بنیادی صفحہ / انٹرٹینمنٹ / ملک بھر میں عالمی اردو کانفرنس سمیت علمی سرگرمیاں

ملک بھر میں عالمی اردو کانفرنس سمیت علمی سرگرمیاں

کانفرنس میں اردو زبان اور شعر و ادب کے علاوہ پاکستان کی دیگر زبانوں اور ادب کو بھی جگہ دی جانے لگی ہے
دنیا بھر میں ادبی میلوں کی ایک طویل تاریخ ہے، جس کے ذریعے مصنف اور قاری کے مابین شعوری طور پر فاصلہ کم کیا گیا
جو واقعی ایک مینڈک کو کنویں سے نکالتی ہے وہ صرف ایک کتاب ہے۔جب آپ سب پڑھتے ہیں تو اسے پڑھتے ہیں،ہماری زندگی میں ایک اچھی کتاب ایک واقعہ ہے۔
تحریر: چودھری احسن پریمی
ادب کے بغیر زندگی جہنم ہے ۔لیکن وہ شخص جو اخبارات پڑھتا ہے۔ وہ اس شخص سے بہتر تعلیم یافتہ ہے جو کچھ نہیں پڑھتا ہے۔اگرچہ ادب زندگی کو نظر انداز کرنے کا سب سے زیادہ قابل قبول طریقہ ہے ۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ادب میں باہمی ذائقہ کے مقابلے میں خوبصورت دوستی کے لئے یقینا کوئی بنیاد نہیں ہے۔یہ تمام ادب کی خوبصورتی کا حصہ ہے اورآپ کو پتہ چلتا ہے کہ آپ طویل عالمگیر لمحات میں ہیںاور آپ تنہا نہیں اور نہ ہی دنیا سے الگ تھلگ ہیں یہی ہماراتعلق ہے۔صرف بہت کمزور ذہن میں ادب اور شعر سے متاثر ہونے سے انکار کیا جاسکتا ہے۔جو واقعی ایک مینڈک کو کنویں سے نکالتی ہے وہ صرف ایک کتاب ہے۔جب آپ سب پڑھتے ہیں تو اسے پڑھتے ہیں،ہماری زندگی میں ایک اچھی کتاب ایک واقعہ ہے۔ جب آپ محسوس کرتے ہیں کہ بہت اچھا لکھنے والا آپ کا دوست ہے آپ اسے فون کر کے اس کی پذیرائی کرسکتے ہیں لیکن آپ ایسا نہیں کرتے۔ ایک دل رکھنے والا کبھی بھی مشکل نہیں بناتا ہے، وہ ایک ایسا ماحول دیتا ہے جس سے کبھی تھکاوٹ نہیں ہوتی اور نہ ہی کبھی درد ہوتا ہے۔ادب عام طور پر بچپن میں معتبر طور پر منتقل شدہ بیماری ہے.تاہم جو کچھ تم جانتے ہو اسے لکھو اور اسے آپ کو بہت آزاد وقت دینا چاہئے۔یہ ادب کیا ہے ؟یہ وہی لوگ ہیں جو ہمارے سامنے گئے تھے، قبر سے باہرماضی سے پیغامات کو ریکارڈ کرکے زندگی اور موت کے بارے میں ہمیں بتانے کی کوشش کر رہے ہیں! ان کی بات سنیں! تاہم ہر کوئی اپنے میں ایک کتاب ہے، لیکن زیادہ تر معاملات میں وہ وہی رہنا چاہتے ہیں جہاں وہ کھڑے ہیں۔
آرٹس کونسل آف پاکستان، کراچی کے تحت ہونے والی عالمی اردو کانفرنس رواں برس اپنے 11 سال پورے کرچکی ہے۔ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مسلسل منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں اردو زبان اور شعر و ادب کے علاوہ پاکستان کی دیگر زبانوں اور ادب کو بھی جگہ دی جانے لگی ہے۔ اس دوران کئی طرح کے اعزازات بھی دیے جاتے ہیں، جن میں سرفہرست لائف اچیومنٹ ایوارڈ ہے، جو 2 سال سے دیا جا رہا ہے، گزشتہ برس یہ ایوارڈ معروف ڈراما نویس، گیت نگار اور مصور انور مقصود کو دیا گیا جبکہ اس سال فلم اور ٹیلی وژن کے لیے خدمات کے اعتراف میں معروف اداکار اور صدا کار ضیا محی الدین کو دیا گیا۔ زبان و ادب کے علاوہ رقص اور موسیقی کی محفلیں بھی اس کانفرنس کا حصہ ہوتی ہیں۔11 برسوں سے ہونے والی اس کانفرنس میں پاکستان اور دنیا بھر سے اردو زبان کے دانشور بھی شریک ہوتے ہیں، گزشتہ برس جاپان سے پروفیسر ہیروجی کتاکا اور اس برس چین سے ایک دانشور ٹینگ مینگ شینگ کو مدعو کیا گیا۔ یہ پاکستان کی سب سے بڑی کانفرنس ہے، جس کے بعد دیکھا دیکھی دوسرے شہروں میں بھی کانفرنسوں کی ابتدا ہوئی، لیکن دورِ حاضر کی پہلی جدید کانفرنس کا اعزاز کراچی آرٹس کونسل کے نام ہی ہے۔ دنیا بھر میں ادبی میلوں کی ایک طویل تاریخ ہے، جس کے ذریعے مصنف اور قاری کے مابین شعوری طور پر فاصلہ کم کیا گیا۔ کسی زمانے میں قارئین کتابیں پڑھنے کے بعد تصوراتی طور پر طے کرتے تھے کہ متعلقہ کتاب کو لکھنے والے مصنف کی شخصیت کیسی ہوگی، وہ عام زندگی میں کیسا دکھائی دیتا ہوگا، لیکن اب ایسا نہیں ہے۔ عالمی ادب میں کتاب اور قاری کے درمیان ادبی فیسٹیولز کی بنیاد رکھ دی گئی ہے، جہاں دونوں ایک دوسرے سے براہ راست مخاطب ہوسکتے ہیں۔پاکستان میں بھی ادبی میلوں کی تاریخ کو کھنگالا جائے، تو قیامِ پاکستان کے فورا بعد ہی اس طرح کی سرگرمیوں کے آثار ملتے ہیں، مگر وہ نقش کافی دھندلے ہیں، البتہ 70 اور 80 کی دہائی تک آتے آتے پاکستانی ادب نے مغربی رنگ ڈھنگ اپنانا شروع کیا، جس کے نتیجے میں ادبی میلوں کی روایت بھی ہمارے ہاں عود آئی۔ اردو زبان اور پاکستانی ادب کے نام پر ادبی میلے اور کانفرنسیں سجائی جانے لگیں۔ نئی صدی کے ابتدائی برسوں میں اس طرح کی سرگرمیوں نے زور پکڑا اور اب عہدِ حاضر میں یہ اپنے عروج پر ہیں۔عہدِ حاضر میں شروع ہونے والے ادبی میلوں کی ابتدا کراچی لٹریچر فیسٹیول سے ہوتی ہے، جس کو بھارت کے مقبول ادبی میلے جے پور لٹریچر فیسٹیول سے متاثر ہوکر پاکستان میں شروع کیا گیا۔ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس، کراچی کی ڈائریکٹر امینہ سید نے جب اس بھارتی ادبی میلے میں شرکت کی تو انہیں خیال آیا کہ پاکستان میں بھی اس طرح کا ادبی میلہ منعقد کیا جانا چاہیے، اس کے لیے انہوں نے معروف ادیب آصف فرخی کے ساتھ مل کر اس میلے کی بنیاد رکھی، جس کو ابتدا میں بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔2009 میں شروع ہونے والا ادبی میلہ 8 برسوں سے جاری ہے۔ ابتدائی برسوں میں پسند کیا جانے والا ادبی میلہ اب ایک مخصوص طبقے کا میلہ بنتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کی ساکھ متاثر ہوئی ہے اور اس کی ایک اور وجہ ادبی میلے میں یکسانیت، غیر ادبی موضوعات کی بھرمار ہونا بھی ہے۔کراچی لٹریچر فیسٹیول کی بھرپور کامیابی کے بعد اسلام آباد میں بھی اسی طرز کا ادبی میلہ شروع کیا گیا۔ 5 برس سے یہ میلہ کامیابی سے وہاں منعقد کیا جا رہا ہے۔ اس میں بھی کراچی کے ادبی میلے کے خطوط پر ہی کام کیا جاتا ہے، جس میں پاکستان اور دنیا بھر کے ممالک سے ادیب شرکت کرتے ہیں، زیادہ تعداد انگریزی زبان و ادب میں لکھنے والوں کی ہوتی ہے۔مختلف ممالک کے سفارت خانوں کی مدد سے منعقدہ اس ادبی میلے میں مختلف ادبی تصنیفات پر اعزازات بھی دیے جاتے ہیں۔ 2017 میں کراچی لٹریچر فیسٹیول کی ایک کڑی کے طور پر اس کا لندن ایڈیشن بھی متعارف کروایا گیا ہے، جس کی ابتدا ہوئے ابھی ایک برس ہی ہوا ہے، جس میں پاکستانی اور غیر ملکی مصنفین نے شرکت کی۔آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کراچی کے تحت، شہرِ قائد میں مختلف اسکولوں کے اشتراک سے ٹیچرز لٹریچر فیسٹیول کا انعقاد بھی کیا گیا، لیکن یہ سلسلہ زیادہ عرصے تک جاری نہ رہ سکا، البتہ چلڈرن لٹریچر فیسٹیول متعارف کروایا گیا جس کو خاصی پذیرائی ملی اور وہ اب نہ صرف کراچی، بلکہ پاکستان کے دیگر شہروں، جیسے سکھر، بہالپور، ملتان، لاہور اور اسلام آباد میں بھی منعقد ہوتا ہے۔ اس ادبی میلے میں بچوں کے لیے ادبی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ 8 سال سے بچوں کایہ ادبی میلہ ہورہا ہے۔ اس میلے کی بنیاد ڈالنے والوں میں امینہ سید اور ماہرِ تعلیم بیلارضا جمیل شامل ہیں۔ رواں برس تیسرا سندھ لٹریچر فیسٹیول 28 سے 30 دسمبر تک کراچی کے تاریخی اسکول این جی وے میں ہوگا، جس کا عنوان پرانے کراچی سے نئی محبت ہوگا، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ ادب، تاریخ، ثقافت، صحافت، سیاست سمیت کئی موضوعات پر بات چیت ہوگی۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

معروف رومانوی شاعرہ یسری وصال کا ایک خوبصورت انداز

معروف رومانوی شاعرہ یسری وصال کا نیشنل بک کے سالانہ دسویں فیسٹیول ...