بنیادی صفحہ / قومی / حکومت کا آن لائن ایجوکیشن منصوبہ بھی فراڈ نکلا

حکومت کا آن لائن ایجوکیشن منصوبہ بھی فراڈ نکلا

حکومت کی جانب سے طلبہ کے مسائل عدم توجہی کا شکار
حکومت آن لائن ایجوکیشن کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ شبلی فراز
طلبہ سراپا احتجاج: جب انٹرنیٹ ہی نہیں ہوگا تو کلاس کیسے لیں گے
کرونا وبا کے باعث دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کے شعبے کو ایک بڑا دھچکا
رپورٹ: چودھری احسن پریمی:ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)

ملک بھر میں طلبہ کا انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے کے باوجود ونیورسٹیوں کی جانب سے آن لائن کلاسوں کے انعقاد کے خلاف احتجاج جاری ہے جس میں لاہور کے طلبہ بھی شامل ہیں۔ملک میں کروناوائرس کے پھیلا کو روکنے کے لیے حکومت نے سکول کالجز بند کر کے انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن کلاسوں کا حکم دیا۔ تاہم مختلف یونیورسٹیوں اور کالجز کی جانب سے آن لائن کلاسیں دینے کا آغاز ہوتے ہی طلبہ کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں سے انٹرنیٹ سہولت نہ ہونے پر طلبہ کا ردعمل سامنے آیا جس میں ان کلاسوں کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا، تاہم حکومت کی جانب سے طلبہ کے مسائل حل کرنے کی طرف توجہ نہ دی گئی۔سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی کی کال پر مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے بھی کیے گئے۔گزشتہ منگل کو لاہور پریس کلب کے سامنے احتجاج کرنے والے طلبہ کا کہنا ہے کہ ایک طرف بیشتر طلبہ انٹرنیٹ کی سہولت نہ ہونے پر آن لائن کلاسیں نہیں لے پا رہے۔ تو دوسری جانب یونیورسٹیوں اور ہوسٹلوں کی فیسیں بھی باقائدگی سے ادا کرنا پڑ رہی ہیں۔مظاہرین کے مطالبات کی فہرست یوں ہے۔1۔ بلوچستان، قبائلی اضلاع، گلگت بلتستان، کشمیر اور پورے ملک میں معیاری انٹرنیٹ فراہم کیا جائے۔2۔ مفت انٹرنیٹ اور تمام آلات(لیپ ٹاپ، سمارٹ فون) کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔3۔ ستر فیصد فیس کم کی جائے سرکاری و نجی ہاسٹلز کی فیس معاف کی جائے۔4۔ تمام یونیورسٹیوں میں آن لائن کلاسز کے نظام کو بہتر اور مثر بنایا جائے۔5۔ جو طلبہ آن لائن کلاسز نہیں لے سکے ان تمام کو اگلے سمسٹر میں پرموٹ کیا جائے۔6۔ یہ مطالبات پورے ہونے تک آن لائن کلاسز کو منسوخ اور امتحانات کو ملتوی کیا جائے۔7۔ ہم پنجاب کی سرکاری یونیورسٹیوں کے قانون میں ہونے والی ترامیم اور افسرشاہی کے نظام کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں اور ہم اداروں میں جمہوریت اور طلبہ یونینز کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہیں۔8۔ ہم حالیہ پیش کیے گئے بجٹ کی پر زور مذمت کرتے ہیں جو ہمارے تعلیمی مسائل حل کرنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ جی ڈی پی کا پانچ فیصد حصہ تعلیم کے لیے مختص کیا جائے۔ پاکستان میں کرونا وبا کے باعث دیگر شعبوں کی طرح تعلیم کے شعبے کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے اور طلبہ کو ایک غیریقینی صورت حال کا سامنا ہے۔ایک ایسے ہی ایک طالب علم چار ماہ قبل پاکستان میں کرونا وبا پھوٹنے کے بعد اسلام آباد انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی کے ہاسٹل سے اپنا بستر، چند کتابیں اور دیگر ضروری سامان اٹھا کر بلوچستان کے ضلع خضدار کے دور دراز آبائی علاقے باغبانہ لوٹ آئے۔ انہوں نے ایک غیر ملکی نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ اسلام آباد سے واپس لوٹے تو ان کا زیادہ وقت کتابیں پڑھنے اور گھر میں رہ کر ہی گزرتا تھا۔ تاہم انہیں گذشتہ دنوں اپنے ایک اور ساتھی طالب علم سے خبر ملی کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن نے ملک بھر میں یونیورسٹیوں کے طالب علموں کے لیے آن لائن کلاسز شروع کرنے کا حکم دیا ہے۔اسلام آباد، کراچی، کوئٹہ اور دیگر بڑے شہروں کے طالب علموں کے لیے تو یہ ایک خوش خبری تھی کہ وہ اس طرح بغیر کسی تعطل کے اپنے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھ سکیں گے لیکن بلوچستان کے دور افتادہ علاقوں میں بسنے والے طالب علموں کے لیے یہ خبر پریشان کن تھی کیونکہ ان علاقوں میں انٹرنیٹ تو کیا بجلی کی سہولت بھی میسر نہیں۔وہ خود ضلع خضدار کے جس علاقے میں رہتے ہیں وہاں دن میں دو گھنٹے بجلی ملتی ہے اور لوگ ایک فون کال کے لیے سگنل تلاش کرتے پھرتے ہیں۔اس کا کہنا تھا کہ ایک فون کال کے لیے انہیں گھروں سے دور اونچی جگہوں پر جانا پڑتا ہے۔ ‘جہاں ٹوجی کی بھی سہولت تک میسر نہیں وہاں آن لائن ویڈیو لنک کے ذریعے تعلیم حاصل کرنا ناممکن ہے۔اس کی طرح اعلی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے بلوچستان کے دیگر سینکڑوں نوجوانوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کے اس فیصلے کو یکسر مسترد کردیا ہے۔کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر شہروں میں آن لائن کلاسز کو مسترد کرنے کے حوالے سے ایک احتجاجی مہم کا آغاز ہوچکا ہے، جس میں بلوچ سٹوڈنٹس ایکشن کمیٹی، بلوچ سٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد، بلوچ سٹوڈنٹس کونسل ملتان، بلوچ ایجوکیشنل کونسل کراچی اور بلوچ سٹوڈنٹس کونسل لیاری شامل ہیں۔بلوچ سٹوڈنٹس الائنس کے مطابق، گلگت بلتستان، قبائلی اضلاع، سندھ، بلوچستان اور ڈیرہ غازی خان کے قبائلی علاقہ جات میں انٹرنیٹ اور بجلی دونوں کی سہولت میسر نہیں۔الائنس کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں تعلیم حاصل کرنے والے طالب علموں کی تعداد تقریبا 50 ہزار ہے، جن میں سے 70 فیصد طالب علم صوبے سے باہر زیر تعلیم ہیں۔ بلوچستان کے ضلع خضدار میں آن لائن تعلیم کے فیصلے کے خلاف علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ میں بیٹھے حفیظ بلوچ سمجھتے ہیں کہ تعلیم کے حوالے سے فیصلے زمینی حقائق کو مدنظر رکھے بغیر کیے جارہے ہیں۔حفیظ بلوچ کہتے ہیں کہ وہ آ ن لائن کلاسز کے خلاف نہیں لیکن چاہتے ہیں کہ جو بھی فیصلے ہوں انہیں طالب علموں کی مشکلات کو سامنے رکھ کر کیا جائے۔بلوچ سٹوڈنٹس الائنس کے مطابق بلوچستان کے 14 علاقے واشک، خاران ،سوراب، قلات، مستونگ، تربت، پنجگور، آواران، کوہلو، ڈیرہ بگٹی، کاہان، بولان اور بسیمہ میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود نہیں۔ حفیظ کے مطابق، انہوں نے اس فیصلے کے خلاف ایک آن لائن پٹیشن کو لیٹر کی صورت میں بھی ہائر ایجوکیشن کمیشن کو بھیجا جس کا جواب ابھی تک نہیں ملا۔بلوچ سٹوڈنٹس الائنس کے مطابق انہوں نے کراچی میں ایک تین روزہ علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ کے بعد اب خضدار میں یہ سلسلہ شروع کیا ہے۔ الائنس کی کال پر بلوچستان کے ضلع پنجگور اور سوراب میں بھی ریلیاں نکالی گئیں اور طلبہ نے بینرز اٹھا کر اپنے مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔ احتجاج میں شامل حفیظ نے آن لائن کلاسز کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ بصورت دیگر احتجاج کو مزید بڑھایا جائے گا۔عبدالعزیز جیسے طالب علموں کے لیے اب اس صورت حال میں ایک راستہ بچ جاتا ہے کہ وہ سمسٹر منجمد کردیں، لیکن عبدالعزیز سمجھتے ہیں اس سے ان کا سال ضائع ہوجائے گا اور تعلیمی کیریئر کو بھی بریک لگ جائے گا۔کرونا وائرس نے پوری دنیا میں سب شعبوں کو تباہی سے دوچار کیا ہے وہیں اس وائرس نے پاکستان سمیت تمام دنیا بھرمیں تعلیم کے شعبے کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔اس بلا سے نمٹنے کے لیے پاکستان میں بھی تمام تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے اور طلبہ سمیت فیکلٹی ممبران اور انتظامیہ کو بھی گھر پر رہنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ سکول اور کالج کے اساتذہ کو ایک دفعہ پھر چھٹیاں مل گئیں۔ کیونکہ یہ لوگ سالانہ نظام تعلیم پر چلتے ہیں اس لیے انہیں کوئی زیادہ اپنا کورس ختم کرنے کی کوئی پریشانی نہیں ہوتی مگر جن تعلیمی اداروں میں سمسٹر سسٹم چلتے ہیں ان کے لیے خطرے کی گھنٹی بج گئی کہ اگر یہ تعلیمی ادارے زیادہ دیر تک بند رہے تو کیا ہو گا۔حکومت نے 31 مئی تک تمام تعلیمی اداروں کو بند کرنے کے انتظامات جاری کیے جس کے بعد یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی خدمات لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے تعلیمی سلسلے کو جاری رکھنے کے اقدامات شروع کیے اس دوران ہائرایجوکیشن کمیشن کا نوٹیفیکیشن بھی آ گیا کہ ملک بھر میں تمام یونیورسٹیاں آن لائن کلاسیں لینے کے لیے اپنے طلبہ و طالبات سمیت اپنے تمام اساتذہ کو آگاہ کریں کہ وہ اپنے گھر وں سے ہی آن لائن کلاسیں لینا شروع کردیں۔جس طرح یونیورسٹیوں میں ہر چھوٹے کام کے لیے کمیٹیاں بنتی ہیں اس کے لیے بھی کمیٹیاں بنائی گئیں، مگر پھر ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے ایک اور نوٹیفیکیشن آ گیا کہ 31 مئی کو موسم گرما کی چھٹیاں تصور کی جائیں اس کے بعد تعلیمی سرگرمیاں شروع کر دیں جس کے بعد یونیورسیٹیوں میں بھی الجھن پیدا ہو گئی ہے کہ اب کیا کیا جائے۔یہ اساتذہ اور طالب علموں کے لیے ایک حیران کن اور پریشان کن بات تھی۔دونوں اس بات سے نابلد تھے کہ اب آن لائن کلاسیں کیسے لی جائیں گی۔ کمپیوٹر سائنس کے شعبے کے لیے بھی یہ کوئی آسان کام نہیں تھا کہ وہ پوری یونیورسٹی کے اساتذہ اور طلبہ کو ایک پلیٹ فارم پر لے آئے تاکہ پڑھائی میں تعطل نہ آئے۔ دوسری جانب یہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی بھی ہدایات تھیں۔ جس کو ہر حال میں پورا کرنا تھا۔ٹیکنالوجی سے بیخبر اساتذہ کا مسئلہ ایک طرف، خوشحال خان خٹک یونیورسٹی کرک میں پڑھانے والے ایک لیکچرر کا اس حوالے سے موقف ہے کہ ہمیں طلبہ کی جانب سے پیغام آتے ہیں کہ ہمارے ہاں انٹرنیٹ ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتا ہم کیسے کلاسیں لیں؟سوات یونیورسٹی کے ایک طالب علم کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس نے اتنا ڈرا دیا ہے کہ اب کسی کام میں دل نہیں لگتا، ہم آن لائن کلاسیں کیسے لیں گے۔ اس طرح ہماری یونیورسٹی کی کچھ طالبات کا موقف سامنے آیا کہ ہمارے پاس نہ لیپ ٹاپ ہے اور نہ ہی بجلی ہوتی ہے۔ انٹرنیٹ کا بھی برا حال ہوتا ہے ہم کیا کریں۔اسی طرح پشاور کی ایک اور یونیورسٹی سرحد یونیورسٹی نے بھی آن لائن پڑھائی کے لیے انتظامات شروع کر دیے جس میں وائس چانسلر نے بذات خود پیغامات دینا شروع کیے اور طلبہ کی حوصلہ افزائی کی خاطر وٹس ایپ کا سہارا لیا ہے۔دوسرے شہروں سے خبریں ہیں کہ ملک بھر کی یونیورسٹیوں نے اس حوالے سے کام شروع کر دیا کیونکہ یہ ایچ ای سی کی ہدایات تھیں، مگر وہاں بھی آن لائن تدریس کے لیے پہلے سے کوئی انتظام نہیں ہے۔ایچ ای سی اور یونیورسٹیاں فضول کاموں میں لاکھوں روپے خرچ کرتی ہیں مگر کسی نے آن لائن تدریس کے بارے کبھی کچھ نہیں سوچا تھا، جب بلا سر پر آئی تب ان کو خیال آیا۔اگر بین الاقوامی طور پر دیکھا جائے تو تمام یونیورسٹیاں بشمول ڈیجیٹل لائبریریوں کے آن لائن کام کرتی ہیں اور وہاں طلبہ اور اساتذہ دونوں کو بھی آن لائن تدریس کے نظام سے مکمل آگاہی ہے۔ اس کے علاوہ ترقی یافتہ ملکوں میں اساتذہ نے اپنے یوٹیوب چینل شروع کیے ہیں جس میں ان کے لیکچر آن لائن دستیاب ہوتے ہیں۔پاکستان میں ایسا کوئی نظام نہیں ہے۔ سوائے کچھ شعبوں کے ڈاکٹروں اور پروفیسروں کے کسی کے بھی آن لائن لیکیچر دستیاب نہیں۔ جو اساتذہ ورچوئل یونیورسٹی کے ساتھ کام کرتے ہیں اور جو مضامین ورچوئل یونیورسٹی میں پڑھائے جاتے ہیں ان کے علاوہ کسی بھی مضمون کے لیکچر آن لائن موجود نہیں۔دوسری طرف اسی مضمون کے حوالے سے جو لیکچر غیر ملکی اساتذہ کے ہیں وہ ہمارے طلبہ کے لیول کے نہیں ہیں۔ اگر ہائر ایجوکیشن کمیشن پہلے سے تمام یونیورسٹیوں کو آن لائن لیکچرر کے لیے تیار کرتا تو آج یونیورسٹیوں میں طلبہ اور اساتذہ سمیت انتظامیہ کو اس صورت حال سے نمٹنے میں دشواری نہ ہوتی۔اس کرونا وائرس نے پوری دنیا سمیت پاکستان میں بھی بہت سے شعبوں میں گھر سے کام کرنے کی ابتدا کر دی۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن اب اس وائرس کے خاتمے کے بعد اپنی پہلی فرصت میں ایک شعبے کا قیام عمل میں لائے گا جس کو آن لائن ایجوکیشن سسٹم کا نام دیا جائے گا۔ اس میں میڈیا اور ماس کمیونیکیشن کے علاوہ کمپیوٹر سائنس کے شعبے کو یہ کام دیا جائے گا کہ وہ تمام مضامین کے لیکچرز ریکارڈ کرائے جس میں شعبہ کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ ٹیکنیکل سائیڈ پر کام کرے گا جبکہ میڈیا کا شعبہ پروڈکشن کا کام کرے گا۔میڈیا کے لیکچررز تمام شعبوں کے لیکچر ایک سٹوڈیومیں ریکارڈ کر کے تمام مضامین کی ایک لائبریری بنائے جو ہنگامی حالات میں کام آئے گی اور یونیورسٹی کو باہر کے ممالک کے پروفیسروں کے آن لائن لیکچروں کی ضرورت نہیں پڑے گی۔یونیورسٹی انتظامیہ وہ لیکچر طلبہ و طالبات کو ای میل یا یو ایس بی کے ذریعے اسی طرح فراہم کر سکتی ہے جس طرح انہیں نوٹس دیے جاتے ہیں۔اس سے یہ ہو گا کہ طلبہ گھر بیٹھ کر لیکچر سن سکیں گے تو انہیں کلاس روم آنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔اگر اس حوالے سے یہ اقدامات نہیں کیے کیے تو آج جو صورت حال ہمارے تعلیمی اداروں کو درپیش ہے وہ مسقبل میں بھی پیش آسکتی ہے کہ تعلیمی ادارے، اساتذہ اور طلبہ سب کو فکر ہے کہ اسی افراتفری میں کہیں ان کا تعلیمی سال ضائع نہ ہو جائے۔مرکزی وزیر اطلاعات سینیٹر شبلی فراز نیکہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے چینی انکوائری کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔جبکہ وفاقی کابینہ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں شبلی فراز نے کہا کہ چینی انکوائری کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد سے چینی کی قیمت میں فرق آئے گا۔انہوں نے کہا کہ چینی کی قیمتوں سے متعلق نظام آئندہ 3 ماہ میں مکمل ہوگا کیونکہ چینی سے متعلق عمل شفاف بنانا ضروری ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے مزید کہا کہ کابینہ اجلاس میں دارالحکومت اسلام آباد میں ٹیچنگ اسپتال کی منظوری دی گئی۔ان کا کہنا تھا کہ گندم کی اسمگلنگ روکنے کیلیے اقدامات کررہے ہیں، آٹے کی قیمت کنٹرول کرنے کے لیے پنجاب کو 9 لاکھ ٹن گندم جاری کرنے کا کہا گیا ہے۔شبلی فراز نے کہا کہ کورونا وائرس سے پیدا موجودہ صورتحال میں حکومت آن لائن ایجوکیشن کے لیے اقدامات کررہی ہے۔ کورونا وائرس کے بعد پتہ چلا کہ صحت کا نظام کتنا خراب ہے، ملک میں ہر روز کورونا وائرس کے 50 ہزار ٹیسٹ کرنے کی سہولت موجود ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں کورونا کی وجہ سے ہلاکتیں کم ہیں، تاہم کورونا وبا پر بہت جلد قابو پا لیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں کورونا وائرس کی ٹیسٹنگ کی لیب 129 ہوگئی ہیں، ویکسین آنے تک مشکل صورتحال کا سامنا ہے جبکہ اگست تک وبا کا خطرہ کافی حد تک موجود رہے گا۔شبلی فراز نے کہا کہ جو لوگ لاک ڈاون لگانے کے لیے شور کررہے ہیں، ان کے اربوں روپے باہر پڑے ہیں

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

کرسی آنے جانے والی چیز ہے ۔وزیراعظم عمران خان

‘کورونا کا مقابلہ کرنے کا واحد حل اسمارٹ لاک ڈان ہے’ ‘نواز، ...