بنیادی صفحہ / قومی / لاک ڈاون سے لوگوں کا بھوک سے مرنے کا خدشہ ہے۔ وزیر اعظم 

لاک ڈاون سے لوگوں کا بھوک سے مرنے کا خدشہ ہے۔ وزیر اعظم 

رپورٹ: چودھری احسن پریمی
ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام ا باد
وزیر اعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے خلاف اقدامات کو مزید موثر بنانے کے لیے ‘ٹائیگر فورس’ بنانے اور ‘ریلیف فنڈ’ قائم کرنے کا اعلان کردیا۔قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘میرے پاکستانیو! اس وقت ساری دنیا کورونا وائرس کی جنگ لڑرہی ہے اور ہر ملک اپنی استعداد کے مطابق لڑ رہا ہے اور جو اس وقت کامیاب ہوا اور اب تک سب سے کامیاب ملک رہا وہ چین ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘چین نے اپنے شہر ووہان کو لاک ڈان کرکے وائرس پر قابو کیا اگر ہمارے حالات بھی چین کی طرح ہوتے تو میں بھی اپنے شہروں کو مکمل طور پر بند کردیتا لیکن ہمارا مسئلہ ہے کہ 25 فیصد آبادی شدید غربت میں رہتی ہے یعنی ایسے گھرانے ہیں جو دو وقت کی روٹی نہیں کھاسکتے’۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’20 فیصد ایسے لوگ ہیں جو غربت کی لکیر کے ارد گرد ہیں یعنی ایک جھٹکا پڑتا ہے تو وہ بھی اس کے نیچے آسکتے ہیں، ہم بات کر رہے ہیں 8، 9 کروڑ لوگوں کی، اگر ہم لاک ڈان کرتے ہیں اور ان لوگوں کا دھیان نہیں رکھ سکتے ہیں جو بے روزگار ہو کر گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں جن کے پاس کھانے پینے کونہیں ہوتا تو ذہن میں ڈالیں کہ کوئی لاک ڈان کامیاب نہیں ہوسکتا’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہم لاک ڈان کرتے ہیں اورہماری کچی آبادی میں ایک کمرے میں 7،8 لوگوں کو کہیں کہ آپ بند ہوجا اور ہم ان کو کھانا بھی نہ پہنچا سکیں تو کوئی لاک ڈان کامیاب نہیں ہوگا، اگر کسی کو خیال ہے کہ ڈیفنس یا اسلام آباد کے بڑے سیکٹر کے لوگ بند رہ جائیں تو لاک ڈان کامیاب ہوجائے گا تو یہ ایک ایسی بیماری ہے جو امیر اور غریب کا فرق نہیں کرتی’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘غریب علاقوں میں لوگوں نے لاک ڈان کو نہ مانا اور وہاں وہ ملتے رہے جس پر ہمارا خیال ہے کہ وائرس غریب علاقے تک رہے گا امیر علاقے میں نہیں آئے گا تو ہمیں سمجھ جانا چاہیے کہ برطانیہ کے وزیراعظم کورونا وائرس کا شکار ہوگئے ہیں’۔عمران خان نے کہا کہ ‘یہ بیماری فرق نہیں کرتی ہے، اسی لیے ساری قوم مل کر اس وائرس کے خلاف جنگ لڑ کر جیت سکتی ہے، کوئی حکومت نہیں جیت سکتی ہے، اگر امیر ترین ملکوں اور امریکا کا یہ حال ہے تو خود سمجھ لیں کہ صرف وسائل سے یہ جنگ کبھی بھی نہیں جیتی جاسکتی ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘جب ساری قوم مل کر لڑتی ہے تو یہ جنگ جیتی جاسکتی ہے، ہمارے ہمسائے میں بھارت کی حکومت نے فیصلہ کیا کہ سارا ہندوستان لاک ڈان ہوگا، ان کے حالات دیکھیں، آج ان کے وزیراعظم نے معافی مانگی کہ ہم نے سوچے سمجھے بغیر لاک ڈان کیا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘بھارت کا مسئلہ یہ ہے کہ اگروہ لاک ڈان کو ہٹاتے ہیں تو لوگ کام شروع کردیں گے اور کورونا پھیل جائے گا اور اگر لاک ڈان جاری رکھتے ہیں تو لوگوں کے بھوک سے مرنے کا خدشہ ہے، آج بھی لوگ سڑکوں پر آئے ہیں کیونکہ لوگ بھوکے ہیں’۔وزیر اعظم نے کہا کہ ‘ہمیں یہ جنگ حکمت سے لڑنی ہے، سب سے پہلے اپنی حکمت استعمال کرنی ہے اور اپنے ملک کے حالات دیکھنے ہیں، ہم ملک یا کسی علاقے کو لاک ڈان کریں گے تو کیا ہم ان تک کھانا پہنچا سکیں گے اگر ہم یہ نہیں کرسکتے تو یہ لاک ڈان کامیاب نہیں ہوسکتا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے بڑی مشکلوں سے پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ریلیف پیکج دیا اور وہ تقریبا 8 ارب ڈالر کا ہے، امریکا نے بھی ریلیف دیا وہ بنتا ہے 2 ہزار ارب ڈالر، ظاہر ہے ہمارے پاس وسائل نہیں ہیں’۔عمران خان نے کہا کہ ‘ہمارے پاس دو چیزیں ہیں، سب سے بڑی چیز ہمارے پاس ایمان ہے، قائد اعظم نے پاکستان کا موٹو ایمان رکھا جو ہماری سب سے بڑی طاقت ہے جس کی وجہ سے پاکستانی قوم وہ ہے جو دنیا میں سب سے زیادہ خیرات کرنے والوں میں شامل ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہماری دوسری طاقت نوجوان آبادی ہے، اس وقت دنیا میں ہم نوجوانوں کی دوسری بڑی طاقت ہیں، اب ان دو طاقتوں کا استعمال کرنا ہے، کورونا کی جنگ جیتنے کے لیے پاکستان کی دو طاقتیں ہیں’۔ٹائیگر فورس بنانے کا اعلان کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ‘کورونا سے ریلیف کے لیے ٹائیگر فورس بنا رہا ہوں، یہ نوجوانوں کی وہ فورس ہوگی جو ہماری کمی کو فوج اور ہماری انتظامیہ سے مل کر پوری کرے گی’۔ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاوس میں ایک سیل ملک میں کورونا سے متعلق کیسز کی نگرانی کر رہا ہے جو ڈیٹا اور ٹرینڈ دیکھتا ہے اور ہم ایک ہفتے میں ہم بتادیں گے کہ یہ صورتحال کس طرف جارہی ہے۔ٹائیگر فورس کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ‘ ٹائیگر فورس کا کام یہ ہوگا کہ جن علاقوں کو لاک ڈان کرنا پڑے گا، وہ وہاں کھانا اور بنیادی ضروریات کی چیزیں پہنچائیں اور لوگوں کو قرنطینہ کے بارے میں بتائیں کہ انہیں کیا کرنا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘یہ فورس ہر جگہ جا کر بتائے گی اور لوگوں کو آگاہی دے گی، جس میں ہم ہر کسی کو دعوت دیتے ہیں اور اس میں نوجوان ڈاکٹر، نرسز، طلبہ، انجینئر، ڈرائیور، مکینک اور ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے لوگ شرکت کرسکتے ہیں اور ہم یہاں بیٹھ کر نگرانی کریں گے’۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘آج میں وزیراعظم کورونا ریلیف فنڈ قائم کرنے کا اعلان کررہا ہوں اور یہ اکانٹ نیشنل بینک میں اکانٹ ہوگا جو پرسوں سے فعال ہوگا، اور اس اکاونٹ میں جو پیسہ ڈالے گا اس سے پاکستان کے اندر اور باہر کسی قسم کے سوالات نہیں پوچھے جائیں گے اور اس فنڈ میں ٹیکس کی چھوٹ ہوگی’۔انہوں نے کہا کہ ‘اس وقت احساس پروگرام کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ لوگوں کو 12 ہزار روپے گھروں کے اندر پہنچا رہے ہیں اور اگر یہ لمبا جائے گا تو ہمیں ان کو مزید پیسہ دینا ہوگا کیونکہ وہ بے روزگار ہوگئے ہیں تو اس فنڈ سے ان کو پیسے دیے جائیں گے’۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘ہماری پوری کوشش ہوگی کہ اس کے ذریعے لوگوں تک پیسہ پہنچایا جائے، اس فنڈ کا آڈٹ ہوگا اور کوئی اس حوالے سے پتہ کرنا چاہے گا تو اس کو بتائیں گے’۔انہوں نے کہا کہ تیسری چیز یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک نے اعلان کیا ہے کہ جو صنعتکار یا نجی ادارہ ملازمین کو بے روزگار نہیں کرے گا اس کے لیے اسٹیٹ بینک سستے قرضے دے گا۔وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ‘چوتھی چیز یہ ہے کہ احساس پروگرام کے ذریعے پاکستان بھر میں کوئی خیرات کرنا چاہتا ہے تو وہ خود کو رجسٹرڈ کروائے، ہم انہیں بتائیں گے کہ رقم کہاں خرچ کرنی ہے تاکہ پیسہ کسی ایک جگہ خرچ نہ ہو اور پاکستان میں پہلی مرتبہ ریلیف کی کوششیں باہمی رابطے سے چل سکیں’۔اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے کہا کہ ‘ذخیرہ اندوزوں کی وجہ سے افراتفری پھیلتی ہے اور اشیا کی قیمتیں اوپر جاتی ہیں جس سے غریب لوگ بھوکے رہ جاتے ہیں، اس لیے ان لوگوں کو کہنا چاہتا ہوں جو لوگوں کی بھوک اور تکلیف سے پیسا بنانا چاہتے ہیں، ریاست ان کے خلاف سخت کارروائی کرے گی’۔ان کا کہنا تھا کہ ذخیرہ اندوزوں کی وجہ سے اس ملک میں لوگ بھوک سے مرجائیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ قوم کو میں کہنا چاہتا ہوں کہ یہ جنگ حکمت سے لڑنی ہے اور جہاں ملیں وہاں دوسروں سے فاصلہ رکھیں جس کو سماجی فاصلہ کہتے ہیں، صرف احتیاط نہ کرنے سے آپ اپنی اور دوسری کی زندگی کو خطرے میں ڈال دیں گے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان وہ ملک ہے جو اسلام کے نام پر بنا تھا، ہر مسلمان مدینے کی ریاست کو رول ماڈل سمجھتا ہے۔’انہوں نے کہا کہ ہم بحیثیت قوم جنگ جیتنی ہے تو جو لوگ نادار ہیں ان کی مدد کرنی ہے جس طرح انصار نے مہاجرین کی مدد کی تھی، آج اسی جذبے کی ضرورت ہے اور ہمیں وہی جذبہ پیدا کرنا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ یہ قوم مل کر انشااللہ کورونا وائرس کی جنگ جیتے گی۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

سب سے بڑا خطرہ بھوک سے لوگوں کی ہلاکتیں ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان

اب نہیں کوئی بات خطرے کی اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ...