بنیادی صفحہ / قومی / ملک میں احتساب کے نام پر تباہی ہورہی ہے، جسٹس مقبول باقر

ملک میں احتساب کے نام پر تباہی ہورہی ہے، جسٹس مقبول باقر

عدالت اپنے اختیارات پر سمجھوتہ نہیں کرے گی، جسٹس عمر عطا بندیال
جج کیخلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی کیلئے ٹھوس شواہد ہونے چاہئیں، عدالت
آ جائیدادیں ڈھونڈیں،آ جائیدادیں ڈھونڈیں کا اختیار کدھر سے حاصل کیا گیا؟ عدالت
صحافی آرٹیکل یا خبر دیں تو سورس نہیں پوچھ سکتے۔ جسٹس منصور علی شاہ
جج کو معلوم ہونا چاہیے وہ عوام کی نظروں میں ہے، جسٹس عمر عطا
جسٹس عیسی سمیت کسی جج کی جاسوسی نہیں کی گئی، فروغ نسیم
ویزا جاری کرنے سے پہلے مجہے ہراساں کیا گیا، سرینا عیسی
رپورٹ: چودھری احسن پریمی: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)
سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے عدالتی اجازت کے بعد ویڈیو لنک کے ذریعے اپنا بیان ریکارڈ کرادیا، جس پر عدالت عظمی نے اطمینان کا اظہار کیا ہے تاہم ساتھ ہی یہ ریمارکس بھی دیے کہ ہمارے پاس مقدمہ میرٹ پر سننے کا حق نہیں ہے اس معاملے پر فیصلہ متعلقہ اتھارٹی نے کرنا ہے۔ساتھ ہی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے ہیں کہ ججز دوسرے پبلک آفس ہولڈرز سے زیادہ جوابدہ ہیں۔عدالت عظمی میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی فل کورٹ نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی جانب سے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو چیلنج کرنے کے لیے دائر کی گئی درخواست پر سماعت کی، جہاں طویل سماعت کی ابتدا میں ہی عدالت نے جسٹس عیسی کی گزشتہ روز کی پیشکش کو قبول کرلیا۔خیال رہے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف صدارتی ریفرنس بھیجا گیا تھا جسے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔اس معاملے پر اب تک متعدد طویل سماعتیں ہوچکی ہیں جبکہ سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان اس کیس میں پہلے وفاق کی نمائندگی کر رہے تھے تاہم ان کے مستعفی ہونے کے بعد نئے اٹارنی جنرل نے مذکورہ معاملے میں حکومتی نمائندگی سے انکار کردیا تھا۔بعد ازاں مذکورہ معاملے کی 24 فروری کو ہونے والی آخری سماعت میں عدالت نے حکومت کو اس معاملے کے ایک کل وقتی وکیل مقرر کرنے کا کہا تھا، جس کے بعد مذکورہ معاملے میں وفاق کی نمائندگی کے لیے فروغ نسیم نے وزیر قانون کے عہدے سے استعفی دے دیا تھا اور اب وہ اس کیس میں پیش ہورہے ہیں۔ایک طویل وقفے کے بعد اس کیس کی سماعت جون کے آغاز سے دوبارہ شروع ہوگئی ہے اور اب فروغ نسیم عدالت میں پیش ہوکر دلائل دے رہے ہیں جبکہ گزشتہ سماعت میں ایک نیا موڑ اس وقت آیا جب تاریخ میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کے حاضر سروس جج جسٹس قاضی فائز عیسی عدالت کے کمرہ نمبر ایک میں اپنی اہلیہ کا پیغام لے کر بطور درخواست گزار پیش ہوگئے۔گزشتہ جمعرات کو سماعت کے دوران حکومت کی جانب سے خاص طور پر اس کیس میں نمائندگی کے لیے وزارت سے مستعفی ہونے والے سابق وزیر قانون فروغ نسیم پیش ہوئے جبکہ جسٹس عیسی کی نمائندگی ان کی قانون ٹیم کے سینئر وکیل منیر اے ملک نے کی۔سماعت کے آغاز میں ہی جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہم جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کے گھر پر ویڈیو لنک کے انتظامات کروا رہے، دوپہر کو ان کا بیان لیں گے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہماری درخواست ہے کہ جسٹس عیسی کی اہلیہ مختصر بات کریں، ان کی اہلیہ ہمارے لیے قابل احترام ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ بیان دیتے وقت مناسب الفاظ کا استعمال کریں، اہلیہ عدالتی ڈیکورم کا خیال رکھیں۔سربراہ بینچ نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ ہمارے سامنے فریق نہیں ہیں۔خیال رہے کہ دو روز قبل سماعت کے دوران جسٹس قاضی فائز عیسی نے عدالت میں کہا تھا کہ وہ اپنی اہلیہ کا اہم پیغام لائے ہیں کہ ان کی اہلیہ جائیدادوں کے ذرائع بتانا چاہتی ہیں، اہلیہ کے والد کو کینسر کا عارضہ لاحق ہے وہ ویڈیو لنک کے ذریعے جائیداد سے متعلق بتانا چاہتی ہیں، عدالت اہلیہ کو ویڈیو لنک پر مقف دینے کا موقع دے۔انہوں نے کہا تھا کہ اہلیہ کہتی ہیں کہ ایف بی آر نے ان کی تذلیل کی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایف بی آر کو کچھ نہیں بتائیں گی، اس پر سربراہ بینچ جسٹس عمر عطا بندیال بولے تھے کہ آپ کی اہلیہ ہمارے لیے قابل احترام ہیں، یہ ایک بڑی پیش رفت ہے۔بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا تھا کہ جسٹس عیسی کی اہلیہ کا بیان بڑا اہم ہوگا تاہم ہماری ان سے درخواست ہے کہ وہ تحریری جواب داخل کر کے مقف دیں، تحریری جواب آنے کے بعد مقدمے کو سماعت کے لیے مقرر کیا جائے گا، جس پر جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا تھا کہ میری اہلیہ وکیل نہیں ہیں، میری اہلیہ کو کسی وکیل کی معاونت نہیں ہوگی۔جسٹس عیسی نے کہا تھا کہ میری اہلیہ کو ریفرنس کی وجہ سے بہت کچھ جھیلنا پڑا ہے، میری اہلیہ کو عدالت کے سامنے مقف دینے کی اجازت ہونی چاہیے، میں اپنی اہلیہ کا وکیل نہیں ان کا پیغام لے کر آیا ہوں، جس کے بعد عدالت نے اس معاملے پر آج فیصلے کا کہا تھا۔علاوہ ازیں آج کی سماعت کے دوران حکومتی وکیل نے اپنے دلائل دیے اور کہا کہ سپریم جوڈیشل کونسل فوجداری اور دیوانی حقوق کا فیصلہ نہیں کرتی، جوڈیشل کونسل فیکٹ فائنڈنگ فورم ہے جو اپنی سفارشات دیتی ہے، بدنیتی پر فائنڈنگ دینے پر کونسل کے سامنے کوئی چیز معنی نہیں۔فروغ نسیم نے کہا کہ جوڈیشل کونسل بدنیتی کے ساتھ نیک نیتی کا بھی جائزہ لے سکتی ہے، جوڈیشل کونسل کے سامنے تمام فریقین ایک جیسے ہوتے ہیں، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال بولے کہ عدلیہ پر چیک موجود ہے، کسی جگہ بدنیتی ہو تو عدالت جائزہ لینے کے لیے بااختیار ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ عدالت اپنے اختیارات پر سمجھوتہ نہیں کرے گی۔اسی دوران عدالتی بینچ کے رکن جسٹس منصور علی شاہ بولے کے کیا عدالت اور کونسل کے بدنیتی کے تعین کے نتائج ایک جیسے ہوں گے، جس پر فروغ نسیم نے یہ جواب دیا کہ کونسل بدنیتی پر آبزرویشن دے سکتی ہے، عدالت کو بدنیتی پر فائنڈنگ دینے کا اختیار ہے۔جس پر جسٹس مقبول باقر نے یہ سوال کیا کہ کیا کونسل صدر مملکت کے کنڈکٹ کا جائزہ لے سکتی ہے، اس پر حکومتی وکیل نے جواب دیا کہ کونسل کسی کے کنڈکٹ کا بھی جائزہ لے سکتی ہے، کونسل کے پاس ہر اتھارٹی ہے۔فروغ نسیم کی بات پر جسٹس سجاد علی شاہ نے یہ پوچھا کہ کیا عدالت عظمی کے بدنیتی کے معاملے کا جائزہ لینے میں کوئی رکاوٹ ہے، جس پر انہیں جواب دیا گیا کہ عدالت عظمی کے راستے میں بدنیتی کا جائزہ لینے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔دوران سماعت فروغ نسیم نے شوکاز نوٹس کے معاملے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ شوکاز نوٹس میں 3 نکتے جوڈیشل کونسل نے شامل کیے، جوڈیشل کونسل نے ریفرنس کا جائزہ لے کر الزام کے تین نکات نکالے، عدلیہ کو شوکاز نوٹس کے مواد کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔تاہم فروغ نسیم کی بات پر عدالتی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر نے کہا کہ اس دلیل کی حمایت میں آرمی چیف کیس کا حوالہ کیوں دیا، جس پر حکومتی وکیل بولے کہ آرمی چیف کا مقدمہ درخواست واپس لینے کی استدعا کے باوجود بھی چلا۔اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ یہ آرڈر 23 کا اصول ہے کہ درخواست عدالت کی اجازت کے بغیر نہیں لی جا سکتی، ساتھ ہی انہوں نے یہ سوال کیا کہ کیا ریفرنس کالعدم ہو جائے تو پھر بھی اپنی جگہ زندہ رہے گا۔عدالت کے سوال پر فروغ نسیم بولے کہ میری بصیرت کے مطابق یہی دلیل ہے ریفرنس کے بعد بھی شو کاز نوٹس ختم نہیں ہوتا، سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس کا حکم پاس نہیں کیا لیکن آرمی چیف کا مقدمہ چلا۔ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کونسل تمام 28 سوالات پر آبزرویشن دینے کی مجاز ہے، جج نے تحریری جواب دے کر جوڈیشل کونسل کے سامنے سرنڈر کردیا۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کی رائے کا کونسل جائزہ لے سکتی ہے، صدر کی رائے کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہوتی، اس پر جسٹس عمر عطا نے ریمارکس دیے کہ اعتراض یہ ہے کہ ریفرنس میں قانونی نقائص اور بدنیتی ہے۔اس پر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ قانون کہتا ہے کہ کم معیار کے ساتھ بھی کام چلایا جا سکتا ہے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ کے مطابق عدالت عظمی کے جج کے ساتھ کم معیار کے ساتھ کام چلایا جائے؟عدالتی بات پر حکومت وکیل کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 209 میں شاہد کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، اس پر سربراہ بینچ نے کہا کہ جج کو ہٹانے کی کارروائی میں شواہد کا معیار دیوانی مقدمات جیسا نہیں ہونا چاہیے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ جج کے خلاف مس کنڈکٹ کی کارروائی کے لیے ٹھوس شواہد ہونے چاہئیں، براہ کرم مثال دیتے ہوئے احتیاط کریں، عدالت یہاں آئینی معاملے کا جائزہ لے رہی ہے۔اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ کونسل نے بھی اپنے ذہن کا استعمال کرکے شوکاز نوٹس کیا، ریفرنس کے معاملے پر صدر کے بعد جوڈیشل کونسل اپنا ذہن استعمال کرتی ہے، کونسل شوکاز نوٹس کرنے سے پہلے اور بعد میں بھی ریفرنس کا جائزہ لیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ جج کے خلاف کارروائی کے لیے شواہد کا معیار کیا ہو یہ کونسل پر چھوڑ دینا چاہیے، جس کے جواب میں جسٹس عمر عطا بندیال بولے کے ریفرنس میں محض دستاویزات لف نہیں ہونی چاہیے، ریفرنس کے ساتھ الزام ثابت کرنے کے ٹھوس شواہد بھی ہوں۔جس پر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ شواہد اگر تسلم شدہ ہوں تو حقائق کا مسئلہ نہیں ہوتا، کسی مقدمے میں شواہد تسلیم نہ کیے
جائیں تو بات اور ہے، کسی دبا کے تحت کوئی مواد لیا جائے تو عدالت قبول نہیں کرتی۔سماعت کے دوران جب جسٹس عیسی کی قانونی ٹیم کے وکیل منیر اے ملک عدالت میں آئے تو جسٹس عمر عطا بندیال نے انہیں خوش آمدید کہتے ہوئے ریمارکس دیے کہ آپ کو کمرہ عدالت میں دیکھ کر اچھا لگا۔بعد ازاں سماعت میں عدالتی بینچ کے رکن جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس مقدمے کا مواد، دستاویزات کیسے اکھٹی ہوئی، جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ تشدد کے بغیر حاصل مواد قابل قبول دستاویز ہیں، امریکا میں چوتھی ترمیم کے مطابق شواہد کی تلاش قانونی ہیں، پاکستان اور بھارت میں امریکا کی چوتھی ترمیم جیسی مثال نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں جاسوسی اور چھپ کر تصویر بنانے کو قابل قبول شواہد قرار دیا گیا۔دوران سماعت حکومتی وکیل کی بات پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آئین آزادانہ نقل و حرکت، وقار، ذاتی عزت و تکریم کا تحفظ فراہم کرتا ہے، ہمارے ملک میں ایف بی آر، نادرا، ایف آئی اے جیسے دیگر ادارے موجود ہیں ، آپ کہہ رہے ہیں میری جاسوسی ہو سکتی ہے، میں گالف کلب جاتا ہوں میری تصاویر لی جاتی ہیں، یہ تو ایسے ہی ہوگا جمہوریت سے فاشزم کی طرف بڑھا جائے۔اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ میں فاشزم کی بات نہیں کر رہا، یہاں بات شواہد کے اکھٹا کرنے کی ہو رہی ہے، جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ اس سے غرض نہیں کہ پبلک ڈومین میں جائیدادیں پڑی ہیں یا نہیں، ان جائیدادوں کو ڈھونڈنے کے اختیارات کہاں سے لیے گئے، سوال یہ ہے کہ کس طرح سے پتہ چلا کہ لندن میں جائیدادیں ہیں۔جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ آ جائیدادیں ڈھونڈیں، آ جائیدادیں ڈھونڈیں کا اختیار کہاں سے حاصل کیا گیا، جس پر فروغ نسیم نے شکایت کنندہ صحافی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صحافی کی طرف سے معلومات آگئیں تو اس کی حقیقیت کا پتا چلایا گیا۔اس پر پھر جسٹس منصور علی شاہ بولے کہ صحافی نے کوئی آرٹیکل نہیں لکھا جس کے وہ ذرائع (سورس) چھپائے، صحافی آرٹیکل یا خبر دیں تو سورس نہیں پوچھ سکتے، میری تشویش یہ ہے کہ شواہد کس طرح تلاش کیے گئے۔اپنے ریمارکس میں انہوں نے کہا کہ یہ کوئی نہیں کہتا کہ جج جوابدہ نہیں ہے ، جج چاہتا ہے کہ میری پرائیویسی (رازداری) بھی ہو اور میری عزت کا خیال بھی رکھا جائے، میں تو کہتا ہوں جو کرنا ہے قانون کے مطابق کریں۔اس پر فروغ نسیم نے یہ جواب دیا کہ پرائیویسی کا حق محدود ہے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جمہوری معاشروں میں قانون ترقی کرتا ہے۔ساتھ ہی بینچ کے رکن جسٹس مقبول باقر بولے کہ ضیا المصطفی نامی شخص کے پاس اختیار نہیں تھا کہ نجی جاسوس کی خدمات حاصل کرے، شکایت کنندہ کی درخواست میں صرف ایک جائیداد کا ذکر تھا۔انہوں نے کہا کہ صدر مملکت کی منظوری کے بغیر کسی جج کے خلاف مواد اکٹھا نہیں ہوسکتا۔عدالت کی بات پر فروغ نسیم نے بولا کہ برطانیہ نے تمام جائیدادوں کی تفصیل ڈال دی ہے، جج نے بھی تسلیم کیا کہ برطانیہ کی جائیداد ویب سائٹ پر موجود ہے، برطانیہ کی جائیداد کی درست معلومات کے لیے لینڈ رجسٹری کی ویب سائٹ استعمال کی جاتی ہے، ویب سائٹ سے معلومات لینے سے سکریس کے حق کا اطلاق نہیں ہوتا۔اس پر بینچ کے رکن جسٹس سجاد علی شاہ نے کہا کہ اہلیہ کا درست نام ہمیں معلوم نہیں، حکومت کو اہلیہ کا درست نام کیسے پتا چلا؟ بنیادی سوال یہ ہے کہ حکومت کے پاس اختیار کہاں سے آیا۔ساتھ ہی جسٹس منصور علی شاہ نے یہ پوچھا کہ کیا حکومت نے عبدالوحید ڈوگر سے پوچھا کہ وہ معلومات کدھر سے لے کر آئے ہیں، اس پر جسٹس مقبول باقر نہ یہ سوال اٹھایا کہ وحید ڈوگر کو کیسے پتا چلا یہ جائیدادیں گوشواروں میں ظاہر نہیں کی گئیں۔عدالتی استفسار پر فروغ نسیم نے جواب دیا کہ مجھے نہیں معلوم کہ عبدالوحید ڈوگر کو یہ معلومات کدھر سے ملیں، آرٹیکل 184 تین کے مقدمے میں عدالت معلومات کے ذرائع نہیں پوچھتی۔اس بات پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ جج کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ عوام کی نظروں میں ہے، ہم ججز کو اس حوالے سے محتاط ہونا چاہیے، آپ کی ناک کے نیچے ڈسٹرکٹ جوڈیشری(ضلعی عدلیہ) میں کیا ہوتا ہے آپ کو علم نہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اس شریف آدمی کا ماضی اچھا نہیں تھا، ساتھ ہی اس بات کی مزید وضاحت کرتے ہوئے بولے کہ میں احتساب عدالت کے جج کی بات کر رہا ہوں، حکومت کے پاس بڑے وسائل ہوتے ہیں(لیکن) اس معاملے پر عدالت کو ایکشن لینا پڑا۔اس موقع پر جسٹس مقبول باقر نے ریمارکس دیے کہ ہوسکتا کہ اس مقدمے میں اس بات کی تصحیح کریں، ملک میں احتساب کے نام پر تباہی ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ احتساب کے نام پر جو تباہی ہو رہی ہے اس پر بھی لکھیں گے، تمام کارروائی کے بعد وحید ڈوگر کو لاکر کھڑا کردیا گیا، میں اپنی تفصیلات آرام سے نہیں لے سکتا تو ایک جج کی تفصیلات وحید ڈوگر کے پاس کیسے آئی۔اسی دوران جسٹس یحیی آفریدی بولے کہ مسئلہ یہ ہے کہ کب حکومت نے گوشوارے مانگے، جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ میں نے کسی سے گوشوارے نہیں منگوائے، اے آر یو نے معاملہ ایف بی آر کو بھیجا۔طویل سماعت کے دوران سربراہ بینچ نے کہا کہ انجینرنگ کے الزامات لگتے ہیں، مجھے افسوس ہے کہ اس میں ہمارے ادارے کو استعمال کیا گیا ہے۔اسی دوران بینچ کے رکن جسٹس منصور علی شاہ نے کہا کہ وزیر اعظم کے پاس نئی وزارت بنانے کا اختیار ہے، نئی ایجنسی بنانے کا اختیار کدھر ہے، اس پر فروغ نسیم بولے کہ وزیراعظم کو کوئی بھی چیز کابینہ کو بھیجنے کا اختیار ہے، جس کے جواب میں جسٹس مقبول باقر نے یہ کہا کہ وزیر اعظم کے اختیارات کسی قانون کے مطابق ہوں گے۔سماعت کے موقع پر حکومتی وکیل کے جواب پر جسٹس یحیی آفریدی نے کہا کہ اثاثہ جات وصولی یونٹ (اے آر یو) وفاقی حکومت کیسے ہوگئی، اے آر یو نے ایف بی آر سے ٹیکس سے متعلق سوال کیسے کیا، یونٹ کسی شہری کو قانون کے بغیر کیسے چھو سکتا ہے۔اس دوران اپنے دلائل کو آگے بڑھاتے ہوئے فروغ نسیم نے یہ بات کی کہ جائیدادوں کی معلومات اوپن سورس سے آئی ہیں، برطانیہ کہتا ہے جائیداد کی معلومات اوپن ہے ہم سکریسی کا دعوی کیسے کر سکتے ہیں، جو معلومات عوام کی دسترس میں ہو وہ خفیہ نہیں ہے۔حکومتی وکیل کی بات پر جسٹس مقبول باقر نے پوچھا کہ جائیداد کی معلومات کس طریقے سے حاصل کی گئی، اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ جائیداد کی معلومات کوئی سکریسی نہیں ہے۔اس موقع پر فروغ نسیم نے اسلامی تاریخ کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ حضرت علی کے مطابق جج کی سرگرمیاں جاننے کے لیے انہوں نے جاسوسی کا نظام بنایا تھا، قاضیوں کے معاملات کی خبر گیری اسلامی تاریخ سے بھی رکھی جاتی تھی۔انہوں نے کہا کہ اسلامی قانونی نقطہ سے ہم اپنی آنکھیں نہیں موڑ سکتے، آئین کہتا ہے کہ تشریح کے لیے اسلامی شریعت کو دیکھا جائے، اس کے علاوہ عدالت عظمی کے فیصلے میں لکھا ہے کہ حضرت عمر سے بھی کرتے کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔فروغ نسیم نے کہا کہ ہم میں سے کوئی بھی حضرت عمر اور حضرت علی سے بڑا نہیں۔سماعت کے دوران منی ٹرین کی بات کرتے ہوئے فروغ نسیم نیکہا کہ کسی قسم کی منی ٹریل نہیں دی گئی، عدالت نے معاملہ ایف بی آر کو بھیجنے کی تجویز دی تو انکار کر دیا گیا، درخواست گزار کہتے ہیں کہ دھرنے کے فیصلے کی وجہ سے کچھ حلقے خوش نہیں۔اس پر جسٹس مقبول باقر بولے دھرنے کے کیس کا فیصلہ جسٹس قاضی فائز عیسی نے تحریر کیا، ساتھ ہی جسٹس منصور نے کہا کہ نظر ثانی کے مقدمے میں دونوں ججز کا ذکر نہیں۔تاہم جسٹس مقبول باقر نے یہ ریمارکس بھی دیے کہ الزام ہے کہ نظر ثانی مقدمے میں جج کو ہٹانے کی بات کی گئی۔بینچ کے اراکین کے ریمارکس کے ساتھ ہی سربراہ بینچ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ کیا دھرنے کے فیصلے سے آسمان گر پڑا، اگر نظر ثانی خارج ہوتی ہے تو کیا آسمان گر پڑے گا۔ساتھ ہی جسٹس مقبول باقر نے یہ ریمارکس دیے کہ ہماری سائیکی (نفسیات) یہ بن چکی ہے کہ ہم سچ سننا پسند نہیں کرتے، اپنا کام کرنے کی بھی آزادی نہیں دی گئی ہے۔اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ درخواست گزار کے تمام الزامات بے بنیاد ہیں، مجھ پر اور سابق اٹارنی جنرل انور منصور پر لگائے جانے والے الزامات غلط ہیں، اس کے علاوہ ریفرنس کو بدنیتی پر مبنی قرار دینا درست نہیں۔وکیل کی بات پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ بدنیتی میں پس پردہ مقصد ہونا چاہیے، پس پردہ ایسا مقصد جو قانون سے باہر ہو، قانون میں کچھ اقدام ہیں جو بدنیتی پر انحصار کرتے ہیں، بدنیتی میں آسانی سے نہ الزام ہٹ سکتا ہے نہ ثابت ہو سکتا ہے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ حکومت کی بدنیتی نظر آئے گی جب قانون سے باہر کام ہوگا، لگتا ہے کچھ الماری میں پڑا تھا جس کے استعمال کرنے کا انتظار تھا، جس پر فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ وحید ڈوگر کی شکایت میں 3 ججز کے خلاف الزام تھا، یہ دلیل درست نہیں کہ ریفرنس کی منظوری کابینہ سے لینا ضروری تھی، آرٹیکل 209 میں وفاقی حکومت کا ذکر نہیں ہے۔اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ درخواست گزار کی دلیل ہے کہ جج کو ہٹانے کا معاملہ بہت سنجیدہ معاملہ ہے، دلیل دی گئی یہ معاملہ کابینہ میں جانا چاہیے تھا، جس پر فروغ نسیم بولے کہ جج کے تقرر کا جائزہ کابینہ نہیں لیتی، فروغ نسیم کی بات پر بینچ کے سربراہ نے کہا کہ جج کے تقرر کا طریقہ ہی مختلف ہے۔اپنے دلائل میں فروغ نسیم نے کہا کہ صدر مملکت، وزیراعظم کے مشورے پر عمل کے پابند ہیں، جس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ یہ دلیل تسلیم کرلیں تو صدر مملکت کے اعتراض پر دوسری مرتبہ مشورے کی کیا ضرورت ہے، ریفرنس کی سمری پر رائے صدر مملکت نے آزادانہ طور پر طے کرنی ہے۔جس پر فروغ نسیم نے کہا کہ سیکرٹری قانون سے لے کر اوپر تک سب نے اپنا دماغ استعمال کیا، اس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ صدر مملکت کو رائے بنانے کی ضرورت نہیں ہے، صدر صرف اپنا ذہن استعمال کرتے ہیں، صدر کے سامنے کوئی مواد نہیں تھا، الزامات پر مبنی دستاویزات تھیں۔اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہ کہ ہم نے آج جج کی اہلیہ کا مقف بھی سننا ہے، جس پر جسٹس عیسی کے وکیل منیر اے ملک نے کہا کہ عدالت کا حکم میں نے پہنچا دیا تھا، اہلیہ الزامات کے حوالے سے جواب دیں گی، امید کرتا ہوں اہلیہ کا جواب زیادہ طویل نہیں ہوگا۔جس پر سربراہ بینچ نے پوچھا کہ کیا اہلیہ صرف جائیداد کے حوالے سے جواب دیں گی، اس پر منیر اے ملک نے کہا کہ اہلیہ اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کا جواب دیں گی، میں اہلیہ کا وکیل نہیں ہوں میری حیثیت پیغام رسانی کی ہے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت کو کچھ دیر کے لیے ملتوی کردیا، ساتھ ہی کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ ساڑھے 3 بجے بیان ریکارڈ کروائیں گی۔بعد ازاں وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو فروغ نسیم نے کہا کہ قانون کے مطابق ہنڈی حوالہ سے پیسہ باہر جانا جرم ہے، اسٹیٹ بینک کے سرکلر حوالہ ہنڈی کے ذریعے پیسہ باہر جانے کو منی لانڈرنگ قرار دیا گیا ہے، قانون میں ایک تصور جرم کے تسلسل کا بھی ہے۔اس پر جسٹس منیب اختر نے پوچھا کہ منی لانڈرنگ کا جرم تسلسل جرم کب ہوگا، برطانیہ اور پاکستان کی منی لانڈرنگ رجیم میں بہت فرق ہے۔ساتھ ہی جسٹس عمر عطا بندیال بولے کے منی لانڈرنگ 2010 میں جرم تھا ہی نہیں، ہمارے ملک کے قانون اجازت دیتے ہیں، کرنسی کو تبدیل کروائیں، فارن (بیرون ملک) اکاونٹس کے ذریعے باہر بھجوائیں، اس پر فروغ نسیم بولے کہ عدالتی فیصلے موجود ہیں جن میں منی لانڈرنگ کو 1998 سے جرم کہا گیا، میں عدالتی فیصلے پڑھ کر سیکھ ہو رہا ہوں۔