بنیادی صفحہ / قومی / پاکستان کے شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔رضا ربانی

پاکستان کے شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔رضا ربانی

قومی اسمبلی و سینٹ اجلاس:اجلاس میں شور شرابے کے دوران ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2 بلز منظور
ہماری ڈور عالمی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں چلی گئی۔ رضا ربانی
بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر پاکستان کے شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔رضا ربانی
وزیراعظم کے معاونِین خصوصی تانیہ آئدروس اور ڈاکٹر ظفر مرزا اپنے عہدوں سے مستعفی
رپورٹ:چودھری احسن پریمی:ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)
سابق چیئرمین سینیٹ اور پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی)کے سینئر رہنما رضا ربانی نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق بل کی منظوری پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ محسوس ہوتا ہے ہماری ڈور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔سینیٹ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ پارلیمان کی عزت و عظمت آج بھی موجود ہے، اپنی جماعت پر نظر ڈالی تو نظر آیا کہ ایک وقت میں پیپلز پارٹی کی نمائندگی ذوالفقار علی بھٹو کرتا تھا۔انہوں نے کہا کہ آج مجھ جیسا شخص جس کے ہاتھ اور گلے میں ڈوری ہے، وہ پارلیمان میں بیٹھا ہے، فرق اداروں میں نہیں بلکہ ہم میں ہے، پارلیمان ایک عظیم ادارہ ہے۔رضا ربانی کا کہنا تھا کہ آئین کے تحت پارلیمنٹ بالادست ہے، ہماری پارلیمنٹ نے تاریخی فیصلے کیے، ان فیصلوں سے قوم اور وفاق کو مضبوط کیا گیا۔پارلیمنٹ کے تقدس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ضیا الحق اور پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف سینیٹ کھڑی رہی، آج سوچ رہا ہوں کہ اب پارلیمان کو کیا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ محسوس ہوا کہ پارلیمان کو کھینچا گیا، محسوس ہوا کہ ہاتھ، پاوں اور گردن پر ڈوریاں ہیں۔سابق چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ میں کٹھ پتلی کی طرح ہاتھ پیر ہلاتا ہوں جبکہ ڈور کہیں اور سے کھینچی جاتی ہے۔حکومتی آرڈیننس پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ جس شخص کے لیے یہ آرڈینس آیا وہ بھارتی جاسوس اور دہشت گرد ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمران اشرافیہ نے میری ڈور کھینچی اور عدالت کے متوازی نظام کھڑا کر دیا، میں نے ملٹری کورٹ کی صورت میں بل پاس کر دیا۔پارلیمنٹ سے پاس ہونے والے بلوں کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مجھے کہا گیا کہ مدت میں توسیع کا بل پاس کرو، چلو تب تو ایک پاکستانی میری ڈوری ہلارہا تھا لیکن اب محسوس ہوتا ہے کہ میری ڈور بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس کے ذریعے ملٹری کورٹس پر نظر ثانی کا راستہ ہائی کورٹ کے ذریعے دیا جا رہا ہے، اگر پشاور ہائی کورٹ ملٹری کورٹ کے فیصلے کو ختم کرتا ہے تو اس پر حکم امتناع آجاتا ہے۔رضاربانی کا کہنا تھا کہ دوہرے معیار کی باتیں سنی تھیں، دو دہشت گردوں کے لیے مختلف معیار کیوں ہیں، ایک کو سہولت دی جا رہی ہے جبکہ دوسرے کو عدالت نے جو سہولت دی تو روکا جارہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ایف اے ٹی ایف بل پاس کیا گیا، بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر پاکستان کے شہریوں کے آئینی اور بنیادی حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور ایف اے ٹی ایف کے ذریعے جبکہ دوسرا کووڈ 19 کے ذریعے اور میں تو ڈوریوں میں بندھا ہوا ہوں۔سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ میری ڈوری پھر ہلائی جائے گی اور میں رقص کرنے لگوں گا۔خیال رہے کہ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومتی بینچز کی جانب سے سخت شور شرابے کے باوجود حکومت نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2 بل ایوان سے منظور کروالیے تھے۔قومی اسمبلی میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی گزشتہ روز کی طویل تقریر کے جواب میں خواجہ آصف کی تقریر کے بعد ہونے والے شور کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2 بل انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020 اور اقوامِ متحدہ (سیکیورٹی کونسل) (ترمیمی) بل 2020 پر ووٹنگ کروائی اور کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔سینیٹ میں وفاقی وزیر قانون و انصاف فروغ نسیم نے کہا کہ ایسی باتیں کی گئیں کہ عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) کا فیصلہ نہ مانتے تو بھارت سیکیورٹی کونسل میں ہمارے خلاف قرارداد لاتا، جو درست نہیں۔فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ یہ بات کی گئی کہ ہماری ڈوریاں ہلائی جا رہی ہیں، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی شرائط دوسرے ممالک کے لیے بھی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آرڈیننس میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کو کوئی سہولت نہیں دی جا رہی۔وزیرقانون نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے عالمی عدالت میں کلبھوشن کا کیس لڑا، درست فیصلہ کیا اور ہم وہی مقدمہ تقریبا جیت کر نکلے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے وہی کیا جو مسلم لیگ (ن)کی حکومت نے اس وقت کیا تھا۔جبکہ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومتی بینچز کی جانب سے سخت شور شرابے کے باوجود حکومت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق 2 بلز ایوان سے منظور کروانے میں کامیاب ہوگئی۔پارلیمان کے ایوان زیریں کا اجلاس اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں شروع ہوا جس میں وزیر خارجہ کی گزشتہ روز کی طویل تقریر کے جواب میں خواجہ آصف نے تقریر کی اور شاہ محمود قریشی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔ان کی تقریر کے بعد متعدد مرتبہ شاہ محمود قریشی نے ذاتی وضاحت دینے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن نے کل موقع نہ ملنے کی وجہ سے انہیں بولنے کا موقع نہیں دیا اس دوران ایوان میں سخت شور شرابہ دیکھنے میں آیا اور ایوان کی کارروائی 3 مرتبہ ملتوی ہوئی۔بعدازاں اسی شور شرابے کے دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2 بل انسداد دہشت گردی (ترمیمی) بل 2020 اور اقوامِ متحدہ(سیکیورٹی کونسل) (ترمیمی) بل 2020 پر ووٹنگ کروائی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ گزشتہ روز وزیر خارجہ نے طویل تقریر کی جو نہیں کرنی چاہیے تھی، اب ضرورت ہے کہ ہمارا موقف بھی عوام کے سامنے رکھا جائے۔انہوں نے کہا کہ چند روز قبل اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جس میں طے کیا گیا کہ قانون سازی کے حوالے سے بلز اس کمیٹی میں زیر غور لائے جائیں گے ساتھ ہی ایک غیر رسمی کمیٹی کے ذریعے اتفاق رائے کروانے کی کوشش کی گئی جس کے تحت اسپیکر کی رہائش گاہ پر 9 اراکین پر مشتمل غیر رسمی کمیٹی کا اجلاس ہوا۔انہوں نے کہا کہ نیب ترمیمی آرڈیننس کا بل شق وار زیر غور لایا گیا، جس میں رائے دی گئی تھی مطالبات نہیں کیے گئے تھے لیکن وزیر خارجہ جو سیاستدان ہیں اور سیاستدان اس قسم کی رنگ بازی کرتے ہیں جو ہم بھی کرتے ہیں، اس رنگ بازی میں انہوں نے رازداری کی تمام حدود پار کردیں جس کا ایک مہذب معاشرے میں احترام کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ مذاکرات نوٹیفائیڈ کمیٹی کی سہولت کے لیے تھے جسے ریکارڈ پر لانے کی ضرورت نہیں تھی، ان مذاکرات میں 2 بلز پر اتفاق رائے بھی ہوا لیکن اس کا انہوں نے ذکر نہیں کیا اور یہ تاثر دینے کی کوشش کہ ہم نیب زدہ لوگ ہیں اور نیب قانون کو استعمال کر کے قومی مفاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔خواجہ آصف نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے 2 بلز پر اتفاق رائے ہوگیا تھا اور وہ غیر متنازع قرار پا چکے تھے لیکن قومی مفاد کے معاملات پر ہمیں اعتراض صرف یہ ہے کہ اس قسم کے تمام قوانین تاریخی طور پر ملک میں سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیے گئے ہیں ہم اس روایت کا خاتمہ چاہتے ہیں کہ سیاسی حکومتیں ملکی اداروں اور قوانین کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کریں۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات میں ہم نے کہا کہ ہم اور پیپلز پارٹی اپنے دورِ حکومت میں ان قانون کو صحیح کرسکتے تھے، ہم ریلیف نہیں چاہتے، ہمیں جو بھگتنا تھا وہ بھگت چکے ہیں اور بھگت لیں گے، ہمیں کوئی خوف نہیں ہے لیکن یہ اتنے ناعاقبت اندیش اور خوف کا شکار ہیں کہ ان کے اپنے صوبے (خیبرپختونخوا) میں نیب کے ڈائریکٹر جنرل نے استعفی دے دیا۔رہنما مسلم لیگ (ن)نے کہا کہ یہ دوبارہ حکومت میں آئے احتساب کمیشن پر پابندی عائد کردی، ہم تو صرف ترامیم کی بات کررہے ہیں۔پی ٹی آئی حکومت پر طنزکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پورے خیبرپختونخوا میں کوئی بے ایمان نہیں ہے، وہ جنت کا ٹکڑا ہے اور سارے فرشتے وہاں پر رہتے ہیں۔خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اگر ان کا ایجنڈا بدعنوانی کے خلاف ہے تو ان کی صفوں میں ایسے بڑے بڑے مہا کرپٹ لوگ بیٹھے ہیں جس کی مثال پاکستان کی کسی حکومت کے دور میں نہیں ملتی، اپنے صوبے میں احتساب کمیشن ختم کردیا ہے اور تمام کیسز بشمول بی آر ٹی، مالم جبہ کیس، بلین ٹری سونامی اور فارن فنڈنگ کیس میں استثنی ملا ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے اوپر نیب لاگو نہیں ہوتا ہے نیب کی یکطرفہ کارروائیاں صرف اپوزیشن پر لاگو ہوتی ہیں۔تقریر کو جاری رکھتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ 3 راتیں قبل ہمیں رات کے اندھیرے میں نیب قانون کا مسودہ بھیجا گیا اس میں چیئرمین نیب اور دیگر عہدیداروں کی مدت ملازمین توسیع کی بات تھی، کل انہوں نے کہا کہ اس میں نہیں تھی حالانکہ اصل مسودے میں توسیع شامل تھی جسے دوسرے مسودے میں واپس لے لیا گیا، اس سے ان کی نیتیں معلوم ہوتی ہیں۔خواجہ آصف کے مطابق حکومتی اراکین نے کہا کہ ہم 15 سال کا عرصہ حذف کرنا چاہتے ہیں اس پر ہم نے بتادیا کہ چاہے کسی بھی وقت سے کریں ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن جو 15 سال حذف کیے گئے اس وقت وزیر خارجہ ہمارے ساتھ تھے اگر ہمیں استثنی ملتا ہے تو انہیں بھی ملتا ہے۔وزیر خارجہ کے گدی نشین ہونے کے تناظر میں ذاتی نوعیت کے ریمارکس دیتے ہوئے رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ آمدن اور اثاثوں میں قبروں سے حاصل ہونے والی کمائی بھی شامل ہونی چاہیے اگر میرے آمدن سے زائد اثاثے ہیں تو ان کے قبروں سے زائد اثاثے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ یہ بیٹھ کر لوگوں سے زیور حاصل کر کے جیبوں میں ڈالتے ہیں اور نوٹوں کی گڈیاں وصول کرتے ہیں اسے بھی نیب قانون میں شامل ہونا چاہیے، یہ سرِعام کرپشن کرتے ہیں، اسٹیج پر بیٹھ کر مذہبی نعرے لگاتے ہیں اور پیسے پکڑتے ہیں اور یہاں آکر ہمیں ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹہ شرافت پر لیکچر دیتے ہیں، شرم آنی چاہیے۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے مزید کہا کہ پورا ملک کھا گئے، لوگوں نے پارٹی فنڈ کے لیے پیسے دیے انہوں نے اپنی جیب میں ڈال لیے، 6 سال ہوگئے وہ کیس زیر التوا ہے جس پر انہوں نے حکم امتناع حاصل کررکھا ہے کیوں کہ وہ کیس ان کے چہرے بے نقاب کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بی آر ٹی تبدیلی کا مقبرہ بن چکی ہے اس پر احتساب کیوں نہیں ہوتا، ریفرنس کیوں نہیں بنتا، کل ایک روز کے اندر شاہد خاقان عباسی اور ان کے بیٹے، شہباز شریف، سلمان شہباز، حمزہ شہباز پر ریفرنس بن گیا، ان پر بھی قبروں کا ریفرنس بنائیں، فارن فنڈنگ، مالم جبہ، بی آر ٹی کا ریفرنس بنائیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ یہ کہاں کا احتساب ہے، یہ احتساب نہیں ہے سیاسی انتقام ہے جس سے ہم چاہتے ہیں کہ یہ بھی بچیں اور ساری سیاسی برادری بچے۔انہوں نے کہا بعض لوگ سیاسی ورکر کے نام پر دھبہ ہیں اور اس کی توہین ہیں ان کے حلیے بھی توہین ہیں، میں نے کہا تھا کہ وزیراعظم نے زکو کے 70 لاکھ ڈالر سے بیرونِ ملک سرمایہ کاری کر رکھی ہے اس پر وزیراعظم نے میرے خلاف ہتک عزت کا دعوی دائر کیا ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم ایف اے ٹی ایف کو قومی تنازع نہیں بنانا چاہتے، چاہتے ہیں ملک گرے لسٹ سے نکلے بلیک لسٹ میں نہ جائے، ہم اس ملک کی بہتری چاہتے ہیں، معیشت کا فروغ چاہتے ہیں جہاں غریب آدمی کو روزگار ملے۔تقریر کے دوران مخالف اراکین اسمبلی کی جانب سے جملے کسنے پر انہوں نے کہا کہ میں بعض لوگوں کی بات کا جواب دینا بھی معیوب سمجھتا ہوں کیوں کہ جس طرح کی وہ سیاسی پیداوار ہیں اس حادثے کو پوری قوم بھگت رہی ہے۔خواجہ آصف نے کہا کہ اگر نیب قانون کا دائرہ وسیع کرنا چاہتے ہیں تو کریں زیادہ دیر باقی نہیں رہی، عصر کا وقت آگیا ہے مغرب ہونے والی ہے اور ساتھ ان کا زوال شروع ہونے والا ہے پھر یہی قانون ان پر لاگو ہوگا، اس کو اسی حالت میں رہنے دیں چاہیں تو مزید سخت کرلیں ہمیں کوئی اعتراض نہیں، ہم نے مشرف کا نیب بھی بھگتا ہوا ہے۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی پردہ داری تھی اس کو انہوں نے موضوع بنایا ہم آئندہ حکومت کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔انہوں نے ایک مرتبہ ذاتی ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جس قسم کی کمائی ہو وہ کمائی بولتی ہے، 2013 میں پی ٹی آئی میں جانے سے پہلے انہوں نے مجھ سے ملاقات کی، نواز شریف سے ملاقات کی اور پھر جنرل پاشا سے ملاقات کی اس کے بعد کی ساری کہانی آپ کے سامنے ہے۔رہنما مسلم لیگ (ن) نے کہا کہ مجھے ان کے بزرگوں کو بڑا لحاظ ہے لیکن کل ان کا رویہ پارلیمانی روایت کے خلاف تھا، ہم نے ایف اے ٹی ایف کے 2 بل پر اتفاق کیا اور ہمیں نیب ترمیم سے بھی کوئی فائدہ نہیں چاہیے۔بعدازاں اجلاس میں بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما راجا پرویز اشرف نے کہا کہ حکومت کا ایک ہی مقصد ہے کہ نیب قانون میں ترمیم ہوجائے اور ان کی جان چھوٹ جائے اور اپنی پوری تقریر میں کل وزیر خارجہ نے صرف ایک بات ثابت کرنے کی کوشش کی کہ حکومتی بینچز پر بیٹھے افراد ایماندار اور اپوزیشن اراکین بدعنوان ہے۔انہوں نے کہا کہ احتساب ہو لیکن سب کا ہو، لیکن وزیر خارجہ نے کل احتساب آرڈیننس ہمارے ہاتھ میں تھما کر کہا کہ ان کو اس کے علاوہ کوئی لینا دینا نہیں ہے اور عوام کو یہ پیغام پہنچایا کہ ایف اے ٹی ایف قومی مفاد کا معاملہ ہے لیکن اپوزیشن کی دلچسپی نیب آرڈیننس میں تھی، ایف اے ٹی ایف سے متعلق نہیں تھی۔راجا پرویز اشرف نے کہا کہ وزیر خارجہ سے پوچھتا ہوں کہ ایف اے ٹی ایف کا بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں کب آیا؟ پھر جواب بھی خود دیتے ہوئے کہا کہ 6 ماہ سے یہ بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں موجود تھا لیکن اس پر بات اس لیے نہیں ہوسکی کیوں کہ حکومت کہتی تھی مشیر خزانہ دستیاب نہیں ہیں۔رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ آج کہہ رہے ہیں کہ بہت ہنگامی صورتحال ہے اس سے ان کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگالیں کہ حکومت کے ایک مشیر کے پاس وقت نہ ہونے کی وجہ سے 6 ماہ سے اس بل پر کارروائی نہیں ہوئی، آج آپ چیخ چیخ کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہے ہیں اور سارا الزام ہم پر ڈال دیتے ہیں۔راجا پرویز اشرف نے کہا کہ 2 سال سے ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں کرپشن کا، مان لیتے ہیں کہ آپ بہت ایماندار ہیں لیکن پاکستان کے عوام یہ ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔انہوں نے کہا نیب کے قانون زد میں سب سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی آئی اسے ہم سب نے بھگتا ہے اور یہ قانون جس نے بھی بنایا ہے کوئی نہیں بچے گا آج ہم کل یہ پرسوں آپ، باری سب کی آئے گی کل مسلم لیگ(ن) والے کہتے تھے کہ سارے اسکینڈلز پی پی پی کے ہیں آج ان کے بھی اسکینڈلز آگئے۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ کیا وزیر خارجہ یہ بات کہنا چاہتے ہیں کہ صرف حکومتی بینچز پر بیٹھنے والے محب وطن اور باقی محب وطن نہیں ہیں اور سارے کرپٹ ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کے اراکین کا احتساب نہیں ہوتا صرف اپوزیشن کا ہوتا ہے میں اپنے دوستوں سے کہتا ہوں کہ برداشت کریں کیوں کہ حکومت جس راستے پر چل رہی ہے اس میں نظر آرہا ہے کہ بہت جلد ان کی بولتی بند ہونے والی ہے۔رہنما پی پی پی نے کہا کہ کوئی احتساب نہ چھوڑیں لیکن اگر فیصلے عدالتوں میں ہونے ہیں تو ایوان میں بدعنوان کے نعرے نہیں لگائے جائیں اور اگر فیصلہ یہیں کرنا ہے تو پھر ہم بھی دلائل اور ریکارڈ لے آتے اور اسپیکر منصف بن جائیں یہاں فیصلہ کرلیں لیکن اگر یہ وہ فورم نہیں ہے تو پھر اس ایوان کا جو کام ہے وہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے سوائے ایوان میں شور شرابے، تذلیل، نئے نئے لفظ ایجاد کرنے کے سوا کیا کیا ہے؟راجا پرویز اشرف نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ حکومت نے پارلیمان کی عزت خاک میں ملادی، سیاست کا جنازہ نکال دیا ہے، جمہوریت کو سوالیہ نشان بنادیا ہے، ان کے پاس کوئی سوچ، کوئی پالیسی کوئی پروگرام نہیں ہے۔جبکہ وزیرِ اعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا اور معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ آئدروس نے اپنے اپنے عہدوں سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے اپنے دونوں معاونین کے استعفی منظور کر لیے ہیں اور اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفیکیشن کا اجرا بھی کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ عمران خان کے معاونین کے کردار پر جاری منفی بحث اور حکومت پر تنقید کے بعد میں نے استعفی دینے کا انتخاب کیا ہے۔ڈاکٹر ظفر مرزا کی جانب سے مستعفی ہونے کے اعلان سے کچھ دیر قبل معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ آئدروس نے کہا تھا کہ دوہری شہریت کے معاملے میں ان پر ہونے والی تنقید کی وجہ سے ڈیجیٹل پاکستانمنصوبہ متاثر ہو رہا ہے اور اس لیے وہ مستعفی ہو رہی ہیں۔تانیہ آئدروس کا کہنا تھا میری شہریت کی وجہ سے ریاست پر تنقید کی گئی، جس سے ڈیجیٹل پاکستان کا مقصد متاثر ہو رہا ہے۔ عوامی مفاد کی خاطر میں وزیراعظم کے معاون خصوصی کی حیثیت سے استعفی دے رہی ہوں۔ میں اپنے ملک کی خدمت اور وزیراعظم کے وژن کے لیے کام کرتی رہوں گی۔ڈاکٹر ظفر مرزا کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام ایک بہتر نظام صحت کے مستحق ہیں اور میں نے اس مقصد کے لیے خلوص کے ساتھ کام کیا۔ پاکستان انشااللہ کووڈ 19 سے ایک مضبوط طبی نظام کے ساتھ نکلے گا۔انھوں نے مزید لکھا میں وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے عہدے سے استعفی دیتا ہوں۔ میں عالمی ادارہ صحت کو چھوڑ کر عمران خان کی ذاتی درخواست پر پاکستان آیا تھا۔ پاکستان کی خدمت کرنا ایک اعزاز کی بات تھی۔ میں مطمئن ہوں کہ میں ایک ایسے وقت میں جا رہا ہوں جب پاکستان میں کووڈ 19 کے کیسز میں کمی آئی ہے اور یہ عظیم الشان قومی کاوش کی نتیجے میں ممکن ہوا۔دوسری جانب اپنی ٹویٹ میں تانیہ آئدروس نے اپنے استعفے کی نقل بھی منسلک کی جس میں انھوں نے لکھا کہ میں ہمیشہ سے پاکستانی تھی اور ہمیشہ پاکستانی ہی رہوں گی۔ لیکن میری کینیڈین شہریت کے حوالے سے باتیں کی گئی ہیں جو میری مرضی سے نہیں بلکہ میری پیدائش سے متعلق ہے۔انھوں نے لکھا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ ایک پاکستانی کا اپنے ملک کی خدمت کرنے کا یہ جذبہ ایسے معاملوں کی وجہ سے متاثر ہو رہا ہے۔حکومت پاکستان نے وزیر اعظم عمران خان کے معاونین خصوصی اور مشیران کے اثاثوں اور شہریت کی جو تفصیلات جاری کی تھیں اس کے مطابق 15 معاونین خصوصی میں سے تانیہ ایدروس سمیت سات یا تو دوہری شہریت کے حامل ہیں یا وہ کسی دوسرے ملک کے مستقل رہائشی ہیں۔تانیہ ایدروس کے پاس کینیڈا کی پیدائشی شہریت ہے اور وہ سنگاپور کی مستقل رہائشی ہیں۔پاکستان میں وزیراعظم کے معاونین خصوصی کے اثاثوں کی تفصیل اور شہریت سے متعلق معلومات شائع ہونے کے بعد حزب مخالف اور ناقدین کی جانب سے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔خیال رہے کہ مشیران و معاونین خصوصی پر دوہری شہریت کے قانون کا اطلاق نہیں ہوتا مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ان افراد کے بطور کابینہ رکن ملک کے اہم فیصلوں اور دستاویزات تک رسائی ہوتی ہے جو یہ مفادات کے ٹکراو کا سبب بن سکتا ہے۔تانیہ آئدروس عالمی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل میں اعلی عہدوں پر فائز رہ چکی ہیں۔تانیہ آئدروس کو گذشتہ برس عمران خان نے اپنا معاونِ خصوصی مقرر کیا تھا اور وہ اس عہدے پر کام کرنے سے قبل عالمی ٹیکنالوجی کمپنی گوگل میں اعلی عہدوں پر فائز رہ چکی تھیں۔وزیراعظم عمران خان نے دسمبر 2019 میں ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ تانیہ گوگل میں کام کرتی تھیں اور وہ یہ نہیں جانتے کہ وہ کتنے پیسے کما رہی تھیں لیکن انھوں نے گوگل کو چھوڑنے کا مشکل فیصلہ کیا۔وزیر اعظم عمران خان نے ان کے اس فیصلے کو سراہتے ہوئے کہا تھا کہ وقت ثابت کرے گا کہ آج جو فیصلہ انھوں نے کیا ہے وہ ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہو گا۔تانیہ ایدروس نے اس تقریب میں اپنی تقریر کے دوران بتایا تھا کہ انھیں پاکستان چھوڑے ہوئے 20 برس ہو گئے ہیں۔انھوں نے اپنی تعلیم ایم آئی ٹی سے حاصل کی ہے۔ ان کے مطابق انھیں جب ایم آئی ٹی کے پلیٹ فارم سے موقع ملا تو انھوں نے پاکستان پر ایک کیس سٹڈی بھی کی تھی۔ان کے مطابق سات برس پہلے انھیں گوگل کی جانب سے پاکستان بزنس یعنی گوگل کی پاکستان میں پروڈکٹس لانچ کرنے کا موقع ملا تو وہ امریکہ سے سنگاپور چلی گئیں۔ان کا کہنا ہے کہ لیکن یہ سب کرتے ہوئے انھیں احساس ہوتا تھا کہ وہ پاکستان کے لیے جو کر رہی ہیں وہ کافی نہیں ہے۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

چیف جسٹس سے ‘موٹر وے ریپ’ پر از خود نوٹس لینے کی استدعا

پولیس کی ناکامی سے ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ ...