بنیادی صفحہ / بین الاقوامی / روس طالبان اور افغان اپوزیشن رہنماں کے مذاکرات کی میزبانی کرے گا

روس طالبان اور افغان اپوزیشن رہنماں کے مذاکرات کی میزبانی کرے گا

افغانستان میں قیام امن کا سفر اتنا آسان نہیں ہوگا؟
ٹرمپ افغانستان سے فوج واپس بلانے میں سنجیدہ ہیں: طالبان
طالبان کی جانب سے انکار کی اہم ترین وجہ طویل عرصے سے امریکی مقاصد پر شکوک و شبہات تھے
جنگ بندی اور کابل حکومت کے سامنے میز پر بیٹھنے پر اتفاق کرنے کا سارا دار و مدار اب طالبان پر ہے۔
طالبان اور امریکہ کے درمیان لائحہ عمل پر اصولی اتفاق سے امریکہ کا افغانستان پر قبضہ ختم ہوجائے گا۔
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
ایسوسی ایٹڈ پریس سروس(اے پی ایس)
امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں تیزی آ گئی ہے، جس سے17 سال سے جاری افغان بحران کے خاتمے کی امید ہو چلی ہے۔ ایسے میں روس نے افغان اپوزیشن رہنماوں اور طالبان کے درمیان بات چیت کی میزبانی کا اعلان کیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے، رائٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ماسکو نے اس عمل میں افغان حکومت کو مکمل نظرانداز کیا، تاکہ طالبان کی مذاکرات میں شرکت کو یقینی بنایا جا سکے۔ طالبان افغان صدر اشرف غنی کے نمائندوں کو امریکہ کی کٹھ پتلیاں قرار دیتے ہوئے ان سے بات چیت سے انکار کرتے ہیں۔ایک روسی اہل کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا ہے کہ سینئر طالبان رہنما اور اہم افغان سیاست دان اجلاس میں شرکت کے لئے ماسکو آئیں گے، اور، یہ مذاکرات منگل کے روز ہوں گے۔روسی اہل کار نے بتایا ہے کہ یہ ایک حساس مرحلہ ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ افغان حکومت کے نمائندے اس بات چیت میں شرکت نہ کریں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماسکو مذاکرات سے افغانستان میں روس کا بڑھتا ہوا رثر و رسوخ واضح ہوتا ہے۔ روس کے افغانستان میں تجارتی منصوبے ہیں؛ سفارتی اور کلچرل موجودگی ہے؛ اور روس محدود پیمانے پر افغان حکومت کو فوجی تعاون بھی فراہم کر رہا ہے۔ ادھر افغانستان میں حکومت، طالبان کے زیر قبضہ اضلاع کو چھڑانے کی کوششوں میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔امریکی اسپیشل انسپکٹر جنرل آف افغانستان ری کنسٹرکشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق، افغان حکومت کا مختلف علاقوں پر کنڑول اور اثر و رسوخ مسلسل کم ہو رہا ہے۔ادھر تجزیہ کاروں نے امریکہ طالبان مذاکرات، مجوزہ ماسکو بات چیت اور افغانستان سے متعلق امریکی اسپیشل انسپیکٹر جنرل کی رپورٹ کے بارے میں اپنا نقطہ نظر بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کا یہ دعوی کہ امریکی فوج کے انخلا کے بعد وہ القاعدہ اور داعش کا مقابلہ کر سگیں گے، درست معلوم نہیں ہوتا، چونکہ افغانستان کی تین لاکھ فوج اس میں کامیاب نہیں ہو پا رہی ہے۔عبوری دور سے متعلق افغان طالبان کو پتا ہے کہ آئندہ دو برسوں میں انتخابات ہونے کی صورت میں وہ الیکشن نہیں جیت سکتے، اس لیے وہ افغان حکومت میں اپنے حصے کی ضمانت مانگ رہے ہیں، جس سلسلے میں ایران، چین اور روس بھی دلچسپی رکھتا ہے۔اس سلسلے میں، انھوں نے کہا کہ طالبان افغان حکومت سے براہ راست بات چیت پر رضامند دکھائی نہیں دیتے، جب کہ طالبان قیادت کی جانب سے اس بات کا عندیہ نہیں ملا آیا وہ افغان حکومت سے گفتگو کریں گے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں آیا افغان حکومت طالبان کو کس حد تک قبول کرنے کے لیے تیار ہے، جس ضمن میں افغان حکومت کیا رول ادا کرسکتی ہے؛ جب کہ طالبان افغان حکومت سے بات چیت سے انکار کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی، انھوں نے کہا کہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت، زلمے خلیل زاد کے ساتھ طالبان کی دو ملاقاتوں کے دوران پاکستان نے اپنا رول ادا کیا ہے۔طالبان امریکہ مجوزہ سمجھوتے کی یہ شرط کہ القاعدہ اور داعش سے نمٹنے کے لیے طالبان اپنا کردار ادا کریں گے اور یہ کہ افغان سرزمین کسی دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی پاکستان افغانستان کے درمیان 2500 کلومیٹر طویل سرحد پر 900 کلومیٹر کی باڑ لگ چکی ہے، جس سے، پاکستان کی سنجیدگی کا پتا چلتا ہے۔ خطے کا استحکام تمام ملکوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ افغان صدر یہ بات واضح کر چکے ہیں کہ کوئی معاملہ ایسا نہیں ہوگا جو افغان عوام کے مفاد میں نہ ہو؛ جب کہ اگر طالبان کو یہ لگا کہ ان کیساتھ دھوکہ کیا جا رہا ہے تو وہ امن عمل سے کسی بھی وقت باہر نکل سکتے ہیں۔ اس لیے بات چیت کا یہ ایک نہایت ہی نازک مرحلہ ہے۔

بعض مبصرین کا یہ کہنا ہے کہ ماضی میں امریکہ نمائندہ خصوصی خلیل زاد طالبان مخالف تھے، اگر وہ طالبان کے ساتھ بات چیت کرسکتے ہیں تو یہ امر بذات خود ایک اہم پیش رفت کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ معاملہ حل کی جانب بڑھ رہا ہے۔ادھر رائٹرز کی خبر میں سابق افغان صدرحامد کرزئی کے لیے کہا گیا ہے کہ ان کے خیال میں روس افغانستان میں طویل عرصے سے جاری امریکی جنگ کے خاتمے کے لئے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ان سمیت، افغان حکومت کے ناقدین کی میزبانی نے کابل اور امریکی حکام کو برہم کر دیا ہے۔رپورٹ میں ایک سینئر امریکی عہدیدار کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ روس ایک بار پھر امریکی حمایت یافتہ امن عمل اور افغانستان کی سیاسی صورت حال کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے؛ اور یہ کہ طالبان اور صدر اشرف غنی کے مخالفین کی میزبانی افغان حکومت کو نیچا دکھانے کی ایک کوشش ہے۔طالبان کے قطر میں موجود دفتر کے ترجمان کا کہنا ہے ماسکو میں دو روزہ مذاکرات ہوں گے۔ سینئر رہنما محمد عباس ستنکزئی کی قیادت میں ایک وفد مذاکرات میں شریک ہو گا۔گزشتہ نومبر میں روس نے افغان جنگ کے خاتمے کی کوششوں کے سلسلے میں ایک اجلاس کی میزبانی کی تھی، جس میں طالبان اور امریکہ سمیت مختلف ممالک کے نمائندوں نے حصہ لیا تھا۔روس کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زخارووا کا کہنا ہے کہ روس نے جنوری میں واشنگٹن کی امن کوششوں کا خیر مقدم کیا تھا۔ لیکن، بقول ان کے، امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی طالبان کو افغان حکومت سے بات چیت پر آمادہ کرنے کی کوششیں ناکام ہوگئی ہیں۔افغانستان میں امریکہ کے 14000 فوجی نیٹو کی سربراہی میں رزولیوٹ سپورٹ مشن کا حصہ ہیں۔جبکہ افغان طالبان کا کہنا ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان سے امریکی فوج واپس بلانے کے بارے میں سنجیدہ ہیں۔طالبان کے ترجمان نے گزشتہ جمعے کو خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ سے واٹس ایپ کے ذریعے گفتگو میں افغان جنگ کے حل کی امید کا بھی اظہار کیا ہے۔طالبان ترجمان کا یہ بیان امریکی حکام کے ان حالیہ بیانات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ طالبان کی ساتھ بات چیت صحیح راستے پر گامزن ہے۔طالبان اور امریکی حکام کے تواتر سے سامنے آنے والے مفاہمانہ بیانات سے ان قیاس آرائیوں کو تقویت ملی ہے کہ 17 سال سے جاری افغان تنازع کے حل کی طرف پیش رفت ہو رہی ہے۔صدر ٹرمپ بارہا بیرونِ ملک تعینات امریکی افواج کو وطن واپس بلانے کی خواہش کا اظہار کرچکے ہیں اور ان کی اس خواہش کا اثر بظاہر طالبان اور امریکہ کے درمیان قطر میں ہونے والی حالیہ بات چیت پر بھی پڑا ہے۔جمعے کو ‘اے ایف پی’ سے گفتگو میں طالبان ترجمان نے تصدیق کی کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان تنازع کے حل کے لیے ایک لائحہ عمل پر اصولی اتفاق ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس لائحہ عمل پر عمل ہوا اور امریکہ نے اس کے لیے دیانت داری سے اقدامات کیے اور ان پر قائم رہا تو تو پھر ہم توقع کرتے ہیں کہ امریکہ کا افغانستان پر قبضہ ختم ہوجائے گا۔امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے بھی رواں ہفتے طالبان کے ساتھ ایک مجوزہ سمجھوتے کے فریم ورک پر اتفاقِ رائے کا
عندیہ دیا تھا۔لیکن ساتھ ہی انہوں نے خبردار کیا تھا کہ افغانستان سے امریکی فورسز کے انخلا سمیت کئی معاملات طے ہونا باقی ہیں۔جمعے کو اپنی گفتگو میں طالبان ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امن سمجھوتے کی صورت میں انہیں افغانستان میں ایسا اسلامی نظام قائم ہونے کی توقع ہے جس میں تمام افغانوں کے لیے گنجائش ہوگی۔طالبان نے 1996 میں افغانستان کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد وہاں اسلامی قوانین نافذ کیے تھے۔ لیکن 2001 میں افغانستان پر امریکی حملے کے نتیجے میں ان کا اقتدار ختم ہو گیا تھا۔اس حملے کے بعد سے طالبان افغانستان میں بطور ایک گوریلا فورس سرگرم ہیں اور مسلسل افغانستان سے غیر ملکی فورسز کی انخلا اور ملک میں دوبارہ اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔’اے ایف پی’ کے ساتھ انٹرویو کے دوران بھی ترجمان نے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا پہلی منزل ہے اور دوسرے مرحلے میں وہ اسلامی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں۔تاہم طالبان ترجمان نے واضح کیا کہ وہ ایسا کوئی بھی نظام مختلف سیاسی حلقوں سے بات چیت کے بعد ہی تشکیل دیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر کابل حکومت اس نظام کے قیام کی راہ میں حائل نہیں ہو گی پھر ان کے بقول "جنگ کی ضرورت نہیں رہے گی۔ذبیح اللہ مجاہد نے طالبان کے اس حالیہ موقف کا اعادہ کیا کہ طالبان افغانستان میں اجارہ داری کے خواہاں نہیں اور ان کے بقول، "ان شا اللہ تمام افغان بشمول مختلف سیاسی فریق مستقبل کے نظامِ حکومت میں شامل ہو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایسے کسی بھی نظام کی بنیاد شوری (مشاورت) کا اصول ہو گی جس میں عوام اور علماکے نمائندوں کی شمولیت سے اسلامی ماہرین فیصلے کریں گے۔طالبان ترجمان نے کہا کہ انہیں افغانستان میں ایسا نظام قائم ہونے کی 100 فی صد امید ہے۔طالبان ترجمان نے تسلیم کیا کہ 1990 کی دہائی میں ان کے اقتدار کو متعدد معاشی، سماجی اور سیکورٹی مسائل کا سامنا کرنا پڑا تھا جن میں ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ خواتین اور مردوں کو کیسے الگ الگ رکھا جائے۔تاہم انہوں نے کہا کہ اب طالبان خواتین کی تعلیم کے خلاف نہیں ہیں اور وہ خواتین کو حصولِ تعلیم اور کام کے لیے ایک محفوظ ماحول فراہم کریں گے ترجمان کا کہنا تھا کہ جو کچھ اسلامی شریعت نے خواتین کے لیے جائز قرار دیا ہے اس کی افغان خواتین کو اجازت ہو گی۔جبکہ مبصرین کا بھی کہنا ہے کہ امریکا اور افغان طالبان ڈرافت فریم ورک پر ڈیل کے کافی قریب آچکے ہیں جسے افغان امن مذاکرات میں ہونے والی سب سے ٹھوس پیش رفت کہا جا رہا ہے، یہ وہ ڈرافٹ ہے جو فریم ورک امریکا کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کا باعث بن سکتا ہے۔ اگرچہ اب بھی اس میں کئی رکاوٹیں باقی ہیں، لیکن دونوں فریقین کے درمیان ہونے والے مستحکم مذاکراتی عمل سے افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا پر منطقی معاہدے کی راہ ہموار ہوئی ہے۔غیرمعمولی طور پر یہ اہم پیش رفت ایسے وقت کے بعد ہوئی ہے جب مذاکراتی عمل تعطل کا شکار ہوگئے تھے، ایک طرف طالبان اس مذاکراتی عمل سے پوری طرح سے علیحدہ ہونے کی دھمکی دے رہے تھے تو دوسری طرف امریکا کے لہجے میں سختی آتی جا رہی تھی۔ مذاکراتی عمل کے چیف زلمے خلیل زاد نے تو یہاں تک اشارہ دے دیا تھا کہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے امریکا فوجی دبا کو بڑھا سکتا ہے۔یہ سب کچھ گزشتہ برس کے آخر میں ابو ظہبی میں امریکی اور طالبان نمائندگان کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد ہوا، جس میں پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے نمائندوں نے بھی شرکت کی تھی، اور اس ملاقات کا اختتام مثبت نوٹ پر ہوا۔ مگر طالبان کی جانب سے شہر میں موجود کابل حکومت کے نمائندوں سے ملاقات سے انکار کے بعد مذاکراتی عمل کے نتیجے اور موڈ کا رخ ہی مڑ گیا۔چند اطلاعات کے مطابق خلیل زاد کو سعودی عرب کی جانب سے یہ گارنٹیاں دی گئی تھیں کہ طالبان کابل حکومت کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کریں گے۔ تاہم آخری لمحے میں طالبان اپنے وعدے سے پیچھے ہٹ گئے اور مختلف افغان دھڑوں کے درمیان موجود تحفظات کو وجہ بناتے ہوئے کہا کہ اس وقت تک امن مذاکرات منطقی انجام تک نہیں پہنچ سکیں گے جب تک ان دھڑوں کی جانب سے تھوڑی بہت لچک نہ دکھائی جائے۔ طالبان کے اس انکار پر بالخصوص افغان صدر اشرف غنی سخت برہم ہوئے، جنہوں نے اپنے سیکیورٹی مشیر حمد اللہ محب کو متحدہ امارات بھیجا تھا۔اس کے علاوہ نازک مذاکراتی عمل کو ایک اور دھچکا اس وقت لگا جب طالبان نے سعودی عرب میں جنوری میں متوقع اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا تھا۔ طالبان نمائندوں نے کہا کہ مذاکرات کے مقام کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں لیا گیا تھا۔ طالبان کی جانب سے انکار کی اہم ترین وجہ طویل عرصے سے امریکی مقاصد پر شکوک و شبہات تھے۔ طالبان نے امریکا پر دوغلے پن اور گزشتہ اجلاسوں میں طے پانے والے معاہدے کی وعدہ خلافی کا الزام عائد کیا۔مذاکراتی عمل کو تعطل کا شکار بنانے والی تکرار کا اہم نکتہ طالبان کی جانب سے یہ اصرار تھا کہ امریکا کو افغانستان سے افواج کے انخلا اور دیگر ریاستوں کے خلاف افغان زمین کے استعمال کو روکنے کے حوالے سے بات چیت کے متفقہ ایجنڈے پر قائم رہنا ہوگا۔ امریکا اب اپنے وعدے سے مکر گیا ہے اور یکطرفہ طور پر نئے موضوعات کا اضافہ کر رہا ہے۔ پس پردہ سرگرم سفارتی کوششوں کے بعد بالآخر برف پگھلنے لگی، سفارتی کوششوں کی بات کی جائے تو طالبان کو دوبارہ میز پر لانے کے لیے اسلام آباد نے اہم کردار ادا کیا۔ابتدائی طور پر طالبان اور امریکی نمائندوں کے درمیان ملاقات اسلام آباد میں ہونا تھی، لیکن میڈیا میں خبریں لیک ہوجانے کے باعث ملاقات کے مقام کو دوحہ کردیا گیا۔ 6 دنوں تک جاری رہنے والے اس مذاکراتی عمل سے غیر معمولی نتائج برآمد ہوئے ہیں، لہذا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بظاہر طور پر دونوں جانب سے لچک دکھائی جا رہی ہے۔ممکن ہے کہ طالبان ٹیم میں ایک تبدیلی سے بھی اس غیر معمولی پیش رفت میں مدد ملی ہو۔ دوحہ مذاکرات کی دوڑ میں طالبان نے ملا عمر کے نائب اور اسلامی ملیشیا کے شریک بانی ملا برادر آخوند کو بطور چیف مذاکرات کار مقرر کیا۔ ملا برادر ایک دہائی سے بھی زیادہ عرصے تک پاکستانی حکام کے زیرِ حراست رہ چکے تھے اور انہیں چند ماہ قبل ہی رہا کیا گیا تھا۔ طویل عرصے تک زیرِ حراست رہنے کے باوجود وہ سب سے طاقتور اور معزز شورش پسند رہنماں میں سے ایک رہے۔ انہیں طالبان تنظیمی ڈھانچے میں دوسری اہم پوزیشن پر ترقی بھی دی جاچکی ہے۔امن مذاکراتی عمل میں ملا برادر کی تعیناتی طالبان کی اس عمل پر سنجیدگی کو ظاہر کرتی ہے۔ ملا برادر کے مرتبے کو بلند کرنے کی ایک دوسری وجہ انہیں حاصل احترام اور طالبان فیلڈ کمانڈرز پر ان کا اثر و رسوخ ہے۔ کسی بھی امن معاہدے کے لیے ان فیلڈ کمانڈرز کی حمایت حاصل ہونا بہت ضروری ہے۔ ٹیم ان کی زیرِ سربراہی آنے سے بلاشبہ طالبان مذاکرات کاروں کو زبردست اختیارات حاصل ہوگئے ہیں۔جنگ بندی اور کابل حکومت کے سامنے میز پر بیٹھنے پر اتفاق کرنے کا سارا دار و مدار اب طالبان پر ہے۔ امن عمل کو آگے لے جانے کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ طالبان کی جانب سے اشرف غنی کی حکومت کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات سے مسلسل انکار ہے۔ لیکن فریم ورک ڈیل کے بعد داخلی افغان مذاکراتی عمل پر رضامندی کے روشن امکانات نظر آتے ہیں۔جنگ بندی کے نتیجے میں مذاکرات کا عمل آگے بڑھ سکتا ہے، تاہم تمام اسٹیک ہولڈرز ایک جامع معاہدے پر پہنچیں، اس سے قبل ایک طویل سفر طے کرنا ابھی باقی ہے۔لیکن، افغانستان سے انخلا واشنگٹن کے لیے خارجہ پالیسی سے متعلق بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔ چونکہ یہ ایک غیر فتح کن جنگ رہی ہے، اس لیے امریکا کی وہاں سے روانگی اتنی آسان نہیں ہے۔ مکمل طور پر انخلا کی اپنی پیچیدگیاں ہوسکتی ہیں۔ 17 سالہ طویل اس جنگ نے ملک کو مزید تقسیم کردیا ہے۔ جیسے جیسے افغان کھیل آخری مرحلے میں داخل ہوتا جا رہا ہے ویسے ویسے شورش پسندوں نے جنگ کے میدان میں فتوحات اور وسیع ہوتے زمینی کنٹرول سے بلاشبہ کھیل پر اپنا پلڑہ بھاری کرلیا ہے۔حال ہی میں افغان فوجی اہلکاروں اور تنصیبات پر طالبان کی جانب سے بڑی سطح کے حملوں سے شورش پسندوں کا حوصلہ مزید بلند ہوا۔ جب تک امریکی مکمل فوجی انخلا کے لیے کسی ٹائم فریم پر متفق نہیں ہوتے تب تک طالبان اپنی بندوقیں جھکانے کا دور دور تک کوئی ارادہ نہیں رکھتے۔ بلکہ موسمِ بہار میں طالبان کی عسکری جارحیت میں اضافہ دیکھا جاسکتا ہے۔ اب یا تو یقینی لڑائی کی فضا بنے گی یا پھر یقینی بات جیت کی۔امریکا کی جانب سے خود کو باہر نکالنے کی خواہش کو ان طالبان کی فتح کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جو چند برسوں کے دوران زبردست بین الاقوامی شناخت بھی حاصل کرچکے ہیں۔ اس طرح حکومت کے اندر اور باہر افغان گروپس کے
درمیان خدشات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ خلیل زاد کے لیے ایک سب سے بڑا چیلنج ان تمام گروپس کو ایک جگہ پر لانا ہوگا۔صدر اشرف غنی کی ڈیوس میں تقریر میں امریکی انخلا کے منصوبے اور حکومت کے خدشات کے درمیان خیلج کا اشارہ ملتا ہے۔ یہ خدشات بڑھتے جا رہے ہیں کہ امریکی افواج کے انخلا سے طالبان مزید مضبوط ہوسکتے ہیں اور افغانستان کو ایک دوسری خانہ جنگی کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔ یہ خدشات جائز ہیں اور یہ ضروری ہے کہ طالبان کے ساتھ ہونے والی کسی بھی ڈیل میں ان خدشات کو لازمی طور پر دور کیا جائے۔اس کے بعد افغانستان میں خطے کی سطح پر ایک ایسے معاہدے کی ضرورت ہے جس کے تحت افغانستان میں کسی قسم کی مداخلت نہ کرنے کی یقین دہانی کرائی جائے۔ علاقائی ممالک کی مداخلت سے افغانستان میں خانہ جنگی کو ہوا ملی ہے۔ ہمیں ایک غیر معمولی پیش رفت تو نظر آئی ہے، البتہ افغانستان میں قیام امن کا سفر اتنا آسان نہیں ہوگا۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن بارے رپورٹ عالمی عدالت میں پیش کردی

رپورٹ: چودھری احسن پریمی ایسوسی ایٹڈ پریس سروس( اے پی ایس) عالمی ...