فروغ نسیم نے کہا کہ ہم منی لانڈرنگ کی نہیں منی لانڈرنگ رجیم کی بات کر رہے ہیں، اس وقت کے قوانین ہنڈی حوالہ کی صحیح وضاحت نہیں کر پائے، اس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ منی لانڈرنگ کونسی رجیم بانڈ ہے، قانون کے نقص پر کسی عمل کو جرم تو نہیں کہہ سکتے، حکومت کے عام معاملات میں صدر مملکت کو رائے بنانے کی ضرورت نہیں، جب بات آرٹیکل 209 کی آئے گی تو صدر مملکت کو اپنی رائے بنانا ہوگی۔اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ جمہوری نظام حکومت ایسے نہیں چلتا، سمری سیکریٹری قانون کی طرف سے تیار کی جاتی ہے، ریفرنس سے متعلق سمری بڑی جامع ہے۔جس پر جسٹس منصور علی شاہ نے پوچھا کہ کیا وزیراعظم کے مشورے سے صدر مملکت اختلاف کر سکتے ہیں، جس پر جواب دیا گیا کہ صدر مملکت معاملے کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے واپس بھیج سکتے ہیں، صدر مملکت، وزیراعظم کے مشورے سے اختلاف نہیں کر سکتے۔فروغ نسیم بولے کہ بینظیر بھٹو کے مقدمے میں فون ریکارڈ ہو رہا تھا، یہاں تو کسی جج کی جاسوسی نہیں کی گئی، نہ جسٹس قاضی فائز عیسی کی جاسوسی ہوئی نہ کسی اور جج کی۔انہوں نے کہا کہ ریفرنس اور شوکاز نوٹس میں انسداد منی لانڈرنگ قانون کی بات نہیں کی گئی، اس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ ہمارے سامنے کوئی بینک ٹرانزیکشن نہیں جس پر الزام دے سکیں، جس کے جواب میں فروغ نسیم نے کہا کہ اس لیے تو کہہ رہے کہ انکوائری ہو جائے، میں بینک کے ذریعے رقم باہر بھیجوں اور جائیداد خریدوں تو ظاہر کروں گا۔بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 20 سے 28 مئی تک میڈیا پر ریفرنس کی کوئی خبر نہیں تھی، سابق چیف جسٹس کہہ چکے ہیں انہوں نے ریفرنس جج کو پڑھنے کے لیے دیا، میرے حساب سے جج صاف ہاتھوں سے عدالت نہیں آئے، جج نے صدر مملکت کو خط لکھے۔میڈیا میں ریفرنس کا معاملہ آنے سے متعلق فروغ نسیم کا کہنا تھا کہ ریفرنس کی خبر میڈیا کو حکومت نے لیک نہیں کی، سابق چیف جسٹس نے ریفرنس پڑھنے کے لیے جج کو دیا، جج نے ریفرنس پڑھا اور نوٹس بھی لیا۔انہوں نے کہا کہ جج نے ریفرنس پڑھنے کے باوجود خط میں لکھا مجھے تو ریفرنس کا معلوم ہی نہیں جبکہ اپنا خط بھی خود لیک کیا گیا۔فروغ نسیم نے اپنے دلائل مکمل کرتے ہوئے کہا کہ انکم ٹیکس قانون کے مطابق جائیداد خریداری کے ذرائع بھی بتانے لازم ہیں۔جس پر عدالت نے کہا کہ تحریری گذارشات کب دیں گے، تحریری گذارشات کے لیے 4، 5 دن لگیں گے۔
حکومتی وکیل کے دلائل کے بعد جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ اب جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کا موقف سنیں گے، اہلیہ کا بیان ریکارڈ کیا جائے گا۔جس کے ساتھ ہی جسٹس عمر نے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ کو سلام کیا اور پھر انہوں نے اپنا بیان ریکارڈ کرانا شروع کیا۔اہلیہ جسٹس عیسی نے کہا کہ میں نے اپنے خاوند سے کہا مجھ سے کیوں نہیں پوچھا جارہا، میں موقع دینے پر آپ کی شکر گزار ہوں، کوشش کروں گی کہ ہدایات پر عمل کروں۔عدالت کو بذریعہ ویڈیو لنک اپنے بیان میں جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ نے کہا کہ میرا کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ 2003 میں بنا، اس وقت میرے خاوند جج نہیں تھے، پہلا کارڈ زائد المیعاد ہونے پر دوسرا کارڈ بنوایا۔انہوں نے کہا کہ میرا نام شناختی کارڈ پر سرینا عیسی ہے، میری والدہ اسپینش (ہسپانوی) ہیں، میرے پاس اسپینش پاسپورٹ ہے۔اہلیہ جسٹس عیسی نے کہا کہ یہ الزام لگایا گیا کہ میں نے جج کے آفس کا غلط استعمال کیا، جب میرے خاوند وکیل تہے تو مجہے پاکستان کا 5 سال کا ویزا جاری ہوا۔انہوں نے وضاحت کی کہ مجھے 5 سال کا ویزا اس وقت ملا جب میرے خاوند جج نہیں تھے، میرا ویزا ختم ہوا تو نئے ویزے کے لیے اپلائی کر دیا پھر جب دوسرا ویزا جاری ہوا تو وہ سپریم کورٹ کے جج نہیں تھے۔انہوں نے بتایا کہ جنوری 2020 میں مجھے صرف ایک سال کا ویزا جاری ہوا، یہ ویزا جاری کرنے سے پہلے مجہے ہراساں کیا گیا، ہراساں کرنے کے لیے کم مدت کا ویزا جاری کیا گیا۔عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے جسٹس قاضی فائز عیسی کی اہلیہ آبدیدہ ہوگئیں تاہم انہوں نے بیان جاری رکھا اور بتایا کہ اپنوں نے ایسا کیس بنایا جیسے میں ماسٹر مائنڈ کرمنل(مجرم) ہوں۔