بنیادی صفحہ / قومی / مہنگائی سے جسم و جان کا رشتہ قائم رکھنا مشکل ہو گیا۔ لائبہ خان

مہنگائی سے جسم و جان کا رشتہ قائم رکھنا مشکل ہو گیا۔ لائبہ خان

امن کی خیر سگالی سفیر لائبہ خان کا انٹرویو کے دوران چیف ایڈیٹر ایسوسی ایٹڈ پریس سروس چودھری محمد احسن پریمی کے ساتھ ٹصویر

انٹرویو: چودھری احسن پریمی
ایسوسی ایٹڈ پریس سروس ،اسلام آباد
پاکستان کی ننھی فرشتہ بیٹی اورامن کی خیر سگالی سفیر لائبہ خان نے خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) کو ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ کسی بھی ملک کو جتنی معاشی مشکلات درپیش ہوں ان پر مکمل قابو پانے کیلئے اتنے ہی مشکل اور غیر مقبول فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔ پاکستان اس وقت ایسی ہی صورت حال سے دو چار ہے۔ ملکی معیشت اس وقت بدحالی کے جس بدترین دور سے گزر رہی ہے اس سے نجات کیلئے حکومت کو اندرونی اور بیرونی تمام دستیاب وسائل بروئے کار لانے کی کوشش کرنا ہوگی حکومت پاکستان کی طرف سے معاشی اصلاحات کے ڈھانچہ جاتی اصلاحات کے نتائج آنے میں برسوں لگیں گے جبکہ بیرونی سپورٹ اصلاحات کے نفاذ پر منحصر ہو گی اور سیاسی اور بیرونی دھچکے ماحول کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں پھر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کے بڑھنے کے خطرے کا سامنا بھی ہے اسلئیآئی ایم ایف پروگرام کے فوری نتائج کی توقع نہیں رکھنی چاہئے۔امن کی خیر سگالی سفیر لائبہ خان مزید کہا کہ آئی ایم ایف نے اس بات کو سراہا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کے تحت پالیسیوں کا نفاذ کر رہی ہے جس کے بہتر نتائج نکلیں گے اور ترقی و استحکام کے کئی راستے کھلیں گے۔ ماضی میں کمزور ٹیکس ایڈمنسٹریشن، پیچیدہ کاروباری ماحول اور ناکافی اور نقصان پر مبنی ایس او پیز اہم مسائل رہے ہیں جن پر قابو پانا ہو گا۔ آئی ایم ایف کی تمام شرائط کا مقصد درحقیقت پاکستان کو معاشی اقدامات کے ذریعے اس قابل بنانا ہے کہ وہ بیرونی قرضوں سے بے نیاز ہو جائے جبکہ ملک کے اندر آئی ایم ایف سے قرضوں کے حصول پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور مہنگائی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو آئی ایم ایف پروگرام کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے جس میں ٹیکسوں میں اضافہ بنیادی عنصر بتایا جاتا ہے۔ امن کی خیر سگالی سفیر لائبہ خان کا کہنا تھا کہ عوام کسی نئے ٹیکس کی نشاندہی کریں۔ اگر وہ غیر ضروری مسلط ہے تو اسے حکومت واپس لے ، مویشی منڈی میں قربانی کے جانوروں پر ٹیکس لگانے کی باتیں بھی افواہ ہیں۔ حکومت صنعت کاروں اور تاجروں کی مشاورت سے پیش آمدہ مسائل کا بہتر حل نکالے ۔اس سلسلے میں تمام شعبوں کے نمائندوں پر مشتمل خصوصی کمیٹی کے قیام کی یقین دہانی کرائے، امن کی خیر سگالی سفیر لائبہ خان کا کہنا تھا کہ درحقیقت ملک جس مشکل معاشی صورت حال سے گزر رہا ہے اس سے نکلنے کیلئے سخت اقدامات اور مشکل فیصلے وقت کا تقاضا ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان خود الیکٹرانک میڈیا پر عوام کو حقائق سے آگاہ کر چکے ہیں اور بتا چکے ہیںکہ ملک کو اقتصادی طور پر مضبوط بنانے کیلئے لوگوں کو خیرات کی طرح ٹیکس بھی دینا ہوں گے تاہم کوشش کی جانی چاہئے کہ ان سے عام آدمی پر بوجھ نہ پڑے۔ غریب اور پسماندہ طبقوں کو مہنگائی اور بے روزگاری کے بوجھ سے بچانا حکومت کی اصل کامیابی ہے۔امن کی خیر سگالی سفیر لائبہ خان نے کہا کہ پاکستان کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو یہ جملہ صادق آتا ہے کہ ملک مشکل حالات سے دوچار ہے اور نازک موڑ پر کھڑا ہے۔ برسوں بلکہ دہائیوں کی باہمی رزم آرائی، کشت و خون اور تباہی و بربادی کے بعد دنیا اس مسلمہ حقیقت کو پا چکی ہے کہ کسی بھی ملک کی سالمیت، خود مختاری، دنیا میں مقام اور ملک و قوم کی خوشحالی و ترقی دراصل اس کے معاشی استحکام سے مشروط ہے۔ صرف سابق سوویت یونین کی مثال پر اکتفا کر لیں کہ اسے شکست کہیں باہر سے نہیں بلکہ اندر سے ہوئی، اس کی معاشی ابتری اس کے زوال اور تحلیل کا باعث بنی۔ جہاں تک پاکستان کی معاشی صورتحال کا تعلق ہے اس بارے میں حکومت کی تمام تر نیک نیتی اور اقدامات کے باوجود ہنوز دلی دور است کا سا معاملہ دکھائی دیتا ہے، باوجود اس کے کہ تمام ریاستی ادارے حکومت کے شانہ بشانہ ہیں۔ پاکستان نے معاشی استحکام کے لئے سعودی عرب، قطر، ایران، چین اور روس سمیت متعدد پڑوسی ممالک سے اقتصادی روابط بڑھائے اور چند دوست ممالک نے تو پاکستان کی مالی معاونت بھی کی تاہم حالات اتنے پیچیدہ تھے کہ اسے بادل نخواستہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنا ہی پڑا۔ اس کے بعد جو ہوتا ہے، وہ بھی سب جانتے ہیں کہ آئی ایم ایف سے کوئی پیکیج لینے کا مطلب ہے اس کی شرائط ماننا، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ لازم ہے۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے بعد ہونے والی مہنگائی نے اس پر مرے پہ سو درے کا کام کیا اور بجٹ کے بعد تو گویا ان کے لئے جسم و جان کا رشتہ قائم رکھنا مشکل ہو گیا۔ آئی ایم ایف سے رجوع کے بعد کی صورتحالی کوئی انہونی نہیں کہ جب جب ایسا کیا گیا تب تب حالات مشکل ہوئے تاہم اس وقت اسے زیادہ اس لئے محسوس کیا گیا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں نڈھال تھے۔ یوں بھی گرانی کا شکار ہمیشہ محنت کش، کم تنخواہ دار اور سفید پوش طبقہ ہی ہوتا ہے اور پاکستان میں یہ اکثریتی طبقہ ہے۔ ظاہر ہے عوام، جو حالات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہوتے، اس صورتحال کا ذمہ دار حکومت کو ہی سمجھیں گے، لیکن عوام کو یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کیا اس کے سوا اور کوئی چارہ تھا؟ اگر نہیں تو پھر اس پر نکتہ آفرینیاں اور تنقید کیا ملک کو معاشی کے ساتھ ساتھ سیاسی انتشار میں مبتلا نہیں کر دے گی، جو حالات کو خرابی بسیار کی طرف لے جانے کا سبب ہی بنے گی اور اس سے کسی کا بھی بھلا نہ ہو گا۔ حکومت کے حالیہ اقدامات سے اگرچہ حالات کی کٹھنائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، اشیائے خور و نوش بھی مہنگی ہوئی ہیں، کاروباری حلقے بھی متاثر ہوئے، فیصل آباد کی ٹیکسٹائل انڈسٹری اور لاہور کے کار ڈیلرز ہڑتال کر رہے ہیں اور اس کے دیگر اثرات بھی عیاں ہیں لیکن سوال پھر وہی ہے کہ کیا اس کے سوا کوئی دوسرا راستہ موجود تھا، اگر تھا اور کسی نے اس کی نشاندہی نہیں کی تو کیا اس نے ملک و قوم کے ساتھ بھلائی کی؟ یاد رکھنا چاہئے کہ قوموں کو بسا اوقات مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں، ہمارے مبصرین اکثر یہ مثال دیتے نظر آتے ہیں خطے کے دوسرے ممالک بھی ہمارے ساتھ ہی آزاد ہوئے تھے وہ ترقی کر گئے اور ہم ایسا نہ کر پائے یقینا ایسا ہی ہے لیکن وہ ایسا کرتے ہوئے ان ممالک کی ترقی کے لئے کئے گئے اقدامات کو فراموش کر دیتے ہیں۔لائبہ خان کا کہنا تھا کہ چین کی مثال ہی لے لیں جہاں کسی رکن اسمبلی کے غیر ملکی شہریت تو دور کی بات محض غیر ملکی اکائونٹ رکھنے پر سخت ترین سزا ہے یعنی سزائے موت، اسی طرح کے دیگر بہت سے اقدامات نے چین کو معاشی قوت بنایا۔ مغرب کی آنکھوں کو خیرہ کرنے والی ترقی بھی اس کی پالیسیوں کی مرہون منت ہے، وہاں ٹیکس نہ دینا جرم ہے اور اس پر سزا بھی کڑی ہے۔ حکومت ِ پاکستان بھی اب اسی راہ پر چل رہی ہے، جس پر عمل پیرا ہو کر ہم بھی ترقی و خوشحالی کی منزل پا سکتے ہیں، حکومت کے یہ سخت اقدامات بالآخر ہماری معیشت کو توانا بنا دیں گے لہذا خواہی نخواہی یہ کڑوی گولی ہمیں نگلنا ہی ہو گی۔ کسی کو کوئی تحفظات ہوں تو وہ ان کا مثبت انداز میں اظہار کر کے حکومت کی توجہ حاصل کرے، اشتعال کی راہ درست نہیں اور بے سود بھی رہے گی۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

بھارت کے جوہری ہتھیاروں میں اضافہ خطرہ ہے۔ شیریں مزاری

ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام آباد: انسانی حقوق کی ...