخصیت نعیم الحق پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اراکین میں سے ایک اور پارٹی کے ملک میں تبدیلی کے نعرے کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرنے والوں میں شامل تھے۔نعیم الحق 11 جولائی 1949 کو کراچی میں پیدا ہوئے اور جامعہ کراچی سے 1970 میں انگریزی ادب میں ایم اے کیا جس کے بعد 1971 میں سندھ مسلم لا کالج سے ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور خالد اسحق کے ساتھ قانون کی پریکٹس کی، بعد ازاں نیشنل بینک آف پاکستان سے منسلک ہوئے۔یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ نعیم الحق کراچی سے شائع ہونے والے ایک انگریزی اخبار سے بھی منسلک رہے ہیں۔نیویارک سٹی کے یو این پلازا میں نیشنل بینک کی شاخ کی بنیاد رکھنے والی ٹیم کے نوجوان رکن نعیم الحق 1980 میں انگلینڈ منتقل ہوئے جہاں اورینٹئل کریڈٹ لمیٹڈ میں بینکر کی خدمات انجام دیں۔انہوں نے بحیثیت بینکر پاکستان، لندن اور نیویارک میں کام کرنے کے علاوہ اپنے کیریئر میں ایرو ایشیا ایئرلائنز کے مشیر/منیجنگ ڈائریکٹر، چیئرمین اینڈ سی ای او میٹروپولیٹن اسٹیل کارپوریشن اور منیجنگ ڈائریکٹر کریڈٹ اینڈ لیزنگ کارپوریشن بھی رہے۔وزیراعظم عمران خان سے ان کی قربت 80 کی دہائی میں انگلینڈ میں قیام کے دوران ہوئی جہاں عمران خان کاونٹی کرکٹ کھیلتے ہیں، عمران خان انگلینڈ میں مقیم نعیم الحق اور ان کی اہلیہ نازو سے ملاقات کے لیے ان کے گھر جاتے تھے۔نعیم الحق اور عمران خان کے درمیان قربت اس وقت مزید بڑھ گئی جب 1983 میں عمران خان انجری کا شکار ہوئے تو نعیم الحق نے اپنی ایکسرسائز بائیک عمران خان کو دے دی تاکہ انہیں انجری سے نجات پانے میں مدد ملے۔نعیم الحق کا سیاسی سفر 1984 میں ایئرمارشل اصغر خان کی تحریک استقلال سے لندن میں شروع کیا اور چند برس بعد اپنے کاروبار اور سیاست کو آگے بڑھانے کے لیے کراچی منتقل ہوگئے جہاں سابق فوجی حکمران جنرل ضیاالحق کے دور کے بعد 1988 میں تحریک استقلال کی جانب سے اورنگی ٹاون سے انتخابات میں حصہ لیا لیکن شکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم کاروبار کے ساتھ ساتھ سیاسی می دلچسپی برقرار رکھی۔عمران خان نے کرکٹ سے کنارہ کشی کے بعد سیاست میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا تو 1996 میں پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے والے 10 اراکین اور عمران خان کے قریبی دوستوں میں نعیم الحق بھی شامل تھے۔نعیم الحق نے قابل اعتبار ساتھی کی حیثیت سے عمران خان کو 1997 اور 2001 کے انتخابات میں شکست کے بعد سنبھلنے میں کردار ادا کیا اور 2008 میں جب ان کی اہلیہ کا کینسر کے باعث انتقال ہوا تو انہوں نے خود کو پی ٹی آئی کے لیے وقف کردیا اور سندھ میں پارٹی کے صدر کے علاوہ مرکزی سیکریٹری اطلاعات بھی رہے۔انہوں نے پی ٹی آئی کو 25 دسمبر 2011 کو کراچی میں تاریخی جلسہ کرنے کے لیے زبردست کردار ادا کیا جس سے پارٹی کو ملک گیر جماعت کے طور پر پہچان ملنے لگی۔نعیم الحق 2012 میں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کے چیف آف اسٹاف کے طور پر اسلام آباد چلے گئے اور پارٹی کی مرکزی کمیٹی میں بنیادی کردار ادا کیا جس میں 2013 اور2018 کے عام انتخابات کا مرحلہ بھی شامل تھا۔نعیم الحق کو 2018 کے عام انتخابات سے 8 ماہ قبل ہی خون کے کینسر کی تشخیص ہوئی لیکن پارٹی کے سچے سپاہی کی طرح انہوں نے علالت اور علاج کے طویل سیشنز کے باوجود انتخابی مہم چلانے میں پیش پیش رہے اور میڈیا میں نہ صرف پارٹی بلکہ عمران خان کا بھی دفاع کیا۔پی ٹی آئی نے 2018 کے عام انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی جس میں نعیم الحق کی ان تھک کوششیں بھی شامل تھیں اور خدمات کے اعتراف میں انہیں وزیراعظم کے سیاسی امور کا خصوصی معاون مقرر کردیا گیا اور وفاقی حکومت کی جانب سے شروع کیے گئے بڑے منصوبے ہاوسنگ اسکیم سمیت دیگر کے علاوہ پارٹی کے اندر رد و بدل اور نئی تعیناتیوں میں بھی کردار ادا کیا اور پی ٹی آئی کے سچے کارکن کے طور پر پاکستان کو آگے لے جانے کے لیے اپنے انداز میں کوششیں کیں جس کا نعرہ عمران خان نے لگایا تھا۔نعیم الحق خون کے کینسر کے باعث طویل علالت کے بعد 70 برس کی عمر میں کراچی کے نجی ہسپتال میں انتقال کرگئے، پاکستان تحریک انصاف کے لیے ان کی خدمات ناقابل فراموش ہیں

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

سب سے بڑا خطرہ بھوک سے لوگوں کی ہلاکتیں ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان

اب نہیں کوئی بات خطرے کی اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ...