بنیادی صفحہ / قومی / طبل جنگ بچ چکا: انسانوں کا سیلاب کچرے کو بہا لے جائے گا۔فضل الرحمن

طبل جنگ بچ چکا: انسانوں کا سیلاب کچرے کو بہا لے جائے گا۔فضل الرحمن


سکھر : ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)
حزب اختلاف کی جماعت جمعیت علما اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ پاکستان کے اداروں کے ساتھ کبھی تصادم نہیں کریں گے، اگر خدانخواستہ ایسی کوئی صورت حال بنتی ہے تو یہ حکومت یا ان کی ایجنسیوں کی طرف سے ہوگی۔سکھر میں خصوصی انٹرویو میں مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہم ثابت کرچکے ہیں کہ ہم پرامن اور ہمارے اجتماعات پرامن ہوئے ہیں۔ اگر ‘آزادی مارچ’ کے جلوس میں کوئی شرارت کرے گا تو اسے حکومت کا نمائندہ سمجھیں گے، کہ ان کے داخل کیے گئے لوگ اسے سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔مطالبات میں لچک سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ یہ حکومت اور مقتدر حلقوں کا مسئلہ ہے وہ ہمارے مطالبات منظور کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں؟ اگر حکومت یا مقتدر حلقوں کی طرف سے ایسی تجاویز آتی ہیں جن پر غور کیا جاسکتا ہو، تو تمام اپوزیشن جماعتیں ایک پیج پر ہیں۔جے یو آئی(ف) کی طرف سے چار مطالبات سامنے آئے ہیں جن میں وزیرِ اعظم عمران خان کا استعفی سرفہرست ہے جب کہ دیگر مطالبات میں فوج کی نگرانی کے بغیر نئے انتخابات، اسلامی دفعات کا تحفظ اور سویلین اداروں کی بالادستی کے ساتھ آزادی مارچ میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ ڈالنے کا مطالبہ شامل تھا۔جے یو آئی (ف) کے مرکزی رہنما مفتی کفایت اللہ کی گرفتاری اور سینیٹر حمد اللہ کا شناختی کارڈ منسوخ کیے جانے سے متعلق مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ یہ دونوں اقدامات احمقانہ ہیں، سینیٹر حمد اللہ والے معاملے پر تو پوری دنیا ہنس رہی ہے، اس حد تک کسی جماعت کے خلاف جانا مناسب نہیں۔ کل آپ مجھے بھی کہہ دیں گے کہ آپ پاکستانی نہیں کیوں کہ آپ کے دادا افغانستان سے آئے تھے، اس طرح تو کوئی محفوظ نہیں رہے گا۔حزب اختلاف کی جماعتوں کا آزادی مارچ کی حمایت سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں سب ساتھ دے رہی ہیں، اور شاید وہ ہم سے زیادہ نئے انتخابات حکمران کے مستعفی ہونے کے لیے پرجوش ہیں۔جے یو آئی ف کی ذیلی تنظیم انصار الاسلام کو کالعدم قرار دیے جانے سے متعلق سوال پر مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ انصارالاسلام کو اس وقت کیوں خطرہ بنالیا گیا ہے، ایسے فیصلوں کو نہ تو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی ان پر عملدر آمد کریں گے۔ ہماری جماعت رجسٹرڈ ہے اور قانون کے مطابق ہے اور ہماری جماعت کے تمام شعبے الیکشن کمیشن میں رجسٹرڈ ہیں۔جمعیت علما اسلام (ف) کا کراچی سے اتوار کو نکلنے والا ‘آزادی مارچ’ سکھر پہنچا جہاں سکھر بائی پاس پر حزب اختلاف کی جماعت نے سیاسی قوت کا بھی مظاہرہ کیا۔’آزادی مارچ’ اب سکھر سے پنجاب میں داخل ہوگیا ہے اور پھر اپنی آخری منزل اسلام آباد پہنچے گا۔سکھر بائی پاس پر آزادی مارچ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ انسانوں کا سیلاب اسلام آباد جارہا ہے جو اپنے ساتھ کچرے کو بہا لے جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اب طبل جنگ بچ چکا ہے اور ہمیں حکمرانوں سے سیاسی جنگ لڑنی ہے۔ ہم میدان سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔جے یو آئی (ف) کے امیر کا کہنا تھا "اب بتاو یہ مٹھی بھر لوگ ہیں یا پاکستان بھر کے لوگ؟ تمام سیاسی جماعتیں، ہر شعبہ زندگی سے وابستہ لوگ اور ہر شخص پاکستان میں جبر محسوس کر رہا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا ” یہ حکومت قوم پر جبری طور پر مسلط کی گئی ہے، ناجائز حکمران پاکستان کی کشتی کو ڈبو رہے ہیں جس کے خلاف ہم عوام کے پاس گئے ہیں۔جے یو آئی کے امیر نے میڈیا پر مبینہ قدغنوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے چینلز اور صحافیوں پر پابندی لگائی گئی ہے جس کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ اگر پیمرا بھی وزیرِ اعظم کو بتائے بغیر فیصلہ کر رہا ہے تو پھر جان لیں کہ یہ اصل حکمران نہیں۔یاد رہے کہ ‘آزادی مارچ’ کے حوالے سے حکومت اور جے یو آئی سمیت حزب اختلاف کی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے تھے۔ فریقین نے ہفتے کو مذاکرات کامیاب ہونے کا اعلان کیا تھآ۔ ‘آزادی مارچ’ کے سلسلے میں اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور جمعیت علما اسلام نے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔تاہم فریقین میں مذاکرات کامیاب ہونے کا اعلان کیا گیا۔ ‘آزادی مارچ’ کے سلسلے میں اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ اور جمعیت علما اسلام نے معاہدے پر دستخط کیے۔اس معاہدے کے مطابق وفاقی حکومت نے جمعیت علما اسلام کے ‘آزادی مارچ’ کو اسلام آباد میں داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ مارچ پارلیمنٹ ہاس کے سامنے ڈی چوک یا بلیو ایریا کے علاقے میں داخل نہیں ہوگا اور حکومت جلسے یا دھرنے کی راہ میں کسی قسم کی کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے خلاف تبدیلی کی تحاریک ناکام

رپورٹ: حبیبہ گلزار، زین العابدین ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) ...