بنیادی صفحہ / قومی / پرویز مشرف کو آئین شکنی پر سزا موت۔ چودھری احسن پریمی

پرویز مشرف کو آئین شکنی پر سزا موت۔ چودھری احسن پریمی

ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام آباد
ہم قانون شکنی کرنے والے نہیں ہیں ، ہم قانون کی پاسداری کرتے ہیں ، اور اسی طرح رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ قانون کہتا ہے کہ آپ کو ہاتھ نہیں لگ سکتا لیکن میں اس گھر میں بہت زیادہ قانون شکنی کرنے والوں کو دیکھ رہا ہوں۔ قانون شکنی ایسے ہی ہے جیسے شیر انسانوں اور جانوروں کیلئے خطرناک ہے جو رات کے وقت جانوروں کے واڑھے میں حملہ کردیتا ہے اور بیل بکریوں کے ریوڑ کو واڑھے سے نکال دیتا ہے: جو ایک تباہ کن جبلت ہے۔ اندھی اطاعت اور کسی غیر تسلیم شدہ انسانی طاقت کو زبردستی تسلیم کرنے کا نظریہ کی کسی جمہوریہ اور عوام کے درمیان کوئی جگہ نہیں ہے۔اسلام آباد کی خصوصی عدالت کی تین رکنی بینچ نے 17 دسمبر کو سابق صدر جنرل(ر)پرویز مشرف کو سنگین غداری کا مرتکب قرار دیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت انہیں سزائے موت دینے کا حکم دیا۔پرویز مشرف کو سزائے موت سنائے جانے پر ملک کے سیاستدانوں، قانون دانوں، سماجی رہنماوں اور صحافیوں نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے فیصلے کو ملک کی پہلی مثال قرار دیا۔پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنائے جانے کا فیصلہ ملکی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا منفرد فیصلہ ہے جس پر ماہرین کی رائے بھی منقسم نظر آئی۔ خصوصی عدالت کا فیصلہ کئی حوالوں سے ملک کی آئینی و قانونی بالادستی کے لیے مثال ہے، پہلا یہ کہ اس فیصلے سے مستقبل میں کسی کی جانب سے بھی آئین و قانون کو معطل کرنے یا اس میں مداخلت کرنے سے روکنے کا عزم ہے۔دوسرا یہ کہ اس فیصلے سے عدلیہ ایک بار پھر ریاست کے اہم اور طاقتور ترین ستون کے طور پر سامنے آئی ہے جس کی طاقت میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔تیسرا یہ کہ اس فیصلے سے ریاست کے اہم ترین ستونوں کے درمیان توازن اور اختیارات کے حوالے سے بھی اہم ہے۔چوتھا یہ کہ اس سے سویلین کی بالا دستی واضح ہوتی ہے چاہے وہ علامتی ہی کیوں نہ ہو۔ یہ پہلا موقع ہے کہ عدالت نے کسی سابق فوجی سربراہ کو سزا سنائی ہے اور اس کے ملکی تاریخ پر دور رس نتائج ہوں گے۔ فوج نے تین دہائیوں تک ملکی سیاست پر حکمرانی کی اور اب خصوصی عدالت کے فیصلے سے اس پر اثرات مرتب ہوں گے۔ اگرچہ درحقیقت میں عدالتی فیصلے سے پرویز مشرف کو کوئی سزا نہیں ہوگی کیوں کہ وہ اس وقت ملک سے باہر ہیں، تاہم یہ بات اپنی جگہ تاریخی ہے کہ عدالت نے انہیں سزا سنادی۔ عدالتی فیصلے سے کچھ مسائل بھی پیدا ہوں گے کیوں کہ حالیہ حکومت نہیں چاہتی تھی کہ مذکورہ کیس کا فیصلہ آئے جب کہ اس فیصلے سے یہ مسئلہ بھی پیدا ہو سکتا ہے کہ پرویز مشرف کو صرف 3 نومبر 2007 میں آئین معطل کرنے پر سزا سنائی گئی ہے جب کہ 12 اکتوبر 1999 کو ان کی جانب سے مارشل لا لگانے پر کوئی بات نہیں کی گئی۔جبکہ پاکستانی فوج کے سابق سربراہ کو آئین شکنی کے جرم میں سزائے موت سنائے جانے کے فیصلے پر اپنے ردعمل میں پاکستانی فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے اور یہ کہ خصوصی عدالت کے فیصلے پر افواجِ پاکستان میں شدید غم و غصہ اور اضطراب ہے۔عدالت کے فیصلے کے چند گھنٹوں بعد فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کی جانب سے تحریری بیان جاری کیا گیا ۔بیان میں کہا گیا کہ جنرل پرویز مشرف نے 40 سال سے زیادہ پاکستان کی خدمت کی ہے۔ جنرل پرویز مشرف نے ملک کے دفاع کے لیے جنگیں لڑی ہیں۔ وہ کسی صورت بھی غدار نہیں ہو سکتے۔فوج کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کیس میں آئینی اور قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے اور انھیں اپنے دفاع کا بنیادی حق نہیں دیا گیا۔ان کا کہنا ہے عدالتی کارروائی شخصی بنیاد پر کی گئی۔ کیس کو عجلت میں نمٹایا گیا ہے۔ افواجِ پاکستان توقع کرتی ہیں کہ جنرل پرویز مشرف کو آئین پاکستان کے تحت انصاف دیا جائے گا۔دوسری جانب جہاں اپوزیشن کی جانب سے اس فیصلے خیرمقدم کیا گیا ہے وہیں وفاقی حکومت کا کہنا ہے کہ فیصلے کا جائزہ لینے کے بعد ہی موقف دیا جائے گا۔تحریکِ انصاف کی رہنما اور وزیراعظم کی معاون خصوصی برائے اطلات و نشریات فردوس عاشق اعوان نے فیصلہ آنے کے بعد کہا ہے کہ ‘حکومت اور اس کی قانونی ٹیم اس فیصلے کو دیکھے گی، اس کا جائزہ لے گی۔ہم اس فیصلے کے سیاسی، قانونی اور قومی مفاد پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیں گے اور اس کے بعد حکومتی اس حوالے سے اپنا بیانیہ میڈیا کے سامنے رکھے گی۔انھوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کل وطن واپس لوٹ رہے ہیں اور وہ خود زمینی حقائق اور متعلقہ قوانین دیکھ کر فیصلہ کریں گے۔تاہم پاکستان تحریک انصاف کے ہی رہنما اور وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔ان کا کہنا تھا کہوقت کے تقاضے ہوتے ہیں۔ ملک کو جوڑنے کی ضرورت ہے ایسے فیصلے جس سے فاصلے بڑھیں، تقسیم بڑھے قوم اور ادارے تقسیم ہوں ان کا فائدہ۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ وہ مسلسل کہہ رہے ہیں کہ گفتگو کی ضرورت ہے۔ نیو ڈیل کی طرف جائیں ایک دوسرے کو نیچا دیکھانا کسی کے مفاد میں نہیں، ملک پر رحم کریں۔خیال رہے کہ فواد چوہدری ماضی میں پرویز مشرف کی سیاسی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کے رہنما اور ترجمان رہ چکے ہیں۔پرویز مشرف کی جماعت آل پاکستان مسلم لیگ کی جانب سے پریس ریلیز جاری کیا گیا ہے جس میں فیصلے کی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ اس فیصلے کے خلاف ایپل کی جائے گی اور جماعت قانونی ماہرین سے رابطے میں ہے اور مستقبل کے لائحہ عمل کو طے کیا جائے گا۔پارٹی بیان میں کہا گیا ہے کہ متعدد بار پرویز مشرف کی استدعا کے باوجود کہ ان کی غیر موجودگی میں فیصلہ نہ دیا جائے عدالت نے انھیں دفاع کا حق نہیں دیا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم خصوصی عدالت کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہیں خاص طور پر ایسے وقت میں جب پرویز مشرف جان لیوا مرض سے لڑ رہے ہیں۔دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے اپنی جماعت کا یہ نعرہ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔ جیے بھٹو۔پارٹی کے ترجمان سینیٹر مصطفی نواز نے اس فیصلے پر کہا ہے کہ مشرف کا دور بہت متنازعہ رہا: بینظیر کی شہادت ہو یا اکبر بگٹی کا قتل، اب عوام ان تمام معاملات کی بھی وضاحت چاہتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم اس فیصلے کو جمہوریت کے لیے خوش آئند سمجھتے ہیں۔ اب کوئی طالع آزما اور آمر ملک کے آئین کو توڑنے کی ہمت نہیں کرے گا۔ یہ فیصلہ ملک میں جمہوریت اور انصاف کو فروغ دے گا۔پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما احسن اقبال کا کہنا تھا کہ خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد ملک میں آئین توڑنے کی روایت ختم ہو گی۔انھوں نے کہا کہ اگر یہی فیصلہ آج سے50 برس قبل عدالتیں دے دیتیں تو ملک پر کبھی بھی مارشل لا کی نحوست نہ پڑتی اور کبھی مشرقی پاکستان ہم سے جدا نہ ہوتا۔جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کا کہنا ہے کہ خصوصی عدالت نے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کو غداری مقدمہ میں آرٹیکل چھ کے تحت سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا،یہ آئینی اور جمہوری پاکستانی تاریخ کا تاریخ ساز فیصلہ ہے۔ ریاست کا نظام آئین کے مطابق چلے، سب آئینی حدود کی پابندی کریں، کوئی بھی ایڈونچر کے لیے آئین سے انحراف نہ کرے۔بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما ثنا بلوچ نے کہا ہے کہ پروریز مشرف کو یہ سزا ملنا ایک علامت۔ انھوں نے دنیا میں مختلف سربراہوں کو ملنے والی سزاں کا حوالہ ریتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ آپ ایک شخص کو سزا دیتے ہیں۔ یہ علامت ہوتی ہے یہ آئین اور اس کی بالادستی کے لیے ہوتا ہے اور لوگوں کو یہ بارآور کروانے کے لیے کہ آئین سب سے بالا تر ہے۔پرویز مشرف کے سابق وکیل اختر شاہ نے فیصلے کے بعد عدالت کے باہر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ہم کسی کو نہیں چھوڑیں گے ہم، اس کے خلاف قانونی ایکشن لیں گے۔ ملک میں ریفرنڈم ہونا چاہیے کہ تین نومبر کو مشرف نے جو ایکشن لیا تھا کیا وہ ٹھیک تھا یا نہیں تھا۔۔۔عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما انجینئیر زمرک خان اچکزئی نے کہا ہے کہ عدالت نے ایک اچھا فیصلہ کیا ہے اور ہم اس کے ساتھ ہیں۔اس فیصلے کے بعد کل کوئی اور بھی ڈکٹیٹر نھیں اٹھے گا جو آئین کو توڑنے کی بات کرے۔ عدالت کے فیصلے کو پوری دنیا اور پاکستان میں اچھی نظر سے دیکھا جاتا ہے کہ اس نے انصاف کے تقاضے پورے کیے ہیں۔دفاعی تجزیہ نگار ایئر مارشل ریٹائرڈ
شاہد لطیف نے اس فیصلے کو پاکستان کی تاریخ کے افسوس ناک دن سے تعبیر کیا ہے۔ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں ان کا کہنا تھا کہ مدعا علیہ کو سنے بغیر فیصلہ دیا گیا۔ اس کیس میں مشرف کو الگ رکھا جانا نواز شریف اور چوہدری افتخار کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی اور سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے انھیں سزائے موت دینے کا حکم دیا ہے۔پرویز مشرف پر آئین شکنی کا الزام تین نومبر 2007 کو آئین کی معطلی اور ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے حوالے سے تھا اور یہ پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ کسی شخص کو آئین شکنی کے جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔جسٹس سیٹھ وقار، جسٹس نذر اکبر اور جسٹس شاہد کریم پر مشتمل خصوصی عدالت نے یہ مختصر فیصلہ منگل کی صبح سنایا۔یہ ایک اکثریتی فیصلہ ہے اور بینچ کے تین ارکان میں سے دو نے سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا جبکہ ایک رکن نے اس سے اختلاف کیا۔فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ ثابت ہوتا ہے اور آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت انھیں سزائے موت سنائی جاتی ہے۔آئین کی شق نمبر چھ کے مطابق وہ شخص جس نے 23 مارچ 1956 کے بعد آئین توڑا ہو یا اس کے خلاف سازش کی ہو ، اس کے عمل کو سنگین غداری قرار دیا جائے گا اور اس کو عمر قید یا سزائے موت سنائی جائے گی۔اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے 30 دن کا وقت مقرر ہے تاہم اپیل دائر کرنے کے لیے پرویز مشرف کو پاکستان واپس آ کر عدالت کے سامنے پیش ہونا ہو گا۔جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 1999 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کی حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کی تھی جس کے بعد وہ 2001 سے 2008 تک ملک کے صدر بھی رہے تھے۔تین برس سے زیادہ عرصے سے وہ ملک سے باہر ہیں اور اس وقت دبئی کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔رواں ماہ انھوں نے ہسپتال سے ہی جاری کیے گئے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ ان کے خلاف جو مقدمہ قائم کیا گیا ہے وہ بے بنیاد ہے۔فیڈرل شریعت کورٹ کی عمارت میں ہونے والی عدالتی کارروائی کے دوران وکیل استغاثہ نے عدالت سے استدعا کی کہ مشرف کے سہولت کاروں اور ساتھیوں کو بھی اس کیس میں فریق بنایا جائے اور تمام ملزمان کا ٹرائل ایک ساتھ ہونا ضروری ہے۔حکومتی وکیل نے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز، سابق چیف جسٹس سپریم کورٹ عبدالحمید ڈوگر اور سابق وزیر قانون زاہد حامد کو شریک ملزم بنانے کی استدعا کی تھی۔اس پر خصوصی عدالت کے جج جسٹس شاہد کریم کا کہنا تھا کہ آپ اس چارج شیٹ کو کیوں ترمیم کرنا چاہتے ہیں؟ آپ نئی شکایت کیوں نہیں دائر کرتے ان لوگوں کے خلاف جن پر مددگار ہونے کا الزام ہے؟۔جسٹس شاہد کریم کا کہنا تھا کہ استغاثہ نئی استدعا کے ذریعے کیس میں تاخیر کرنا چاہتا ہے۔ اس پر وکیل استغاثہ کا کہنا تھا کہ نئی شکایت دائر کرنے سے ٹرائل میں تاخیر ہو سکتی ہے جبکہ چارج شیٹ میں ترمیم سے ٹرائل میں تاخیر نہیں ہوگی۔جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ جرم میں سہولت کاروں کے معاملے پر سپریم کورٹ کا فیصلہ پہلے ہی آ چکا ہے، ساڑھے تین سال بعد ایسی درخواست آنے کا مطلب ہے کہ حکومت کی نیت ٹھیک نہیں ہے، آج مقدمہ حتمی دلائل کیلئے مقرر تھا تو نئی درخواستیں آ گئی ہیں۔جسٹس نذر اکبر نے وکیل استغاثہ سے استفسار کیا کہ آپ جنھیں ملزم بنانا چاہتے ہیں ان کے خلاف کیا شواہد ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نئی تحقیقات اور شواہد کا مرحلہ گزر چکا ہے۔وکیل استغاثہ کا کہنا تھا کہ ستمبر 2014 کی درخواست کے مطابق شوکت عزیز نے پرویز مشرف کو ایمرجنسی لگانے کا کہا۔ اس پر جسٹس نذر اکبر کا کہنا تھا کہ آپ مشرف کی درخواست کا حوالہ دے رہے ہیں جس پر فیصلہ بھی ہو چکا۔جسٹس نذر اکبر نے مزید کہا کہ ترمیم شدہ چارج شیٹ دینے کے لیے دو ہفتے کی مہلت دی گئی تھی جس پر استغاثہ کا کہنا تھا کہ قانون کے مطابق فرد جرم میں ترمیم فیصلے سے پہلے کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ آپ نے مزید کسی کو ملزم بنانا ہے تو نیا مقدمہ دائر کر دیں۔انھوں نے کہا کہ تین افراد کو ملزم بنایا تو حکومت سابق کابینہ اور کور کمانڈرز کو بھی ملزم بنانے کی درخواست لے آئے گی۔جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ عدالت کی اجازت کے بغیر فرد جرم میں ترمیم نہیں ہو سکتی اور عدالت کی اجازت کے بغیر کوئی نئی درخواست نہیں آ سکتی۔ ‘جو درخواست باضابطہ دائر ہی نہیں ہوئی اس پر دلائل نہیں سنیں گے۔’جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ استغاثہ کو یہ بھی علم نہیں کہ عدالت میں درخواست کیسے دائر کی جاتی ہے۔ اس پر پراسیکیوٹر نے عدالت سے معذرت کر لی۔ اس پر جسٹس نذر اکبر کا کہنا تھا کہ آپ کا مقصد صرف آج کا دن گزارنا تھا۔جسٹس شاہد کریم نے استفسار کیا کہ سیکرٹری داخلہ کابینہ کی منظوری کے بغیر کیسے چارج شیٹ ترمیم کر سکتے ہیں؟ وفاقی حکومت اور کابینہ کی منظوری کہاں ہے؟جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ حکومت کارروائی میں تاخیر نہیں چاہتی تو شریک ملزمان کے خلاف نئی درخواست دے سکتی ہے۔اس کارروائی کے بعد جسٹس وقار احمد سیٹھ نے استغاثہ کو حتمی دلائل شروع کرنے کو کہا۔ پراسکیوٹر نے کہا کہ مشرف کے خلاف تحقیقاتی ٹیم کے دو ارکان کے بیان ریکارڈ نہیں ہوئے اور عدالت میں ایک درخواست تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کی طلبی کی بھی ہے۔پراسکیوٹر علی ضیا باجوہ نے کہا کہ ایسے ٹرائل پر دلائل کیسے دوں جو آگے چل کر ختم ہو جائے؟ عدالت حکومت کو درخواستیں دائر کرنے کا وقت دے۔ انھوں نے مزید کہا کہ ملزم کا دفعہ 342 کا بیان بھی ریکارڈ نہیں ہو سکا ہے۔جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ سپریم کورٹ پرویز مشرف کا 342 کے بیان کا حق ختم کر چکی ہے کیونکہ پرویز مشرف چھ مرتبہ 342 کا بیان ریکارڈ کرانے کا موقع ضائع کر چکے ہیں۔جسٹس وقار احمد سیٹھ نے کہا کہ آپ حتمی دلائل نہیں دے سکتے تو روسٹم سے ہٹ جائیں، عدالت صرف سپریم کورٹ کے فیصلوں کی پابند ہے۔جسٹس وقار احمد سیٹھ نے پراسیکیوٹر علی ضیا باجوہ سے پوچھا کہ کیا آپ مرکزی کیس پر دلائل دینا چاھتے ہیں یا نہیں؟ جس پر علی باجوہ نے کہا کہ ‘میں دلائل نہیں دینا چاہتا۔تیاری نہیں ہے۔’جسٹس نذر اکبر نے کہا کہ ہمارے سامنے صرف سپریم کورٹ کا حکم ہے اس کے تحت کارروائی چلائیں گے۔اس پر پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر روسٹرم پر آ گئے جس پر جسٹس شاہد کریم نے کہا کہ ‘سلمان صفدر آپ کی ضرورت نہیں آپ بیٹھ جائیں۔’عدالتی کارروائی کے بعد ججز کمرہ عدالت سے اٹھ کر چیمبر میں چلے گئے اور پھر جسٹس وقار سیٹھ نے مختصر فیصلہ پڑھ کر سنایا۔سنہ 2013 کے انتخابات میں کامیابی کے بعد پاکستان مسلم لیگ نواز نے حکومت میں آنے کے بعد سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ درج کیا تھا۔اس مقدمے کے منطقی انجان تک پہنچنے کے دوران خصوصی عدالت کے چار سربراہان تبدیل ہوئے۔پرویز مشرف صرف ایک مرتبہ ہی خصوصی عدالت کے سامنے پیش ہوئے ہیں جب ان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ اس کے بعد سابق فوجی آج تک عدالت پیش نہیں ہوئے۔سابق صدر پرویز مشرف مارچ 2016 میں طبی بنیادوں پر بیرون ملک چلے گئے تھے۔ ان کا نام اس وقت کی حکمراں جماعت مسلم لیگ ن نے ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے خارج کرنے کے بعد ملک سے جانے کی اجازت دی تھی۔اسلام آباد کی خصوصی عدالت نے 31 مارچ 2014 کو غداری کے مقدمے میں پاکستان کے سابق فوجی صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف پر فردِ جرم عائد کی تھی۔سابق فوجی صدر کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے ملزم پرویز مشرف کی طرف سے تین نومبر 2007 میں ملک میں ایمرجنسی لگانے سے متعلق اس وقت کی وفاقی حکومت اور اعلی عسکری اور سول قیادت کو شریک جرم کرنے سے متعلق درخواست کو جزوی طور پر منظور کیا۔21 نومبر 2014 کو خصوصی عدالت کے سربراہ جسٹس فیصل عرب نے اپنے فیصلے میں اس وقت کے وزیر اعظم شوکت عزیز، وفاقی وزیر قانون زاہد حامد اور سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کو بھی مقدمے میں شامل کرنے کا حکم دیا۔تین رکنی خصوصی عدالت میں شامل جسٹس یاور علی نے اس فیصلے کے خلاف اختلافی نوٹ لکھا جس میں انھوں نے کہا ہے کہ ابھی تک ایسے شواہد نہیں ملے جن سے ظاہر ہوتا ہو کہ شوکت عزیز، عبدالحمید ڈوگر اور زاہد حامد کا ایمرجنسی لگانے کے فیصلے میں کوئی کردار رہا ہو۔ستمبر 2015 میں پاکستانی حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا کہ وہ پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے میں ان کے سہولت کاروں کے خلاف تفتیش کرنے کو تیار ہے۔18 مارچ 2016 کو سابق فوجی صدر پرویز مشرف علاج کی غرض سے دبئی چلے گئے تھے۔ دبئی روانگی کے وقت انھوں نے کہا تھا کہ وہ کمر کی تکلیف میں مبتلا ہیں اور اس کے علاج کے لیے
جا رہے ہیں اور وہ جلد پاکستان واپس آکر اپنے خلاف مقدمات کا سامنا کریں گے۔مارچ 2016 میں خصوصی عدالت نے وفاقی حکومت سے تحریری وضاحت طلب کی تھی کہ عدالت سے پوچھے بغیر ملزم کو بیرون ملک کیوں جانے دیا گیا؟عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اس بارے میں تحریری جواب جمع کروائیں۔ جبکہ اس وقت کے حکومتی وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ملزم کا نام ای سی ایل سے نکالا گیا۔یاد رہے کہ سابق صدر پرویز مشرف کا نام سنگین غداری کیس میں 5 اپریل 2013 کو ای سی ایل پر ڈالا گیا تھا۔سات مارچ 2019 کو سپریم کورٹ نے پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کے مقدمے میں بطور ملزم ان کا بیان ویڈیولنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے کا حکم دیا تھا۔سپریم کورٹ نے خصوصی عدالت میں زیر سماعت اس مقدمے کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے میں ہونے والی تاخیر اور ملزم کی وطن واپسی کے لیے حکومتی اقدامات سے متعلق اٹارنی جنرل سے رپورٹ بھی طلب کی ۔رواں برس 11 جون کو پاکستان کی عدالت عظمی نے نادرا کے حکام کو حکم دیا تھا کہ وہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف کا شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کو بحال کر دیں۔جبکہ سابق فوجی صدر نے سپریم کورٹ کی جانب سے ان کے خلاف درج ہونے والے تمام مقدمات میں انھیں ضمانت دینے کی شرط پر وطن واپس آنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔رواں برس 12 جون کو خصوصی عدالت نے سابق فوجی صدر کا دفاع کا حق ختم کرتے ہوئے ان کے وکیل سے کہا تھا کہ اب وہ ان کا دفاع نہیں کر سکتے۔سابق فوجی صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں سب سے اہم موڑ اس وقت آیا جب پاکستان کے چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اس مقدمے کے لیے قائم کی گئی خصوصی عدالت کو وفاقی حکومت کی شکایت کے عین مطابق ٹرائل صرف سابق آرمی چیف تک ہی محدود رکھنے کا حکم دیا تھا۔اکتوبر 2019 میں سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں وفاقی حکومت نے استغاثہ کی پوری ٹیم فارغ کر دی جبکہ خصوصی عدالت نے حکومت سے اس اقدام کی وجوہات مانگ لی تھیں۔19 نومبر کو پرویز مشرف کی مسلسل غیر حاضری کی وجہ بتاتے ہوئے سنگین غداری کیس سننے والی تین رکنی خصوصی عدالت نے اس ٹرائل کا فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے یہ کہا تھا کہ مقدمے کا فیصلہ 28 نومبر کو سنایا جائے گاتاہم 27 نومبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے عدالت کو فیصلہ سنانے سے روکتے ہوئے حکم دیا تھا کہ فیئر ٹرائل کے تقاضے پورے کرتے ہوئے فریقین کو سن کر فیصلہ دیا جائے۔اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم کے بعد خصوصی عدالت میں اس مقدمے کی مزید تین سماعتیں ہوئیں اور 17 دسمبر کو فیصلہ سنا دیا گیا۔ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کے مقدمے کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے اپنے ایک اکثریتی فیصلے میں انھیں سزائے موت سنا دی ہے۔پاکستانی آئین کی شق چھ ‘ہائی ٹریزن’ یعنی سنگین غداری کے مطابق کوئی بھی شخص جس نے آئین کو معطل کیا ہو یا اسے منسوخ کا ہو، غداری کا مرتکب قرار دیا جائے گا اور اس قدم کی سزا موت یا عمر قید ہے۔سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے خلاف پانچ سال جاری رہنے والا یہ مقدمہ وہ پہلا موقع ہے جب پاکستان کے کسی فوجی حکمران پر آئین شکنی کے الزام میں غداری کا مقدمہ چلا ہو۔اس موقع پر کئی ذہنوں میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ آیا پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ میں یہ اہم ترین مقدمہ ہے اور اس کے پاکستان کے سیاسی مستقبل پر کیا اثرات ہوں گے۔ سابق اٹارنی جنرل، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منیر اے نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ یہ پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین کیس ہے۔’میرا نہیں خیال کہ اس مقدمے سے ملک کے سیاسی نظام پر کوئی واضح فرق آئے گا یا ملک میں جمہوی نظام کی بالادستی ہوگی اور غیر منتخب اداروں کی طاقت میں کوئی کمی ہوگی۔معروف قانون دان اور پاکستان کی عدالتی اور آئینی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے وکیل حامد خان نے بھی کہا کہ شاید مشرف غداری مقدمے کو ملک کا اہم ترین کیس نہیں کہہ سکتے۔ انھوں نے کہا کہ اگر پرویز مشرف کے خلاف فیصلہ آتا ہے تو یہ ضرور ہے کہ ایک سابق فوجی حکمران کو اس طرح غداری کا مرتکب قرار دینا ایک نئی مثال قائم کرے گا۔دوسری جانب قانونی ماہر اور انٹرنیشنل کمیشن آف جیورسٹس سے منسلک وکیل ریما عمر نے بتایا کہ اس بات میں قطعی طور پر دو رائے نہیں کہ مشرف غداری مقدمہ عدالتی تاریخ کے اہم ترین مقدمات میں سے ایک ہے۔’ایک سابق فوجی سربراہ پر غداری اور آئین شکنی کا مقدمہ چلانا ہی کوئی چھوٹی بات نہیں ہے۔ لیکن اس کی اہمیت شاید اس لیے ماند پڑ جائے کہ یہ مشرف کی جانب سے 1999 میں کی گئی فوجی بغاوت کے خلاف نہیں ہے بلکہ نومبر 2007 میں لگائی گئی ایمرجنسی کے خلاف ہے، اور وہ تو کئی سالوں سے ملک میں موجود ہی نہیں ہیں۔’جب قانونی ماہرین سے سوال کیا کہ ان کے نزدیک پاکستانی تاریخ کا وہ کونسا مقدمہ ہے جس نے ملکی سیاست پر سب سے زیادہ دوررس اثرات مرتب کیے ہیں، تو دو مقدمات پر بیشتر کا اتفاق رائے نظر آیا۔حامد خان نے مولوی تمیز الدین کیس کا حوالہ دیا جس میں اس وقت کے سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے جسٹس منیر کی سربراہی میں نظریہ ضرورت کے تحت گورنر جنرل غلام محمد کی جانب سے قومی اسمبلی کو تحلیل کرنے کے فیصلے کی توثیق کی تھی۔ حامد خان کے مطابق یہی وہ فیصلہ تھا جس کی وجہ سے ‘پاکستانی جمہوریت اپنے راستے سے ہٹ گئی۔’حامد خان نے تمیز الدین کیس کے علاوہ دوسو کیس کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 1958 میں دیے گئے اس فیصلے نے بھی کافی مضر اثرات چھوڑے۔واضح رہے کہ اکتوبر 1958 کے اس کیس کا فیصلہ بھی جسٹس منیر کے ہاتھوں آیا جس میں انھوں نے سکندر مرزا اور ایوب خان کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کے اقدام کو دوبارہ ‘نظریہ ضرورت’ کے تحت درست قرار دیا۔خیال رہے کہ بعد ازاں جسٹس منیر نے اپنی سوانح عمری ‘ہائے ویز اینڈ بائی ویز آف لائف’ میں اعتراف کیا کہ ‘ان کے فیصلے ملک کی بدقسمتی کے آغاز کا سبب بنے۔ کہا جاتا ہے کہ مشرف کیس پہلا موقع ہے جب کسی فوجی آمر پر کیس چل رہا ہے لیکن حقیقت میں یحیی خان کے ساتھ عدالت فیصلہ کر چکی تھی۔ البتہ وہ فیصلہ اس وقت آیا جب سابق فوجی حکمراں طاقت میں نہیں تھے۔ملک کے سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو پر قتل کے الزام میں چلنے والا مقدمہ پاکستان کا اہم ترین کیس تھا جس کے اثرات پاکستانی سیاست پر ابھی تک حاوی ہیں۔’ذوالفقار علی بھٹو کی اپنی سزائے موت پر کی گئی اپیل، جس کا فیصلہ چار، تین سے ان کے خلاف آیا تھا، میرے خیال میں پاکستان کا سب سے اہم کیس ہے۔ تاریخ میں اس کو ابھی بھی عدالتی قتل کے نام سے جانا جاتا ہے اور پاکستان میں عدلیہ کی خود مختاری کے بارے میں جب جب بات ہوتی ہے تو اس مقدمے کا ذکر لازما ہوتا ہے۔’لیکن منیر ملک کے مطابق عدالتوں نے ماضی میں ایسے کئی معروف فیصلے بھی دیے ہیں جن کے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔انھوں نے سنہ 2009 کے اس فیصلے کی مثال دی جس کے تحت صدر مشرف کی جانب سے سنہ 2007 مارچ میں عدلیہ کے ججوں کی معزولی کے فیصلے کو خارج کرنا تھا جس کے بعد افتخار چوہدری ایک بار پھر پاکستان کے چیف جسٹس بن گئے۔’ایک اور اہم کیس اصغر خان کیس ہے جس میں عدالت نے ریاستی معاملات میں ایک مخصوص قومی ادارے کی مداخلت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور بالخصوص انتخابات کے معاملے پر ان کے مینڈیٹ پر سوال اٹھایا ہے۔’پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک انتہائی اہم کیس سنہ 1988 میں بینظیر بھٹو بمقابلہ ریاست، کیس نمبر PLD 1988 SC 561 ہے۔وکیل اسد رحیم نے مولوی تمیز الدین کیس اور ذوالفقار علی بھٹو قتل کیس کو اہم ترین کیس قرار دیا لیکن ساتھ میں مزید کہا کہ پاکستان کی عدالتی تاریخ کا ایک انتہائی اہم کیس سنہ 1988 میں بینظیر بھٹو بمقابلہ ریاست، کیس نمبر PLD 1988 SC 561 ہے۔’یہ وہ مقدمہ ہے جس میں عدالت عظمی نے آئین کی شق 184(3) کی جو تشریح کی ہے اس نے مستقبل میں سو موٹو مقدمات اور عوامی فلاح کے لیے اٹھائے گئے عدالتی اقدامات کے لیے راستہ ہموار کیا جس کے اثرات دہائیوں بعد سامنے آئے۔’پاکستانی عدلیہ کی تاریخ پر نظر رکھنے والے ماہرین اور ناقدین کہتے ہیں کہ 1955 اور 1958 میں دیے جانے والے فیصلوں نے پاکستانی آئین کو زبردست نقصان پہنچایا اور جس کی وجہ سے ملک میں جمہوریت کبھی بھی صحیح معنوں میں پنپ نہیں سکی۔ سابق فوجی آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف فیصلے کی شکل میں پاکستان کی عدالتوں نے ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی فرد کو آئین شکنی اور سنگین غداری کا مجرم قرار دیا ہے۔خصوصی عدالت کے فیصلے میں کہا گیا ہے
کہ جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ ثابت ہوتا ہے اور آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت انھیں سزائے موت سنائی جاتی ہے۔یہ دیکھنا ضروری ہے کہ آئینِ پاکستان کی نظر میں غداری کیا ہے اور غدار کون ہوتا ہے، غداری کا تعین کرنے اور غدار کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنے کا حق آئین کس کو دیتا ہے؟ پھر یہ کارروائی کیسے ہوتی ہے؟ پاکستان میں اس کی مثالیں موجود ہیں۔آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 6 کہتا ہے کہ ہر وہ شخص غدار ہے جو طاقت کے استعمال یا کسی بھی غیر آئینی طریقے سے آئینِ پاکستان کو منسوخ، تحلیل، معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرتا ہے یا ایسا کرنے کی کوشش بھی کرتا یا ایسا کرنے کی سازش میں شریک ہوتا ہے۔یہ آئینی تعریف کی وہ شکل ہے جو آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد سامنے آتی ہے۔ماہرِ قانون ایس ایم ظفر کے مطابق غداری کا لفظ پہلی مرتبہ سنہ 1973 کے آئین میں استعمال ہوا۔ تاہم اس وقت دیے جانے والے غداری کے تصور میں اٹھارویں ترمیم کے بعد تبدیلی آئی۔جو اضافہ کیا گیا وہ یہ تھا کہ آئین کو معطل یا عارضی طور پر بھی معطل کرنے والا شخص یا ایسے شخص کی امداد کرنے والا شخص غدار ہو گا۔ ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے والا شخص آئین کے مطابق غداری کی تعریف کے اندر نہیں آتا۔ وہ قومی سلامتی کے زمرے میں آتا ہے جس کی کئی ذیلی دفعات ہو سکتی ہیں۔ان میں فوج میں بغاوت کی ترغیب دینا، امن و عامہ کی صورتحال پیدا کرنا اور دشمن ملک کے ساتھ مل کر سازش کرنا شامل ہیں۔اس پر آئین کا آرٹیکل 6 نہیں لگ سکتا، جب تک کہ یہ تمام چیزیں اس مقام تک نہ پہنچ جائیں کہ آئین کو منسوح کر رہی ہوں۔ماہرِ قانون بابر ستار اس بات سے اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ غداری کے آئینی تصور کا تعلق آئینی معطلی سے ہے۔یعنی اگر آئین کو معطل یا منسوخ کیا جائے۔ اس کی تاریخ بھی یہی ہے کہ اس سے قبل کیونکہ فوجی حکومتیں آتی رہی تھیں تو 1973 کے آئین میں غداری کا تصور شامل کیا گیا۔اس میں یہ شق بھی شامل کی گئی کہ کوئی عدالت غداری کے فعل کی تصدیق نہیں کرے گی۔غداری کا یہ آئینی تصور انتہائی احتیاط سے ترتیب دیا گیا ہے اس لیے ہمارا جو اکثر یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر کسی ادارے کے خلاف کوئی بات کر دیں تو وہ غداری کے زمرے میں آ جائے گا، میرا نہیں خیال کہ یہ بات درست ہے۔دونوں ماہرین کا کہنا تھا کہ غداری کا تعین کرنا اور اس کے خلاف کارروائی کا آغاز کرنا صرف اور صرف وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔ اس بات کی تحقیق کے بعد وفاقی حکومت شکایت کا آغاز کرتی ہے۔اسکی وضاحت کرتے ہوئے ایس ایم ظفر کا کہنا تھا کہ غداری کی کارروائی کا آغاز وزیرِ داخلہ کر سکتے ہیں تاہم اس کا حتمی فیصلہ وزیرِ اعظم اور ان کی وفاقی کابینہ کرتی ہے۔بابر ستار نے غداری کے مقدمے کی کارروائی کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ سنہ 1973 کے آئین میں غداری کا تصور شامل کرنے کے بعد ایک قانون بنایا گیا جس میں یہ کہا گیا کہ وفاقی حکومت یہ فیصلہ کرے گی کہ کوئی غداری کا مرتکب ٹھہرا ہے یا نہیں۔اس کے بعد ایک خصوصی عدالت تشکیل دی جائے گی جو اس کے خلاف مقدمہ کی کارروائی کا آغاز کرے گی۔ان کے مطابق جیسا کہ ہم نے سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ میں دیکھا۔بابر ستار کہتے ہیں کہ یہ ایک فوجداری مقدمہ ہوتا ہے جس کی سزا موت یا عمر قید ہے تو اس میں اسی طرز کی شہادتیں اور گواہان درکار ہوتے ہیں۔ان کے مطابق اسی طرح بارِ ثبوت بھی الزام لگانے والے پر یعنی حکومت پر ہو گا۔ایس ایم ظفر کہتے ہیں کہ غداری کے آئینی تصور کی صورت میں ثبوت سامنے ہوتے ہیں۔اگر آنے والی حکومت نے جانے والی حکومت کا تختہ آئینی طریقے سے نہ الٹایا، اس کا مطلب ہے کہ آئین تحلیل ہوا۔ دوسرا یہ ہے کہ جب وہ حکومت میں آئے اور کہے کہ ہم نے آئین تحلیل کر دیا تو یہ دوسری شہادت ہوتی ہے۔آئین تحلیل کرنے والے کے خلاف اس کے اعمال کی بنیاد پر بہت سی مثالیں موجود ہوتی ہیں جیسا کہ کبھی مارشل لا لگایا جاتا ہے تو کبھی ایمرجنسی لگائی جاتی ہے۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

سب سے بڑا خطرہ بھوک سے لوگوں کی ہلاکتیں ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان

اب نہیں کوئی بات خطرے کی اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ...