بنیادی صفحہ / قومی / وزیر اعظم کے دفتر کے باہر بھوکے آدمی کی خودکشی

وزیر اعظم کے دفتر کے باہر بھوکے آدمی کی خودکشی


اسلام آباد: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)
مارچ 3،2020
وزیر اعظم عمران خان کے دفتر کے باہر لاک ڈاون کی وجہ سے ایک فاقہ کش نے خود کو آگ لگا کر خودکشی کر لی۔ اس ضمن میں وزیر اعظم عمران خان نے ایک جوڈیشل انکوائری کا حکم دیا ہے اور چو بیس گھنٹوں کے اندر رپورٹ طلب کر لی ہے۔ یاد رہے کہ لاک ڈاون کے بعد ملک بھر سے ایسی ویڈیو منظر عام پر آرہی ہیں جس میں بھوکے عوام چلا چلا کر حکمرانوں کو اپنی طرف توجہ مبذول کراتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں جن میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ہم بیماری سے نہیں بلکہ بھوک سے مر رہے ہیں۔ تاہم حکومت ابھی تک تک ان مسائل پر قابو پانے کیلئے صرف غور کررہی ہے لیکن وزیر اعظم عمران خان کا موقف عوام کے حق میں ہے کہ ہم عوام کو بھوکا نہیں چھوڑ سکتے اس ضمن میں ہمیں ایسی حکمت عملی وضع کرنی ہے جس میں ہم عوام کی بنیادی ضروریات پوری کرسکیں. مزید تفصیل آنے پر یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم ہاؤس کے باہر خود سوزی کرنے والے پاکستانی شہری فیصل زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے پمز کے برن سینٹر میں چل بسے۔ آج جمعے کی نماز کے بعد وزیراعظم ہاؤس کے باہر یہ واقعہ پیش آیا۔ تفصیلات کے مطابق ایک پیدل چلتے شخص نے وزیراعظم ہاؤس جانے اور وزیراعظم عمران خان سے ملنے کی کوشش کی، انہوں نے ہاتھ میں کچھ دستاویزات بھی تھام رکھی تھیں۔ عینی شاہدین کے مطابق فیصل پیدل تھے اور وزیراعظم ہاؤس جانے کی کوشش سے روکنے پر بیچ سڑک میں خود پہ پیٹرول چھڑک کر انہوں نے آگ لگا لی۔ متوفی فیصل کی جیب سے ایک خط بھی ملا ہے۔ جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ‘راولپنڈی کے ایم پی اے جواد احمد عباسی جو کہ آزاد امید وار ہے۔ اس نے مجھ سے ووٹ مانگا میں نے ووٹ نہیں دیا اور پی ٹی آئی کی حمایت کی اور ووٹ دیا اور یہی میرا جرم بن گیا ۔ اس کے بعد جواد احمد عباسی نے میرے پہ جھوٹے پرچے کروائے جس پر میں نے ہر فورم سے مدد مانگی لیکن شنوائی نہ ہوئی۔’ فیصل نے خط میں مزید لکھا کہ انہوں نے جواد احمد عباسی کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دی لیکن کوئی کارروائی نہ ہوئی۔ فیصل نے خط میں یہ بھی لکھا تھا کہ راولپنڈی پولیس نے بھی اُن کی کوئی شنوائی نہیں کی اس لیے وہ آخری امید لے کر وزیراعظم ہاؤس آئے تھے۔ فیصل کے خط کے مطابق تھانہ پیرودھائی نے ان پر شراب کا جھوٹا مقدمہ سیاسی شخصیت جواد عباسی کی سفارش پر درج کیا گیا۔ راولپنڈی پولیس کے مطابق گزشتہ برس ستمبر میں متوفی فیصل کے خلاف نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کا پرچہ بھی درج ہے۔ اس معاملے پر ڈی سی اسلام آباد سے رابطہ کیا تو انہوں نے وزیراعظم ہاؤس کے باہر خودکشی کرنے والے شخص کے حوالے سے بتایا کہ اس یہ شخص دیول شریف مری کے رہائشی تھے۔ ان کے بھائی کے بیان کے مطابق انہیں ذہنی مسائل بھی ہیں اور نشے کے عادی بھی تھے۔ پولیس ریکارڈ کے مطابق فیصل پر سات سال پہلے بھی کوئی پرچہ ہوا تھا ۔ حمزہ شفقات نے بتایا کہ ‘اس بات کی تصدیق کر دوں کہ متوفی کا اسلام آباد پولیس سے کوئی مسئلہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ کرونا کے مریض تھے۔’ ڈی سی اسلام آباد نے بتایا کہ فوراً ہی فیصل کو پمز کے برن سینٹر میں منتقل کیا لیکن وہ 95 فیصد جل چکے تھے اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔ ڈی سی اسلام آباد کے مطابق اسلام آباد انتظامیہ واقعے کی جوڈیشل انکوائری کرے گی۔ وزیر اعظم نے خود سوزی کے واقعے کا نوٹس لے کر چیف کمشنر کو جوڈیشل انکوئری کے احکامات جاری کر دیے ہیں

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

سب سے بڑا خطرہ بھوک سے لوگوں کی ہلاکتیں ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان

اب نہیں کوئی بات خطرے کی اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ...