بنیادی صفحہ / انٹرٹینمنٹ / موسیقی انسانیت کا دھماکہ خیز اظہار ہے۔ ستار نواز وجیہ نظامی

موسیقی انسانیت کا دھماکہ خیز اظہار ہے۔ ستار نواز وجیہ نظامی

انٹرویو : رائے حبیبہ گلزار
دنیا شاعری سے بھری ہوئی ے. ہوا اس کی روح میں رہتی ہے. اور لہریں اس کی دھنوں کی موسیقی پر رقص کرتی ہیں، اور اس کی چمک میں چمکتی ہے.موسیقی ایک اخلاقی قانون ہے جو زندگی سمیت ہر چیز کے لئے توجہ دیتی ہے کیونکہ یہ واقعی دلچسپ ہے کہ موسیقی کس طرح دیواروں کو دستک کر سکتی ہے اور آپ اور کسی اور کے درمیان ایک کھلا رابطہ استوار کرسکتے ہیں جہاں کچھ اور نہیں ہوسکتا ہ وہاںموسیقی کے ساتھ سب کچھ آتا ہے جب یہ صرف آپ کے دل کو تھوڑا سا کھولتی ہے.موسیقی دنیا میں سب سے بڑا مواصلات ہے. یہاں تک کہ اگر لوگ اس زبان میں نہیں سمجھتے جب آپ گانا یا سازینہ کرتے ہیں تو وہ ابھی بھی اچھی موسیقی جانتے ہیں جب وہ سنتے ہیں. گزشتہ دنوں نوجوان ستار نواز وجیہ نظامی کے ساتھ خبررساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) نے ایک نشست کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر موسیقی کے حوالے سے جو سوالات وجیہ نظامی کے ساتھ زیر بحث آئے اس کی تفصیل قارئین کی نذر ہے
نوجوان ستار نواز وجیہ نظامی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ موسیقی محبت ہے اور جس خطے میں محبت نہیں وہاں امن قائم نہیں ہوسکتا انہوں نے اس شعبہ کے انتخاب کے بارے کہا کہ میں نے اس سفر کا انتخاب بچپن سے کرلیا تھا ستارنوازی کی کارکردگی کے حوالے سے دنیا کے اہم ممالک میں منعقد ہونے والے موسیقی کے فیسٹیول میں حصہ لے چکا ہوں جن میں اہم امریکہ ،روس و دیگر ممالک شامل ہیں۔ وجیہ نظامی نے حکومتی سطح پر پذیرائی کے حوالے سے کئے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فنکار جو ہے اس کا حکومتی پذیرائی سے اوپر

انٹرویو کے دوران رپورٹر رائے حبیبہ گلزار کا رنگ میوزک سکول میں ستار کے ساتھ ایک تصویری منظر

کا معاملہ ہے۔ انہیں ایک میوزک سکول کی کیوں ضرورت پیش آئی؟ اس کے جواب میں وجیہ نظامی نے کہا کہ جن لوگوں نے میوزک پر کام کیا انہیں آگے آنا چاہیے اس ضمن میں ایک پلیٹ ناگزیر تھا۔ ایک سوال کہ ستار نوازی سمیت میوزک بارے لوگوں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے یا کم ہورہی ہے؟اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ستار نوازی میں لوگوں کی دلچسپی پائی جاتی ہے اور آنے والے دنوں میں پرامید ہوں کہ یہ دلچسپی مزید بڑھے گی۔ایک سوال کہ میوزک کے علاوہ اور آپ کیا کرنا چاہتے ہیں؟ اس جواب میں ان کا کہنا تھا کہ موسیقی کے علاوہ میرا کوئی انتخاب نہیں اگر میں کوئی اور بھی کچھ کرتا تو پھر بھی موسیقی کا انتخاب کرتا ۔ایک سوال کہ جہاں الفاظ ختم ہو جاتے ہیں وہاں موسیقی بولتی ہے.؟اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ موسیقی عالمگیر زبان ہے جو اشاروں کنایوں کا نام بھی ہے۔ایک سوال کہ ہم محبت میں کسی کا پیچھا کرسکتے ہیں اسے پکڑ سکتے ہیں لیکن اسے اپنا بنانے میں کچھ بھی نہیں کرسکتے۔اس ضمن میں موسیقی کس حد تک موثر ثابت ہوتی ہے؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ محبت کائنات کے فلسفوں میں سے ایک ہے جیسے ہم سانس لیتے ہیں اور دل دھڑکتا ہے۔ یہ کائنات کی روح،دماغ کے پنکھ اور تخیل کی پرواز ہے جو ہر چیز کو زندگی دیتی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ موسیقی ہی ہماری سب سے بڑی خواہشات کو فروغ دیتی ہے۔ آپ اکثر موسیقی میں سوچتے ہیں اور موسیقی میں ہمارا دن چلتا رہتا ہے۔ہم اپنی زندگی کو موسیقی کے لحاظ سے دیکھتے ہیں۔ ایک سوال کہ موسیقی ایسی زبان ہے جو خاص الفاظ میں نہیں بولتی ہے کیایہ جذبات میں بولتی ہے؟ اس بارے ان کا کہنا تھا کہ موسیقی کو زندگی سے نکال دیا جائے تو وہ باقی ایک بھیانک خواب ہے موسیقی جذبات کی ایک کفیت کا نام ہے۔ایک سوال کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ موسیقی خود ہی شفا ہے؟ اس کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ موسیقی جیسے روح کی غذا ہے ایسے ہی یہ ایک شفا بھی ہے۔موسیقی انسانیت کا دھماکہ خیز اظہار ہے۔ اس بات سے کوئی فرق نہیں کہ ہم کونسی ثقافت سے ہیں، ہر کوئی موسیقی سے محبت کرتا ہے.موسیقی کے بارے میں ایک اچھی چیز، جب یہ آپ کو نشانہ بناتی ہے تو آپ کو درد نہیں ہوتا جبکہ موسیقی جذبات کا مختصر نہیں بلکہ ایک جامع اشارہ ہے.ان کا کہنا تھا کہ خاموش ہونے کے بعد جو غیر مطلوب اظہار کرنے کے قریب قریب آتا ہے وہ صرف موسیقی ہے۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

نسٹ یونیورسٹی کی ہونہار طلبہ قراۃ العین افتخارکا اعزاز

اسلام آباد: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ...