بنیادی صفحہ / قومی / وزیراعظم عمران خان کو جانا پڑے گا۔بلاول بھٹو زرداری

وزیراعظم عمران خان کو جانا پڑے گا۔بلاول بھٹو زرداری

قومی اسمبلی اجلاس:اپوزیشن کی نیب آرڈیننس میں 35 ترامیم تجویزممکن نہیں، وزیر خارجہ
حکومت کا یکطرفہ ‘نیب نیازی گٹھ جوڑ’ کارروائیوں کا سلسلہ جارہی ہے۔شہباز شریف
مڈٹرم انتخابات یا ان ہاوس تبدیلی سے متعلق فیصلہ کریں گی۔مشترکہ پریس کانفرنس
رپورٹ:چودھری احسن پریمی:ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اپوزیشن نے قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈیننس میں 35 ترامیم تجویز کیں، جنہیں منظور کرنا ممکن نہیں ہے۔ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیرِ صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)کی حکومت میں آنے سے پہلے ہی پاکستان گرے لسٹ میں آچکا تھا اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ فیصلہ یک دم نہیں ہوا بلکہ یہ طویل کوتاہیوں کی داستان ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو اس فہرست میں شامل کیا گیا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ اپوزیشن اراکین سمیت ہم سب یہ چاہتے ہیں کہ گرے لسٹ کی تلوار جو ہمارے سروں پر لٹک رہی ہے اس سے آزادی حاصل کریں۔انہوں نے کہا کہ بھارت کی ایک واضح پالیسی ہے کہ پاکستان کو گرے لسٹ سے بلیک لسٹ کی طرف دھکیل دے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر پاکستان، بلیک لسٹ میں چلا جاتا ہے تو جو معاشی بدحالی، جو پابندیاں لاگو ہوں گی، اس سے مہنگائی کا طوفان پیدا ہوگا اور سرمایہ کاری کو نقصان پہنچے گا۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مہنگائی کا جو جن بوتل سے باہر آئے گا اس سے بیروزگاری پیدا ہوگی اور بھارتی سازشی عناصر اس سے پوری طرح باخبر ہیں اور یہی ان کی کوشش ہے کہ پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلا جائے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہر فورم پر بھارت، پاکستان کو بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی کوشش کرتا رہا ہے اور ہم اسے گرے لسٹ سے نکالنے کی جستجو کررہے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ہم نے سفارتکاری کا سہارا لیا اور جتنے بھی پاکستان کے دوست ممالک ہیں جیسا کہ ترکی، سعودی عرب، ملائیشیا کے ساتھ سفارتی طور پر مصروف عمل ہوئے تاکہ اگر بھارت ہمیں بلیک لسٹ میں دھکیلنے کی کوشش کرے تو اسے روکنے کے لیے ہمارے پاس معقول تعداد میں ووٹ ہونے چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے اپنی منصوبہ بندی سے انتظامی اور اصلاحی اقدامات کے ذریعے بھارت کی کوششوں کا راستہ بند کیا اور پیرس میں ہونے والے ایف اے ٹی ایف کے آخری اجلاس میں پاکستان کی کاوشوں کا اعتراف کیا گیا اور انہیں سراہا گیا لیکن کہا کہ کچھ ذمہ داریاں ہیں جو پوری کرنی ہیں۔وزیر خارجہ نے وزارت خزانہ، ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کی نمائندگی کرنے پر وفاقی وزرا اسدعمر اور حماد اظہر کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش یہی ہے کہ ہم اس گرے لسٹ سے آزادی حاصل کریں جس کے لیے ہمیں کچھ قانون سازی درکار ہے اور ہم نے کچھ بلز متعارف کروائے ہیں اور تقریبا 11 کے قریب چیزیں ایسی ہیں جہاں قانون سازی درکار ہے۔شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ اپوزیشن سے مذاکرات کریں ہم ان سے امداد کے طلبگار ہیں کیونکہ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن پاکستان کے مفادات مقدم ہیں، ہم آج یہاں ہیں کل نہیں ہوں گے، ہم سے بڑی ہستیاں آئیں اور چلی گئیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اس چیز کو اور وقت کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے اپوزیشن کو دعوت دی کہ ان پر مذاکرات کرلیں اور ایسے 4 بلز کی شناخت کی گئی جن پر ہمیں فوری قانون سازی کی ضرورت ہے کیونکہ آج ہم قانون سازی کریں گے تو وہ رپورٹ ایشیا پیسیفک گروپ کے پاس جائے گی وہ اس کا تجزیہ کریں گے اور رپورٹ مرتب کرکے ایف اے ٹی ایف پلینری میں پیش کرے گی جہاں فیصلہ ہوگا کہ پاکستان نے گرے لسٹ میں رہنا ہے یا اس سے آزادی حاصل کرتا ہے اور وائٹ لسٹ میں آتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے جب اس ضرورت کو محسوس کیا تو اپوزیشن جماعتوں کے رہنماں سے بات چیت کا آغاز کیا اور انہوں نے خندہ پیشانی سے اس کی اہمیت کو جانچا میں نے ان کا شکر گزار ہوں جنہوں نے کہا کہ ہم اس پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ یہ بلز ہم نے دونوں ایوانوں سے منظور کروانے ہیں اور ایک بل ایسے ہیں جو قومی اسمبلی پاس کرچکی ہے لیکن سینیٹ میں پاس ہونا ہے جبکہ دیگر 3 پیش کیے جاچکے ہیں لیکن منظور ہونے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے اس ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی کمیٹی تشکیل دی جس میں اپوزیشن، حکومت اور اس کی حلیف جماعتیں شامل تھیں جن کے مذاکرات ہوئے اور تبادلہ خیال بھی ہوا لیکن ایک چیز جو کم از کم میرے لیے چونکادینے والی تھی اور اس حوالے سے اپوزیشن سے گزارش بھی کی تھی کہ اس پر نظرثانی کریں۔بات کو جاری رکھتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ اپوزیشن نے کہا تھا کہ ہم ایف اے ٹی ایف پر مذاکرات کرنے کو تیار ہیں لیکن قومی احتساب بیورو (نیب) آرڈیننس پر بھی قانون سازی چاہتے ہیں اور ان دونوں کو یکجا کرکے بیک وقت آگے بڑھیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ میں نے اپوزیشن سے گزارش کی تھی ہم آپ کی بات کو رد نہیں کرتے لیکن ایف اے ٹی ایف کا معاملہ وقت کا پابند ہے لیکن اپوزیشن کے اس پیکیج ڈیل پر حیرت ہوئی اور پھر گزارش کرتا ہوں کہ جس بل سے متعلق اپوزیشن کی خواہش ہے یہ بل پچھلے 10 سال سے زیرِ بحث رہا ہے جس میں 5 سال پیپلزپارٹی اور 5 سال مسلم لیگ(ن) کی حکومت تھی اور دونوں نے اس حوالے سے کوشش بھی کی ہوگی۔انہوں نے کہا کہ آج (28 جولائی) کو اجلاس ختم ہونا تھا لیکن قانون سازی کی وجہ سے ہم نے اسے 30 جولائی تک جاری رکھا ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم اس بل کو منظور کرنا چاہتے ہیں ان 4 میں سے 2 انسداد دہشت گردی سے متعلق ہیں، ایک بل ایف اے ٹی اے سے متعلق اقوام متحدہ سلامتی کونسل کے حوالے سے ہے اور ایک بل میوچل لیگل سسٹم سے متعلق ہے اور پانچواں نیب آرڈیننس میں ترمیم سے متعلق اپوزیشن کی خواہش ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم نے ایک آرڈیننس اپوزیشن کو بھیجا جو ایوان میں بھی پیش کیا گیا لیکن منظور نہیں ہوا جس پر ان کا نقطہ نظر تھا کہ اس پر کوئی پیشرفت ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ایک مسودہ پیش کیا اور ہم سے شیئر بھی کیا ہم نے دیکھ کر کہا کہ ‘جوائنٹ پرپوزل بائے پیپپلز پارٹی اینڈ پی ایم ایل این’ کے عنوان سے مسودے پر شق وار نشست کرلیتے ہیں اور ان کا ایک ایک نقطہ سمجھا جس میں اپوزیشن نے نیب کے قانون میں 35 ترامیم تجویز کیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہماری قانونی ٹیم نے وہ تجاویز وزیراعظم کو پیش کیں جس کے بعد حکومت کا مقف پیش کرنا تھا اور میں نے بتایا کہ جو ترمیم چاہتے ہیں وہ پی ٹی آئی کے لیے ممکن نہیں کیونکہ انسداد بدعنوانی ہمارا بنیادی ایجنڈا ہے اور اس پر قانون سازی ہوجائے تو نیب کا ادارہ اور احتساب کا عمل بے معنی ہوجائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہماری رائے میں اس قانون میں کچھ قباحتیں ہیں تو انہیں ہم نے اپوزیشن کی خدمت میں پیش بھی کیا تھا، پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) چاہتی ہے کہ احتساب قانون کا اطلاق 16 نومبر 1999 سے ہو یعنی پچھلے 14سال کا عرصہ حذف ہوجائے اور نیب کے زمرے میں آنے والے کرپشن کے کیسز نظر سے اوجھل ہوجائیں گے جس کے لیے ہم تیار نہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ چیئرمین نیب کی مدت میں کمی کی تجویز کی گئی جبکہ موجودہ چیئرمین کے چنا اور تقرر میں پی ٹی آئی کا ہاتھ نہیں تھا کیونکہ آئین کے مطابق یہ فیصلہ قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف کا فیصلہ تھا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کہتا ہے کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت یہ 2 اہم جزو ہیں اور وہ پاکستان کی جانب سے اس حوالے سے قانون سازی اور اقدامات اٹھانے کی توقع کرتے ہیں تاہم اپوزیشن جماعتوں کے مسودے میں منی لانڈرنگ کو حذف کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایسا ہوتا ہے تو پاکستان کو عالمی سطح پر اور ایف اے ٹی ایف میں نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اپوزیشن نے تجویز دی تھی کہ کرپشن کی رقم کا حجم ایک ارب سے زیادہ ہو تو وہ نیب کے زمرے میں آنا چاہیے دوسرے معنی
میں اگر 99 کروڑ 99 لاکھ 99 ہزار 999 روپے کی کرپشن ہو تو وہ کم از کم قومی احتساب بیورو کے زمرے میں نہیں آتی اور تحریک انصاف کے لیے اسے ہضم کرنا دقت کا باعث ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ اپوزیشن، منی لانڈرنگ کے لیے لی جانے والی معاونت کو الگ کرکے اسے پاکستان کے قانون شہادت سے جوڑنا چاہتے ہیں جبکہ اسے تسلیم کرنے پر ایف اے ٹی ایف کے مقصد پر ضرب آتی ہے اور اسے تسلیم کرنا ملک کے مفاد میں نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نیب سے سزا پانے والا شخص اگر سرکاری عہدے کا حامل ہو تو قانون کے مطابق وہ کم از کم 10 سال کے لیے نااہل قرار پائے گا جبکہ اپوزیشن جماعتوں کا خیال ہے کہ یہ مدت 5 سال ہونی چاہیے، چیئرمین نیب کی مدت میں توسیع کی گنجائش کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نے 5 برس سے پرانے کیسز کو نیب کے زمرے میں شامل نہ کرنے کی تجویز دی، ان کی نظر میں 6 جرائم کو حذف کرنا ضروری ہے جبکہ ہمارے لیے انہیں حذف کرنے کے بجائے درست کرنا ٹھیک ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ اپوزیشن نے سزا ہونے تک کسی کو گرفتار نہ کرنے کی تجویز دی لیکن بہت سے لوگ چور دروازے کے ذریعے ملک سے فرار ہوجاتے ہیں، ایک ایس ایچ او بکری کی چوری پر ایک عام آدمی کو گرفتار کرسکتا ہے لیکن اربوں کی چوری پر نیب کسی کو گرفتار نہ کرے مجھے اس پر تعجب ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمیں اس پر غور کرنا ہے کچھ مسائل ایسے ہیں جو قومی مفاد کے ہیں جبکہ کچھ ذاتی مفاد کے ہیں، اسی طرح کچھ قومی سلامتی کے مسائل ہیں اور کچھ ذاتی تحفظ کے ہیں اور میرے رائے میں انہیں ہم پلہ نہیں کرنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کا قومی مفاد یہ تقاضا کررہا ہے کہ سب چیزوں سے بالاتر ہو کر ایف اے ٹی ایف کے قوانین پر قانون سازی کرنی چاہیے اور تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایف اے ٹی ایف کے 3 تقاضے ہیں احتساب، شفافیت اور تعاون، ہماری قانونی ٹیم کہتی ہے کہ اگر ہم نیب آرڈیننس کی ترامیم نیک نیتی سے منظور کرلیتے ہیں تو اس اجلاس کا مقصد فوت ہوجائے گا اور ایف اے ٹی ایف سے ہمیں جو سہولت ملنی ہے وہ حاصل نہیں کرپائیں گے۔جبکہ مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے لاہور میں ملاقات کے بعد اعلان کیا ہے کہ عید کے بعد رہبر کمیٹی کا اجلاس ہوگا جس کی سفارشات ایجنڈے کے صورت میں اے پی سی میں پیش کی جائیں گی اور پھر حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔مذکورہ ملاقات کے بعد بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں شہباز شریف نے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت سے کوئی رعایت نہیں مانگی، حکومت کا یکطرفہ ‘نیب نیازی گٹھ جوڑ’ کارروائیوں کا سلسلہ جارہی ہے۔شہباز شریف نے کہا کہ خواجہ سعد رفیق کے کیس میں سپریم کورٹ کا فیصلہ ‘ہمہ گیر فیصلہ’ ہے، ہم احتساب کے عمل سے نہیں بھاگ رہے، احتساب کے نام پر وچ ہنٹنگ ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ کابینہ میں موجود وزرا آٹے، چینی اور پیٹرولیم کے اسکینڈل میں ملوث ہیں لیکن کسی کو نہیں پوچھا گیا۔صدر مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں موجودہ ملکی صورتحال کے بارے میں ایک پیج پر ہیں اور گزشتہ دو برس میں حکومت نے جو معاشی نقصان پہنچایا، اس کی مثال 70 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کووڈ 19 سے ہر چیز کی قیمت گری لیکن پاکستان میں ہر اشیا مہنگی ہوگئی۔شبہاز شریف نے کہا کہ چینی بحران اسکینڈل کے وقت چینی فی کلو 65 روپے تھی اور اب 100 روپے سے زائد ہوگئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا پہلی مرتبہ دیکھ رہے ہیں کہ گندم کی کٹائی کے بعد ملک میں گندم کا بحران سر اٹھائے کھڑا ہے اور وزیر زراعت کہنے پر مجبور ہیں کہ نہیں معلوم کہ گندم کہاں ہے۔مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے یوٹرن کے بعد سرمایہ کار ملک میں سرمایہ کاری کے لیے آمادہ نہیں ہیں، حکومت مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے۔علاوہ ازیں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ اپوزیشن جماعتیں مل کر مڈٹرم انتخابات یا ان ہاس تبدیلی سے متعلق فیصلہ کریں گی۔انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کی حکومت میں ملنے والے این آر او کی تعداد نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ زیر حراست بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے آرڈیننس کا اجرا ہوا اور اس کا تعلق وزارت خارجہ سے بھی ہے، اس لیے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی پہلے اس بات کا جواب دے دیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا اپنا نیب آرڈیننس فیل ہوچکا ہے، حکومت کا مقف ہے کہ نیب آرڈیننس چاہیے جبکہ اپوزیشن کہتی ہے کہ جو سپریم کورٹ کے ریمارکس ہیں ویسا ہی ہونا چاہیے.چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ اگر حکومت سمجھتی ہے کہ ایف اے ٹی ایف کا نام لے کر سابق صدر جنرل پرویز مشرف اور ضیاالحق جیسی آمرانہ طاقت حاصل کرلے گی، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) ایسا نہیں ہونے دے گی۔اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ اپوزیشن رہبر کمیٹی یا اے پی سی میں جو فیصلہ ہوگیا، ہم اس کے مطابق چلیں گے اور جہاں تک پاکستانی عوام کا تعلق ہے تو تمام صوبے کے عوام ایک پیج پر ہے اس لیے اپوزیشن کو جلد از جلد عوام کی امید پر پورا اترتے ہوئے ان کے مسائل کا حل نکالا چاہیے۔چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا تھا کہ اپوزیشن جماعتیں مل کر مڈٹرم انتخابات یا ان ہاس تبدیلی سے متعلق فیصلہ کریں گی۔کورونا وائرس سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ‘پاکستانی میڈیا اور بعض سیاسی جماعتوں نے مسلم لیگ(ن) کے صدر شہباز شریف کی صحت پر سیاست کی جو قابل مذمت ہے’۔پیپلز پارٹی کے رہنما رحمن ملک کے خلاف پاکستان میں مقیم امریکی بلاگر سنتھیا رچی کے الزام سے متعلق سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ رحمن ملک نے یقینا وزیر داخلہ کی حیثیت سے امریکی بلاگر سے ملاقات کی ہوگی لیکن وہ الزام کی بابت ضرور استفسار کریں گے۔خیال رہے کہ 5 جون کو اپنے فیس بک پیج پر جاری ایک لائیو ویڈیو میں پاکستان میں مقیم امریکی بلاگر سنتھیا رچی نے دعوی کیا تھا کہ ‘2011 میں سابق وزیر داخلہ رحمن ملک نے میرا ریپ کیا تھا، یہ بات درست ہے، میں دوبارہ کہوں گی کہ اس وقت کے وزیر داخلہ رحمن ملک نے میرا ریپ کیا تھا’۔پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ‘اگر ایک پارٹی کی تیاری دوسرے کے مقابلے میں کم ہوئی تو ہم توازن برقرار رکھنے کی کوشش کریں گے اور ایک دوسرے پر تنقید نہیں کریں گے’۔انہوں نے کہا کہ عید کے بعد رہبر کمیٹی مشاورت کے بعد ایجنڈا طے کرے گی اور اس کے بعد اے پی سی حکمت عملی مرتب کرے گی۔ان کا کہنا تھا کہ ہم مسلسل دو برس سے ایک بات بڑی وضاحت سے کررہے ہیں کہ عوام کا مینڈیٹ چوری کیا گیا جو واپس کیا جائے، ایک حقیقی مینڈیٹ کے ساتھ قوم کا نمائندہ نمائندگی کرے۔انہوں نے کہا کہ دوبرس میں ملکی معیشت تباہ ہوچکی ہے، شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد و تاجر چیخ رہے ہیں، ہماری ترجیح ملکی معیشت کو اٹھانا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اس حکومت کو جائز ہی نہیں سمجھتے، ہم نے پہلے دن سے موجودہ حکومت کے ہاتھوں بیعت نہیں کی کیونکہ یہ اب نااہل بھی ہے۔واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمن پہلے بھی موجودہ حکومت پر شدید تنقید کرتے رہے ہیں۔اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ ‘ایک بار کہہ دیا کہ یہ حکومت ناجائز ہے تو کسی کا باپ بھی اسے ہم سے جائز نہیں منوا سکتا جبکہ اب وقت آگیا ہے کہ ان حکمرانوں سے حساب لیا جائے’

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

سلیکٹڈ کو معلوم ہونا چاہیے برطانیہ قانون کے تحت چلتا ہے، مریم نواز

رپورٹ: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) مسلم لیگ(ن) کی نائب ...