بنیادی صفحہ / قومی / نواز شریف کو العزیزیہ ریفرینس میں سات برس قید، فلیگ شپ ریفرنس میں بری

نواز شریف کو العزیزیہ ریفرینس میں سات برس قید، فلیگ شپ ریفرنس میں بری


ایک ہی شخص کو کتنی بار نشانہ بنائیں گے؟ کتنی بار سزا دو گے؟ کتنی بار جیل بھیجو گے ؟۔ مریم نواز
شریفوں کے دعوے کسی بھی دستاویزی ثبوت سے بغیر ہیں اور یہ علم نہیں کہ اس مل کے لیے رقم کہاں سے آئی۔قومی احتساب بیورو
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو گزشتہ پیر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سات سال قید کی سزا سنائی ہے جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں انھیں باعزت بری کر دیا۔محمد نواز شریف کو احتساب عدالت نے العزیزیہ ریفرنس میں سات سال قید، دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی، ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ دیا ہے اور ساتھ ساتھ تقریبا پونے چار ارب روپے کا جرمانہ عائد کیا ہے۔سزا سنائے جانے کے بعد نواز شریف کو عدالت سے ہی حراست میں لے لیا گیا۔ اس موقعے پر عدالت میں موجود لیگی رہنما آبدیدہ ہو گئے۔نواز شریف نے

عدالت سے استدعا کی کہ انھیں راولپنڈی کے اڈیالہ جیل کے بجائے لاہور کی کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا جائے اور ان کی اس درخواست کو منظور کر لیا گیا اور انھیں اگلے روز لاہور منتقل کر دیاگیا۔نواز شریف کے علاوہ ان کے دونوں بچوں حسین اور حسن نواز کے خلاف ان کی غیر موجودگی میں دائمی وارنٹ جاری کر دیے گئے ہیں۔فیصلہ سامنے آنے پر گذشتہ کئی ماہ سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر استعمال نہ کرنے والی نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے کئی ٹویٹس کیں جس میں انھوں نے اپنے والد کی ثابت قدمی کو سراہا اور ایک ہی شخص کو کتنی بار نشانہ بنائیں گے؟ کتنی بار سزا دو گے؟ کتنی بار جیل بھیجو گے ؟ حکومت کو نواز شریف کا خوف چین نہیں لینے دے رہا۔ تمہارے دن تھوڑے ہیں انشااللہ!عدالت کے باہر موجود لیگی رہنما اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیاستدانوں کے خلاف کیے جانے والے ‘تاریک فیصلوں میں ایک اور فیصلے کا اضافہ ہوا ہے۔دوسری جانب قومی احتساب بیورو نے نواز شریف کو فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بری قرار دینے پر اپیل کا فیصلہ کیا ہے اور چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال نے نیب کی قانونی ٹیم کو ہدایت کی ہے کہ اس سلسلے میں مکمل تیاری کی جائے اور ٹھوس شواہد جمع کیے جائیں۔ صبح ہی عدالتی فیصلہ سننے کے لیے لیگی رہنما اور کارکنان اسلام آباد کی احتساب عدالت پہنچ گئے لیکن انھیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا جب عدالت کے دراوزے کو بند رکھا گیا۔ اس موقع پر پولیس کی بہت بڑی نفری اور رینجرز اہلکار بھی وہاں موجود تھے۔مقدمے کی تفصیلات میں جائیں تو بظاہر العزیزیہ سٹیل ملز نواز شریف کے والد میاں محمد شریف نے 2001 میں سعودی عرب میں قائم کی تھی جس کے انتظامی امور نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز چلا رہے تھے۔شریف خاندان کی جانب سے دلائل میں کہا گیا کہ سٹیل مل لگانے کے لیے کچھ سرمایہ سعودی حکومت سے لیا گیا تھا۔البتہ نیب کے وکلا کا کہنا ہے کہ شریفوں کے دعوے کسی بھی دستاویزی ثبوت سے بغیر ہیں اور یہ علم نہیں کہ اس مل کے لیے رقم کہاں سے آئی۔ ان کا دعوی ہے کہ شریف خاندان نے پاکستان سے غیر قانونی طور پر رقم حاصل کر کے اس مل کے لیے سرمایا لگایا۔حسین نواز کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے دادا سے پچاس لاکھ ڈالر سے اوپر رقم دی گئی تھی جس کی مدد سے انھوں نے العزیزیہ سٹیل ملز قائم کی۔ ان کے مطابق اس مل کے لیے زیادہ تر سرمایہ قطر کے شاہی خاندان کی جانب سے محمد شریف کی درخواست پر دیا گیا تھا۔اس ریفرنس کی تفتیش کرنے کے لیے قائم ہونے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے مطابق العزیزیہ سٹیل ملز کا اصل مالک نواز شریف خود ہیں۔نیب حکام کا نواز شریف کے خلاف دعوی ہے کہ انھوں نے حسین نواز کی کمپنیوں سے بڑا منافع حاصل کیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اصل مالک وہ ہیں، نہ کہ ان کے بیٹے۔واضح رہے کہ اس ریفرنس کی سماعتوں کے دوران نیب اس الزام کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزی ثبوت فراہم کرنے سے قاصر رہی۔العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس سے ملتا جلتا دوسرا ریفرنس فیلگ شپ انویسٹمنٹ کا ہے جو کہ محمد نواز شریف کے چھوٹے بیٹے حسن نواز نے برطانیہ میں سنہ 2001 میں قائم کی تھی۔نواز شریف اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ انھوں نے اپنے بیٹے کے کاروبار سے کسی قسم کا کوئی لین دین رکھا تھا لیکن نیب کا کہنا ہے کہ وہ اس کمپنی کے بورڈ کے چیئرمین رہے ہیں۔فلیگ شپ انویسٹمنٹ سمیت حسن نواز نے دس اور کمپنیاں قائم کی ہوئی تھیں جن کے پاس لندن کے چند مہنگی ترین پراپرٹیاں تھیں جن میں سے ایک ‘ون ہائیڈ پارک پلیس’ شامل ہے، جس کی مالیت تقریبا پانچ کروڑ برطانوی پانڈ لگائی گئی ہے۔ریفرنس میں یہ معلوم کرنا تھا کہ حسن نواز کے پاس اس کمپنی کو قائم کرنے کے لیے سرمایہ کہاں سے آیا اور نواز شریف کا اس میں کیا کردار ہے۔واضح رہے کہ نواز شریف کی جانب سے متعین کیے گئے مرکزی وکیل خواجہ حارث نے ان سماعتوں کے دوران مسلسل یہ موقف اپنایا کہ ان تینوں ریفرنس میں تقریبا 60 فیصد گواہان اور شواہد ایک ہی ہیں اس لیے ان کو ایک ساتھ سنا جائے لیکن عدالت نے ایسا نہیں کیا۔البتہ ایون فیلڈ ریفرنس کے فیصلے کے بعد اگلے دونوں ریفرنسز کو یکجا کر دیا گیا۔گذشتہ سال سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نواز شریف کے خلاف احتساب عدالت میں مقدمات کا آغاز ہوا۔گذشتہ سال جولائی میں پاکستان کے سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما پیپرز کے مقدمے کا فیصلہ سنائے جانے کے بعد قومی احتساب بیورو نے دو ماہ بعد ستمبر میں سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف اور ان کے بچوں کے کے خلاف تین ریفرنسز دائر کیے۔ان تین میں سے پہلا کیس ایون فیلڈ ریفرنس تھا جس کا فیصلہ اس سال جولائی میں احتساب عدالت کی جانب سے آیا اور اس کے مطابق نواز شریف، ان کی بیٹی مریم اور ان کے داماد کیپٹین ریٹائرڈ صفدر کو جیل قید اور جرمانہ عائد کیا گیا تھا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے ستمبر میں اس فیصلہ کو کالعدم قرار دے دیا جس کے بعد نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر قید سے باہر آگئے لیکن نومبر میں نیب کی جانب سے دائر کی گئی اپیل پر سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔اپریل 2016 میں پاناما پیپرز کی مدد سے سامنے آنے والی ایون فیلڈ پراپرٹی لندن کے مہنگے ترین علاقے مے فئیر اور پارک لین کے نزدیک واقع چار اپارٹمنٹ ہیں جو کہ نوے کی دہائی سے شریف خاندان کے زیر استعمال ہے۔شریف خاندان پر الزام ہے کہ انھوں نے اس پراپرٹی کو غیر قانونی ذرائع کی مدد سے حاصل کی گئی رقم سے خریدا ہے۔لیکن شریف خاندان کی جانب سے دلائل میں کہا گیا کہ ایون فیلڈ پراپرٹی 1993 سے لے کر 2006 تک قطر کے شاہی خاندان کی ملکیت تھی لیکن شریفوں نے وہاں رہائش اختیار کی تھی جس کے لیے وہ وہاں کے کرائے اور دوسرے اخراجات خود اٹھاتے تھے۔خاندان کا مزید کہنا تھا کہ اس کے کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہیں کیونکہ یہ ایک غیر رسمی معاہدہ تھا جسے کرنے والے دونوں افراد، محمد شریف اور موجودہ قطری حکمران کے والد شیخ جاسم بن جبر الثانی فوت ہو چکے ہیں۔شریف خاندان کی جانب سے پیش کیے گئے ثبوتوں میں قطری شہزادے حماد کا خط بھی اسی بیان کی تصدیق کرتا ہے جس کے مطابق 2005 میں اسی لاکھ امریکی ڈالر کے عوض اس پراپرٹی کا معاہدے طے پا گیا تھا اور اس کی ملکیت شریف خاندان کے زیر انتظام چلائے جانے والے ٹرسٹ کے پاس چلی گئی تھی۔اس کی مد میں رقم شریف خاندان نے 2006 میں سعودی عرب میں اپنی پیپر مل کی فروخت کی مدد سے حاصل کی تھی۔اس ریفرنس میں خاص بات یہ سامنے آتی ہے کہ تمام اثاثوں کی خرید و فروخت اور لین دین میں نواز شریف کا نام خود کسی بھی حیثیت میں نہیں آیا۔لیکن جے آئی ٹی اور نیب حکام دونوں نے اپنی تفتیش میں اس بات پر زور دیا کہ نواز شریف کے دونوں صاحبزادے، حسین اور حسن نواز کم عمر تھے اس لیے نواز شریف نے ہی انھیں کاروبار کے لیے رقم فراہم کی تھی۔جے آئی ٹی رپورٹ میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ کیونکہ نواز شریف کا اپنے دورہ لندن کے دوران ایون فیلڈ اپارٹمنٹ استعمال کرنا یہ ثابت کرتا ہے کہ وہ انکی ملکیت میں ہے۔تقریبا نو ماہ اور 107 سماعتوں پر محیط احتساب عدالت میں جاری اس مقدمے کا فیصلہ اس سال چھ جولائی کو آیا جب نواز شریف اپنی بیمار اہلیہ کے ساتھ مریم نواز کے ہمراہ لندن میں مقیم تھے۔عدالتی فیصلے کے مطابق نواز شریف پر یہ الزام ثابت نہ ہو سکا کہ انھوں نے دوران حکومت اپنے عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے غیر قانونی رقم بنائی لیکن نیب قوانین کے تحت انھیں معلوم ذرائع سے زیادہ آمدن رکھنے کے جرم میں دس سال جیل ہوئی جبکہ ایک سال جیل نیب حکام سے تعاون نہ کرنے پر ہوئی۔ اس کے علاوہ ان پر اسی لاکھ برطانوی پانڈ جرمانہ بھی عائد کیا گیا۔پاکستان مسلم لیگ کے تاحیات قائد اور ملک کے تین بار وزیر اعظم کو شاید اندازہ نہیں تھا کہ اپریل 2016 میں سامنے آنے والے پاناما پیپرز ان کی ذات اور ان کے خاندان کے لیے کس قدر مشکلات پیدا کریں گے۔گذشتہ سال اپریل میں سپریم کورٹ میں وہ دو کے مقابلے میں تین ججوں کی رائے میں صادق اور امین ٹھہرے لیکن اس کے بعد ان کی ناکامیوں کا ایک نا رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔پہلے جولائی 2017 میں انھیں پانچ صفر سے ہزیمت اٹھانی پڑی جب سپریم کورٹ کے کمرہ عدالت نمبر ایک میں پانچ رکنی بینچ نے متفقہ طور پر ان کے خلاف فیصلہ صادر کیا کہ وہ نہ صادق ہیں اور نہ امین، جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف وزارت اعظمی سے ہاتھ دھو بیٹھے، بلکہ اسمبلی سے بھی نا اہل ہو گئے۔ستمبر 2017 میں قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر کیے گئے تین ریفرنسز کی سماعت کا سلسلہ شروع ہوا تو 107 سماعتوں کے بعد اس سال جولائی میں نتیجہ ایک بار پھر ان کے خلاف آیا۔ایون فیلڈ اپارٹمنٹ ریفرنس میں انھیں اپنی بیٹی اور داماد کے ہمراہ سزا ہوئی اور وہ اڈیالہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلے گئے۔اسلام آباد ہائی کورٹ سے ریلیف ملنے کے باوجود ان کے سر پر العزیزیہ ریفرنس کی تلوار لٹک رہی تھی اور ان کی سالگرہ سے ایک روز قبل، پیر 24 دسمبر کو انھیں ایک مرتبہ پھر عدالت سے مایوسی ہوئی جب فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بری ہونے کے باوجود العزیزیہ ریفرنس ان کو ایک بار پھر جیل لے گیا۔نواز شریف کا کہنا ہے کہ ستمبر 2017 سے لے کر اب تک وہ تقریبا 165 مرتبہ عدالتوں کا چکر لگ چکے ہیں۔اس اثنا میں انھیں جیل میں رہتے ہوئے اپنی اہلیہ کی وفات کے غم سے بھی گزرنا پڑا اور عام انتخابات میں اپنی جماعت کی شکست کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ اب دیکھنا ہوگا کہ ان کی یہ مشکلات کا سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔ احتساب عدالت کی جانب سے سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ(ن) کے تاحیات قائد نواز شریف کے خلاف دائر العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا فیصلہ سنایا گیا۔احتساب عدالت کے جج محمد ارشد ملک قومی احتسباب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر ریفرنسز پر 19 دسمبر کو محفوظ کیا گیا فیصلہ جو گزشتہ سوموار کو سنایا۔ عدالت میں پیشی سے قبل نواز شریف نے فارم ہاوس کا دورہ کیا، جہاں وکیل خواجہ حارث اور حمزہ شہباز نے ان سے ملاقات کی۔ان عدالتی کیسز کے طویل سلسلے میں شریف خاندان نے منی لانڈرنگ، ٹیکس چوری اور آف شور اثاثے چھپانے کے الزامات کا مقابلہ کیا اور آج کے عدالتی فیصلے سے کیسز کا یہ طویل سلسلہ ختم ہوگیا ہے۔ادھر فیصلے کے پیش نظر احتساب عدالت کے اطراف سخت سیکیورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں اور رینجرز، پولیس، کمانڈوز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار تعینات تھے جبکہ رجسٹرار کی اجازت کے علاوہ کسی کو کمرہ عدالت میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔وفاقی دارالحکومت میں دفعہ 144 نافذ اور اسلام آباد اور راولپنڈی انتظامیہ نے مختلف داخلی راستوں پر ناکہ بندی کی ہوئی تھی۔دوسری جانب عدالتی فیصلے سے قبل ہی سینئر سیاستدان جاوید ہاشمی اور مسلم لیگ(ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب لیگی رہنماں اور کارکنوں کی بڑی نواز شریف سے اظہار یکجہتی کے لیے عدالت پہنچی اور سابق وزیر اعظم کے حق میں نعرے بازی کی۔اس فیصلے کے پیش نظر نواز شریف لاہور سے اسلام آباد پہنچے تھے اور اس بات کا امکان تھا کہ وہ کمرہ عدالت میں فیصلہ خود سنیں گے۔علاوہ ازیں عباس آفریدی کے فارم ہاوس پر سابق وزیر اعظم نواز شریف کی مسلم لیگ (ن)کے سینئر رہنماں سے غیر رسمی ملاقات کے دوران آئندہ کی حکمت عملی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر نواز شریف نے کہا کہ مجھے کسی قسم کا خوف نہیں، کوئی غلط کام نہیں کیا جس پر سرجھکانا پڑے، میرا ضمیر مطمئن ہے۔نواز شریف نے کہا کہ ہمیشہ ایمانداری سے ملک اور عوام کی خدمت کی ہے، اس کیس میں کچھ بھی نہیں، زیادہ زیادتی کر بھی نہیں سکتے۔سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ایک مرتبہ پھر پاکستان کو پٹری سے اتار دیا گیا ہے، موجودہ حکومت نے عوامی ترقی کے سفر کو سبوتاژ کردیا ہے۔اس ملاقات کے حوالے سے ذرائع کا کہنا تھا کہ پارٹی رہنما نواز شریف سے احتجاج کی حکمت عملی پوچھتے رہے لیکن سابق وزیر اعظم نے انہیں کوئی جواب نہیں دیا اور یہ معاملہ پارٹی پر چھوڑ دیا۔28 جولائی 2017 کو پاناما پیپرز اسکینڈل میں سپریم کورٹ نے حتمی فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو قومی اسمبلی کی رکینت سے نااہل قرار دے دیا تھا جس کے بعد وہ وزارتِ عظمی سے بھی نااہل ہوگئے تھے۔عدالت عظمی نے اپنے فیصلے میں شریف خاندان کے خلاف نیب کو تحقیقات کا حکم دیا، ساتھ ہی احتساب عدالت کو حکم دیا تھا کہ نیب ریفرنسز کو 6 ماہ میں نمٹایا جائے۔عدالتی حکم کے مطابق نیب نے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کے خلاف العزیزیہ اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس تیار کیا تھا جبکہ نواز شریف، اور ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس بھی دائر کیا گیا تھا۔20 اکتوبر 2017 کو نیب فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے نواز شریف پر فردِ جرم عائد کی تھی اور ان کے دو صاحبزادوں، حسن نواز اور حسین نواز کو مفرور ملزم قرار دیا تھا۔یاد رہے کہ ابتدائی طور پر اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج محمد بشیر ان تینوں ریفرنسز کی سماعت کررہے تھے اور انہوں نے ہی 6 جولائی 2018 کو ایون فیلڈ ریفرنس میں فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو 10 سال، مریم نواز کو 7 اور کیپٹن(ر) صفدر کو ایک ایک سال قید کی سزا سنائی تھی۔تاہم بعد ازاں شریف فیملی نے جج محمد بشیر پر اعتراض کیا تھا جس کے بعد دیگر دو ریفرنسز العزیریہ اور فلیگ شپ کی سماعت جج ارشد ملک کو سونپ دی گئی تھی۔اگرچہ ایون فیلڈ ریفرنس کی بات کی جائے تو سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کی جانب سے اپنی سزاں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کی گئیں تھیں جنہیں 16 جولائی کو سماعت کے لیے مقرر کردیا گیا تھا۔بعد ازاں اس درخواست پر سماعتوں کے بعد 19 ستمبر 2018 کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کی سزاوں کو معطل کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم دے دیا تھا۔جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن پر مشتمل ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سزا معطلی کی درخواست منظور کرتے ہوئے مختصر فیصلہ سنایا تھا۔فیصلے میں کہا گیا تھا کہ درخواست دہندگان کی اپیلوں پر فیصلہ آنے تک سزائیں معطل رہیں گی جبکہ نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو 5، 5 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کرانے کا حکم بھی دیا تھا۔تاہم ایون فیلڈ ریفرنس کی سزا معطلی کے باوجود العزیزیہ اور فلیگ شپ ریفرنس کی طویل سماعت احتساب عدالت میں ہوئی تھی اور 19 دسمبر کو جج ارشد ملک نے دونوں ریفرنسز پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔واضح رہے کہ احتساب عدالت کی جانب سے حسن اور حسین نواز کے خلاف دونوں ریفرنسز میں معاملہ سعودی عرب میں العزیزیہ اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ اور برطانیہ میں فلیگ شپ انویسٹمنٹ کے قیام سے متعلق ہے اور ان ریفرنسز میں احتساب عدالت نے نیب آرڈیننس 1999 کے سیکشن 9(اے)(وی) کے تحت سابق وزیر اعظم پر چارج کیا تھا۔نیب کے خصوصی پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ اس کیس کے نتیجے میں یہ معلوم کرنے کی کوشش کی گئی کہ یہ کمپنیاں کس طرح اور کس ذرائع سے قائم کی گئیں۔شریف خاندان کی جانب سے عدالت میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا تھا کہ نواز شریف کے والد مرحوم میاں محمد شریف نے 1974 میں متحدہ عرب امارات میں گلف اسٹیل ملز(جی ایس ایم) قائم کی۔درخواست کے مطابق 1978 میں گلف اسٹیل ملز کے 75 فیصد شیئرز عبداللہ خید اہلی کو فروخت کیے اور 1978 میں کمپنی کا نام اہلی اسٹیل ملز (اے ایس ایم) رکھ دیا گیا، اس کے بعد 1980 میں بقیہ 25 فیصد شیئرز بھی اے ایس ایم کو فروخت کردیے گئے۔اس فروخت سے ایک کروڑ 20 لاکھ درہم حاصل ہوئے، جسے قطری شاہی خاندان کے ساتھ سرمایہ کاری میں استعمال کیا گیا۔بعد ازاں شریف خاندان کی جلاوطنی کے دوران مرحوم میاں شریف نے سعودی عرب میں العزیزیہ اور ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ اور برطانیہ میں فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور 16 دیگر کمپنیاں قائم کرنے کے لیے حسین نواز کے لیے 54 لاکھ جبکہ حسن نواز کے لیے 42 لاکھ درہم فراہم کیے۔تاہم پراسیکیوشن کے مطابق شریف خاندان ان کمپنیوں کے قیام کے لیے فراہم کیے گئے فنڈز کے ذرائع بتانے میں ناکام رہا، جس کے بعد یہ آمدن سے زائد اثاثوں کا معاملہ بنتا ہے۔پراسیکیوشن کے مطابق شریف خاندان کا موقف ہے کہ مرحوم میاں شریف کی جانب سے قطری شاہی خاندان کے ساتھ ایک کروڑ 20 لاکھ درہم کی سرمایہ کاری کی گئی لیکن قطری شہزادے شیخ حماد بن جاسم بن جابر التھانی اس تفیصل کی تصدیق کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔اس کیس کے حتمی دلائل کے دوران وکیل دفاع نے کہا تھا کہ جے آئی ٹی نے شہزادے کا بیان ریکارڈ کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کیا کیونکہ اس سے دیفنس کے کیس کو فائدہ پہنچ سکتا تھا۔واضح رہے کہ احتساب عدالت نمبر ایک اور 2 میں نوازشریف کے خلاف ریفرنسز کی مجموعی طور پر 183 سماعتیں ہوئیں۔ العزیزیہ ریفرنس میں 22 اور فلیگ شپ ریفرنس میں 16 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔سابق وزیراعظم نوازشریف مجموعی طور پر 130 بار احتساب عدالت کے روبرو پیش ہوئے، نوازشریف 70 بار جج محمد بشیر اور 60 بار جج ارشد ملک کے روبرو پیش ہوئے۔ایون فیلڈ میں سزا کے بعد نوازشریف کو 15 بار اڈیالہ جیل سے لاکر عدالت پیش کیا گیا۔احتساب عدالت نمبر ایک میں 70 میں سے65 پیشیوں پر مریم نواز نوازشریف کے ساتھ تھیں۔احتساب عدالت نے مختلف اوقات میں نوازشریف کو 49 سماعتوں پر حاضری سے استثنی دیا، جج محمد بشیر نے 29 جبکہ جج ارشد ملک نے نواز شریف کو 20 سماعتوں پر حاضری سے استثنی دیا۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

بھارت کے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ خطرہ ہے۔ شیریں مزاری

ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام آباد: انسانی حقوق کی ...