بنیادی صفحہ / قومی / صحافیوں کے عدم تحفظ پر تشویش ہے۔ صلاح الدین مینگل چیئرمین پی سی پی

صحافیوں کے عدم تحفظ پر تشویش ہے۔ صلاح الدین مینگل چیئرمین پی سی پی

رپورٹ: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس
اسلام آباد: 16نومبر 2018
کیا پاکستان کی قانونی نظام نے قتل کئے جانے والے صحافیوں کو نامراد کر دیا ہے پاکستان میں گزشتہ پانچ برسوں میں چھبیس صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے۔ ان میں سے محض سولہ مقدمات عدالتوں تک پہنچے، چھ میں سماعت مکمل ہوئی، صرف ایک کو سزا سنائی گئی لیکن کسی کو سزا دی نہیں گئی ہے۔ اسلام آباد پاکستان میں گزشتہ پانچ برسوں میں اپنی صحافتی سرگرمیوں کی وجہ سے قتل کیے جانے چھبیس صحافیوں میں سے صرف سولہ کے مقدمات عدالتوں تک پہنچے جن میں سے محض چھ کی سماعت مکمل ہوسکی اور صرف ایک میں سزا سنائی جاسکی ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کی جانب سے دو نومبر کو صحافیوں کے خلاف جرائم میں سزائیں نہ دلوانے کے خلاف منائے جانے والے عالمی دن کے موقع پر جاری کی گئی ایک نئی تحقیق میں کی گئی ہے جس میں ملک کے قانونی نظام کی دو ہزار تیرہ سے اٹھارہ تک کے درمیان ناکامی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں صحافیوں کے قاتل سزا سے بچنے کی سب سے زیادہ شرح والے ممالک میں شامل ہے۔ چھبیس میں سے محض ایک مقدمے میں صحافی کے اہل خانہ کو نچلی عدالت سے انصاف ملا لیکن اسے ہائی کورٹ نے مسترد کر دیا۔ امپونٹی آف کرائمز اگینٹس جرنلسٹس پاکستان رپورٹ 2018 کو ایک قومی آذاد ادارے فریڈم نیٹ ورک نے تیار کیا ہے جو صحافیوں پر حملوں پر نظر رکھتی ہے اور ان کے تحفظ کے لیے سرگرم ہے۔ اس رپورٹ کا نام ہے پاکستان کی صحافتی دنیا میں جرم و سزا: پاکستان کے قتل کئے گئے چھبیس صحافیوں کے لیے صفر انصاف۔ فریڈم نیٹ ورک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اقبال خٹک نے اس موقع پر ایک بیان میں کہا کہ صحافی کو اب بھی نشانہ بنا کر قتل کیا جا رہا ہے اور انہیں ملنے والی دھمکیاں بھی بڑھ رہی ہیں جبکہ ریاست کا نظامِ قانون (پولیس کی ناکامی) اور عدلیہ (عدالتوں کی ناکامی) نے انہیں انصاف مہیا کرنے سے دور رکھا ہوا ہے۔ انہوں نے میڈیا فریقین سے مل کر صحافیوں کے خلاف جرائم کی سزا سے استثنا کے خلاف جدوجہد کرنی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ صحافی مر چکے ہیں اور ان کے قاتل آذاد ہیں۔ یہ رپورٹ اپنی نوعیت کی پہلی ہے جو سزا سے بچنے کے فریڈم نیٹ ورک کے خصوصی تیار کیے گئے انڈیکس پر مبنی ہے۔ اس میں صحافیوں کی ایف آئی آرز، ان کے اہل خانہ، وکلا اور قتل کئے جانے والے صحافیوں کے سابق ساتھیوں کے انٹرویوز نے مندرجہ ذیل حقائق سامنے لائے ہیں۔ سب سے خطرناک ذریعہ اور صوبہ: اخبارات کے صحافی (18 قتل) ٹی وی کے صحافیوں (8 قتل) کے مد مقابل تین گناہ زیادہ خطرے میں ہیں جبکہ پاکستان میں صوبہ پنجاب (8 قتل) کے ساتھ سب سے خطرناک صوبہ ہے جس کے بعد (7 قتل) کے ساتھ صوبہ خیبر پختونخوا ہے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں رہنے والے پرنٹ میڈیا کے صحافی (6 قتل) کے ساتھ سب سے زیادہ خطرے میں ہیں جبکہ ٹی وی صحافی سندھ اور پنجاب میں (4 اور 2 قتل) کے ساتھ خطرے میں ہیں۔صحافیوں کا بدترین دشمن: کافی صحافیوں کے قاتل ابھی تک چھپے ہوئے ہیں۔ تین میں سے ایک قتل ہونے والے صحافی کے لواحقین دھمکی دینے والے ذرائع کا پتہ بتاتے ہیں اور بیشتر قتل کے کیسوں میں حکومتی عناصر، سیاسی پارٹیاں اور مذہبی گروہ ملوث ہوتے ہیں۔قاتلانہ ردعمل: دو تہائی کیسوں میں جس میڈیا کے ادارے کے ساتھ قتل ہونے والا صحافی منسلک تھا اس نے اپنی تنظیم کو دھمکیاں موصول ہونے کے بارے میں بتا دیا تھا۔ ایک چوتھائی کیسوں میں صحافیوں کی یونین کو قتل ہونے والے صحافیوں نے موصول ہونے والی دھمکیوں کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔ تین چوتھائی کیسوں میں علاقائی انتظامیہ کو قتل ہونے والے صحافیوں نے موصول ہونے والی دھمکیوں کے بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔ ان تمام دھمکیاں ملنے کے باوجود کوئی بھی فریق قتل کو روکنے میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ یہ تمام قتل روکے جا سکتے تھے۔کس کی بنیاد پر قتل؟ خطرے کی ملکیت: کسی بھی پارٹ ٹائم کام کرنے والے صحافی کے قتل کے سلسلے میں کوئی بھی میڈیا کا ادارہ یا اس صحافی کے آجر سامنے آ کر ذمہ داری قبول نہیں کریں گے۔ 26 قتل میں سے کوئی ایک کیس بھی ایسا نہیں تھا کہ جس میں آجر نے آ کر پولیس کے سامنے کیس درج کروایا ہو۔ تمام کیس صحافی کے لواحقین نے درج کروائے ہیں جو ان کیس کو نجی بنا دیتے ہیں سرکاری نہیں۔ نامکمل تحقیقات پولیس کی نا کامیاں: 60 فی صد واقعات میں پولیس صحافی کے قتل کی تحقیقات ہی مکمل کرنے میں ناکام رہتی ہیں اور نا ہی ایک اختتامی چالان درج کرواتی ہیں جو ٹرائل شروع ہونے سے قبل جمع کروایا جاتا ہے۔ 26 قتل کیے جانے والے صحافیوں میں سے صرف 16 کے کیس کورٹ تک جاپہنچے ہیں۔ اس طرح قتل ہو جانے والے صحافیوں میں سے ایک تہائی کے لواحقین انصاف ملنے سے محروم رہ جاتے ہیں کیونکہ ان کا کیس کورٹ تک ہی نہیں پہنچ پاتا۔ ان کیسوں میں سب سے بری کارکردگی خیبر پختونخوا پولیس کی ہے جہاں قتل ہو جانے والے چھ صحافیوں میں سے صرف ایک صحافی کا کیس عدالت تک جا پہنچا ہے۔ پنجاب میں ایک تہائی کیسوں میں پولیس نے چالان جاری نہیں کیا جبکہ بلوچستان اور سندھ میں ہر پانچویں کیس میں سے ایک ایسا تھا کہ جس میں پولیس نے چالان جاری نہیں کیا۔نامکمل ٹرائل کورٹ کی ناکامی: پاکستان میں صحافیوں کے قتل سے منسلک صرف ایک تہائی کیس ایسے ہیں جنہیں ٹرائل کے لیے فٹ قرار دیا جاتا ہے۔ انصاف کی تلاش میں تین میں سے دو صحافیوں کے قتل کے کیس کورٹ پہنچنے سے پہلے ہی اختتام پذیر ہو جاتے ہیں۔ بلوچستان اور پنجاب میں موجود کورٹ صحافیوں کے ٹرائل مکمل کروانے میں سب سے آہستہ قرار دیئے جاتے ہیں۔ کوئی سزا نہیں انصاف کی ناکامی: پاکستان میں صحافیوں کے قاتلوں کو ناقابل یقین چھوٹ حاصل ہے۔ 2013 سے 2018 کے درمیان 26 قاتلوں میں سے صرف ایک کو مجرم قرار دیا گیا۔ یہ ایک کیس بھی خیبر پختونخوا کی ضلعی کورٹ میں ہوا تھا جس کے بعد ملزم نے ہائی اور سپریم کورٹ میں اپیل درج کروا دی۔ کیونکہ قتل صحافی کے لواحقین کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ وہ ہائی اور سپریم کورٹ میں جا کر اپنا کیس لڑیں اس لیے انہوں نے کیس واپس لے لیا جس کی وجہ سے ملزم کو کھلی چھوٹ مل گئی اور مظلوم ایک مرتبہ پھر انصاف کے پیچھے بھاگتا ہی رہ گیا۔صحافیوں کے قتل اور قاتلوں کے گرد دائرہ تنگ کرنے کے لیے رپورٹ نے جو چار تجاویز دی ہیں ان میں وفاق اور صوبے کی سطح پر صحافیوں کے تحفظ کے خصوصی قوانین کی تیاری جو قانونی نظام کو تحفظ دینے کا پابند کرے، وفاق اور صوبوں میں خصوصی پراسیکوٹرز کی تعیناتی تاکہ مقدمات بہتر انداز میں چلائے جاسکیں، اور میڈیا کی تمام تنظیمیں صحافیوں کے تحفظ کو اپنا مشن قرار دیں اور میڈیا اداروں کے اندر ایسی پالیسیاں اور سیفٹی اقدامات کا بندوبست کریں تاکہ خطرات کو کم کیا جاسکے۔پاکستان کو تواتر کے ساتھ بین القوامی میڈیا تنظیموں نے صحافت کرنے کے لیے خطرناک ترین مقامات میں سے ایک قرار دیا ہے۔ صحافیوں کو قتل کرنے والوں کی چھوٹ حیران کن طور پر بہت زیادہ ہے۔ سال 2000 سے لے کر اب تک ایک سو بیس صحافی قتل، اغوا، گرفتار کیے جاچکے ہیں یا انہیں ڈرایا دھمکایا گیا ہے پی ایف یو جے کے نمائندے نے کہا کہ سیفٹی پالیسی پروٹوکول کا میڈیا کے اداروں میں نفاذ ضروری ہے جسے سالانہ سیفٹی آڈٹ سے مشروط ہونا چاہئے۔ آزاد میڈیا جمہوریت کے لئے ناگزیر ہے۔ پی ایف یو جے اپنے آئین میں ترمیم کر رہی ہے اور بہت سا کام مکمل ہو چکا ہے۔ پریس کونسل آف پاکستان کے چیئرمین صلاح الدین مینگل نے کہا کہ عدنان رحمت نے جو پانچ سالہ اعداد و شمار پیش کئے ان پر تشویش ہے۔ پریس کونسل آف پاکستان نے ہمیشہ صحافیوں کے مسائل کے حل کی بات کی ہے۔ ضابطہ اخلاق 18 نکات پر محیط ہے جس میں کوئی ترمیم نہیں ہوئی۔ بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اراکین سے کہا ہے کہ اس ضمن میں اپنا کردار ادا کریں۔ پریس کونسل کے صوبائی دفاتر کے لئے صوبوں سے کہا ہے کہ وہ اس پر کام کریں۔ ہم نے پہلی مرتبہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر نوٹس جاری کئے۔ ہمیں فوجداری دفعات کے نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے  تاکہ فوری انصاف کی فراہمی کی جانب بڑھا جا سکے۔ سیمینار سے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے خطاب کرتے ہوئے اپنی ماضی کی کوششوں سے آگاہ کیا اور آئندہ کے تعاون کا یقین دلایا۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

علی زیدی کا سپریم کورٹ سے عذیر بلوچ جے آئی ٹی پر سوموٹو نوٹس لینے کی اپیل

مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کا مقصد عوام کے سامنے حقائق لانا ہوتا ہے۔ ...