بنیادی صفحہ / قومی / سب سے بڑا خطرہ بھوک سے لوگوں کی ہلاکتیں ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان

سب سے بڑا خطرہ بھوک سے لوگوں کی ہلاکتیں ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان

اب نہیں کوئی بات خطرے کی
اب سبھی کو سبھی سے خطرہ ہے ( جون ایلیا)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان کو یکم مئی سے قرضوں میں ریلیف ملنے کی توقع ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی
وزیر اعظم عمران خان کو اچھی ٹیم کی ضرورت ہے جو بیک ڈور ڈپلومیسی سے پاکستان کو فائدہ پہنچا سکے
معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے سبب شرح سود میں 2فیصد کمی کا اعلان
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
کسی اہم شخصیت نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ یہ سن کر بہت افسوس ہوا کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی آئی ایم ایف کا پاکستان کو قرضے دینے کا سارا کریڈٹ لے رہے ہیں۔ جبکہ نہ ہی ہمارے مشیر خزانہ اور نہ ہی اسٹیٹ بینک کے گورنر کو پاکستان کی بہتری کے لئے کوئی اندازہ تھا۔انہوں نے دعوی کیا کہ میں نے 27 مارچ کو وزیر اعظم عمران خان کو خط لکھنے کے لئے یہ تجویز پیش کی تھا اور بعد میں وزیر اعظم عمران خان نے 28 مارچ کی آدھی رات کو آئی ایم ایف سے فون پر اس پر عمل کیا۔ یہ سب اسی جگہ سے شروع ہوا اور آج ماشا اللہ آئی ایم ایف نے اعلان کیا۔انہوں نے یہ بھی دعوی کیا کہ میں نے 13 اپریل کو کوڈ – 19 کورونا ٹیسٹنگ کے حوالے سے بھی وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دیا۔ اس وقت 1 ٹیسٹ کے لئے سرکاری اخراجات تقریبا Rs/ 5000 کے ہیں اور اس کا نتیجہ 1 سے 3 دن بعد آتا ہے جبکہ ہم چینیوں پر زیادہ بھروسہ کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ1000 منٹ پر 3 منٹ کی ٹیسٹنگ کٹ تجویز کی۔ پھر بھی وزیر اعظم عمران خان اور ان کے مشیر اس مسئلے پر مکمل خاموش ہیں۔ 3 منٹ کے نتیجے میں پاکستان کو ایک دن میں زیادہ سے زیادہ آزمائش کا موقع ملے گا اور اس کے نتیجے میں اہم جانیں بچیں گی اور پاکستان کی معیشت کو فروغ ملے گا۔ اس کو ضرور اجاگر کیا جائے اور پاکستان کو بچانے کے لئے ایسی کٹس درآمد کی جائیں۔ اس ضمن میں کورونا وائرس سے چھٹکارا پانے کے لئے ہمیں زیادہ سے زیادہ جانچ کی ضرورت ہے .آئیے دیکھتے ہیں کہ مشیر صحت ڈاکٹر زطفر مرزا پریس کانفرنس کب کریں گے اور اس کا سہرا لیں گے؟۔انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو اچھی ٹیم کی ضرورت ہے جو باکس کے باہر سوچتے ہیں اور بین الاقوامی نمائش رکھتے ہیں جو بیک ڈور ڈپلومیسی سے پاکستان کو فائدہ پہنچا سکتا ہے۔
کچھ بھی دیر نہیں ہوئی ، یہ ہم سب کے لئے ایک جاگ اٹھنا ہے ۔پاکستان کے لوگ ندامت کے موسم میں جی رہے ہیں۔ افسوس ہے کہ ماضی میں ریاست کی ناکامی ، لوگوں اور قومی معیشت کو کورونا وائرس کے سنگین خطرہ سے نمٹنے کی مہم میں رکاوٹ ہے۔نوحے کے اوپری حصے میں لوگوں کے لئے صحت سے متعلق مناسب کور کی تیاری کی ضرورت کو نظرانداز کرنے ، نوآبادیاتی حکمرانوں کی تیار کردہ صحت کی خدمات کو کم کرنے اور کسی کی جیب کے سائز پر منحصر طبی دیکھ بھال تک رسائی حاصل کرنے پر افسوس اور غصہ ہے۔ . بنیادی حقوق کی فہرست میں صحت کو شامل نہ کرنے اور اصولوں کی پالیسی میں ‘طبی امداد’ کے ذکر کے خلاف عوامی احتجاج کے باوجود صرف اس طرح کے حوالے سے "ایسے شہری جو کمزوری کی وجہ سے اپنی روزی کمانے سے قاصر ہیں۔ ، بیماری یا بے روزگاری "۔ (آرٹیکل 38 (ڈی)) اور بڑھتی ہوئی مانگ کے باوجود ، سال بہ سال اور دہائی کے بعد دہائی کے بعد ، صحت کے لئے مختص رقم کو ایک فیصد سے کم کرنے کے لئے۔اس سال کے اوائل میں ، نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے ایک مطالعہ جاری کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ لوگوں کو طبی امداد تک رسائی کو ایک حق کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ کیا اقتدار کے متولیوں کو بھی اس کی طرف دیکھنے کے لئے وقت مل گیا؟ کیا اس بات کی کوئی گارنٹی ہے کہ ایک بار جب وبائی مرض کا خطرہ صحت کا احاطہ کرنے کے بعد ، کم از کم سب سے بڑی تعداد میں لوگوں کے لئے ، پوری دلجمعی سے اٹھا لیا جائے گا۔ ریاست کے پاس وسائل کی کمی کا بہانہ مکمل طور پر درست نہیں ہے کیونکہ لازمی صحت انشورنس اور سماجی تحفظ کی اسکیموں کے ذریعے لوگوں کے ساتھ اخراجات بانٹ سکتے ہیں۔مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے مساجد میں اجتماعات پر پابندی قبول کرنے سے انکار پر کافی اضطراب پایا ہے۔ یہ سارے اختلاف رائے انسانیت نہیں ہیں۔ چونکہ کویوڈ ۔19 کا ہر شکار کو ایک شہید کے طور پر قبول کرنا ہے ، بہت سے لوگ یہ نہیں چاہتے ہیں کہ وہ الگ الگ امتیاز سے محروم رہیں۔ اس کے علاوہ ، ہم مقاصد کے حل کے ذریعہ وفاداروں کے ذہنوں میں دوہری خودمختاری کے خیال کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔اس قرارداد کے مطابق ، جنرل ضیاالحق کے ذریعہ آئین کا لازمی حصہ بنایا گیا ، خودمختاری اللہ کی ہے اور اس نے اس کی مقرر کردہ حدود میں لوگوں کو اس کا استعمال کرنے کے لئے تفویض کیا ہے۔ یہ دلیل دی جاسکتی ہے کہ ریاست ان نمائندوں کی نمائندگی کرتی ہے جن کی رٹ حقیقی خود مختار کی مرضی کو ختم نہیں کرسکتی ہے۔ اللہ کے حکم اور ریاستی قانون یا ہدایت کے مابین تنازعہ کی صورت میں کسی بھی مسلمان شہری سے اپنے فرائض کے بارے میں پوچھیں اور اس کا جواب ہر ایک کو معلوم ہے۔مزید یہ کہ ، وفاداروں کی نظر میں ، ریاست مندوبین ، یعنی عوام کی طرف سے اپنے سپرد کردہ فرائض پورے نہیں کررہی ہے۔ عوام کی نمائندگی پارلیمنٹ کے ذریعہ کی جاتی ہے نہ کہ وزیروں کے ذریعہ جب وہ پارلیمنٹ کی مخصوص اجازت کے بغیر کام کرتے ہیں۔ لیکن پارلیمنٹ کہاں ہے؟ جو لوگ مذہبی احکامات کی پیروی کرنے کا دعوی کرتے ہیں وہ کسی ایسے وقتی اتھارٹی کو قبول نہیں کرتے ہیں جس کی پیشہ ور ضمیر نگہبان کے ذریعہ روزانہ کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔یہ صورتحال پاکستان کے لئے عجیب و غریب ہے کیونکہ دوسرے مسلم ممالک میں دوہری خودمختاری کا کوئی تصور نہیں ہے۔ جب ہم مرحوم جسٹس ڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا کہ ہم عقائد کے معاملات میں وجہ کی جگہ کا احترام کیے بغیر اور اسلام کے سیکولر جذبے کی طرف لوٹے بغیر اس صورتحال سے کیسے نبردآزما ہو سکتے ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ، کچھ معاملات جن پر پچھتاوا ہونا چاہئے ، بظاہر ان پر تنقید کی جارہی ہے۔ ڈاکٹروں ، نرسوں اور پیرا میڈیکس کی ایک اچھی خاصی تعداد واضح طور پر اس وائرس سے متاثر ہوئی ہے کیونکہ انہیں مناسب ذاتی حفاظتی سامان نہیں دیا گیا تھا۔ کہیں بھی افسوس کا کوئی نشان نہیں۔ اور یقینا اس گندے کارندوں پر افسوس کا کوئی عالم نہیں ، وزرا ایک دوسرے پر اور ڈاکٹر ظفر مرزا کے ممکنہ مصلوب پر حملہ کررہے ہیں!۔افسوس اور شرمندگی کی ایک بڑی وجہ لوگوں کی کافی تعداد میں ناقابل قبول سلوک ہے۔ ان میں وہ ایجنٹ شامل ہیں جو یہ احساس نقد گرانٹ وصول کرنے والوں سے کٹوتی کر رہے ہیں ، وہ لوگ جو اسپتالوں میں بے بس مریضوں سے زیادہ رقم وصول کررہے ہیں ، اور وہ جو کھانے پیکٹ فروخت کررہے ہیں یا ان کے ذریعہ چوری کیا گیا ہے۔عقلمندی کے درمیانے طبقے کے اجارہ دار ان کو قدیم اور بے چارہ مجرم قرار دے رہے ہیں۔ وہ کوئی نئی فصل نہیں ہیں کیونکہ یہ پایا گیا ہے کہ وہ قدرتی یا انسان ساختہ ہر تباہی کے بعد سرگرم عمل تھا۔ کمبل ، کپڑے ، کھانا پکانے کا تیل ، خشک اشیائے خوردونوش سیلاب اور زلزلے سے مشتعل لوگوں میں بانٹنا چاہئے جو ملک کے الگ تھلگ کونوں میں نہیں بلکہ اسلام آباد کی منڈیوں میں عام لوگوں کی تقدیر کے مالک کی ناک کے نیچے بیچ چکے ہیں۔ کیا کسی حکومت نے تفتیش کی ہے کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد ذمہ دار شہریوں کی طرح برتا کیوں نہیں کرتی ہے؟۔یہ معلوم کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ کیا عام پاکستانی ذمہ دار شہریوں کی طرح برتا نہیں کرتے ہیں کیونکہ ان کے ساتھ شہریوں کی طرح سلوک نہیں کیا جاتا ہے۔ یا یہ ممکن ہے کہ انھیں کسی ایسی ریاست کے مالک ہونے میں دشواری ہو جس کے بارے میں انھیں بتایا جاتا ہے کہ وہ ابھی بھی پرانی نوآبادیاتی سانچ میں ہے ، جس کے ایس ایچ اوز اور دیگر فیکٹومیٹس برتا کرتے ہیں جیسے نوآبادیاتی دور کے دوران ہوا تھا۔جبکہ وزیراعظم عمران خان نے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے جی-20 ممالک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) اور عالمی بینک کی جانب سے قرضوں میں ریلیف کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کو سراہا ہے۔وفاقی دارالحکومت میں وزیراعظم عمران خان سے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ ملاقات کے دوران وزیراعظم عمران خان نے جی 20 ممالک، آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے پاکستان سمیت ترقی پذیر ممالک کے لیے قرض ریلیف کے اقدامات کی تعریف کی۔دوران ملاقات مشیر خزانہ نے وزیراعظم کو کورونا وائرس کے معاشی اثرات سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف کی جانب سے اضافی ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کے رعایتی قرض منصوبے کی منظوری سے متعلق آگاہ کیا۔مشیر خزانہ نے وزیراعظم عمران خان کو حکومت کی طرف سے اعلان کردہ معاشی پیکج کے مختلف حصوں پر پیش رفت کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔خیال رہے کہ 12 اپریل کو وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس سے معیشت پر پڑنے والے اثرات کے پیش نظر عالمی برادری سے خطاب میں قرضوں میں چھوٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے سب سے بڑا خطرہ بھوک سے لوگوں کی ہلاکتیں ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے ویڈیو پیغام میں کہا تھا کہ ‘کورونا وائرس کے اس بحران پر دنیا میں ہم نے دو ردعمل دیکھے، ایک ترقی یافتہ ممالک اور دوسرا ترقی پذیر ممالک کا ردعمل تھا’۔انہوں نے کہا تھا کہ ‘ترقی پذیر ممالک کو خاص کر قرضوں کی شرح کا مسئلہ ہے، ان مقروض ممالک کے لیے معاشی مواقع کی معدومی کا مسئلہ ہے، ہمارے پاس صحت کے نظام پر خرچ کرنے اور لوگوں کو بھوک سے مرنے سے بچانے کے لیے پیسہ نہیں ہے’۔