بنیادی صفحہ / قومی / وفاقی وزارتوں میں 270 ارب روپے کے غبن کا معمہ حل نہ ہوسکا

وفاقی وزارتوں میں 270 ارب روپے کے غبن کا معمہ حل نہ ہوسکا

نیب کی واحد وابستگی ریاست پاکستان سے ہے۔ چیئرمین نیب جسٹس( ر) جاوید اقبال
نیب کی بڑے سیاستدانوں کے خلاف میگا کرپشن کیسز پر نظرثانی
مجرمان اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا فیصلہ
رپورٹ: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)
قومی احتساب بیورو (نیب) نے ملک کے بڑے سیاستدانوں کے میگا کرپشن کے کیسز کا جائزہ لیا جن میں پانچ سابق وزرائے اعظم، پانچ سابق وزرائے اعلی اور کابینہ کے چند ممبران شامل ہیں۔میڈیا رپورٹ کے مطابق نیب نے ان کے کیسز نمٹانے میں قومی احتساب آرڈیننس(این اے او) 1999 کے برخلاف تاخیر پر ‘عدم اطمینان’ کا اظہار بھی کیا جس کے مطابق ایسے کیسز کے بارے میں 30 دن کے اندر فیصلوں کی ضرورت ہوتی ہے۔نیب کے مقدمات کا سامنا کرنے والے نمایاں افراد میں سابق وزرائے اعظم نواز شریف، شاہد خاقان عباسی، شوکت عزیز، راجا پرویز اشرف اور سید یوسف رضا گیلانی، سابق صدر آصف علی زرداری، سابق وزرائے اعلی شہباز شریف، قائم علی شاہ، نواب اسلم رئیسانی، ثنا اللہ زہری اور خیبر پختونخوا کے سردار مہتاب عباسی اور موجودہ وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ بھی شامل ہیں۔اعظم خان جو اب بھی وزیر اعظم عمران خان کے سیکریٹری ہیں، مالم جبہ ریزورٹ منصوبے سے متعلق بدعنوانی کے مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔میگا کرپشن میں مبینہ طور پر ملوث پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے دیگر رہنما اور کابینہ کے ممبران میں وزیر مذہبی امور نورالحق قادری، وزیر ہوا بازی غلام سرور خان، سابق وزیر صحت عامر کیانی اور علیم خان شامل ہیں۔این اے او 1999 کی دفعہ 16 (اے)، جس میں 26 مارچ 2010 کو ترمیم کی گئی تھی، میں کہا گیا ہے کہ ‘کسی دوسرے قانون میں موجود کسی بھی چیز کے علاوہ عدالت میں اس آرڈیننس کے تحت کسی جرم کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا اور اسے روزانہ کی بنیاد پر سنا جائے گا اور 30 دن میں نمٹا دیا جائے گا’۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ احتساب بیورو نے ایک اجلاس کے دوران نیب کے کیسز نمٹانے میں ‘تاخیر’ پر اظہار برہمی کیا۔بتایا گیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی حکومت میں سابق وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین کے خلاف 2 ارب 64 کروڑ روپے کا مقدمہ 5 سال سے زیر سماعت ہے۔مقدمے میں ملزمان کی طرف سے تاخیری حربے اور تین سال بعد تفتیشی افسران کے تبادلے کو مقدمات کے تصفیہ میں تاخیر کی وجوہات کے طور پر بتایا گیا۔نیب کے چیئرمین ریٹائرڈ جسٹس جاوید اقبال، جنہوں نے بیورو کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ اجلاس کی صدارت کی، نے بیورو کے پروسیکیوشن ونگ کو کیسز کو جلد از جلد نمٹانے کے لیے عدالتوں میں درخواستیں داخل کرنے کی ہدایت کی۔اجلاس میں نیب کے ڈپٹی چیئرمین حسین اصغر، پراسیکیوٹر جنرل احتساب، ڈائریکٹر جنرل آپریشنزاور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔تمام ڈائریکٹرز جنرل (علاقائی سربراہان) نے بھی ویڈیو لنک کے ذریعے اس اجلاس میں شرکت کی تھی۔اس موقع پر چیئرمین نیب نے بات کرتے ہوئے کہا کہ بیورو سب کے لیے احتساب کی پالیسی پر عمل کرنے پر مضبوطی سے یقین رکھتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ‘نیب کی کسی سیاسی جماعت، گروپ یا فرد سے وابستگی نہیں ہے، نیب کی واحد وابستگی ریاست پاکستان سے ہے۔اجلاس میں اسحق ڈار، خواجہ سعد رفیق، ڈاکٹر عاصم، احسن اقبال، طارق فضل چوہدری، مفتاح اسمعیل، بابر خان غوری، منظور وسان، آغا سراج درانی، سہیل انور سیال، عادل صدیق، رف صدیق، شرجیل انعام میمن، خورشید شاہ، وسیم اختر، سردار عاشق خان گوپانگ، برجیس طاہر، اعجاز جاکھرانی، رانا ثنا اللہ، سبطین خان، صاحبزادہ محمود زیب، شیر اعظم خان، انجینیئر امیر مقام، ریٹائرڈ کیپٹن صفدر، عثمان سیف اللہ، انور سیف اللہ، اسفند یار کاکڑ، عاصم کرد، سعادت انور، رحمت بلوچ، تماش خان، حمزہ شہباز، سلمان شہباز، حسن نواز، حسین نواز، احد چیمہ، فواد حسن فواد، امجد علی خان، صدیق میمن، منظور کاکا، شاہد الاسلام، عمران الحق، عبد اللہ غنی مجید، انور مجید، اعجاز ہارون، زاہد میر، آصف اختر ہاشمی، طاہر بشارت چیمہ، طارق حمید، ڈاکٹر احسان علی، غلام مصطفی پھل، فرخند اقبال، امتیاز عنایت الہی، کامران لاشاری، اختر نواز گنجیرہ، کامران شفیع اور خالد مرزا کے خلاف مقدمات میں پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں بینک اسلامک، بینک آف خیبر، بلین ٹری منصوبے اور دیگر کے خلاف جاری تحقیقات میں پیشرفت کا بھی جائزہ لیا گیا۔جبکہ ایک سرکاری پریس ریلیز کے مطابق کہ ‘سپریم کورٹ نے بس ریپڈ ٹرانسپورٹ (بی آر ٹی) پشاور کیس میں حکم امتناع جاری کررکھا ہے، نیب عدالت عظمی کی ہدایات کی روشنی میں اس معاملے میں آگے بڑھے گا’۔اجلاس میں قانون کے مطابق مجرمان اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کے لیے تمام وسائل بروئے کار لانے کا فیصلہ کیا گیا۔ ‘فیصلوں کی مصدقہ کاپیاں ملنے کے بعد تمام مقدمات کے خلاف اپیلیں دائر کی جائیں گی تاکہ لوٹی گئی رقم واپس قومی خزانے میں جمع ہوسکے’۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ قوانین کے مطابق انکوائری، شکایات کی تصدیق اور تفتیش مکمل کی جائے گی۔جبکہ وزارت خزانہ نے موجودہ حکومت کی پہلی آڈٹ رپورٹ میں مالی سال 19-2018 میں 40 سرکاری محکموں اور وزارتوں کی جانب سے 270 ارب روپے کی کرپشن اور بے قاعدگیوں کے انکشاف پر مبنی میڈیا رپورٹس کو مسترد کردیا۔ ان رپورٹس کو بے بنیاد، گمراہ کن اور غلط قرار دیتے ہوئے وزارت خزانہ نے ایک سرکاری بیان میں کہ مالی سال 20-2019 کی آڈٹ رپورٹ، تمام آڈٹ رپورٹس کی طرح ابتدائی مشاہدات پر مشتمل ہے۔ایک سرکاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے حکومتی اداروں کی جانب سے مختلف معاملات کے دوران رسمی مراحل کو مکمل کرنے میں کچھ خامیوں کی نشاندہی کی گئی ہے اور دیگر معاملات میں آڈٹ ٹیموں کو کچھ دستاویزات کی فراہمی میں مختلف کوتاہیوں سے متعلق بتایا گیا ہے لیکن اس سے یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ ہر خامی بدعنوانی کے مترادف ہے تو یہ غلط اور گمراہ کن ہے۔ اس میں کہا گیا کہ وزارت خزانہ یہ واضح کرتی ہے کہ آڈٹ رپورٹس اپنی نوعیت کے تحت ضابطے میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتی ہیں اور یہ کرپشن کا ثبوت نہیں ہیں، صرف ‘بدعنوانی کا حتمی ثبوت’ جیسا کہ میڈیا کے کچھ حصوص میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ کئی فورمز پر ان آڈٹ رپورٹس پر مکمل طور پر غور کیا جاتا ہے جن میں محکمہ جاتی آڈٹ کمیٹیاں اور پبلک اکانٹس کمیٹیاں شامل ہیں جہاں وزرا اور دیگر حکومتی اداروں کو اپنے کیسز کا دفاع کرنے اور طریقہ کار میں موجود کوتاہیوں کو دور کرنے کا موقع دیا جاتا ہے۔وزارت خزانہ نے کہا کہ یہاں تک یہ فورمز اس بات کے اہل نہیں کہ کرپشن ہوئی ہے یا نہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ مطلوبہ دستاویزات کی فراہمی اور مطلوبہ منظوری کے عمل کی وقتا فوقتا تکمیل، آڈٹ پیراز کی بڑی اکثریت کو ان فورمز پر طے کیا جاتا ہے۔اس میں کہا گیا کہ صرف چند معاملات جہاں خامیوں کو پورا نہیں کیا جاسکتا وہاں سزا دینا ضروری ہوتا ہے۔ مزید برآں آڈٹ رپورٹس کی نوعیت کے واضح تناظر میں یہ بہت اہم ہے کہ موجودہ حکومت کی آڈٹ رپورٹ حکمرانی میں وسیع بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔وزارت خزانہ نے کہا کہ مثال کے طور پر گزشتہ سالوں میں میڈیا کی جانب سے شائع کی گئی پہلے کی آڈٹ رپورٹس کی خبروں کا مقابلہ کیا جائے تو مالی سال 19-2018 میں اخراجات سے متعلق آڈٹ پیراز صرف 270 ارب روپے کے ہیں جبکہ مالی سال 16-2015، مالی سال 17-2016 اور مالی سال 18-2017 کی آڈٹ رپورٹس میں اخراجات سے متعلق آڈٹ پیراز بالترتیب 32 کھرب روپے، 58 کھرب روپے اور 15 کھرب 70 ارب روپے تھے۔اعلامیے میں کہا گیا کہ وزارت خزانہ پریس کے کچھ حلقوں کی جانب سے مالی سال 19-2018کی آڈٹ رپورٹ کی بنیاد پر پیش کیے گئے گمراہ کن نتائج کو مسترد کرتی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے مختلف وزارتوں میں عوامی فنڈز میں 12 ارب روپے سے زائد کے غبن اور غلط استعمال کا انکشاف کیا تھا جبکہ سرکاری فنڈز میں 258 ارب روپے کی بے ضابطگیاں پائی گئی تھیں۔رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا تھا کہ قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے آڈٹ ٹیموں کو متعدد اداروں اور اکانٹس کا ریکارڈ نہیں دیا گیا تھا۔حکومتی وزیر نے آڈٹ رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماضی کی حکومتوں میں یہ بے ضابطگیاں 1000 ارب روپے سے زائد ہوتی تھیں۔نجی چینل کے مطابق وزیر برائے صنعت حماد اظہر نے کہا کہ اس تعداد میں 80 فیصد کمی ہوئی ہے اور مزید کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کو اسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔آڈٹ رپورٹ میں 12 ارب 56 کروڑ 11 لاکھ روپے کے عوامی فنڈز کے غلط استعمال اور غبن اور فرضی ادائیگیوں کے 56 کیسز کی نشاندہی کی گئی تھی۔اس کے ساتھ ہی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ 79 ارب 59 کروڑ روپے کی ریکوری سے متعلق 98 اور 17ارب 97 کروڑ روپے کا ریکارڈ پیش نہ ہونے سے متعلق 37 کیسز ہیں۔اسی طرح آڈٹ میں کمزور مالیاتی انتظام سے متعلق 152 ارب 21 کروڑ روپے کے 35 کیسز کا بھی انکشاف کیا گیا تھا۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے ریکارڈ میں شامل کیا ہے کہ آڈٹ ایئر 20-2019 کے آڈٹ پیراز میں ضابطے کی خلاف ورزیوں، داخلی کنٹرول کی کمزوریوں اور بے ضابطگیاں، جنہیں رپورٹنگ کے لیے اہم نہیں سمجھا جاتا تھا، انہیں قومی اسمبلی کی پبلک اکانٹس کمیٹی میں رپورٹ نہیں کیا گیا تھا۔ان نتائج کی بنیاد پر آڈٹ نے حکومت کو یہ یقینی بنانے کی تجویز دی ہے کہ پارلیمنٹ کی اجازت اور بجٹ میں شامل کیے بغیر کوئی بھی اخراجات شامل نہ کیے جائیں اور مالی سال کے اختتام سے قبل ضرورت کے تعین اور پارلیمنٹ کی منظوری کے بغیر اضافی گرانٹس جاری نہیں کی جانی چاہئیں۔آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے پارلیمنٹ کو یہ سفارش بھی کی کہ عوامی رقم کے سنگین غبن کے کیسز تحقیقاتی ایجنسیوں کو بھیجے جائیں اور حکومت کو ہدایت کی جائے کہ جہاں بھی قابل اطلاق ہو سرکاری وصولیوں اور خرچ نہ کی گئی رقوم کو سرکاری خزانے میں جمع کرایا جائے۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

مہنگائی نے عام شہریوں کو کچل ڈالا ہے۔

معاشی اور سیاسی بحران کورونا وائرس سے بڑا خطرہ عوام کے ساتھ ...