بنیادی صفحہ / قومی / حکومت خرچ کر رہی ہے لیکن نظر کچھ نہیں آ رہا۔ چیف جسٹس گلزار احمد

حکومت خرچ کر رہی ہے لیکن نظر کچھ نہیں آ رہا۔ چیف جسٹس گلزار احمد

کھربوں روپے خرچ ہو چکے اور مریض صرف 5 ہزار ہیں
‘عوام اوربیرون ملک سے آیا پیسہ نہ جانے کیسے خرچ ہورہا ہے’
صوبوں اوروفاق کے مابین کوئی طریقہ کار دکھائی نہیں دے رہا۔
حاجی کیمپ قرنطینہ مراکز میں حالات غیر انسانی ہیں،کسی عمل میں شفافیت نظر نہیں آرہی ہے
لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے
چیف جسٹس گلزار احمد کی کورونا وائرس سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت پر ریمارکس
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام آباد
چیف جسٹس گلزار احمد نے کورونا وائرس سے متعلق از خود نوٹس کی سماعت کے دوران حکومت اقدامات پر سوالات اٹھاتے ہوئے فنڈز خرچ کرنے کے طریقہ کار کے حوالے سے پوچھا اور کہا کہ کسی عمل میں شفافیت نظر نہیں آرہی ہے۔چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے کورونا واوئرس از خود نوٹس پر سماعت کی جہاں اٹارنی جنرل خالد جاوید خان، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے ایڈووکیٹ جنرل بھی عدالت میں پیش ہوئے۔چیف جسٹس نے سماعت کاآغاز کرتے ہوئے کورونا وائرس کے حوالے سے اقدامات پر کہا کہ صوبوں اوروفاق کے مابین کوئی طریقہ کار دکھائی نہیں دے رہا۔چیف جسٹس نے کہا کہ بیت المال والوں نے عدالت میں جوا ب بھی جمع نہیں کرایا، عدالت کو کیا معلوم بیت المال کیا کررہا۔انہوں نے کہا کہ تمام حکومتیں ریلیف کی مد میں رقم خرچ کررہی ہیں لیکن ہے اور کسی بھی عمل میں شفافیت دکھائی نہیں دے رہی ہے۔جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ 9 ارب سے زائد رقم وفاق نے صوبوں کو دی، صوبے آگے رقم کا کیا کررہے ہیں اس کی نگرانی ہونی چاہیے۔ان کا کہنا تھا کہ نگرانی سے صوبائی خود مختاری پر کوئی حرف نہیں آتا، مانیٹرنگ بھی ایک طرز کا آڈٹ ہے، ڈیٹا ایک دوسرے سے شیئر ہونا چاہیے۔چیف جسٹس نے کہا کہ زکوة کا پیسہ لوگوں کے ٹی اے ڈی اے اورباہر دورے کروانے کے لیے نہیں ہے، یہی حال بیت المال اورزکو ةکے محکمے کے ساتھ ہے۔انہوں نے کہا کہ بیت المال کا بھی بڑا حصہ انتظامی امور پرخرچ ہوتا ہے اور وہ کسی کو فنڈ نہیں دیتے، مسئلہ یہ ہے کہ کسی کام میں شفافیت نہیں ہے۔اپنے ریمارکس میں چیف جسٹسں نے کہا کہ سندھ حکومت ہو یا کسی اور صوبے کی حکومت مسئلہ شفافیت کا ہے،صرف یہ بتایا گیا کہ امداد دی گئی لیکن تفصیل نہیں دی گئی۔جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ رپورٹ کے مطابق وفاق نے 9 ارب سے زائد زکو جمع کی، مستحقین تک رقم کیسے جاتی ہے اس کا کچھ نہیں بتایا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ زکو ةکے پیسے دفتری امور پر نہیں خرچ کیے جا سکتے، لوگ منتیں مانتے ہیں تو وہاں چیزیں رکھ دیتے ہیں اورصدقے کے پیسے بھی وہاں جمع کرواتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ صدقے کے پیسے آفیسروں کی تنخواہوں پر کیسے لگائے جا سکتے ہیں، جس مقصد کے لیے یہ پیسے آتے ہیں یہ وہیں خرچ ہونے چاہیئں.چیف جسٹس نے کہا کہ مزارات کے پیسوں سے افسران کیسے تنخواہ لے رہے ہیں، ڈی جی بیت المال بھی زکو فنڈ سے تنخواہ لے رہے ہیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ افسران کی تنخواہیں حکومت کو دینی چاہیے۔چیف جسٹس نے کہا کہ زکوة کا پیسہ بیرون ملک دوروں کے لیے نہیں ہوتا، زکوة فنڈ کا سارا پیسہ ایسے ہی خرچ کرنا ہے تو کیا فائدہ، عوام کو ضرورت پیدا ہو تو ایسے مسائل سامنے آتے ہیں۔چیف جسٹس کاکہنا تھا کہ مزارات کی حالت دیکھ لیں سب گرنے والے ہیں، سمجھ نہیں آتا اوقاف اور بیت المال کا پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے، سہیون شریف بازار کی بھی مرمت ہوتی تو چھت نہ گرتی، مزارات کا پیسہ اللہ تعالی کی راہ میں خرچ کے لیے ہوتا ہے۔چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ جو قوانین صوبوں نے بنائے ہیں ان کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے، قرنطینہ مراکز میں مقیم افراد سے پیسے لیے جارہے ہیں۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ قرنطینہ کے لیے ہوٹلوں کا انتخاب کن بنیادوں پر کیا گیا، تمام ہوٹلوں کو قرنطینہ بنانے کا موقع کیوں نہیں دیا گیا، جو پیسے نہیں دے سکتے انہیں مفت قرنطینہ میں منتقل کیا جانا چاہیے، حاجی کیمپ قرنطینہ مراکز میں حالات غیر انسانی ہیں۔سیکریٹری صحت تنویر قریشی سے چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اسلام آباد میں کتنے قرنطینہ سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جس پر انہوں نے جواب دیا کہ اسلام آباد کی وفاقی حدود میں 16 قرنطینہ مراکزقائم ہیں، ان میں ہوٹلوں، حاجی کیمپ، او جی ڈی سی ایل بلڈنگ اورپاک چائنا سینٹرشامل ہیں، بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کو 24 گھنٹے ان قرنطینہ مراکزمیں رکھا جاتا ہے۔چیف جسٹس نے پوچھا کہ ان قرنطینہ مراکز میں ان کا خرچ کون برداشت کرتا ہے، سیکریٹری صحت نے کہا کہ حکومت اس کا خرچ برداشت کرتی ہے۔اسکریننگ پر بات کرتے ہوئے چیف جسٹس نے کہا کہ لوگ پیناڈول وغیرہ کھا کر اسکریننگ سے بچ نکلتے ہیں، مردان میں ایک شخص نے دو پیناڈول کھائی اوروہ اسکرین سے بچ نکلا جس پر سیکریٹری صحت نے کہا کہ اسی لیے اب 24 گھنٹے قرنطینہ میں رکھ رہے ہیں۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ حاجی کیمپ قرنطینہ مرکز میں لوگ کیوں شورمچا رہے ہیں، کیا آپ حاجی کیمپ قرنطینہ مرکز دیکھ کر آئے ہیں، تاہم سیکریٹری صحت نے کہا کہ میں نہں گیا لیکن ایڈیشنل سیکریٹری خود ہوکرآئے ہیں۔چیف جسٹس نے سیکریٹری صحت سے کہا کہ آج آپ حاجی کیمپ، او جی ڈی سی ایل اورپاک چائاہ سینٹر خود جاکر دیکھیں اور سیکریٹری صحت نے کہا کہ دورہ کرکے سہولیات کی فراہمی یقینی بناوں گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ قرنطینہ مراکز میں کھانا اور تمام بنیادی سہولیات کی دستیابی یقینی بنائیں، تفتان کے قرنطینہ میں رہنا بھی ڈرانا خواب تھا، حکومت پیسے بہت خرچ کر رہی ہے لیکن نظر کچھ نہیں آ رہا کہ ہو کیا رہا ہے۔جسٹس قاضی امین نے سوال کیا کہ کیا پلازما انفیوژن سے کورونا کاعلاج واقعی ممکن ہے، جس پر سیکریٹری صھت تنویر قریشی نے کہا کہ یہ اب ٹیسٹنگ کے مراحل میں ہے، ابھی تک پلازما انفیوژن کے مثبت نتائج سامنے نہیں آئے۔ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ چک شہزاد میں 32 کنال پر قرنطینہ مرکز بنا رہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ قرنطینہ مراکز میں گرمیوں میں کیا سہولیات ہوں گئی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنراسلام آباد نے چیف جسٹس کو بتایا کہ ایئرکنڈیشنڈ کی ضرورت ہوئی تو فراہم کریں گیے اس موقع پر چیف جسٹس نے ان سے پوچھا آپ کون صاحب ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اسلام اباد ہوں۔چیف جسٹس نے وسیم خان کو روسٹرم سے ہٹاتے ہوئے کہا کہ آپ جاکر سیٹ پر بیٹھیں اور کہا کہ کیا آپ کو اے سی لگانے کا خرچہ معلوم ہے۔جسٹس عمرعطابندیال کا کہنا تھا کہ فائبر کا قرنطینہ بہت جلد گرم ہو جائے گا۔اس موقع پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ ورلڈ بینک کے پیسوں سے یونیسف سے خریداری کا کیا معمہ ہے، یہ تو پیسہ ایک ہاتھ سے لے کر دوسرے ہاتھ سے دینے کی بات ہے۔’عوام اوربیرون ملک سے آیا پیسہ نہ جانے کیسے خرچ ہورہا ہے’چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ کسی صوبے اور محکمے نے شفافیت پر مبنی اپنی رپورٹ نہیں دی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ عوام اور بیرون ملک سے لیا گیا پیسہ نہ جانے کیسے خرچ ہو رہا ہے، کھربوں روپے خرچ ہو چکے اور مریض صرف 5 ہزار ہیں۔جسٹس قاضی امین کا کہنا تھا کہ قرنطینہ مراکز بنانے کے بجائے اسکول اور کالجوں کا استعمال کیوں نہیں کیا جاتا، نئے قرنطینہ مراکز بنانے پر پیسہ کیوں لگایا جارہا ہے۔اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اسکولوں کی تجویز اچھی ہے اس پر غور کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت ایزی پیسہ کے ذریعے امدادی رقم تقسیم کر رہی ہے جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ خرچ کی گئی رقم کی تفصیلات پیش نہیں کی گئیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد نے ملک میں کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات پر ازخود نوٹس لے لیا تھا۔چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا پانچ رکنی بینچ کورونا وائرس سے متعلق ازخود نوٹس کی پہلی سماعت 13 اپریل کو ہوئی تھی۔دوران سماعت کورونا وائرس سے نمٹنے کے لیے اٹھائے گئے اقدامات اور ہسپتالوں میں سہولیات کا جائزہ لیا گیا تھا۔عدالت نے سماعت کے لیے اٹارنی جنرل، سیکریٹری صحت، سیکریٹری داخلہ، چاروں صوبائی ایڈووکیٹ جنرلز اور چیف سیکریٹریز کو نوٹس جاری کیے تھے۔واضح رہے کہ اس سے دو روز قبل چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں حکومتی ٹیم نے کورونا وائرس کے حوالے سے اقدامات سے آگاہ کیا تھا۔اجلاس میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس قاضی محمد امین اور اٹارنی جنر خالد جاوید خان بھی شریک تھے۔چیف جسٹس نے حکومتی نمائندوں کی جانب سے کورونا وائرس پر دی گئی بریفنگ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومتی ٹیم کو اس صورت حال میں کامیابی کے لیے سخت محنت کرنی چاہیے۔قبل ازیں 6 اپریل کو قیدیوں کی رہائی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت میں سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے تھے کہ کوئی بندہ کام نہیں کررہا، سب فنڈز کی بات کررہے ہیں، صوبائی حکومتیں ‘پیسے بانٹ دو اور راشن بانٹ دو’ کی باتیں کررہی ہیں اور وفاق کے پاس کچھ ہے ہی نہیں تو وہ کچھ کر ہی نہیں رہا۔سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معاملہ صرف قیدیوں کی رہائی کا نہیں بلکہ دیکھنا ہے کہ حکومت کورونا سے کس طرح نمٹ رہی ہے، صرف میٹنگ پر میٹنگ ہورہی ہے، زمین پر کچھ بھی کام نہیں ہورہا ہے۔خیال رہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کے متاثرہ افراد کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے اور یہ تعداد 4600 سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 68 تک پہنچ گئی ہے۔ملک میں اس وائرس کی روک تھام کے لیے مختلف اقدامات کیے جارہے ہیں تاہم اس کے باوجود دنیا بھر کی طرح یہاں بھی اس کا پھیلا جاری ہے۔26 فروری کو پاکستان میں پہلے کیس سے لے کر آج 45 دن گزرنے تک کیسز کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا تاہم اپریل کے مہینے میں یہ اضافہ دوگنا ہوگیا ہے۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے حکومتی نمائندوں کی جانب سے کورونا وائرس پر دی گئی بریفنگ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومتی ٹیم کو اس صورت حال میں کامیابی کے لیے سخت محنت کرنی چاہیے۔سپریم کورٹ سے جاری اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں حکومتی ٹیم نے کورونا وائرس کے حوالے سے اقدامات سے آگاہ کیا۔اجلاس میں چیف جسٹس کے علاوہ جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مظہر عالم میاں خیل، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس قاضی محمد امین اور اٹارنی جنر خالد جاوید خان بھی شریک تھے۔حکومتی ٹیم میں وزیراعظم کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا، مشیر ثانیہ نشتر، چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل، سیکریٹری صحت اور اسلام آباد کے ڈپٹی کمشنر سمیت دیگر شامل تھے۔اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد نے ‘ہسپتالوں میں او پی ڈی کی بندش، کورونا وائرس کے ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت، ڈاکٹروں، طبی عملے کی حفاظت، قرنطینہ مراکز اور حکومتی اقدامات سے متعلق دریافت کیا تھا’۔اس موقع پروزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے حکومتی اقدامات پر بریفنگ میں کورونا وبا سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات اور مستقبل کی منصوبہ بندی سے متعلق آگاہ کیا تھا۔انہوں نے کہا کہ ‘تمام ہسپتالوں میں ایمرجنسی سروس 24 گھنٹے کھلی ہوئی ہے اور نجی ہسپتالوں کو لاک ڈاون کے دوران امور کی انجام دہی سے نہیں روکا گیا اور وہ عالمی ادارہ صحت کے اصولوں کے مطابق کام کرسکتے ہیں’۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے کہا کہ ‘بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کو عالمی ادارہ صحت کے طریقہ کار کے مطابق قرنطینہ مراکز میں رکھا جارہا ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘طبی عملے کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے انہیں روزانہ کی بنیاد پر تربیت دی جارہی ہے’۔چیئرمین این ڈی ایم اے لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے ‘کووڈ-19 (کورونا وائرس) کے پھیلا کو روکنے کے لیے حفاظتی اشیا (پی پی ایز)، وینٹی لیٹرز اور دیگر طبی آلات مقرر کردہ تمام ہسپتالوں کو فراہم کرنے کے حوالے سے بریفنگ دی’۔انہوں نے کہا کہ ‘ٹیسٹ کرنے کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے مزید لیبارٹریز بنائی جارہی ہیں’۔حکومت کے احساس پروگرام کی سربراہ ثانیہ نشترنے سپریم کورٹ میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ‘کورونا وائرس کے سبب معاشی سرگرمیاں معطل ہوئیں اور لوگ بے روزگار ہوئے’۔انہوں نے کہا کہ ‘حکومت نے ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں کی مدد کے لیے احساس پروگرام کے تحت فی خاندان 12 ہزار روپے دینے کا پروگرام شروع کیا’۔ثانیہ نشتر کا کہنا تھا کہ ‘احساس پروگرام کے تحت بے روزگار اور مستحق افراد کی مدد نادرا کے سافٹ ویئر اور بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے دستیاب ریکارڈ کے ذریعے کی جارہی ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ ‘مستحق خاندانوں کو یہ رقم بائیو میٹرک تصدیق کے بعد فراہم کردی جائے گی اور رقم کی تقسیم کرنے کی جگہ پر کورونا وائرس کے پھیلا کو روکنے کے تمام حفاظتی تدابیر کو مدنظر رکھا جائے گا’۔چیف جسٹس گلزار احمد نے ‘اہم مسئلے پر تفصیلی بریفنگ دینے پر حکومتی عہدیداروں کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا’۔سپریم کورٹ کے اعلامیے کے مطابق ‘چیف جسٹس نے کہا کہ انہیں اعتماد ہے کہ حکومتی عہدیدار اس وبائی صورت حال میں کامیابی کے حصول کے لیے محنت کریں گے’۔خیال رہے کہ گزشتہ روز سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں بینچ نے ڈاکٹروں کو حفاظتی کٹس فراہم کرنے کے حوالے سے سماعت کرتے ہوئے حکومت کو مختلف احکامات جاری کیے تھے۔جسٹس گلزار احمد نے کہا تھا کہ کورونا کی وبا سے لڑنے کے لیے ہنگامی قانون سازی کی ضرورت ہے، یہ وبا سرحدوں اور ان داخلی راستوں سے آئی جن پر حکومت قرنطینہ سینٹر بنانے میں ناکام رہی۔عدالت نے تفتان، چمن، طور خم کے مقام پر فوری طور پر قرنطینہ بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان قرنطینہ سینٹرز میں ہزار لوگوں کی گنجائش رکھی جائے جبکہ انفرادی رہائش کے لیے پانی کی سپلائی اور صاف ٹوائلٹس بھی فراہم کیے جائیں۔چیف جسٹس نے کہا تھا کہ قرنطینہ سینٹرز میں ایمرجنسی میڈیکل سینٹرز بنائے جائیں جن میں علاج کی تمام سہولیات فراہم کی جائیں جبکہ وہاں رکھے گئے لوگوں کو انسانی حقوق اور خوراک کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔عدالت نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی تھی کہ احساس پروگرام کی تقسیم میں شفافیت کو یقینی بنائے، یہ پاکستان کے عوام نے پیسہ دیا ہے تاکہ غریب آدمی آرام سے زندگی گزار سکیں، یہ پیسہ ایسے لوگوں تک نہیں پہنچنا چاہیے جو پہلے ہی اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔عدالت نے حکومت کو مزید حکم دیا تھا کہ وہ احساس پروگرام کے تحت تمام اسٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لیں۔سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ پاکستان میں وینٹی لیٹرز تیاری کے مراحل میں ہیں، حکومت اس حوالے سے تمام وسائل فراہم کرنے کو یقینی بنائے۔اس موقع پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت سے کہا تھا کہ میں بریفنگ کے لیے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے نمائندے اور ڈاکٹر ظفر مرزا کو لانا چاہتا ہوں۔ قیدیوں کی رہائی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت میں سپریم کورٹ نے ریمارکس دیے ہیں کہ کوئی بندہ کام نہیں کررہا، سب فنڈز کی بات کررہے ہیں، صوبائی حکومتیں ‘پیسے بانٹ دو اور راشن بانٹ دو’ کی باتیں کررہی ہیں اور وفاق کے پاس کچھ ہے ہی نہیں تو وہ کچھ کر ہی نہیں رہا۔ساتھ ہی چیف جسٹس نے اگلے روز تک وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے کورونا وائرس کے سلسلے میں کیے گئے عملی اقدامات پر مبنی جامع رپورٹ جمع کروانے کا حکم بھی دیا۔چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال، جسٹس مظہر عالم خان مندوخیل، جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل بینچ نے ہائی کورٹس کی جانب سے قیدیوں کی ضمانت کے فیصلے کے خلاف اپیل پر سماعت کی۔سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ معاملہ صرف قیدیوں کی رہائی کا نہیں بلکہ دیکھنا ہے کہ حکومت کورونا سے کس طرح نمٹ رہی ہے، صرف میٹنگ پر میٹنگ ہورہی ہے، زمین پر کچھ بھی کام نہیں ہورہا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اسلام آباد میں کوئی ایسا ہسپتال نہیں جہاں میں جا سکوں، وفاقی دارالحکومت میں تمام ہسپتالوں کی او پی ڈیز بند کردی گئی ہیں، ملک میں صرف کورونا کے مریضوں کا علاج ہورہا ہے۔چیف جسٹس نے بتایا کہ مجھے اپنی اہلیہ کو چیک کروانے کے لیے ایک بہت بڑا ہسپتال کھلوانا پڑا، نجی کلینکس اور ہسپتال بھی بند پڑے ہیں یہ ملک میں کس طرح کی میڈیکل ایمرجنسی نافذ کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہر ایک ہسپتال اور کلینک لازمی کھلا رہنا چاہے، وزارت صحت نے خط لکھا کہ سپریم کورٹ کی ڈسپنسری بند کی جائے، کیوں بھائی یہ ڈسپنسری کیوں بند کی جائے، کیا اس طرح سے اس وبا سے نمٹا جائے گا؟۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے جو رپورٹ جمع کروائی ہے یہ اس بات کو واضح کررہی ہے کہ وفاق کے پاس تو کچھ ہے ہی نہیں، وفاق کچھ کر ہی نہیں رہا۔جس پر اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے بتایا کہ ایک رپورٹ آج بھی جمع کروائی ہے، وفاق بھرپور طریقے سے اقدامات کررہا ہے۔چیف جسٹس نیایڈووکیٹ جنرل خیبرپختونخوا سے استفسار کیا کہ شیریں مزاری نے سپریم کورٹ میں جواب جمع کروایا ہے کہ پشاور ہائی کورٹ نے 32 سو قیدیوں کی رہائی کا حکم دیا ہے؟۔جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ میرے خیال میں وزارت انسانی حقوق کو غلط فہمی ہوئی ہے، پشاور ہائی کورٹ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا۔اٹارنی جنرل نے پیش کش کی وہ حکومتی اقدامات پر عدالت کو بریفنگ دینے کے لیے تیار ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ حکومت کا ایکشن پلان دیکھا ہے بریفنگ میں کیا کریں گے۔چیف جسٹس نے دریافت کیا کہ ڈاکٹر ظفر مرزا صاحب کی کیا اہلیت اور قابلیت ہے، بس روزانہ کی بنیاد پر ڈاکٹر ظفر مرزا صاحب کی پروجیکشن ہو رہی ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ کیا وزارت دفاع سے کوئی عدالت میں آیا ہے، وزارت دفاع سے معلوم کرنا تھا کہ وہ کیا کر رہے ہیں؟۔جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت نے وزارت دفاع سے کسی کو طلب نہیں کیا تھا البتہ وزارت دفاع کی جانب سے رپورٹ پیش کر دی جائے گی۔جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا عملی طور پر اقدامات نیشنل ڈیزاسٹرمنیجمنٹ اتھارٹی نے کرنا ہیں تو اٹارنی جنرل نے بتایا کہ این ڈی ایم اے کے ذمہ چیزوں کا حصول اور ان کی تقسیم ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ آپ لوگوں کو پیسے لینے کا عادی بنا رہے ہیں، جیسے اسٹیل مل میں 15سال سے لوگ بغیر کام کیے تنخواہیں، مراعات اور ترقیاں لے رہے، پی آئی اے بھی ایسے ہی چل رہا ہے، شپ یارڈ بھی ایک کشتی تک نہیں بنا رہا ہے لیکن تنخواہیں سب لے رہے ہیں، اب تو ایک چھوٹی سی کشتی بھی درکار ہو تو چین سے مدد لیتے ہیں۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ لوگوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ ہماری ذمہ داری ہے، تمام ہسپتالوں کو فعال ہونا چاہیے۔چیف جسٹس نے کورونا وائرس کا پھیلا روکنے کے لیے وفاقی، صوبائی حکومتوں کی جانب سے کیے گئے اقدامات کی رپورٹس پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ گرانڈ پر کیا ہورہا ہے، کسی کو علم نہیں، کوئی بندہ کام نہیں کررہا، سب فنڈز کی بات کررہے ہیں، شوگر اور امراض قلب کے مریض کہاں جائیں؟ عوام کو خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومتیں ‘پیسے بانٹ دو اور راشن بانٹ دو’ کی باتیں کررہی ہیں اور ٹی وی صبح سے شام تک لوگوں کو ڈرا رہا ہے اور لوگوں کو ہاتھ دھونے اور گھروں سے نہ نکلنے کا کہا جارہا ہے، تمام وزرائے اعلی گھروں سے آرڈر دے رہے ہیں، گراونڈ پر کچھ بھی نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ صوبے کہہ رہے ہیں 10 ارب روپے دے دو، دستانے اور ماسک لینے ہیں، سب کاروبار بند کردیے گئے، ہمارا ملک اس کا متحمل نہیں ہوسکتا، چیمبر میں آپ کیا بتائیں گے، ہمیں سب پتا ہے۔چیف جسٹس کا مزید کہنا تھا کہ کسی حکومت کے پاس طبی آلات کا اسٹاک دو ہزار سے زیادہ نہیں، خیبرپختونخوا اور سندھ حکومتیں صرف پیسہ مانگ رہی ہیں کام نہیں کر رہیں اور وفاقی حکومت کے پاس ویسے ہی کچھ نہیں ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہسپتالوں کی ضرورت پڑی تو بند کر دیے گئے، عوام کہاں جائے؟ امراض قلب، ذیابیطس اور دیگر بیماریوں کے مریض اب کہاں سے علاج کروائیں؟ اب تک ایک ہزار بستر کے 10 ہسپتال بن کر فعال ہوجائے چاہیے تھے۔جس پر اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ کو تمام ہسپتال فعال کرنے کی یقین دہانی کروائی۔چیس جسٹس نے کہا کہ قرنطینہ مراکز میں ایک کمرے میں 10،10 لوگ رہ رہے ہیں، دو کمروں کے گھروں میں دس دس لوگ رہتے ہیں، لوگ 3،4 دن شکلیں دیکھیں گے پھر ایک دوسرے کو ہی کھانے لگیں گے۔چیف جسٹس نے مزید کہا کہ کسی حکومت نے سڑکوں پر اسپرے نہیں کرایا، مختص کیے گئے اربوں روپے کہاں خرچ ہو رہے کچھ معلوم نہیں ساتھ ہی حکم دیا کہ کل تک عملی اقدامات پر مبنی جامع رپورٹ جمع کرائیں۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اس بات کا احساس ہے کہ کورونا سے سپر پاورز کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے صوبوں کے وزرائے اعلی گھر بیٹھ کر احکامات جاری کر رہے ہیں، عوام کے ٹیسٹ کرنے کے لیے صوبوں کے پاس کٹس ہی نہیں ہیں۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ خیبرپختونخوا میں جاری ہونے والے 50 کروڑ روپے آپس میں بانٹ دیے گئے، سب کا زور صرف مفت راشن تقسیم کرنے پر ہے، عوام کے کاروبار تو ویسے ہی بند کر دیے گئے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ لالو کھیت میں جس سڑک پر پولیس پر حملہ ہوا اس کا حال دیکھیں، سڑکوں پر دھول مٹی اور کچرا کسی بیماری سے کم نہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارے اراکین اسمبلی میں پارلیمنٹ میں بیٹھنے سے ڈر رہے ہیں اور یورپ اور امریکا نے اس دوران وبا سینمٹنے کے لیے قانون بنا کر اس پر عملدرآمد بھی شروع کردیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ لوگوں کے حقوق کا تحفظ کریں گے، حکومت سمجھتی ہے کہ بنیادی حقوق اہم نہیں یہ سوچ غلط ہے۔دوران سماعت اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے بتایا کہ پنجاب کی ایک جیل میں کورونا وائرس کا مریض سامنے آیا ہے۔جسٹس قاضی امین احمد نے ریمارکس دیے کہ ہمیں عوام کی زندگی اور تحفظ کا احساس ہے، قانون میں راستہ موجود ہے، جیل میں اگر متاثرہ شخص نہیں تو باقی قیدی محفوظ ہیں۔جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ جیلوں میں کتنے ملازمین ہیں جو روزانہ باہر سے آتے ہیں، اگر جیل میں متاثرہ شخص نہیں آئے تو باقی قیدی کیسے متاثر ہوں گے۔جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہمیں ان حالات میں تحفظ کے لیے ایس او پیز بنانے ہوں گے، پولیس اور آرمی کی بیرک میں سیکڑوں لوگ رہتے ہیں، وہاں پر ایس اوپیز پر عمل کیا جاتا ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ جیل کے حالات کا گھر سے موازنہ نہیں کرسکتے، توازن کے ساتھ قیدیوں کی رہائی ہونی چاہیے، قیدیوں کی رہائی کیحوالے سے اپنی تجاویز دے چکا ہوں۔جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ سنگین جرائم کے قیدیوں کو رہا کرنا کس طرح درست ہے؟اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ ہمیں معلوم ہے کہ ہائی کورٹ کے پاس از خود نوٹس کا اختیار نہیں ہے۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ تمام حکومتی اقدامات صرف کاغذوں میں ہیں عملی طور پر کچھ نہیں ہو رہا، تمام صنعتیں اور کاروبار بند پڑے ہیں، عدالت عظمی حکم دے گی تو سب تعمیل کریں گے۔چیف جسٹس نے کہا کہ سندھ ہائی کورٹ کے حکم سے معلوم نہیں کون کون سے قیدی باہر آگئے ہیں، سندھ حکومت نے قیدیوں کو چھوڑا تو بعد میں واپس کیسے لائیں گے؟ وزارت انسانی حقوق حکومت کے مقف سے ہٹ کر مقف نہیں اپنا سکتی۔ جسٹس قاضی امین نے ریمارکس دیے کہ کورونا وبا ہو یا نہ ہو، جس کی ضمانت بنتی ہے اسے ملنی چاہیے۔جسٹس سجاد علی شاہ نے استفسار کیا کہ براہِ راست سپریم کورٹ سے کیوں کہا جا رہا ہے کہ قیدی چھوڑ دیں، کیا ماتحت عدالتیں ضمانتیں نہیں دے رہیں؟چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب اور منشیات کے قیدیوں کو بھی چھوڑ دیا، جس پر عدالت میں موجود نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ نیب کے کسی ملزم کی ضمانت پر رہائی نہیں ہوسکی، حسین لوائی کو الگ حکم کے تحت ضمانت ملی۔ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے آرٹیکل 187 کا استعمال کیا جبکہ آرٹیکل 187 کا اختیار صرف سپریم کورٹ استعمال کرسکتی ہے۔جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ کا حکم درست نہیں تو اسے چیلنج کیوں نہیں کیا؟ جسٹس قاضی امین نے دریافت کیا کہ کیا اسلام آباد انتظامیہ قانون پر سمجھوتا کرنا چاہتی ہے؟۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ہائی کورٹ میں دائرہ اختیار کا سوال اٹھایا گیا تھا؟ ہائی کورٹ میں مقدمے کا عنوان ریاست بنام ضلعی انتظامیہ تھا، ریاست کی جانب سے درخواست کس نے دی تھی؟ ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نے بتایا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ عدالت نے پٹیشن میں تبدیل کی تھی۔سپرنٹنڈنٹ اڈیالہ جیل بھی سپریم کورٹ میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا کہ ہائی کورٹ رجسٹرار نے فون پر اسلام آباد کے قیدیوں کی تفصیل مانگی تھی اسلام آباد ہائی کورٹ کا کوئی تحریری خط یاحکم نہیں ملا تھا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ دیکھیں گے آپ نے اس کیس میں کیسی معاونت کی، ہم اپنے آرڈر میں آپ کا ذکر بھی کریں گے۔ چیف جسٹس نے حکم دیا کہ تفتان، چمن اور طورخم بارڈر پر قرنطینہ کییگئے لوگوں کے لیے تمام حفاظتی اقدامات کریں، ان تینوں جگہوں پر عوام کو ہر طرح کی سہولیات فراہم کریں۔انہوں نے ریمارکس دیے کہ بارڈرز پر ہمارے پاس پارکنگ کی جگہ تک نہیں، بارڈرز پر بے ہنگم ٹرک کھڑے ہوتے ہیں، اٹارنی جنرل صاحب کبھی آپ نے چمن بارڈر دیکھا ہے؟ میں نے دیکھا ہے کہ وہاں کیا کیا ہوتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب ان تینوں بارڈرز پر لوگوں کی سہولیات پر کوئی سمجھوتا نہیں کرسکتے۔ایڈووکیٹ جنرل نے بتایا کہ پہلا کورونا پازیٹو قیدی جو سامنے آیا تھا اس کا 494 لوگوں سے رابطہ ہوا تھا، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب کی رپورٹ میں نے پڑھی ہے۔انہوں نے استفسار کیا کہ ٹیلی فون پر انڈر ٹرائل قیدیوں کو ضمانت کی ہدایات کیسے دی جاسکتی ہیں؟ جن کی ضمانت خارج ہوچکی تھی فون پر ان کو بھی ضمانت مل گئی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ صاحب آپ کا حال بھی ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد والا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملکوں میں فیصلے لکھے ہوئے آئین کے مطابق کیے جاتے ہیں، عدالتوں کا کام بھی قانون کے مطابق فیصلے کرنا ہے، عدالتیں قانون اور حقائق سے ہٹ کر فیصلے نہیں کرسکتیں، انڈر ٹرائل قیدیوں کی ضمانتوں میں قانون اورحقائق کو نظرانداز کیا گیا، فون پر زبانی ضمانتیں ہوں گی تو جسے دل چاہے گا اسے چھوڑ دیں گے۔ چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کو حکم دیا کہ تفتان، چمن اور طورخم پر2 ہفتوں میں قرنطینہ بنائیں، ہر آدمی کے لیے ایک کمرہ، علیحدہ باتھ روم اور بہترین خوراک مہیا کی جائے۔ چیف جسٹس کا اٹارنی جنرل سے مکالمہ ہوا اور کہا کہ اپنی حکومت کو بتادیں کورونا پوری قوم کا مسئلہ ہے کسی ایک پارٹی کا نہیں، حکومت پارلیمنٹ کے ذریعے معاملات حل کرے، حکومت کو عوام کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ چیف جسٹس نے مزید کہا کہ ہم لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لیے ادویات تک باہر سے منگواتے ہیں، سب کچھ خود پیدا کرنا ہوگا، کھانے اور اناج کا بھی خود بندوبست کریں۔بعدازاں سپریم کورٹ نے انڈر ٹرائل قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کے خلاف دائر درخواست کی سماعت کل تک ملتوی کردی اور کہا کہ آج کی سماعت کا حکم نامہ کل لکھوائیں گے۔خیال رہے کہ 20 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے کورونا وائرس کے باعث اڈیالہ جیل میں موجود معمولی جرائم والے قیدیوں کو ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کا کہنا تھا کہ اگر کسی جیل کے قیدیوں میں وائرس پھیل گیا تو بہت مشکلات ہو جائیں گی، ابھی تک صرف چین ہی اس وائرس کا پھیلا روکنے میں کامیاب ہو رہا ہے اور چین میں بھی 2 جیلوں میں وائرس پھیلنے کے بعد معاملات خراب ہوئے تھے۔بعدازاں 24 مارچ کو بھی اسلام آباد ہائی کورٹ نے کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر 408 قیدیوں کی ضمانت پر مشروط رہائی کا حکم دیا تھا۔چیف جسٹس نے حکم دیا تھا کہ چیف کمشنر، آئی جی پولیس اور ڈی جی اے این ایف مجاز افسر مقرر کریں اور تمام مجاز افسران پر مشتمل کمیٹی کے مطمئن ہونے پر قیدیوں کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔انہوں نے یہ بھی ہدایت کی تھی کہ جس ملزم کے بارے میں خطرہ ہے کہ وہ باہر نکل کر معاشرے کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے، اسے ضمانت پر رہا نہ کیا جائے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے مذکورہ احکامات کے بعد سید نایاب حسن گردیزی نے راجہ محمد ندیم کی جانب سے سپریم کورٹ میں 6 صفحات پر مشتمل پٹیشن دائر کی تھی جس میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا اسلام آباد ہائیکوٹ (آئی ایچ سی) کے دائرہ اختیار میں ازخود نوٹس شامل ہے؟اپیل میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ 20 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے دیا گیا حکم اختیارات کے منافی ہے کیونکہ یہ خالصتا ایگزیکٹو کے دائرہ اختیار میں آتا ہے کہ وہ کورونا وائرس کے تناظر میں زیر سماعت قیدیوں کے معاملے پر نظر ثانی کرے۔جس پر عدالت عظمی نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اس ازخود نوٹس کے اختیارات سے متعلق پٹیشن پر سماعت کرنے کے لیے 5 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا کہ جس کے تحت ہائی کورٹ نے 20 مارچ کو زیر سماعت قیدیوں (یو ٹی پی) کو ضمانت دے دی تھی۔جس کے بعد 30 مارچ کو ہونے والی سماعت میں عدالت نے تمام ہائی کورٹس اور صوبائی حکومتوں، اسلام آباد اور گلگت بلتستان کی انتظامیہ سمیت متعلقہ حکام کو یکم اپریل تک نوول کورونا وائرس کے باعث زیر سماعت قیدیوں کی جیلوں سے رہائی یا اس سلسلے میں کوئی بھی حکم دینے سے روک دیا تھا۔بعدازاں یکم اپریل کو اس کیس کی سماعت میں سپریم کورٹ نے صوبائی جیلوں میں قرنطینہ مراکز قائم کرنے کا حکم دیتے ہوئے تمام نئے قیدیوں کی اسکرینگ کرنا لازمی قرار دیا تھا۔ اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

سلیکٹڈ حکومت کا بوجھ عوام اٹھا رہے ہیں۔بلاول بھٹو

رپورٹ: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) پشاور پاکستان پیپلز پارٹی ...