سپریم کورٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرواتے ہوئے جائیدادوں کے بارے میں اہلیہ جسٹس عیسی نے کہا کہ پہلی جائیداد 2004 میں برطانیہ میں خریدی، برطانیہ میں جائیداد کی خریداری کے لیے پاسپورٹ کو قبول کیا گیا۔بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کراچی میں امریکن اسکول میں وہ ملازمت کرتی رہی، ریحان نقوی ان کے ٹیکس معاملات کے وکیل تھے۔اہلیہ جسٹس عیسی کے مطابق گوشوارے جمع کروانے پر حکومت نے انہیں ٹیکس سرٹیفکیٹ جاری کیا لیکن ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ میرا ٹیکس ریکارڈ کراچی سے اسلام آباد منتقل کردیا گیا، ایف بی آر سے ریکارڈ کی منتقلی کا پوچھا تو کوئی جواب نہیں دیا گیا۔سرینا عیسی نے کہا کہ کلفٹن بلاک 4 میں جائیداد خریدی، بعد ازاں کلفٹن کی جائیداد فروخت کردی گئی، اس کے علاوہ شاہ لطیف میں خریدی گئی جائیداد بھی فروخت کر دی گئی۔انہوں نے بتایا کہ ان کی زرعی زمین ان کے نام پر ہے، زرعی زمین کا خاوند سے تعلق نہیں ہے، زرعی زمین والد سے ملی ہے، یہ زمین سندھ کے ضلع جیکب آباد میں ہے۔اہلیہ جسٹس عیسی نے کہا کہ ڈیرہ مراد جمالی بلوچستان میں بھی زرعی زمین ہے، ان زرعی زمین کی دیکھ بھال ان کے والد کرتے تھے۔اپنی زمین سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت کو میری زمین کے بارے میں پتہ ہے، میں غلط بیانی نہیں کروں گی۔عدالت کے سامنے بیان ریکارڈ کراتے ہوئے جسٹس عیسی کی اہلیہ کئی مرتبہ آبدیدہ ہوئیں تاہم انہوں نے بات کو جاری رکھتے ہوئے بتایا کہ ریحان نقوی نے مشورہ دیا کہ زرعی آمدن قابل ٹیکس نہیں۔انہوں نے بتایا کہ ریحان نقوی نے مشورہ دیا کہ فارن کرنسی اکانٹ (غیر ملکی کرنسی اکانٹ کھلوائیں۔ساتھ ہی جسٹس عیسی کی اہلیہ نے فارن کرنسی اکانٹ کا ریکارڈ بھی دکھایا اور بتایا کہ مجھے یہ ریکارڈ حاصل کرنے کے لیے بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، 2003 سے 2013 تک رقم اسی اکانٹ سے باہر گئی۔سرینا عیسی نے کہا کہ بینک 10 سالہ پرانا ریکارڈ نہیں رکھتے،ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ میرے نام سے رقم بینک اکانٹ سے لندن بہیجی گئی، جس اکائونٹ سے پیسہ باہر گیا وہ میرے نام پر ہے۔جسٹس عیسی کی اہلیہ نے بتایا کہ ایک پراپرٹی 26 ہزار 300 پانڈ میں خریدی گئی، اسٹینڈر چارٹر بینک کے فارن کرنسی اکانٹس میں 7 لاکھ پانڈ کی رقم منتقل کی گئی۔انہوں نے کہا کہ یہ تمام دستاویزات جو میں نے دکھائی اصلی ہیں، مجہے محدود وقت دیا گیا ہے، میرا لندن اکانٹ بہی صرف میرے نام پر ہے۔بیان جاری رکھتے ہوئے وہ بولیں کہ برطانیہ میں ٹیکس گوشواروں کا 2016 سے اب تک کا ریکارڈ دکھایا، برطانیہ نے زیادہ ٹیکس دینے پر ٹیکس ریفنڈ کیا۔تاہم پاکستان کے ٹیکس معاملات کو دیکھنے والے ادارے کے بارے میں اہلیہ جسٹس عیسی نے کہا کہ میں ایف بی آر گئی مجھے کئی گھنٹے انتظار کرایا، ایک بندے سے دوسرے بندے کے پاس بھیجا گیا، میں نے پوچھا میرا آر ٹی او کراچی سے اسلام آباد کیوں تبدیل ہوا۔انہوں نے کہا کہ میں نے ایف بی آر کو 2 خط بھی لکھے، 27 جنوری 2020 کو ایف بی آر جاکر پہلا خط حوالے کیا۔اس موقع پر جسٹس عمر عطا بندیال نے یہ ریمارکس دیے کہ ہم نے نوٹس کیا ہے کہ آپ کے پاس ریکارڈ موجود ہے، ہمارے لیے مسئلہ ہے میرٹ کا جائزہ نہیں لے سکتے، آپ کے پاس دو فورم ہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہم نے فریقین سے پوچھا کہ معاملہ ایف بی آر کو بھجوا دیتے ہیں، دوسرا فورم سپریم جوڈیشل کونسل ہے، آپ وہاں پر مقف دے سکتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ کے پاس سوالات کے مضبوط جواب ہیں، متعلقہ اتھارٹیز کو ان دستاویزات سے مطمئن کریں۔سربراہ بینچ نے کہا کہ آپ کے حوصلے کی داد دیتے ہیں، جس پر جسٹس عیسی کی اہلیہ نے کہا کہ مجھ سے یہ بات پہلے کیوں نہیں پوچھی گئی، 13 ماہ میں نے انتظار کیا۔جسٹس عیسی کی اہلیہ نے کہا کہ میرے بیٹے کو برطانیہ میں ہراساں کیا گیا۔اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ میں آپکو ایک بات بتا دوں کہ ہم ججز قابل احتساب ہیں، ججز نجی اور پبلک زندگی میں جوابدہ ہیں، آپ ایک جج کی شریک حیات ہیں، آپ نے جو جواب دیا وہ قانون کا تقاضا ہے، ہم دوسرے پبلک آفس ہولڈرز سے زیادہ جوابدہ ہیں۔عدالتی بات پر اہلیہ جسٹس عیسی نے کہا کہ آغاز میں ہی مجھ سے بات پوچھ لی جاتی، میں کسی قسم کی رعایت نہیں مانگتی، مجھے عام شہری کی طرح سلوک کیا جائے۔اس پر عدالتی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ 13 ماہ سے آپ سے کسی نے نہیں پوچھا تو ہدایت کے مطابق ٹیکس گزر جاتا ہے، آپ کو ٹیکس مین کے پاس جانا ہوگا، امید کرتے ہیں ٹیکس حکام آپ کو عزت دیں گے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ بہت بہادر اور حوصلہ مند خاتون ہیں، جس پر سرینا عیسی نے کہا کہ مجھے پہلی مرتبہ موقع ملا، اس پر سربراہ بینچ نے کہا کہ اچھے ذہن کے ساتھ آپ کو موقع دیا۔تاہم ساتھ ہی انہوں نے یہ ریمارکس دیے کہ ہمارے پاس مقدمہ میرٹ پر سننے کا حق نہیں، آدھا گھنٹہ سن کر محسوس ہوا کہ آپ کے پاس اپنا مقف پیش کرنے کے لیے کافی مواد ہے، ہم آپ کے حوالے سے مطمئن ہیں، خریداری کے ذرائع سے بھی مطمئن ہیں، تاہم اس پر فیصلہ متعلقہ اتھارٹی نے کرنا ہے۔اس پر اہلیہ جسٹس عیسی نے کہا کہ اسٹیٹ بینک کے پاس تمام معلومات موجود تھی، میں لندن کی جائیدادیں 2018 کے گوشواروں میں جمع کروا چکی ہوں، جس پر عدالت نے سرینا عیسی کے 2018 کے ٹیکس گوشواروں کا ریکارڈ سیل لفافے میں طلب کرلیا۔ساتھ ہی جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جج کی اہلیہ نے ایف بی آر کی بہت شکایت کی ہے، اس پر فروغ نسیم نے کہا کہ ایف بی آر نے زیادتی کی تو براہ راست شکایت وزیر اعظم کے پاس جائے گی۔بعد ازاں مذکورہ کیس کی سماعت کو آج جمعہ کی صبح 9 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔واضح رہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس کا معاملہ گزشتہ برس سال میں شروع ہوا تھا اور ان پر الزام لگایا گیا کہ انہوں نے برطانیہ میں اپنی ان جائیدادوں کو چھپایا جو مبینہ طور پر ان کی بیوی اور بچوں کے نام ہیں۔اس حوالے سے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیا تھا۔ریفرنس دائر کرنے کی خبر کے بعد جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدر ڈاکٹر عارف علوی کو خطوط لکھے تھے، پہلے خط میں انہوں نے کہا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں آنے والی مختلف خبریں ان کی کردارکشی کا باعث بن رہی ہیں، جس سے منصفانہ ٹرائل میں ان کے قانونی حق کو خطرات کا سامنا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے صدر مملکت سے یہ درخواست بھی کی تھی کہ اگر ان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جاچکا ہے تو اس کی نقل فراہم کردی جائے کیونکہ مخصوص افواہوں کے باعث متوقع قانونی عمل اور منصفانہ ٹرائل میں ان کا قانونی حق متاثر اور عدلیہ کے ادارے کا تشخص مجروح ہو رہا ہے۔صدر مملکت کو اپنے دوسرے خط میں جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا تھا کہ انہوں نے لندن میں موجود جائیدادوں سے متعلق کچھ نہیں چھپایا۔جس پر سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس قاضی فائز عیسی کو 2 ریفرنسز میں شوکاز نوٹس جاری کیے تھے۔سپریم جوڈیشل کونسل کی جانب سے جسٹس قاضی فائز عیسی کو جاری کیا گیا پہلا نوٹس برطانیہ میں اہلیہ اور بچوں کے نام پر موجود جائیداد ظاہر نہ کرنے کے صدارتی ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا۔جسٹس قاضی فائز عیسی کو جاری کیا گیا دوسرا شو کاز نوٹس صدر مملکت عارف علوی کو لکھے گئے خطوط پر لاہور سے تعلق رکھنے والے ایڈووکیٹ وحید شہزاد بٹ جانب سے دائر ریفرنس پر جاری کیا گیا تھا تاہم یہ ریفرنس بعد میں خارج کردیا گیا تھا۔بعد ازاں7 اگست 2019 کو جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے خلاف صدارتی ریفرنس کو عدالت عظمی میں چیلنج کر دیا تھا۔جسٹس قاضی فائز عیسی نے اپنے خلاف ریفرنس ذاتی طور پر چیلنج کیا تھا جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ میرے خلاف ریفرنس بدنیتی پر مبنی ہے، لہذا عدالت سے استدعا ہے کہ میری درخواست پر فیصلہ آنے تک سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی روکی جائے۔صدارتی ریفرنس سے متعلق مختلف درخواستوں پر سپریم کورٹ کا 7 رکنی بینچ تشکیل دیا گیا تھا جس کے تحلیل ہوجانے کے بعدعدالت عظمی کے 10 رکنی فل کورٹ نے 14 اکتوبر کو سماعت کا آغاز کیا تھا جس کا سلسلہ اب تک جاری ہے۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

کرسی آنے جانے والی چیز ہے ۔وزیراعظم عمران خان

‘کورونا کا مقابلہ کرنے کا واحد حل اسمارٹ لاک ڈان ہے’ ‘نواز، ...