ساتھ ہی عالمی برادری کو مخاطب کرکے ان کا کہنا تھا کہ ‘اسی لیے میں عالمی رہنماں، مالی اداروں کے سربراہان، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے اپیل کرتا ہوں کہ ترقی پذیر اقوام کو کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے قرضوں میں ریلیف کے لیے ایک منصوبہ شروع کریں’۔بعد ازاں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وزیراعظم عمران خان کی ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت دینے کے حوالے سے عالمی اقدام اٹھانے کی اپیل کی حمایت کی تھی۔نیویارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈیوجیرک نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان کی تجویز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے اپنے مقف کے عین مطابق ہے۔انہوں نے کہا تھا کہ اقوام متحدہ کے سربراہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ رواں سال کے لیے واجب الادا قرضوں پر سود کی فوری معافی سمیت قرض کی ادائیگی میں سہولت کورونا وائرس سے نمٹنے کی عالمی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہونا چاہیے۔علاوہ ازیں گزشتہ روز سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں ہونے والے جی 20 ممالک کے اجلاس میں پاکستان کو ان ممالک میں شامل کرلیا گیا تھا جو باضابطہ دو طرفہ قرض دہندگان کو قرضوں اور ان پر عائد سود کی ادائیگیوں میں ریلیف کے اہل ہیں۔جی 20 ممالک نے عالمی بینک اور عالمی مالیاتی فنڈ پر زور دیا تھا کہ غریب ممالک کے لیے قرضوں میں ریلیف کو توسیع دی جائے تاکہ وہ اپنے وسائل کا استعمال کورونا وائرس سے درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کرسکیں۔اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ عالمی بینک کی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے)میں شامل تمام ممالک قرضوں میں ریلیف کے مجوزہ منصوبے میں اہل ہوں گے۔واضح رہے کہ آئی ڈی اے گروپ میں 76 ممالک شامل ہیں جن میں سے ایک پاکستان بھی ہے۔مزید برآں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ جی 20 ممالک نے پاکستان سمیت ترقی پذیر دنیا کے 76 ممالک کو قرضوں میں سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اطلاق یکم مئی سے ہوجائے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے کورونا وائرس کے حوالے سے عالمی برادری سے خطاب میں قرضوں میں چھوٹ کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے لیے سب سے بڑا خطرہ بھوک سے لوگوں کی ہلاکتیں ہیں۔وزیراعظم عمران خان نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ‘کورونا وائرس کے اس بحران پر دنیا میں ہم نے دو ردعمل دیکھے، ایک ترقی یافتہ ممالک اور دوسرا ترقی پذیر ممالک کا ردعمل تھا’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ترقی یافتہ ممالک کے لیے کورونا وائرس کو روکنے کے لیے لاک ڈاون کرنا اور معاشی اثرات پر کام کرنے کا معاملہ تھا’۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‘ترقی پذیر ممالک کو کورونا وائرس کے پھیلا کو روکنے اور معاشی معاملات سے نمٹنے کے ساتھ ساتھ اب بڑا مسئلہ بھوک سے لوگوں کی اموات ہیں’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘ایک طرف لوگوں کو وائرس سے بچانا اور دوسری طرف لاک ڈان کے باعث بھوک سے لوگوں کو مرنے سے بچانا ہے’۔عمران خان نے کہا کہ ‘ترقی پذیر ممالک کو ترقی یافتہ ممالک کے وسائل کے مقابلے میں بڑے مسائل کا بھی سامنا ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘امریکا 2.2 کھرب ڈالر کا بڑا ریلیف پکیج دے سکتا ہے، جرمنی ایک کھرب یورو اور جاپان ایک کھرب ڈالر کا پیکج دے سکتا ہے’۔پاکستان کی مثال دیتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کہا کہ ‘پاکستان میں ہم 22 کروڑ کی آبادی کوزیادہ سے زیادہ 8 ارب ڈالر کا پیکج دے سکتے ہیں، یہ مسئلہ اکثر ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ہے’۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘ترقی پذیر ممالک کو خاص کر قرضوں کی شرح کا مسئلہ ہے، ان مقروض ممالک کے لیے معاشی مواقع کی معدومی کا مسئلہ ہے، ہمارے پاس صحت کے نظام پر خرچ کرنے اور لوگوں کو بھوک سے مرنے سے بچانے کے لیے پیسہ نہیں ہے’۔عالمی برادری کو مخاطب کرکے ان کا کہنا تھا کہ ‘اسی لیے میں عالمی رہنماں، مالی اداروں کے سربراہان، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے اپیل کرتا ہوں کہ ترقی پذیر اقوام کو کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے کے لیے قرضوں میں ریلیف کے لیے ایک منصوبہ شروع کریں’۔
قبل ازیں فائنانسنگ سے متعلق پائیدار ترقیاتی رپورٹ 2020 (ایف ایس ڈی آر) میں قرضوں کے بحران کو روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وہ کم ترقی یافتہ ممالک جنہوں نے قرضوں کا تقاضا کیا ہے ان کے لیے قرضوں کی ادائیگی کی فوری معطلی بحران پیدا کردے گا۔ایف ایس ڈی آر 2020 نے حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ قرضوں کے تباہ کن بحران کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کریں اور کووڈ 19 وبائی امراض سے پیدا ہونے والے معاشی اور مالی تباہی سے نمٹنے کے لیے ہنگامی حکمت عملی اختیار کریں۔رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر انتہائی کمزور ممالک میں قرضوں کے خطرات مزید بڑھ جائیں گے، کم ترقی یافتہ اور دوسرے کم آمدنی والے ترقی پذیر ممالک میں سے 48 فیصد قرض کی پریشانی کا شکار ہیں۔مزید کہا گیا تھا کہ وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھ سکتی ہے اور اس سے متعلق عالمی معیشت اور اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔ جبکہ وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ جی 20 ممالک نے پاکستان سمیت ترقی پذیر دنیا کے 76 ممالک کو قرضوں میں سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اطلاق یکم مئی سے ہوجائے گا۔اسلام آباد میں دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس سے پاکستان کو مالی گنجائش ملے گی جس سے وزیراعظم عمران خان کے عوام خاص کر غریب طبقے کے لیے اقدامات کو تقویت ملے گی۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ قرضوں میں ریلیف کے لیے اپیل کے حوالے سے کئی طرح کا محتاط ردِ عمل موصول ہوا تاہم ہم نے نیک نیتی سے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا۔وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حکومت کی مدت کو ابھی دو سال مکمل نہیں ہوئے اور یہ چوتھا عالمی انیشی ایٹو جو عمراں خان نے لیا اور اس میں دفتر خارجہ نے ان کی معاونت کی اس میں پہلا ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سا تھا دوسرا توہین آمیز خاکوں سے متعلق اور تیسرا بدعنوانی کے حوالے سے تھا جسے بین الاقوامی پذیرائی حاصل ہوئی۔کون سے بین الاقوامی قرض دہندگان سے پاکستان کو قرضوں میں سہولت ملے گی کے جواب میں انہوں نے کہا کہ اس میں آئی ایم ایف، عالمی بینک سمیت تمام مالیاتی ادارے آجاتے ہیں۔مزید بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان کا بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کا مجموعی حجم 10 سے 12 ارب ڈالر ہے۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ترقی پذیر دنیا کی متعدد مشکلات ہیں جس میں ایک یہ کہ ان کا نظامِ صحت کمزور ہے جس سے جہاں ان کی آمدن کم اور برآمدات متاثر ہورہی ہے وہیں اخراجات بڑھ رہے ہیں
چنانچہ دنیا قرضوں میں سہولت فراہم کر کے ان کی مدد کرسکتی ہے۔ان کا کہا تھا کہ اس کا فائدہ صرف ترقی پذیر دنیا کو نہیں ہوگا بلکہ ترقی یافتہ ممالک بھی اسے مستفید ہوں گے کیوں کہ آج کے دور میں سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان کو یکم مئی سے قرضوں میں ریلیف ملنے کی توقع ہے جس سے ملک کو بہت فائدہ حاصل ہوگا کیوں کہ پاکستان کا ایک تہائی ریونیو قرضوں کی ادائیگی میں خرچ ہوجاتا ہے۔جی 20 ممالک اور عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب ترقی پذیر معیشتوں کو ریلیف فراہم کرنے کے فیصلے کے حوالے سے wزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اس سے پاکستان سمیت تقریبا 70 ممالک کو فائدہ ہوگا۔خیال رہے کہ جی 20 گروپ نے گزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا تھا کہ عالمی بینک کی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن (آئی ڈی اے) میں شامل تمام ممالک قرضوں میں ریلیف کے مجوزہ منصوبے کے اہل ہوں گے اور اس گروہ کے 76 ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے۔ان ممالک کے لیے قرضوں میں ریلیف کے لیے ان کی معطلی کا وقت یکم مئی سے شروع ہو کر یکم دسمبر 2020 تک جاری رہے گا۔اس عرصے کے دوران قرضوں کی تمام سروسز کو نئے قرضوں کی شکل دے دی جائے گی جس کی ادائیگیاں جون 2022 سے قبل شروع نہیں ہوں گی اور اس کے بعد کے 3 سالوں میں ادائیگیاں کی جاسکیں گی۔وزیر خارجہ نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ وزیراعظم عمران خان نے عالمی رہنما اور اداروں سے ترقی پذیر ممالک کے قرضوں کو ری اسٹرکچر کرنے کی درخواست کی تھی تا کہ وہ کورونا وائرس کے چیلنج سے نمٹ سکیں۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ انہوں نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل، عالمی برادری، عالمی معاشی اداروں سے اپیل کی تھی کہ اس کورونا وائرس نے پوری عالمی معیشت کو متاثر کیا ہے لیکن ترقی مزید ممالک کی معیشتوں کو بری طرح نقصان پہنچ رہا ہے

ترقی پذیر ممالک کی برآمدات متاثر ہو رہی ہیں زرمبادلہ کی شرح میں کمی واقع ہو رہی ہے جس کی وجہ سے غربت اور بیروزگاری مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔لہذا ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے واجب الادا قرضوں میں سہولت فراہم کی جائے تاکہ یہ ممالک اپنے وسائل اپنے نظامِ صحت کو بہتر بنانے، روزگار اور قیمتی انسانی جانوں کو بچانے کیلئے بروئے کار لا سکیں۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ 12 اپریل کو وزیر اعظم عمران خان کی اس اپیل کو خطوط کے ذریعے ارسال کیا گیا تھا۔بعدازاں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس تجویز کی توثیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ہماری سوچ کے عین مطابق ہے جبکہ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر اور عالمی بینک نے بھی اس تجویز کی توثیق کی تھی اور کل جی 20 ممالک نے بھی اس تجویز کی توثیق کردی۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان نے ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو سہارا دینے کا جو بیڑہ اٹھایا تھا اللہ تعالی نے ہمیں کامیابی سے سرفراز کیا۔ان کا کہنا تھاکہ قرضوں کی ری اسٹرکچرنگ کے اس اقدام سے پاکستان سمیت 76 ترقی پذیر ممالک کو قرضوں میں سہولت میسر آئے گی اور اربوں ڈالرز کا فائدہ ہو گا۔انہوں نے بتایا کہ قرضوں میں یہ سہولت، ابتدائی طور پر ایک سال کیلئے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کا اطلاق یکم مئی سے شروع ہوگا۔وزیر خارجہ کے مطابق پاکستان اپنے ریونیو کا ایک تہائی حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ کرتا ہے قرضوں کی ادائیگی میں سہولت ملنے سے پاکستان کو بہت فائدہ حاصل ہوگا۔قبل ازیں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وزیراعظم عمران خان کی ترقی پذیر ممالک کو قرضوں کی ادائیگی میں سہولت دینے کے حوالے سے عالمی اقدام اٹھانے کی اپیل کی حمایت کی تھی۔ نیوریارک میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈیوجیرک نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان کی تجویز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے اپنے موقف کے عین مطابق ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے سربراہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ رواں سال کے لیے واجب الادا قرضوں پر سود کی فوری معافی سمیت قرض کی ادائیگی میں سہولت کورونا وائرس سے نمٹنے کی عالمی کوششوں کا ایک اہم حصہ ہونا چاہیے۔ترجمان نے مزید کہا کہ یہ اقدام نہایت اہم ہے کہ دنیا کے غریب ترین ممالک کے محدود وسائل قرضوں کی ادائیگی کی نذر ہونے کی بجائے کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے استعمال ہونے چاہیئیں۔ جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کورونا وائرس کے پاکستانی معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے سبب شرح سود میں 2فیصد کمی کا اعلان کردیا ہے جس کے ساتھ ہی شرح 9فیصد ہو گئی ہے۔گزشتہ ماہ 24مارچ کو منعقدہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں کورونا وائرس کی وبا کے عالمی اور مقامی معیشت پر پڑنے والے سنگین اثرات کا جائزہ لیا گیا تھا اور اس کے بعد فیصلہ کیا گیا تھا کہ کورونا کے سبب ہر لمحہ بدلتی صورتحال کے پیش نطر وہ ضرورت کے پیش نظر پر ممکن اقدامات اٹھاتے رہیں گے تاکہ وائرس کے سنگین اثرات سے بچانے کے لیے معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے بعد عالمی معیشت مزید ابتر صورتحال سے دوچار ہوئی اور گریٹ ڈپریشن کے بعد عالمی معیشت کے سب سے زیادہ تنزلی کا شکار ہونے کا خدشہ ہے اور حال ہی میں آئی ایم ایف کی جاری رپورٹ کے مطابق یہ 2020 میں مزید 3فیصد سکڑ سکتی ہے۔اسٹیت بینک کے مطابق کورونا وائرس کے سنگین اثرات 2009 کی عالمی کساد بازاری سے بھی زیادہ خطرناک ہوں گے جب معیشت عالمی مالیاتی بحران کے دوران 0.07سکڑ گئی تھی جبکہ مزید سنگین ترین نتائج کا بھی عندیہ دیا گیا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ مرکزی بینک نے کہا کہ عالمی معاشی بحران کے ساتھ ساتھ تیل کی قیمتیں بھی عالمی سطح پر انتہائی کم ہو گئی ہیں اور ماہرین کے مطابق تیل کی قیموتں میں کمی کا یہ سسلہ برقرار رہے گا۔مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں جائزہ لیا گیا کہ مقامی سطح پر سرگرمیوں کے اشاریوں مثلا ریٹیل سیلز، کریڈٹ کارڈ کے اخراجات، سیمنٹ کی پیداوار، برآمدی آرڈرز، ٹیکس جمع کرنا و دیگر اس بات کی جانب اشارہ کرتے ہیں کہ معیشت حالیہ ہفتوں میں سست روی کا شکار ہوئی ہے۔تاہم اگر مہنگائی کی بات کی جائے تو مارچ اور اپریل کے انڈیکس کے مطابق مہنگائی کے رجحان میں کمی دیکھی گئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے مطابق کورونا وائرس کے دورانیے کی وجہ سے غیریقینی صورتحال انتہا کو پہنچی ہوئی ہے اور شرح نمو میں کمی کے سبب مہنگائی میں اضافے کا خطرہ ہے۔اجلاس میں کہا گیا کہ مالی سال 2020 میں معیشت کے مزید 1.5فیصد سکڑنے کا خطرہ ہے جس کے بعد مالی سال 2021 میں 2فیصد بہتری کا امکان ہے جبکہ مہنگائی کی شرح 11-12فیصد جبکہ اگلے سال کم ہو کر 7-9فیصد رہنے کا امکان ہے۔تاہم مانیٹری پالیسی کمیٹی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اشیا کی ترسیل نہ ہونے یا اس میں رکاوٹ کے نتیجے میں کھانے پینے کی اشیا کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کا خدشہ ہے البتہ معیشت کی کمزور حالت کی وجہ سے یہ دوسرے مرحلے میں سنگین اثرات جاری کرنے سے قاصر رہیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ امید ظاہر کی گئی کہ دنیا بھر میں قیمتیں کم ہونے اور درآمدات کی کم مانگ کے سبب ایکسچینج ریٹ میں کمی کے مہنگائی پر اثرات کو کم کیا جا سکے گا۔ مہگائی کی توقعات اور شرح نمو میں کمی کے سبب آج مانیٹری پالیسی کمیٹی کے ہنگامی اجلاس میں پالیسی ریٹ کو 200بیسس پوائنٹس کم کر کے 9فیصد کردیا گیا ہے۔کمیٹی کا ماننا ہے کہ شرح سود میں کمی سے کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والی بیروزگاری، مہنگائی پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ گھریلوں صارفین اور کمپنیوں پر قوت خرید اور قرض کا بوجھ کم کرنے میں مدد ملے گی۔مانیٹری پالیسی کمیٹی نے کہا کہ شرح سود میں کمی سمیت اسٹیٹ بینک کی جانب سے کیے گئے دیگر اقدامات سے مدد ملے گی مثلا رعایتی شرح سود پر کمپنیوں کو قرض کی فراہمی، بنیادی رقم کی ادائیگی میں ایک سال کی توسیع، قرض کی ادائیگی کی مدت 90دن سے بڑھا کر 180دن کرنا، کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئیے ہسپتالوں کو کم شرح سود پر قرض کی فراہمی کی گئی تاکہ یہ اس بحرانی صورتحال میں اپنے ملازمین کو نوکریوں سے نہ نکالیں۔یاد رہے کہ یہ گزشتہ ایک مال کے عرصے میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرح سود میں مسلسل تیسری مرتبہ کمی کی گئی ہے اور مجموعی طور پر اب تک ایک ماہ میں 4.25 فیصد کمی کی جا چکی ہے۔اس سے قبل 17مارچ کو 75بیسز پوائنٹس کم کرتے ہوئے شرح سود 12.5کردی گئی تھی جس کے ایک ہی ہفتے بعد پالیسی ریٹ میں مزید ڈیڑھ فیصد کمی کا اعلان کیا گیا تھا۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

چیف جسٹس سے ‘موٹر وے ریپ’ پر از خود نوٹس لینے کی استدعا

پولیس کی ناکامی سے ریاستی اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھ ...