بنیادی صفحہ / قومی / وزیر اعظم کا ملک گیر لاک ڈاون میں 2ہفتے توسیع کا اعلان

وزیر اعظم کا ملک گیر لاک ڈاون میں 2ہفتے توسیع کا اعلان

ذخیرہ اندوزوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی۔وزیر اعظم عمران خان
ہم کرونا وائرس اور بے روزگاری جیسے دو محاذوں پر لڑ رہے ہیں
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام آباد
وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے سبب ملک میں جاری لاک ڈان میں مزید دو ہفتے کی توسیع کا اعلان کردیا ہے۔اسلام آباد میں نیشنل کورآرڈینیشن کے اجلاس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس کا پھیلا روکنے کے لیے ہم نے کرکٹ میچ، گرانڈ، دکانیں، شاپنگ مال، شادی ہال سمیت جہاں بھی لوگ جمع ہوسکتے تھے ان سب کو بند کردیا کیونکہ اگر ایسا نہ کرتے تو وائرس تیزی سے پھیل سکتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اس وائرس کی ایک عجیب چیز ہے کہ جہاں بھی لوگ جمع ہوتے ہیں وہاں یہ تیزی سے پھیلتا ہے اور اسی لیے دنیا بھر میں لاک ڈان کردیے گئے ہیں تاکہ لوگوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے عوام کے تحفظ اور وائرس کو پھیلا سے روکنے کے لیے لاک ڈان میں مزید 2 ہفتے توسیع کا فیصلہ کیا ہے۔وزیر اعظم نے قوم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے عوام نے تعاون کرتے ہوئے وائرز کو زیادہ تیزی سے پھیلنے سے روکنے کیلئے بھرپور تعاون کیا جس پر ہم ان کے شکر گزار ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وائرس ہمارے اندزوں سے محض 30فیصد پھیلا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جو کم از کم تخمینہ لگایا تھا اس لحاظ سے اب تک 190 اموات ہونی چاہئے تھیں لیکن ہمارے موثر اقدامات اور لاک ڈان کی بدولت آج اموات کی تعداد اس کی نسبت انتہائی کم ہے۔وزیر اعظم نے دعوی کیا کہ ہمارے اقدامات کی بدولت کیسز ہم ننے جو اندازہ لگایا تھا اس کے مقابلے میں صرف 30فیصد رپورٹ ہوئے ہیں جو ایک اچھی خبر ہے اور امریکا، اٹلی اور اسپین سمیت باقی دنیا کے مقابلے میں ہمارے ملک میں اموات بھی بہت کم ہوئیں۔وزیراعظم نے خبردار کیا کہ یہ وائرس کسی بھی وقت پھیل سکتا ہے تو ہمیں احتیاط کرنا نہیں چھوڑنا چاہیے، سب کو احتیاط کرنی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ جس لحاظ سے یہ وائرس پھیل رہا ہے، اگر اسی طرح پھیلا تو ہمارا صحت کا نظام اس کا بوجھ برداشت کر لے گا جہاں ہم نے اس کی مدد کے لیے وینٹی لیٹرز، ادویہ، حفاظتی کٹس وغیرہ منوائی ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم سے بداحتیاطی ہوئی اور یہ وائرس پھیلا تو پھر ہمارا نظام صحت اس بوجھ کو برداشت نہیں کر سکے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ ہم دو محاذوں پر لڑ رہے ہیں جس میں سے ایک کورونا وائرس کا پھیلا روکنا ہے اور دوسرا مسئلہ بیروزگاری ہے جو سب جگہ پھیل چکی ہے اور ہمیں لاک ڈان برقرار رکھتے ہوئے انہیں ریلیف فراہم کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ غریبوں کی مدد کے لیے ہم نے احساس پوگرام شروع کیا جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا پروگرام ہے اور کبھی بھی اتنی جلدی ہمارے ملک میں ایمرجنسی پروگرام متعارف نہیں کرایا گیا۔وزیر اعظم نے اپنے پرانے موقف کو ایک مرتبہ پھر دہراتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام میں کسی بھی قسم کی سیاسی مداخلت نہیں ہے اور مجھے فخر ہے کہ یہ مکمل طورپر میرٹ پر ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ اس پروگرام میں ابتدائی طور پر چھوٹ گئے ہیں ان کے لیے ایس ایم ایس سروس شروع کی جا رہی ہے جس کے ذریعے انہیں بھی 12ہزار روپے کی رقم مل سکے گی۔عمران خان نے بتایا کہ احساس پروگرام کے تحت اب تک 28لاکھ خاندانوں کو پیسہ مل چکا ہے اور ان میں 45ارب روپے تقسیم کیے گئے ہیں اور یہ پروگرام چلتا رہے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نئے دیہاتوں میں کسی بھی قسم کی پابندی نہیں لگائی اور اب گندم کی کٹائی کا بھی سیزن ہے جس سے لوگوں کو روزگار بھی ملے گا اور ہمارے پاس وافر مقدار میں اناج بھی ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آج سے شہروں میں تعمیرات سمیت کئی صنعتوں کو کھول دیں اور اس معاملے پر تمام صوبوں میں تفصیلی مشاورت ہوئی ہے جس کے بعد 98فیصد اتفاق رائے ہو گیا ہے کہ ہم نے کونسی صنعت کھولنی ہے اور کونسی نہیں کھولنی۔عمران خان نے واضح کیا کہ 18ویں ترمیم کے بعد صبوں کے پاس اختیارات ہیں تو آج بھی اگر کوئی صوبہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ ابھی صنعتیں کھولنے کیلئے تیار نہیں ہیں یا وہ اس معاملے کو موخر کرنا چاہتے ہیں تو یہ اختیار ان کے پاس ہے اور وفاق ان پر اپنی سوچ لاگو نہیں کرے گا۔وزیر اعظم نے تعمیراتی صنعت کھولنے کے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ موڈیز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ جس صنعت کو وائرس سے سب سے کم خطرہ ہے اس میں تعمیراتی صنعت سرفہرست ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہم کل کنسٹرکشن انڈسٹری کے لیے ایک آرڈیننس لے کر آ رہے ہیں جو پاکستان کی کنسٹرکشن کی صنعت کے لیے ایسا پیکج ہو گا جو آج تک پاکستان کی تاریخ میں نہیں دیا گیا۔عمران خان نے بیرون ملک پھنسے ہوئے پاکستانیوں کو پیگام دیا کہ حکومت اس مسئلے کو بھی سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے لیکن ابتدائی طور پر وائرس باہر سے آنے والے افراد سے پھیلنے کی وجہ سے صوبوں میں بہت خوف ہے کہ اگر ہم نے مکمل تیاری کے بغیر ہم نے پاکستانیوں کو آنے دیا تو خدشہ ہے کہ یہ تیزی سے پھیل سکتا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ رمضان المبارک آ رہا ہے اور اس ماہ مبارک میں لوگ مساجد بھی جاتے ہیں تراویح وغیرہ بھی پڑھتے ہیں تو میں نے تمام مکاتب فکر کے علما کو بلانے کا فیصلہ کیا ہے جن سے ہم مشاوترت کریں گے کہ ہم کیا اقدامات اٹھائیں کہ عبادت بھی کر سکیں اور کورونا سے بھی بچا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ ہم تمام مکاتب فکر کے علما سے مشاورت کے بعد انشااللہ رمضان سے پہلے آپ سب کو بتائیں گے کہ ہم اس میں توازن کیسے قائم کر سکتے ہیں۔وزیر اعظم نے کہا کہ اس ملک کو دو بڑی چیزوں سے خطرہ ہے، ایک اسمگلنگ ہے، باہر ممالک میں گندم کی قیمت بڑھ گئی ہے اور لوگ خوف کا شکار ہو کر گندم جمع کر رہے ہیں جس سے ہمارے ملک سے گندم کی اسمگلنگ کا خطرہ ہے۔عمران خان نے کہا کہ ہمارے ڈالر بھی اسمگل ہو کر جاتے ہیں اور اسی وجہ سے ہم اسمگلنگ اور ذخیرہ اندوزی کرنے والوں کے خلاف آرڈیننس لے کر آ رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اسمگلنگ کرنے والوں کو سخت ترین سزائیں دی جائیں گی، ہم لوگوں کو پیسے دے رہے ہیں لیکن اگر ذخیرہ اندوزی سے چیزوں کی قیمت ہی اوپر چلی جائیں گی تو ان لوگوں کا پیسہ بہت جلدی ختم ہو جائے گا۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہر سال رمضان المبارک سے قبل ذخیرہ اندوزی کر کے مصنوعی مہنگائی کی جاتی ہے اور اس سے چند لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں لیکن اب سخت ترین سزائیں دی جائیں گی جبکہ ذخیرہ اندوزی پر ہم منیجر کو نہیں بلکہ مالک کو پکڑیں گے اور سزائیں دیں گیجبکہ وزیر اعظم کے معاونِ خصوصی برائے صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلے سے لگائے گئے تخمینوں کے برعکس مصدقہ متاثرین اور ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کم رہی ہے جو اس بات کا مظہر ہے کہ حکومت نے بروقت فیصلے لیے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ صوبائی سطح پر لگائے گئے تخمینوں کے برعکس صوبہ سندھ میں متاثرین کی تعداد اب زیادہ ہے۔ معاون خصوصی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں شرح اموات 1.7 فیصد ہے جبکہ ملک میں مجموعی طور پر 51432 ٹیسٹ کیے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ملک میں 37 لوگ اس وقت وینٹیلیٹر پر ہیں۔ماہرین کی مدد سے ہم نے تخمینے لگانے کی کوشش کی ہے۔ ان اندازوں کے مطابق ہمارا تخمیہ تھا کہ 14 اپریل تک ملک میں مصدقہ متاثرین 18 ہزار سے تجاوز کر جائیں گے مگر اب یہ پانچ ہزار سے کچھ زیادہ ہیں جو کہ خوش آئند بات ہے۔ اموات کے حوالے سے ہمارا تخمینہ 191 تھا مگر آج پاکستان میں صرف 100 کے لگ بھگ اموات ہیں اور اس کی وجہ حکومت کا بروقت فیصلے لینا ہے۔انھوں نے کہا کہ جہاں مجموعی طور پر پاکستان میں حکومتی اقدامات کا مثبت نتیجہ آیا وہیں صوبائی سطح پر دیکھنے سے معلوم ہوا کہ صوبہ سندھ نے اگرچہ جلد سخت اقدامات کیے مگر تخمینے کے مطابق سندھ میں کیسز کی تعداد زیادہ ہے جبکہ پنجاب میں کم۔بلوچستان حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے صوبے میں کورونا کے سات مزید کیسز کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ نئے مریض سامنے آنے کے بعد بلوچستان میں مصدقہ متاثرین کی تعداد 248 ہو گئی ہے۔ترجمان کے مطابق متاثرین میں سے لگ بھگ 100 افراد کورونا کی مقامی سطح پر منتقلی کے نتیجے میں اس مرض کا شکار ہوئے ہیں۔ بلوچستان میں نئے کیس سامنے آنے کے بعد ملک میں مصدقہ متاثرین کی مجموعی تعداد 5832 ہو گئی ہے۔سپریم کورٹ کی جانب سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس گلزار احمد، ان کے اہلخانہ اور سیکریٹری کا کورونا ٹیسٹ منفی آیا ہے۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے ایک نائب قاصد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد ان افراد کے کورونا ٹیسٹ کیے گئے تھے۔ اعلامیے کے مطابق قومی ادارہ صحت نے خطرے کے پیش نظر سپریم کورٹ کے تین ججز سمیت 37 دیگر ملازمین کے ٹیسٹ آج لیے ہیں جن کے نتائج جلد ہی متوقع ہیں۔ان ملازمین میں تین پولیس والوں سمیت مالی اور سکیورٹی کا عملہ بھی شامل ہے۔ اعلامیے کے مطابق ایسے افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں جن کا تعلق یا میل جول متاثرہ نائب قاصد سے تھا۔اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اگر آج لیے گئے ٹیسٹس میں سے کوئی ٹیسٹ مثبت آیا تو سپریم کورٹ کے تمام ملازمین کے ٹیسٹ لیے جائیں گے۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ متاثرہ نائب قاصد کو پولی کلینک ہسپتال میں آئسولیٹ کر دیا گیا ہے۔قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد وفاقی وزیر حماد اظہر نے آگاہ کیا کہ اشیائے ضروریہ، توانائی، ذرائع ابلاغ، بینکاری اور ریلیف سے متعلقہ تمام صنعتیں پہلے سے ہی کھلی ہیں اور ان کو کھلا رکھنے پر وفاق اور تمام اکائیوں میں اتفاق رائے تھا۔انھوں نے کہا کہ اب ایسی صنعتیں کل سے کھولی جا رہی ہیں جہاں سے وبا کے پھیلنے کے خطرات کم ہوں گے۔انھوں نے کہا کہ صوبوں سے مشاورت کے بعد مندرجہ ذیل صنعتیں کھولی جا رہی ہیں:کیمیکل مینوفیکچرنگ پلانٹس، ای کامرس، سافٹ ویئر ڈیویلپمنٹ اور پروگرامنگ، پیپر اینڈ پیکجنگ یونٹس، سیمنٹ پلانٹس، فرٹیلائزر پلانٹس، مائنز اینڈ منرلز، ڈرائی کلینر سروسز، پودوں کی نرسریاں، زراعت کی مشینری اور آلات بنانے والے یونٹس، گلاس مینوفیکچرنگ یونٹس، جانوروں کو طبی امداد فراہم کرنے والی سروسز بشمول جانوروں کے ہسپتال، تمام ایکسپورٹ انڈسٹریز بشرطیکہ ان کے ایکسپورٹ آرڈرز کی پہلے تصدیق کی جائے گی، کتابوں اور سٹیشنری کی دکانیں، اینٹوں کے بھٹے اور بجری کے کرشنگ پلانٹس۔حماد اظہر کا کہنا تھا کہ یہ تمام صنعتیں ان حفاظتی اقدامات کے بعد کھولی جائیں گی جن کا ان ایس او پی میں ذکر ہے اور جو صوبوں کو پہلے ہی فراہم کیے جا چکے ہیں۔انھوں نے کہا صوبوں اور مرکز میں دو جگہ پر اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔الیکٹریشن، پلمبرز، ترکھان، درزی، ریڑھی اور چھابڑی لگانے والوں کے حوالے سے وفاق کی رائے تھی کہ ان کو کھولا جائے تاکہ ان کا روزگار بحال ہو سکے مگر بعض صوبوں نے اس سے اتفاق نہیں کیا۔حماد اظہر نے کہا کہ تعمیراتی شعبے کو بتدریج کھولا جائے گا تاہم کنسٹرکشن سائٹس کو کھولنے کے حوالے سے بھی مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا ہے۔انھوں نے کہا کہ صنعتوں کو کھولنے کے حوالے سے نظر ثانی جاری رہے گی اور رمضان سے قبل مزید صنعتیں بھی کھولی جائیں گی۔
وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان میں جزوی لاک ڈان میں آئندہ دو ہفتوں کی توسیع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔یہ فیصلہ قومی رابطہ کمیٹی کے اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں مشاورت کے بعد سامنے آیا ہے جس کا اعلان وزیر اعظم نے خود کیا ہے۔لاک ڈان آگلے دو ہفتوں تک جاری رہے گا مگر ایسی جگہوں پر جہاں عوامی اجتماع ہو سکتا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ آئندہ دو ہفتے تک ہوٹلز، شاپنگ مالز، سپورٹس ایونٹس اور دیگر غیر ضروری اجتماعات پر پابندی رہے گی۔وزیر اعظم نے کل سے پاکستان میں تعمیراتی شعبے اور چند صنعتوں کو کھولنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ قوم نے لاک ڈان کے ذریعے اپنے آپ کو محفوظ رکھا اگرچہ اس میں انھیں مشکلات کا سامنا بھی ہوا اور کئی افراد کا روزگار بھی ختم ہوا۔وزیر اعظم کے مطابق تعمیراتی صنعت کھول دی گئی ہے اور اس بارے میں تمام صوبوں کے وزرائے اعلی سے مشاورت کرنے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ اندازوں کے مطابق پاکستان میں اب تک 190 افراد ہلاک ہو سکتے تھے تاہم ملک میں اب تک صرف سو کے لگ بھگ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ اپنے ذہن میں رکھیں کہ کورونا وائرس کسی بھی وقت پھیل سکتی ہے اور اسی وجہ سے ہمیں احتیاط کرنا نہیں چھوڑنا چاہیے۔وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر یہ بیماری اس طرح آہستہ انداز سے پھیلتی رہی تو ہمارے ملک میں موجودہ صحت کی سہولیات کافی ہیں مگر اگر یہ مرض تیزی سے پھیلا تو ہمارا صحت کا نظام اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گا اس لیے احتیاط کریں۔اگر کوئی صوبہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ ابھی لاک ڈان کو ہٹانے یا نرم کرنے پر تیار نہیں ہیں تو 18 ویں ترمیم کے بعد ان کو اختیار ہے کہ وہ اپنا فیصلہ لے سکتے ہیں۔ مرکز ان پر اپنی سوچ مسلط نہیں کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ لاک ڈان کے حوالے سے صوبوں میں 98 فیصد ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔کل ایک آرڈیننس لایا جا رہا ہے جس کے ذریعے تعمیراتی شعبے کے لیے پیکج کا نفاذ کیا جائے گا۔پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور بلوچستان میں کورونا وائرس کے نئے مریض سامنے آنے کے بعد ملک میں اب مصدقہ متاثرین کی تعداد 5825 ہو چکی ہے۔ ملک میں ہلاکتوں کی مجموعی تعداد اب 101 ہے۔آزاد کشمیر کے حکام کے مطابق یہاں مزید تین مزید افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جس کے بعد کشمیر میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد 46 ہو گی ہے۔ضلع سدھنوتی کے ڈپٹی کمشنر راجہ ندیم جنجوعہ نے بتایا کہ سدھنوتی میں ایک شخص میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے جو کہ 26 مارچ کو لاہور سے سفر کر کے سدھنوتی آیا تھا۔ ان کے مطابق کووڈ 19 کی تشخیص کے بعد اس شخص کے خاندان کو قرنطینہ سینٹر منتقل کرنے کے علاوہ اس کے علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے۔دوسری جانب ضلع راولاکوٹ کے ڈپٹی کمشنر مرزا ارشد کے مطابق عباسپور سے تعلق رکھنے والے دو افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے یہ دونوں افراد لاہور میں کورونا وائرس کے باعث سب سے پہلے ہلاک ہونے والے بزرگ کے رابطے میں تھے جب وہ یہاں ایک عزیز کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے آئے تھے۔ان میں کورونا کی تشخیص کے بعد 20 سے زائد افراد کو قرنطینہ سینٹر لایا گیا جن میں سے یہ دو افراد بھی شامل ہیں۔ یاد رہے عباسپور میں قرنطینہ سنٹر میں رکھے گے افراد میں سے چار افراد اس سے قبل بھی وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں جس کے بعد عباسپور میں متاثر ہونے والے افراد کی تعداد چھ ہو چکی ہے۔ راولاکوٹ سے تعلق رکھنے والے کورونا کا ایک مریض صحت یاب ہوگیا ہے جسے آج آئیسولیشن ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے جس کے بعد اس خطے میں صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد چار ہو گئی ہے۔ترجمان بلوچستان حکومت لیاقت شاہوانی کے مطابق صوبے میں کورونا وائرس کے مصدقہ متاثرین کی تعداد بڑھ کر 241 ہو گئی ہے۔ترجمان کے مطابق گذشتہ چند گھنٹوں میں مزید آٹھ افراد میں کورونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہوئء ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ تینوں کیس وائرس کی مقامی سطح پر منتقلی کی ہیں۔بلوچستان میں آٹھ نئے کیسز سامنے آنے کے بعد پاکستان میں کورونا کے مصدقہ متاثرین کی تعداد 5822 ہو گئی ہے جبکہ اموات کی مجموعی تعداد 101 ہے۔ ملک میں اب تک 1386 افراد اس مرض سے صحت یاب ہو چکے ہیں۔وفاقی کابینہ نے پاکستان میں ذخیرہ اندوزی کے خلاف آرڈیننس لانے کے فیصلے کی منظوری دے دی ہے۔وزیر اعظم کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہونے والوں فیصلوں پر میڈیا بریفنگ دی۔معاون خصوصی کے مطابق وزیر اعظم عمران خان کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں اقتصادی رابطہ کمیٹی کے فیصلوں کی توثیق دی گئی ہے۔ ان کے مطابق ذخیرہ اندوزوں کے خلاف قانون لایا جا رہا ہے جس کے تحت ذخیرہ اندوزوں کو سخت سے سخت سزائیں دینے کی تجویز ہے۔معاون خصوی کے مطابق آج وزیر اعظم عمران خان قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کریں گے اور اجلاس کے فیصلوں سے آگاہ کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ ہی دیر میں قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس شروع ہونے جا رہا ہے اور اجلاس کے بعد اہم فیصلوں کا اعلان وزیر اعظم خود کریں گے۔معاون خصوصی نے آگاہ کیا کہ کابینہ کے سامنے آٹھ ایجنڈہ آئٹم رکھے گئے تھے۔ کابینہ کے ممبران نے اپنے اپنے حلقوں میں احساس پروگرام کے تحت رقوم کی تقسیم کے حوالے سے آگاہ کیا اور مزید بہتری کے حوالے سے تجاویز بھی دی گئیں۔فردوس عاشق اعوان کے مطابق اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ یہ پروگرام میرٹ کی بنیاد پر شروع کیا گیا ہے اور یہ تمام تر سیاسی وابستگیوں سے بالاتر ہے۔ وزیر اعظم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستانیوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے گی۔
کورونا وائرس کے باعث کاروبار بند ہونے کے وجہ سے دنیا بھر میں مقیم کئی ہزار پاکستانی اپنی نوکریوں سے فارغ کر دیے گئے ہیں، لیکن ساتھ ہی ساتھ تارکین وطن کی جانب سے بھیجی جانے والی رقوم میں غیر معمولی اضافہ بھی ہوا ہے۔پنجاب حکومت نے اپنے سرکاری محکمے 15 اپریل سے کھولنے کا فیصلہ کیا ہے۔جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے مطابق تمام محکموں میں کورونا وائرس سے بچا کے لیے ایس اوپیز یعنی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔انتظامیہ کے سیکرٹریز کام کے لیے دفاتر آ سکیں گے۔دوسری طرف نوٹیفیکیشن کے مطابق کچھ عملہ گھروں میں بیٹھ کر آئن لائن کام کرے گا۔گلگت بلتستان میں حکام کے مطابق کورونا کے چھ نئے مریضوں کی تصدیق ہوئی ہے جن میں سے تین کا تعلق چلاس سے ہے۔ خطے میں کل متاثرین 233 ہیں۔اس وقت 74 افراد زیر علاج ہیں، 155 صحتیاب ہوچکے ہیں جبکہ تین اموات پیش آئی ہیں۔گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق کے مطابق چلاس میں تین نئے مریضوں کا تعلق تبلیغی جماعت سے ہے جبکہ تینوں حال ہی میں تبلیغی جماعت کے دورے سے واپس آئے تھے۔صحتیاب ہونے والوں میں ایک 60 سالہ اور ایک 80 سالہ مریض بھی شامل ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ چلاس میں تین مریضوں کے مثبت ہونے کے بعد ان سے رابطے میں رہنے والوں کی شناخت کی جارہی ہے۔پاکستان بھر میں کورونا وائرس کے نئے متاثرین سامنے آرہے ہیں جن میں طبی عملے کے اہلکار بھی شامل ہیں۔خیبر پختونخوا کی صوبائی ڈاکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق اب تک ہمارے سات سے آٹھ ڈاکٹروں میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوچکی ہے۔چھ، سات نرسز، سات آٹھ پیرا میڈکس عملہ بھی کورونا سے متاثر ہوا ہے۔انھوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ صوبے میں کئی ڈاکٹر، نرسز اور پیرامیڈک عملہ اس وبا سے متاثر ہو رہا ہے جس کی تشخیص تاحال ممکن نہیں ہوسکی۔انھوں نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ تمام ڈاکٹرز اور طبی عملے کو کووڈ 19 سے بچا کے لیے خفاظتی کٹس دی جائیں اور ہسپتالوں میں مزید کورونا ٹیسٹنگ کٹس فراہم کی جائیں۔پنجاب اسمبلی میں ایک نئی قرارداد جمع کرائی گئی ہے جس میں مساجد میں اقدامات کے حوالے سے مطالبات کیے گئے ہیں۔کورونا وائرس کے خدشے کے پیش نظر رکن پنجاب اسمبلی ربعیہ نصرت نے ایک قرارداد جمع کرائی ہے جس میں مساجد میں ڈس انفیکشن واک تھرو گیٹ نصب کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔یہ کہا گیا ہے کہ مساجد میں نمازیوں کی سہولت کے لیے فوری طور پر حفاظتی انتظامات کیے جائیں۔محکمہ تعلیم حکومتِ بلوچستان نے تمام نجی سکولوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ والدین کو تین ماہ تک فیسوں میں 20 فیصد رعایت دیں۔ایک سرکاری نوٹیفیکیشن کے مطابق تمام نجی سکولوں کے مالکان ٹیچرز اور عملے کو بغیر کٹوتی تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کرنے کے پابند ہوں گے۔اس میں کہا گیا ہے کہ تین ماہ کے دوران کوئی بھی سکول مالک کسی ٹیچر یا عملے کو ملازمت سے برطرف نہیں کر سکے گا۔نوٹیفیکیشن کے مطابق پالیسی کی خلاف ورزی کرنے والے سکولوں کی رجسٹریشن منسوخ کی جائے گی-یاد رہے کہ سندھ کے صوبائی محکمہ تعلیم نے بھی اسی طرح کی ایک ہدایت جاری کی تھی جس میں بچوں کی فیسوں میں دو ماہ کے لیے 20 فیصد رعایت کی ہدایات دی گئی تھی۔نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر نے امدادی سرگرمیوں اور لاک ڈان سے متعلق نئی تجاویز تیار کر لی ہیں جنھیں قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی اسد عمر کی زیر صدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سنٹر کے اعلی سطحی اجلاس میں قومی رابطہ کمیٹی سے حتمی منظوری کے لیے سفارشات تیار کی گئی ہیں۔یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگلے تین ہفتوں میں 1959 مسافروں کو وطن واپس لایا جائے گا۔ تمام پھنسے پاکستانیوں کی واپسی میں تین ماہ لگیں گے۔اجلاس میں ہر ہفتے 8000 پاکستانیوں کی واپسی یقینی بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ان تمام مسافروں کو قرنطینہ مراکز میں رکھا جائے گا۔ایک تجویز کے مطابق ہوائی سفری سے متعلق ایس او پیز کا 16 اپریل کو دوبارہ جائزہ لیا جائے گا۔ سیالکوٹ کے علاوہ باقی سات بین الاقوامی ایئرپورٹس کو کھولا جائے گا۔وزارت داخلہ نے سرحدیں مزید دو ہفتوں تک بند رکھنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس کے مطابق واہگہ بارڈر 29 اپریل تک جبکہ مغربی سرحد 26 اپریل تک بند رہے گے۔کرتارپور راہداری کو 24 اپریل تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں نقل و حرکت کے لیے 26 ٹرینیں دستیاب ہیں جبکہ ریلوے کے 48 ہسپتال اور 36 ڈسپنسریاں دستیاب ہیں۔اجلاس میں بتایا گیا ہے کہ صنعتوں کو مرحلہ وار کھولنے کے لیے ہدایات تیار کر لی گئی ہیں جن کے مطابق مالکان ان پر عمل کرانے کے پابند ہوں گے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ رمضان المبارک میں عبادات سے متعلق ہدایات علما سے مشاورت سے تیار ہوں گی جس میں تراویح، پانچ وقت کی نمازیں اور روزہ کشائی کے حوالے سے امور طے کیے جائیں گے۔رمضان بازار اور جمعہ بازار کے انعقاد کے لیے خصوصی انتظامات کیے جائیں گے۔ وزارت داخلہ کو علما سے مشاورت کی ذمہ داری سونپی دی گئی ہیں۔ پاکستان انجینئرنگ کونسل پانچ اقسام کے وینٹی لیٹرز تیار کر رہی ہے۔وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے بتایا ہے کہ صوبے میں کورونا وائرس کے 66 نئے مریضوں کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد کل متاثرین کی تعداد 1518 ہوگئی ہے۔سندھ میں گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 مزید اموات ہوئی ہے جس کے بعد ہلاک ہونے والی کی مجموعی تعداد 35 ہوگئی ہے۔مزید آٹھ افراد صحتیاب ہوئے ہیں۔ صحتیاب ہونے والے کل افراد کی تعداد 427 ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اموات کی شرح 2.3 ہوگئی ہے جو ایک تشویشناک بات ہے

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

سلیکٹڈ حکومت کا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں۔بلاول بھٹو

رپورٹ: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) پشاور پاکستان پیپلز پارٹی ...