بنیادی صفحہ / جرائم / جنسی تشدد کے بعد قتل کی جانے والی دس سالہ بچی کی عدالتی تحقیقات کے احکامات جاری

جنسی تشدد کے بعد قتل کی جانے والی دس سالہ بچی کی عدالتی تحقیقات کے احکامات جاری

رپورٹ: چودھری احسن پریمی
اسلام آباد میں جنسی تشدد کے بعد قتل کی جانے والی دس سالہ بچی کے ورثا نے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کے احکامات جاری ہونے کے بعد احتجاجی دھرنا ختم کر دیا ہے۔ادھر اسلام آباد پولیس کے مطابق اس معاملے میں تین افراد کو گرفتار بھی کیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔اسلام آباد کے علاقے علی پور فراش سے تعلق رکھنے والی یہ بچی پانچ روز سے لاپتہ تھی اور اس کی لاش منگل کو قریبی جنگل سے ملی تھی۔مقتولہ بچی مقامی سکول میں دوسری جماعت کی طالبہ تھی۔ مقامی پولیس کے بقول ڈاکٹروں کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق لڑکی کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیا گیا۔گذشتہ دو ماہ کے دوران وفاقی دارالحکومت میں یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں کمسن بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے بارہ کہو کے علاقے میں ایک دو سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔لاش ملنے کے بعد ورثا نے پولیس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تھا جس میں پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور رکن اسمبلی محسن داوڑ بھی شریک ہوئے تھے۔مقتولہ کے ورثا نے اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ سے احتجاج ختم کرنے کے لیے چار مطالبات کیے تھے جن میں واقعے کی تحقیقات کے لیے عدالتی کمیشن کی تشکیل، مقدمہ سپریم کورٹ میں چلانا، مقتولہ کے والد کی مالی امداد اور قومی اسمبلی کے سپیکر یا کسی وفاقی وزیر کی مظاہرین کو مطالبات پر من وعن عمل درآمد کی یقین دہانی شامل تھے۔ان مطالبات کے سامنے آنے کے بعد گزشتہ منگل کی شام سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ واقعے کی ہر سطح پر تحقیقات ہوں گی اور جلد ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔منگل کو ہی اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر سے دس سالہ بچی کی عدالتی تحقیقات کا حکمنامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ادھر اسلام آباد پولیس کا بھی کہنا ہے کہ بچی کے اغوا اور پھر جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے کے مقدمے میں تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق تینوں ملزمان مقتولہ کے ہمسائے ہیں اور گرفتار ہونے والے ملزمان میں سے دو افغان باشندے ہیں جبکہ ایک پاکستانی ہے۔پولیس نے ملزمان کو تفتیش کے لیے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔مقتولہ کے ورثا نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے سست روی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس واقعے کی صرف رپورٹ درج کی جبکہ مقدمہ درج نہیں کیا۔ قبائلی ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والے بچی کے والدگل نبی نے الزام عائد کیا کہ پہلے چار دن تک پولیس ان کی گمشدہ بچی کی رپورٹ درج نہیں کر رہی تھی اور ان کے بار بار تھانے جانے پر ان سے عجیب و غریب سوالات کیے جاتے رہے۔ان کا کہنا تھا ‘میں روز تھانے جاتا تھا۔ کبھی کہتے کہ آپ کی بیٹی کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی، کبھی کچھ کہا جاتا کبھی کچھ۔ میری مشکلات کا کسی کو احساس ہی نہیں تھا۔ آخر کار میں نے یہ کہا کہ میری بچی مرگئی ہوگی میں بھی خودکشی کر لوں گا’۔اسلام آباد پولیس کے سربراہ نے بچی کے اغوا اور پھر اسے مبینہ طور پر جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کیے جانے کے واقعے میں فرائض سے غفلت برتنے پر ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاون غلام عباس کو معطل کرکے لائن حاضر کردیا ہے جبکہ ان کی جگہ دریا خان کو تھانے کا نیا انچارج تعینات کیا گیا ہے۔چیف کمشنر اسلام آباد نے اس واقعے سے متعلق دو مشترکہ تحقیقاتی ٹیمیں تشکیل دی ہیں جو دو ہفتوں میں تفتیش مکمل کرکے رپورٹ پیش کریں گی۔اگر ملک کے دیگر علاقوں سے آنے والی خبروں کو دیکھا جائے تو گزشتہ چند ماہ میں ایک مرتبہ پھر کمسن بچیوں کے ریپ کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ تعزیراتِ پاکستان میں ریپ کے قانون کے بارے میں آج بھی خامی ہے کہ اس قانون میں عمر کا تعین نہیں کیا گیا۔ان کے مطابق ریپ چاہے بچی کے ساتھ ہو یا عورت کے ساتھ اس کے لیے قانون کی ایک ہی دفعہ 376 ہے جس کے تحت زیادہ سے زیادہ سزا سزائے موت یا 25 سال قید جبکہ کم سے کم سزا دس سال ہے۔ ہمارے قانون میں خاص طور پر بچوں کے ساتھ ریپ کے لیے کوئی خاص قانون نہیں ہے۔ان کے مطابق سیکشن 377 کا قانون عورت یا مردوں کے ساتھ بدفعلی کے مقدمات کے لیے تھا اور اس میں سنہ 2016 میں صوبہ پنجاب کے شہر قصور میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات سامنے آنے کے بعد 377 اے اور 377 بی کا اضافہ کیا گیا جو کہ بچوں کے ساتھ جنسی تشدد اور اس کی سزا کے بارے میں ہیں۔ قوانین میں ترمیم کرنے کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ جب بھی بچوں کے ساتھ کوئی جنسی زیادتی، پورنوگرافی یا جسمانی چھیڑ چھاڑ کرنے کا واقعہ ہوتا تھا تو ہمارے قانون میں کوئی خاص سیکشن موجود نہیں تھی جبکہ اگر کسی بچی کے ساتھ ایسا واقعہ ہوتا تھا تو سیکشن 376-511 یعنی اقدام زنا کے زمرے میں کیس بنتا تھا اور اگر بچہ ہوتا تو اس کو سیکشن 377-511 جو لواطت کے قانون کے زمرے آتا تھا۔ یہ قانون کمزور تھے اور ان کا فائدہ ملزموں کو ہوتا تھا۔ اگرچہ بچوں اور بچیوں سے متعلق قوانین میں ترمیم کے ذریعے بہتری تو لائی گئی ہے لیکن اب ان پر عملدرآمد کرنا اداروں کا کام ہے۔ پولیس کے تفتیشی نظام ناقص ہے اور کسی بھی واقعے کو درست دفعات لگا کر نہیں درج کیا جاتا اور اگر کسی کیس میں درست دفعات درج بھی کر دی جائیں تو ہمارے سست عدالتی نظام کی بنا پر کم از کم دو سال تک فیصلہ نہیں ہو پاتا۔ اس وجہ سے نئے قوانین کے تحت درج مقدمات کے ابھی تک فیصلے نہیں ہوئے تھے اور زیادہ تر مقدمات زیر سماعت ہیں۔جبکہ گزشتہ دنوں راولپنڈی میں پولیس نے 22 سالہ خاتون کو گینگ ریپ کا نشانہ بنانے کے الزام میں حراست میں لیے گئے تین پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد کا جسمانی ریمانڈ تو حاصل کر لیا ہے تاہم متاثرہ خاتون کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان پر صلح کے لیے دبا ڈالا جا رہا ہے۔اجتماعی جنسی زیادتی کا یہ مبینہ واقعہ 15 مئی کو بحریہ ٹاون کے علاقے میں پیش آیا تھا۔ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ خاتون کا کہنا ہے کہ وہ راولپنڈی میں ایک ہوسٹل میں مقیم ہیں اور رات کو سحری کے لیے اپنے ایک دوست کے ہمراہ گئی ہوئی تھیں کہ جب چار افراد نے انھیں اسلحے کے زور پر اپنی گاڑی میں بٹھا لیا۔خاتون کے مطابق ان افراد نے ان کے دوست کو بھاگ جانے کو کہا اور پھر سڑک کنارے گاڑی میں انھیں ریپ کیا گیا۔خاتون کا الزام ہے کہ انھیں چاروں ملزمان نے تشدد کا نشانہ بھی بنایا اور ان کی تصاویر اور ویڈیو بھی بنائی گئی۔ان کے بقول ریپ کے بعد یہ افراد ان کے پاس موجود رقم اور طلائی انگوٹھی چھین کر انھیں ان کے ہاسٹل کے پاس پھینک کر فرار ہو گئے تھے۔راولپنڈی پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ خاتون کی شکایت ملنے کے بعد ان کا طبی معائنہ کروایا گیا جس کی رپورٹ کے مطابق خاتون کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔پولیس حکام کے مطابق ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں خاتون کے جسم پر تشدد کے نشانات پائے گئے ہیں۔ترجمان کا کہنا تھا کہ اس معاملے کا مقدمہ درج کر کے چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ وقوعے میں استعمال ہونے والی کار بھی بر آمد کر لی گئی۔ترجمان کے مطابق ملزمان کا پانچ روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کیا گیا ہے جبکہ ان کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کر کے انھیں لاہور میں فارینزک لیبارٹری بھجوایا جائے گا۔پولیس حکام کے مطابق اس واقعے میں ملوث تینوں پولیس اہلکاروں کو معطل بھی کر دیا گیا ہے تاہم متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ ان پر صلح کے لیے دبا ڈالا جا رہا ہے۔متاثرہ خاتون کے ایک رشتہ دار نے بتایا کہ ملزمان نے خاندان پر صلح کے لیے دبا ڈالا ہوا ہے۔ وہ دھمکیاں دے رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ میڈیا میں دو چار دن خبریں چلیں گی پھر اس کے بعد کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ہو گا۔مذکورہ رشتہ دار کا کہنا ہے کہ ان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ پیسے لے کر مقدمہ واپس لے لیں۔پولیس ترجمان سہیل ظفر کا کہنا ہے کہ ملزمان کے خلاف جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے وہ ناقابل ضمانت ہیں۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ تاحال متاثرہ خاتون کے اہل خانہ کی طرف سے ان پر دبا ڈالے جانے کے بارے میں پولیس سے رابطہ نہیں کیا گیا اور اگر ایسا ہوتا ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔پاکستان میں ریپ کے واقعات کی روک تھام اور اس سلسلے میں آگہی فراہم کرنے والی غیر سرکاری تنظیم وار ایگینسٹ ریپ پاکستان کی جانب سے سنہ 2015 اور 2016 میں جمع کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان میں روزانہ اوسطا چار خواتین کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔تنظیم کے مطابق یہ وہ معاملات ہیں جو کہ باقاعدہ کسی نہ کسی شکل میں رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ ممکنہ طور پر ایسے واقعات کی ایک بڑی تعداد بھی ہے جو کہیں بھی رپورٹ نہیں ہوتے۔ ریپ کا شکار اکثر خواتین شرم اور عزت کے ڈر سے خاموشی اختیار کر لیتی ہیں اور اس سلسلے میں امیر و غریب خواتین کے حوالے سے کوئی بھی تفریق نہیں ہے۔ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ جن خواتین نے اس حوالے سے شکایات درج بھی کروائی ہیں انھیں بھی انصاف ملنے میں مشکلات کا سامنا رہا ہے اور اکثر کو تو انصاف ملا ہی نہیں ہے۔ قومی اسمبلی کو بتایا گیا تھا کہ وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے چاروں صوبوں میں گذشتہ پانچ سال کے دوران بچوں سے زیادتی کے 17862 واقعات رپورٹ ہوئے۔رپورٹ ہونے والے 10620 واقعات لڑکیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جبکہ اسی عرصے کے دوران 7242 لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوئی۔ وقفہ سوالات میں وزارت انسانی حقوق کی طرف سے پیش کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق اس عرصے کے دوران پولیس کے پاس زیادتی کے 13263 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔گزشتہ سالوں میں قصور میں کم سن بچی زینب کے ساتھ جنسی زیادتی اور قتل کے بعد ملک بھر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی تھی، جس کے بعد حکومت پر عوامی اور سیاسی دبا میں اضافہ ہو گیا تھا۔اس کے بعد مردان میں بھی اسی قسم کا ایک واقعہ پیش آیا تھا، جس سے ظاہر ہوا تھا کہ یہ واقعات کسی ایک علاقے تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں رونما ہوتے ہیں۔تاہم وزارت انسانی حقوق کی طرف سے دیے گئے اعداد و شمار میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ لڑکے اور لڑکیوں کے ساتھ جنسی تشدد کے سب سے زیادہ واقعات کس صوبے میں ہوئے ہیں۔صوبہ پنجاب کے شہروں قصور اور اوکاڑہ میں لڑکوں کے ساتھ جنسی تشدد کی ویڈیو بھی سامنے آئی تھی جس میں ملوث افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔ قصور میں بچوں پر جنسی تشدد کے دوران ویڈیو فلمیں بنانے کے واقعات میں ملوث تین مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی۔انسانی حقوق کی کمیشن کی رپورٹ کے مطابق بچوں پر تشدد کے مقدمات میں صرف 112مجرموں کو سزا ہوئی جن میں سے 25 مجرموں کو سزائے موت، 11 کو عمر قید جبکہ باقی مجرمان کو سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ملک میں بچوں سے زیادتی کے واقعات سے متعلق صورت حال افسوسناک ہے۔ ملک میں بچوں سے متعلق قوانین موجود ہیں لیکن عمل درآمد نہیں ہوتا۔ پولیس کی ناقص تفتیش اور عدالتی نظام کی کمزوریوں کی وجہ سے ان واقعات کے سدباب میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ ایک تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں روزانہ 11 بچے جنسی زیادتی کا شکار بنتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار پاکستان میں بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والیایک غیر سرکاری ادارے ‘ساحل’ نے جاری کیے تھے۔رپورٹ میں دعوی کیا گیا بچوں سے جنسی زیادتی اور تشدد کے واقعات میں دس فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ادارہ کہتا ہے کہ گذشتہ برس بچوں سے جنسی زیادتی سمیت اغوا، گمشدگی اور جبری شادیوں کے 4139 کیس رجسٹرڈ ہوئے اور یہ تعداد 2015 کے مقابلیمیں دس فیصد زیادہ ہے۔’کرول نمبرز’ یا ‘ظالمانہ اعداد و شمار’ کے عنوان سے شایع کی جانے والی اس رپورٹ کے لیے ادارے نے86 قومی، علاقائی اور مقامی اخبارات کی نگرانی کی۔گذشتہ برس بچوں کے خلاف کیے گئے جو بڑے جرائم رپورٹ ہوئے ان میں اغوا کے 1455 کیس، ریپ کے 502 کیس، بچوں کے ساتھ بدفعلی کے 453 کیس، گینگ ریپ کے 271 کیس، اجتماعی زیادتی کے 268 کیس جبکہ زیادتی یا ریپ کی کوشش کے 362 کیس سامنے آئے۔ان واقعات میں سب سے زیادہ سنگین جرم زیادتی کا شکار ہونے والے بچوں کا قتل ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ جنسی حملوں کے بعد قتل کے کل 100 واقعات سامنے آئے۔ادارے کی تحقیقات کیمطابق بچوں سیجنسی زیادتی اور تشدد کرنے والے مجرمان میں گھر کے اندر کے افراد، رشتہ دار اور واقفِ کار بھی ہو سکتے ہیں۔بچوں پر تشدد کرنے والوں میں زیادہ تعداد ان افراد کی تھی جو بچوں کو جانتے تھے۔ ان کی تعداد1765 ہے۔ 798اجنبی ، 589ا جنبی واقف کار، 76 رشتہ دار، 64 پڑوسی، 44 مولوی، 37 اساتذہ اور 28 پولیس والے بھی بچوں پر جنسی تشدد میں ملوث پائے گئے۔ادارے نے ایسے لوگوں کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘یہ لوگ بچوں کو پھسانے کے لیے تحائف کی پیشکش کرتے ہیں، ان سے محبت کا اظہار اور مختلف کاموں میں ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔ جنسی زیادتی میں کامیابی کے بعد یہ افراد بچوں پر اس راز کو خفیہ رکھنے کے لئے دبا بھی ڈالتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق سال 2016 میں پاکستان کے دیہی علاقوں سے 76 فیصد جبکہ شہری علاقوں سے 24 فیصد واقعات رپورٹ ہوئے۔ان میں زیادتی کے واقعات کی شرح کچھ یوں رہی: پنجاب میں 2676، سندھ میں 987، بلوچستان میں 166، اسلام آباد میں 156، خیبر پختونخوا میں 141، پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں نو، اور گلگت بلتستان سے چار واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ اس سال فاٹا سے کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا۔اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 11 سے 18 سال کے بچے سب سے زیادہ اغوا ہوئے۔ 16 سے 18 سال کی لڑکیوں کے اغوا کے واقعات میں اضافہ جبکہ لڑکوں کے اغوا کے واقعات میں کمی ریکارڈ کی گئی۔کم عمری کی شادی کے کل 176 واقعات میں سے 112 صوبہ سندھ میں جبکہ 43 پنجاب میں رپورٹ ہوئے۔ادارے نے ذرائع ابلاغ میں متاثرہ بچوں کی شناخت ظاہر کرنے پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ملک میں خبر کی رپورٹنگ کے بارے میں ضابط اخلاق موجود ہونے کے باوجود 47 فیصد بچوں کے نام، 23 فیصد بچوں کے والدین کے نام جبکہ چھ فیصد واقعات میں نام کے ساتھ تصاویر بھی شائع کی گئیں۔رپورٹ کے مطابق تشویش ناک بات یہ ہے کہ بچوں کے ساتھ زیادتی کرنے والوں کی بڑی تعداد ان کے رشتے داروں اور جاننے والوں پر مشتمل ہوتی ہیادارے نے اپنی تجاویز میں اس بات پر زور دیا ہے کہ گھروں میں بطور ملازم کام کرنے والے بچوں کے حوالے سے متعلقہ بل کو منظور کروا کر اس پر عمل درآمد کرایا جائے جبکہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل کو صوبائی اور قومی سطح پر نافذ کیا جائے۔اس کے علاوہ ادارے کے مطابق بچوں کے تحفظ کے حوالے سے معلومات کو نصاب میں شامل کیا جانا چاہییاور پیشہ ورانہ طریقے سے بچوں، اساتذہ، ڈاکٹروں، سکول کونسلروں اور پولیس میں شعور اجاگر کرنے اور تربیت دینے کی سخت ضرورت ہے۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

2017 کے مقابلے 2018 میں بچوں کے استحصال میں 11 فیصد اضافہ ہوا

ملک میں روزانہ 10 سے زائد بچوں کو جنسی استحصال کا نشانہ ...