بنیادی صفحہ / بین الاقوامی / پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن بارے رپورٹ عالمی عدالت میں پیش کردی

پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن بارے رپورٹ عالمی عدالت میں پیش کردی


رپورٹ: چودھری احسن پریمی
ایسوسی ایٹڈ پریس سروس( اے پی ایس)
عالمی عدالت انصاف(آئی سی جے) میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزا کے خلاف کیس کی سماعت کے دوسرے روز پاکستانی وکیل خاور قریشی نے کلبھوشن کے پاسپورٹ سے متعلق برطانوی رپورٹ پیش کردی۔ہیگ میں قائم عالمی عدالت انصاف میں سماعت کے آغاز میں پاکستانی وفد کے سربراہ اٹارنی جنرل انور منصور خان نے پاکستان کے ایڈہاک جج تصدق حسین جیلانی کی غیرحاضری پر تشویش کا اظہار کیا اور ایڈہاک جج تبدیل کرنے کی درخواست کی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ تصدق حسین جیلانی بیمار ہیں، کسی بھی ریاست کو ایڈہاک جج تعینات کرنے کا اختیار ہے۔عالمی عدالت انصاف نے جسٹس تصدق حسین جیلانی سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا اور صدر عالمی عدالت انصاف یوسف القبی نے پاکستان کے ایڈہاک جج کی غیرحاضری میں سماعت جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔صدر عالمی عدالت نے ریمارکس دیے کہ تصدق جیلانی سے متعلق آپ کے سوال کا جواب مناسب وقت میں دیا جائیگا۔عالمی عدالت انصاف میں دلائل دیتے ہوئے اٹارنی جنرل انور منصور خان نے کہا کہ کلبھوشن یادیو نے اپنی تمام سرگرمیاں بھارتی ایما پر کیں۔انہوں نے کہا کہ بھارتی جاسوس کی سرگرمیاں انفرادی طور پر نہیں تھیں وہ ایک نیٹ ورک کے طور پر کام کررہا تھا۔اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادیو پاکستان میں دہشت گردی کے منصوبوں میں ملوث رہا،وہ خاص طور پر سی پیک کو نشانہ بنانا چاہتا تھا،اس کے علاوہ تربت گوادر کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بھی بنایا گیا تھا۔انور منصور خان نے کہا کہ دہشت گردی میں اب تک پاکستان کو ایک سو 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوچکا ہے، پاکستان دہشت گردی سیمتاثر ہونے کے باوجود دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑرہا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کی عدالت کے باہر بڑا دھماکا کیا گیا جس میں سیکڑوں وکیل جاں بحق ہوئے تھے، آرمی پبلک اسکول پشاور حملے میں بھارت براہ راست ملوث تھا جس میں 140 معصوم بچوں کو شہید کیا گیا۔اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ پاکستان عالمی عدالت انصاف سے قانون کے مطابق کارروائی کی توقع کرتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہاہے ،ان کامزید کہنا تھاکہ بھارت نے پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کرائی اور جاسوس بھیجے، بھارت نے ہمیشہ پڑوسیوں کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی کوشش کی۔اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ بھارت کی مداخلت اور دہشت گردی کے باعث ہزاروں پاکستانی شہید ہوئے، خودکش حملہ آوروں نے پاکستان میں سیکڑوں افراد کو نشانہ بنایا، کراچی میں دہشت گردی کی متعدد کارروائیاں کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی منصوبہ بندی ڈھکی چھپی نہیں، بھارت، پاکستان دشمن ملیشیا کی فنڈنگ اور تربیت کر رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنی دہشت گرد کارروائیوں کا اعتراف کیا تھا، انہوں نے مزید کہا کہ بھارتی جاسوس کو بلوچستان، گوادر،کراچی میں دہشت گردی کروانے کے لیے بھیجا گیا تھا۔بعد ازاں عالمی عدالت انصاف میں پاکستانی وکیل خاور قریشی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی جاسوس کی ایران سے اغوا کی کہانی بے بنیاد ہے، انہیں ایران سے نہیں بلوچستان سے گرفتار کیا گیا تھا،انہوں نے مزید کہا کہ کلبھوشن یادیو کے معاملے کا ایران سے کوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان نے کلبھوشن کے پاسپورٹ سے متعلق برطانوی رپورٹ پیش کردی ہے، بھارت کا پاسپورٹ نظام مرکزی طور پر قائم ہے، کوئی بھی جعلسازی فورا پکڑی جاسکتی ہے۔خاورقریشی نیاپنے دلائل کیدوران بھارتی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے انٹرویو کا حوالہ دیا، انہوں نے کہا کہ اجیت کا کہنا تھا کہ کلبھوشن پاکستان کوعدم استحکام کاشکار کرنے کے لیے ایک آلہ کار تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اجیت دوول نے انٹرویو میں بلوچستان میں بھارتی دہشت گردی کااعتراف بھی کیا تھا۔خاور قریشی نے کہا کہ اجیت دوول کے بقول کلبھوشن نے بلوچستان میں دہشت گردی میں اہم کردار ادا کیا ،انہوں نے بتایا کہ اجیت نے یہ تک کہا تھا کہ پاکستان بلوچستان سے ہاتھ دھو دے گا۔انہوں نے کہا کہ کلبھوشن اور اس کے خاندان کو فوجی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل کا حق دیا گیا تھا۔پاکستانی وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو کے معاملے پر ہمیشہ پروپیگنڈا کیا لیکن بھارت یہ بتانے میں ناکام رہا کہ کلبھوشن اپنے پاسپورٹ پر کیسے سفر کرتا رہا۔خاور قریشی نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کی پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں کی طویل فہرست موجود ہے۔پاکستانی وکیل کے ٹھوس دلائل پر بھارتی وکیل کافی پریشان نظر آئے اور ایک موقع پر بھارتی وکیل نے اس اپنا سرپکڑلیا۔خاور قریشی کا کہنا تھا کہ بھارتی جاسوس کے پاس مسلم شناخت والا اصل بھارتی پاسپورٹ موجود تھا لیکن بھارت کلبھوشن کے مصدقہ پاسپورٹ سے متعلق سوالات کی وضاحت نہیں کرسکا۔انہوں نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کیس کے دوران بھارت نے ہمیشہ بداعتمادی کا مظاہرہ کیا۔پاکستانی وکیل نے کہا کہ کلبھوشن یادیو سیمتعلق 3مستندبھارتی صحافیوں کی تحقیقاتی رپورٹس سامنے ہیں۔خاور قریشی نے کہا کہ حسین مبارک پٹیل کے نام سے بنایا گیا پاسپورٹ 2003 میں جاری کیا گیا اور 2014 میں اس کی تجدید کی گئی تھی۔اس پاسپورٹ پردرج پتیکی جائیدادکی مالک کلبھوشن کی والدہ ہیں۔پاکستانی وکیل نے کہا کہ بھارت نے کلبھوشن یادیو کی شہریت کا اعتراف نہیں کیا تو وہ قونصلر رسائی کا مطالبہ کیسے کرسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت نے پاکستان پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔خاور قریشی نے کہا کہ ایک طرف بھارت پاکستان کے خلاف عالمی عدالت میں موجود ہے اور دوسری جانب بھارت، پاکستان کے سوال کا تحریری جواب جمع نہیں کروارہا۔ان کا کہنا تھا کہ ویانا کنونشن کا اطلاق کسی بھی جاسوس کے معاملے پر نہیں ہوتا۔واضح رہے کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس کی سماعت ہیگ میں قائم 15 ججوں پر مشتمل عالمی عدالت انصاف میں 18 سے 21 فروری تک کی جائے گی، اس موقع پر اٹارنی جنرل انور منصور پاکستانی وفد کی قیادت جبکہ ڈائریکٹر جنرل ساتھ ایشیا ڈاکٹر محمد فیصل دفتر خارجہ کی نمائندگی کررہے ہیں۔گزشتہ روز عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس کے دلائل دیتے ہوئے بھارت نے پاکستان پر کلبھوشن یادیو کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔بھارتی وکیل ہرش سیلو نے اپنے دلائل میں کہا تھا کہ پاکستان کی جانب سے کلبھوشن کے خلاف افراتفری اور جاسوسی کے دعوے حقائق کے منافی ہیں۔ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں کیس کی سماعت کے آغاز میں سیلو نے کہا تھا کہ کلبھوشن یادیو کا کورٹ مارشل اس مرحلے کے معیار پر پورا نہیں اترتا، اس لیے اسے غیر قانونی قرار دیا جائے۔انہوں نے ججز سے اصرار کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دیا جائے اور انسانی حقوق کے تحت ان کی رہائی کا حکم دیا جائے۔یاد رہے کہ را کے لیے کام کرنے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو غیرقانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ کہ انہیں را کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔کلبھوشن نے یہ بھی کہا تھا کہ 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد ‘را’ کے لیے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا۔ویڈیو میں کلبھوشن نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا تھا۔بعدازاں اپریل 2017 کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنانے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کی توثیق 10 اپریل کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی تھی۔بھارت نے 9 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کی پھانسی کے خلاف اپیل دائر کی تھی، اور درخواست کی تھی کہ آئی سی جے پاکستان کو بھارتی جاسوس کو پھانسی دینے سے
روکے۔عالمی عدالت انصاف میں کی گئی درخواست میں بھارت نے پاکستان پر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیاتھا کہ ویانا کنونشن کے مطابق جاسوسی کے الزام میں گرفتار شخص کو رسائی سے روکا نہیں جاسکتا۔بھارت نے دعوی کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو ایک بے قصور تاجر ہے جسے ایران سے اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر زبردستی را ایجنٹ ہونے کا اعتراف کروایا گیا لیکن بھارت اغوا کیے جانے کے کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا تھا۔خیال رہے کہ 13 دسمبر 2017 کو کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھارت کی شکایت پر پاکستان کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں جوابی یاد داشت جمع کرائی گئی تھی۔جس کے بعد گزشتہ برس 18 مئی کو عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کلبھوشن کی پھانسی روکنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد دفتر خارجہ نے آگاہ کیا تھا کہ آئی سی جے کے حکم پر حکومتِ پاکستان نے متعلقہ اداروں کو اس پر عمل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے کیے گئے دعووں پر اب تک پاکستان اور بھارت کی جانب سے 2،2 جوابات داخل کروائے جاچکے ہیں ۔تاہم بھارت یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی بحریہ سے کب اور کس طرح ریٹائر ہوا، کیونکہ پکڑے جانے کے وقت کلبھوشن کی عمر 47 برس تھی۔علاوہ ازیں بھارت کو اس بات کی وضاحت دینے کی ضرورت ہے کہ کلبھوشن یادیو کے پاس جعلی شناخت کے ساتھ اصلی پاسپورٹ کیسے آیا، جس کو اس نے 17 مرتبہ بھارت آنے جانے کے لیے استعمال بھی کیا اور اس میں اس کا نام حسین مبارک پٹیل درج تھا۔یاد رہے کہ دسمبر 2017 میں پاکستان نے کلبھوشن کے لیے ان کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کے انتطامات کیے تھے۔یہ ملاقات پاکستان کے دفترِ خارجہ میں ہوئی جہاں کسی بھی بھارتی سفیر یا اہلکار کو کلبھوشن کے اہلِ خانہ کے ساتھ آنے کی اجازت نہیں تھی۔مذکورہ ملاقات کے دوران کلبھوشن یادیو نے اپنی اہلیہ اور والدہ کے سامنے بھی بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے جاسوسی کا اعتراف کیا تھا، جسے سن کر دونوں خواتین پریشان ہوگئی تھیں۔اس سے قبل پاکستان نے عالمی عدالت میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے کیس میں اپنا تحریری جواب جمع کرا یا تھا جس میں بھارت کے تمام اعتراضات کے جوابات دیئے گئے ہیں۔دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر فیصل کے مطابق پاکستان کی جانب سے دی ہیگ میں واقع عالمی عدالت میں جمع کرایا گیا جواب 400 سے زائد صفحات پر مشتمل ہے۔پاکستان کی جانب سے جواب دفتر خارجہ میں ڈائریکٹر انڈیا کے عہدے پر فائز ڈاکٹر فاریحہ بگٹی نے جمع کرایا، اس موقع پر دی ہیگ میں پاکستانی سفارتخانے کے افسر وسیم شہزاد بھی ان کے ہمراہ تھے۔یہ پاکستان کی جانب سے جواب الجواب میں پہلا جبکہ کلبھوشن کیس میں عالمی عدالت میں جمع کرائے گئے جوابات میں مجموعی طور پر دوسرا جواب ہے۔پاکستانی جواب اٹارنی جنرل کی سربراہی میں ماہرین کی ٹیم نے مرتب کیا ہے۔ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے جواب میں بھارتی سوالات پر تفصیل سے جواب دیا گیا ہے اور پاکستان نے اپنے جواب میں بھارت کے تمام اعتراضات کے جوابات دیئے ہیں۔اس سے قبل پاکستان نے کلبھوشن یادیو کے کیس میں اپنا جواب 13 دسمبر 2017 کو جمع کرایا تھا۔یاد رہے کہ را کے لیے کام کرنے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو غیرقانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ اسے را کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔ بھارت کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں تحریری طور پر جمع کرائی گئی درخواست میں پاکستان پر کلبھوشن یادیو کو قونصلر رسائی نہ دینے پر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام لگایا تھا اور کہا تھا کہ کنونشن کے مطابق جاسوسی کے الزام میں گرفتار شخص کو رسائی سے روکا نہیں جاسکتا۔اس کے جواب پر پاکستان نے عالمی عدالت انصاف میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا تھا کہ قونصلر تعلقات 1963 کے ویانا کنونشن صرف قانونی طور پر آئے لوگوں پر لاگو ہوتا ہے اور یہ خفیہ آپریشن کے لوگوں پر لاگو نہیں ہوتا۔پاکستان کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو حاضر سروس افسر تھا اور وہ پاکستان میں جاسوسی کرنے اور ایک خصوصی مشن پر بھیجا گیا تھا۔عالمی عدالت انصاف میں پاکستان کی جانب سے یہ بھی کہا گیا تھا کہ بھارت کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں کہ نیوی کا ایک حاضر سروس افسر کیوں را کے لیے کام کر رہا تھا اور وہ مسلم نام سے پاکستان کا سفر کیوں کر رہا تھا۔پاکستان کی جانب سے جمع کرائے گئے جواب میں کہا گیا تھا کہ ایک ایسا ملک جس کا دامن صاف ہو وہی عالمی عدالت انصاف سے درخواست کرسکتا ہے کہ وہ اس معاملے پر دو ممالک کے درمیان مداخلت کرے لیکن بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری ہیں اور وہ کشمیر میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل نہیں کر رہا اور پر امن کشمیریوں پر پیلٹ گن کا استعمال کررہا۔آئی سی جے میں پاکستان کی جانب سے اعتراض اٹھایا گیا تھا کہ کلبھوشن یادیو کو ایک جعلی شناخت کے ذریعے پاکستان میں بھیجا گیا اور وہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث رہا تھا۔ عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) میں بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی سزا کے خلاف کیس کی سماعت کا آغاز ہوگیا ہے جس میں بھارت نے اپنے دلائل پیش کیے۔بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس کی سماعت ہیگ میں قائم 15 ججوں پر مشتمل عالمی عدالت انصاف میں 18 سے 21 فروری تک کی جائے گی، اس موقع پر اٹارنی جنرل انور منصور پاکستانی وفد کی قیادت جبکہ ڈائریکٹر جنرل ساوتھ ایشیا ڈاکٹر محمد فیصل دفتر خارجہ کی نمائندگی کررہے ہیں۔امریکی خبررساں ادارے اے پی کے مطابق عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو سے متعلق کیس کے دلائل دیتے ہوئے بھارت نے پاکستان پر کلبھوشن یادیو کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔بھارتی وکیل ہرش سیلو نے اپنے دلائل میں کہا کہ پاکستان کی جانب سے کلبھوشن کے خلاف افراتفری اور جاسوسی کے دعوے حقائق کے منافی ہیں۔ہیگ میں عالمی عدالت انصاف میں کیس کی سماعت کے آغاز میں سیلو نے کہا کہ کلبھوشن یادیو کا کورٹ مارشل اس مرحلے کے معیار پر پورا نہیں اترتا، اس لیے اسے غیر قانونی قرار دیا جائے۔انہوں نے ججز سے اصرار کیا کہ کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کو غیرقانونی قرار دیا جائے اور انسانی حقوق کے تحت ان کی رہائی کا حکم دیا جائے۔بھارتی وکیل کی جانب سے دلائل مکمل کرنے کے بعد پاکستانی وفد کل (19 فروری کو) عالمی عدالت انصاف کے دائرہ سماعت پر دلائل دیے تھے۔جس کے بعد 20 فروری کو ایک مرتبہ پھر بھارت کی جانب سے پاکستان کے جواب پر موقف پیش کیا جائے گا اور 21 فروری کو پاکستان اپنے حتمی دلائل پیش کرے گا۔یاد رہے کہ را کے لیے کام کرنے والے بھارتی نیوی کے حاضر سروس کمانڈر کلبھوشن یادیو عرف حسین مبارک پٹیل کو پاکستان کے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے 3 مارچ 2016 کو غیرقانونی طور پر پاکستان میں داخل ہوتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔بھارتی جاسوس نے مجسٹریٹ اور عدالت کے سامنے اعتراف کیا تھا کہ کہ انہیں را کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے منصوبہ بندی اور رابطوں کے علاوہ امن کے عمل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جاری کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی۔کلبھوشن نے یہ بھی کہا تھا کہ 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد ‘را’ کے لیے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا۔ویڈیو میں کلبھوشن نے اعتراف کیا تھا کہ پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا تھا۔بعدازاں اپریل 2017 کو پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے کلبھوشن یادیو کو پاکستان کی جاسوسی، کراچی اور بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں ملوث ہونے پر سزائے موت سنانے کا اعلان کیا گیا تھا، جس کی توثیق 10 اپریل کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کی تھی۔بھارت نے 9 مئی 2017 کو عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کی پھانسی کے خلاف اپیل دائر کی تھی، اور درخواست کی تھی کہ آئی سی جے پاکستان کو بھارتی جاسوس کو پھانسی دینے سے روکے۔عالمی عدالت انصاف میں کی گئی درخواست میں بھارت نے پاکستان پر ویانا کنونشن کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیاتھا کہ ویانا کنونشن کے مطابق جاسوسی کے الزام میں گرفتار شخص کو رسائی سے روکا نہیں جاسکتا۔بھارت نے دعوی کیا تھا کہ کلبھوشن یادیو ایک بے قصور تاجر ہے جسے ایران سے اغوا کرنے کے بعد تشدد کا نشانہ بنا کر زبردستی را ایجنٹ ہونے کا اعتراف کروایا گیا لیکن بھارت اغوا کیے جانے کے کوئی بھی ثبوت پیش نہیں کرسکا تھا۔خیال رہے کہ 13 دسمبر 2017 کو کلبھوشن یادیو کے معاملے پر بھارت کی شکایت پر پاکستان کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں جوابی یاد داشت جمع کرائی گئی تھی۔جس کے بعد گزشتہ برس 18 مئی کو عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کلبھوشن کی پھانسی روکنے کا حکم دیا تھا جس کے بعد دفتر خارجہ نے آگاہ کیا تھا کہ آئی سی جے کے حکم پر حکومتِ پاکستان نے متعلقہ اداروں کو اس پر عمل کرنے کی ہدایت کردی ہے۔واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے کیے گئے دعووں پر اب تک پاکستان اور بھارت کی جانب سے 2،2 جوابات داخل کروائے جاچکے ہیں ۔تاہم بھارت یہ ثابت کرنے میں بھی ناکام رہا کہ کلبھوشن یادیو بھارتی بحریہ سے کب اور کس طرح ریٹائر ہوا، کیونکہ پکڑے جانے کے وقت کلبھوشن کی عمر 47 برس تھی۔علاوہ ازیں بھارت کو اس بات کی وضاحت دینے کی ضرورت ہے کہ کلبھوشن یادیو کے پاس جعلی شناخت کے ساتھ اصلی پاسپورٹ کیسے آیا، جس کو اس نے 17 مرتبہ بھارت آنے جانے کے لیے استعمال بھی کیا اور اس میں اس کا نام حسین مبارک پٹیل درج تھا۔یاد رہے کہ دسمبر 2017 میں پاکستان نے کلبھوشن کے لیے ان کی اہلیہ اور والدہ سے ملاقات کے انتطامات کیے تھے۔یہ ملاقات پاکستان کے دفترِ خارجہ میں ہوئی جہاں کسی بھی بھارتی سفیر یا اہلکار کو کلبھوشن کے اہلِ خانہ کے ساتھ آنے کی اجازت نہیں تھی۔مذکورہ ملاقات کے دوران کلبھوشن یادیو نے اپنی اہلیہ اور والدہ کے سامنے بھی بھارتی خفیہ ایجنسی را کے لیے جاسوسی کا اعتراف کیا تھا، جسے سن کر دونوں خواتین پریشان ہوگئی تھیں۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

طالبان فوری طور پر جنگ بندی کے لیے تیار نہیں۔ زلمے خلیل زاد

واشنگٹن: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس ) افغانستان کے لیے ...