بنیادی صفحہ / جرائم / بہن سے ریپ کرنے والے تین بھائی جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل

بہن سے ریپ کرنے والے تین بھائی جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل

5 سال کے دوران وفاقی دارالحکومت میں بچوں کے ساتھ ریپ کے 3 سو سے زائد واقعات,جبکہ اس عرصے میں 2 سو 60 ایسے واقعات رپورٹ نہیں کروائے گئے۔
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
مبینہ طور پر بہن کا ریپ کرنے کے الزام میں گرفتار 3 بھائیوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔ایک سینئر پولیس افسر نے بتایا کہ ملزم میں ایک مذہبی اسکالر ہے جو آن لائن خطبات دیتا تھا، اس پر الزام ہے اس نے مدرسے میں متاثرہ لڑکی کا ریپ کیا جبکہ دیگر دو ملزمان پیشے کے لحاظ سے مزدور ہیں۔پولیس افسر کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکی کی عمر 15 سال ہے جبکہ ملزمان کی عمریں 22 سے 30 کے درمیان ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ملزمان کی جانب سے متاثرہ لڑکی کو دھمکی دی گئی تھی اور اسے چپ رہنے کا کہا گیا تھا۔پولیس کے مطابق لڑکی کے اہل خانہ 5 بھائی اور 4 بہنوں پر مشتمل ہے اور وہ بنوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن گزشتہ کئی برسوں سے وہ گولڑہ میں رہائش پذیر ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ لڑکی بہن بھائیوں میں چھوٹی تھی اور وہ والدین کے انتقال کے بعد سے بھائیوں کے ساتھ رہ رہی تھی۔اس حوالے سے ایس ایچ او گولڑہ انسپکٹر ارشد علی کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل منتقل کردیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ عدالت کی جانب سے مزید احکامات تک متاثرہ لڑکی کو حفاظتی مرکز منتقل کرنے کا حکم بھی دیا گیا۔ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ پولیس نے متاثرہ لڑکی کے مرحوم والد کے ڈاکٹر دوست تک رسائی حاصل کی اور ان کے کلینک کا دورہ کرکے متاثرہ لڑکی سے بیان ریکارڈ کیا۔انسپکٹر ارشد علی کا کہنا تھا کہ کلینک میں موجود ڈاکٹرز اور مقامی بزرگ رہنماں نے پولیس کو بتایا کہ متاثرہ لڑکی کے الزامات پر ملزمان سے سختی سے پوچھ گچھ کی تو انہوں نے جرم کا اعتراف کرلیا، جس کے بعد ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کروایا گیا اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ایس ایچ او نے مزید بتایا کہ ملزمان نے 3 روز کے جسمانی ریمانڈ کے درمیان بھی جرم کا اعتراف کیا، جس کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا جہاں انہیں اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔خیال رہے کہ واقعے کی ایف آئی آر کے مطابق متاثرہ لڑکی والدین کے انتقال کے بعد اپنے بھائیوں کے ساتھ رہ رہی تھی، 2 سال قبل ملزمان میں سے ایک نے پہلی مرتبہ اس کا ریپ کیا، جس کے بعد دو ہفتوں کے لیے اسے زیادتی کا نشانہ بناتا رہا۔اس کے کئی ہفتوں بعد ایک اور ملزم کی جانب سے لڑکی کو 3 مرتبہ جنسی طور پر ہراساں کیا گیا اور تیسری مرتبہ یہ عمل مدرسے میں کیا گیا۔ایف آئی آر کے مطابق لڑکی کی درخواست پر اسے مدرسے سے لے جایا گیا اور جب وہ واپس گولڑہ آئی تو 4 روز کے لیے مزار میں قیام کیا جہاں اسے اپنی طبیعت ٹھیک نہیں لگی۔بعد ازاں جب لڑکی علاج کے لیے اپنے والد کے دوست کے پاس گئی تو اس سے وہاں جانے کے بارے میں معلوم کیا گیا جبکہ لڑکی نے اس کے ساتھ جو ہوا اس بارے میں بتایا۔جبکہ گزشتہ دنوں راولپنڈی کی مقامی عدالت نے پشتو کی ممتاز گلوکارہ نازیہ اقبال کی 2 بیٹیوں سے زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر گلوکارہ کے بھائی کو سزائے موت اور 6 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج طاہر اسلم نے جرم ثابت ہونے پر مجرم افتخار علی کو سزائے موت اور جرمانے کی سزا کا حکم سنایا۔واضح رہے کہ افتخار علی نامور پشتو گلوکارہ نازیہ اقبال کا حقیقی بھائی ہے۔گزشتہ برس 24 اپریل کو راولپنڈی کی نجی ہاسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاون میں گلوکارہ نازیہ اقبال نے بھائی کو اپنی کم سن بھانجیوں کو ریپ کا نشانہ بناتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا، جس کے بعد پولیس نے مقدمہ درج کرکے ملزم کو گرفتار کرلیا تھا۔استغاثہ کی طرف سے ٹھوس شہادتیں پیش کرنے کے بعد ملزم پر جرم ثابت ہو گیا، جس کے بعد عدالت نے افتخار علی کو سزائے موت اور 6 لاکھ روپے جرمانہ کی سزا کا حکم سنادیا۔نازیہ اقبال کی جانب سے درج کرائی گئی شکایت میں انہوں نے بتایا تھا کہ ان کی دو کم سن بیٹیوں کو ان کے ماموں نے بچوں کے گلا کاٹنے کی ویڈیوز دکھا کر ڈرایا اور ریپ سے متعلق کسی کو بتانے کی صورت میں ایسے ہی انجام کی دھمکیاں دیں۔روات پولیس کے مطابق نازیہ اقبال نے پولیس کو مقدمہ درج کرواتے ہوئے بتایا تھا کہ اس کی 12 سالہ اور 8 سالہ بیٹیاں بالترتیب 5ویں اور دوسری جماعت میں زیر تعلیم تھی۔انہوں نے بتایا تھا کہ وہ اپنی پیشہ ورانہ مصروفیات کی وجہ سے زیادہ تر وقت گھر سے باہر ہوتی ہیں اور ان کے خاوند بھی روزگار کے سلسلے میں اکثر باہر رہتے ہیں جس کی وجہ سے انہوں نے گھر کی دیکھ بھال اور بچیوں کی حفاظت کے لیے اپنے بھائی افتخار علی کو سوات سے بلوا کر گھر میں رکھا تھا۔خاتون نے پولیس کو بتایا تھا کہ ان کی بیٹیاں اکثر ان سے شکایت کرتی تھیں کہ ان کے ماموں ان کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں اور خوف ناک فلمیں دکھا کر دھمکیاں دیتے ہیں کہ اگر انہوں نے کسی کو بتایا تو وہ انہیں بھی قتل کر دیں گے۔خاتون کے مطابق 21 اپریل کو صبح سویرے بچوں کے لیے ناشتہ بنانے کے لیے اٹھیں تو ساتھ والے کمرے سے اس کو چھوٹی بیٹی کے رونے کی آواز آئی، جب اندر جا کر دیکھا تو ان کا بھائی ان کی بیٹی کے ساتھ ریپ کر رہا تھا۔گلوکارہ کا کہنا تھا کہ بھائی کو اس حالت میں دیکھ کر انہوں نے شور مچایا جس پر ان کے خاوند آگئے، تاہم بھائی موقع سے فرار ہو گیا۔پولیس نے بچیوں کا میڈیکل کروانے کے بعد گلوکارہ کے بھائی کے خلاف زیادتی اور دھمکیوں کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا تھا۔میڈیکل رپورٹ میں بچیوں کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوئی تھی۔جبکہ اسی طرح ایک اور صنفی تشدد کے معاملات کو دیکھنے کے لیے قائم کی گئی خصوصی عدالت نے میڈیکل کی طالبہ کو ریپ کا نشانہ بنانے والے مجرم کو سزائے موت سنائی گئی ہے۔جنسی تشدد سے متعلق رواں سال کی پہلی سزا سناتے ہوئے ایڈیشنل اینڈ سیشن جج رحمت علی نے مجرم وقاص خالد پر 5 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا۔واضح رہے کہ 2016 میں لاہور کے قائد اعظم انڈسٹریل ایریا تھانے میں واقعے کی فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر)درج کی گئی تھی۔ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ طالبہ کو اغوا کے بعد ریپ کا نشانہ بنایا گیا اور بعد میں مجرم نے طالبہ کو چھوڑ دیا۔بعد ازاں نجی ہسپتال میں متاثرہ لڑکی کا طبی معائنہ کیا گیا تھا، جس کے بعد کیس رجسٹر کیا گیا۔عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ سرکاری وکیل کے دلائل اور پیش کیے گئے گواہوں کے ذریعے سے مجرم پر جرم ثابت ہوا، جس پر اسے سزائے موت اور 5 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی جاتی ہے۔خصوصی عدالت کے فیصلے کے بعد مجرم کو سخت سیکیورٹی میں احاطہ عدالت سے جیل منتقل کردیا گیا۔ جبکہ ایک اور کیس کراچی کے علاقے ڈیفنس میں بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کی پوتی نے گھریلو ملازمہ کی بیٹی سے زیادتی کے الزام میں اپنے ہی ڈرائیور کو فائرنگ کر کے زخمی کردیا۔گزری تھانے کے ایس ایچ او خان محمد بھٹی نے بتایا کہ ڈیفنس میں گھر کے اندر 20 سالہ ڈرائیور محمد عرفان فائرنگ کے نتیجے میں زخمی ہوا۔پولیس افسر نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق زخمی شخص نے دو روز قبل گھریلو ملازمہ کی بیٹی کو مبینہ طور پر ریپ کا نشانہ بنایا تھا۔انہوں نے بتایا کہ گھریلو ملازمہ نے نواب اکبر بگٹی کی پوتی اور گھر کی سربراہ کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا۔خان محمد بھٹی کا کہنا تھا کہ صورتحال سے آگاہی کے بعد خاتون نے ڈرائیور کو بلایا، تاہم نوجوان نے ریپ کے الزام کو جھوٹ قرار دیا۔ایس ایچ او نے بتایا کہ نواب اکبر بگٹی کی پوتی ڈرائیور کی وضاحت پر مطمئن نہ ہوئیں اور اسے پستول سے ڈرانے کے دوران گولی چل گئی جس سے محمد عرفان زخمی ہوا۔زخمی ڈرائیور کو جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے بتایا کہ زخمی نوجوان کی حالت خطرے سے باہر ہے۔انہوں نے بتایا کہ 20 سالہ محمد عرفان کی دائیں ران پر گولی لگی۔ایس ایچ او خان محمد بھٹی کا کہنا تھا کہ گھریلو ملازمہ کو زخمی ڈرائیور کے خلاف ریپ کی ایف آئی آر کٹوانے کے لیے طلب کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ معاملے پر پولیس زخمی شخص کا بیان بھی قلمبند کرے گی۔جبکہ ایک اور کیس خاتون بھکاری کے مبینہ طور پر ریپ کے الزام میں گرفتار دو ملزمان نے ابتدائی تفتیش میں اقبال جرم کر لیا۔ذرائع نے بتایا کہ ملزمان اکبر خان اور فیاض خان کو گزشتہ دنوں گرفتار کیا گیا تھا اور پولیس نے ملزمان کا مقامی عدالت سے دو روزہ ریمانڈ حاصل کیا تھا۔ٹودھر سے تعلق رکھنے والے سرتاج نامی شخص کی بیوی نے ایف آئی آر میں الزام عائد کیا تھا کہ زائدہ گاوں میں 2 نامعلوم افراد نے اسلحے کے زور پر اسے ایک خالی مکان میں اس کا ریپ کیا۔ذرائع نے بتایا کہ دو افراد نے بھکارن کو دھوکا دیتے ہوئے کہا کہ ان کا ایک رشتے دار اسے زکو دینا چاہتا ہے اور اسے زائدہ گاوں لے گئے، وہاں جا کر انہوں نے پستول نکال لی اور اسلحے کے زور پر اس کا ریپ کیا اور ساتھ ساتھ یہ دھمکی بھی دی کہ اگر اس نے اس واقعے کا ذکر پولیس سے کیا تو وہ اسے جان سے مار دیں گے۔البتہ متاثرہ خاتون نے زائدہ پولیس اسٹیشن میں ملزمان کے خلاف ایف آئی درج کروادی اور ذرائع نے بتایا کہ تفتیش کے دوران ملزمان نے اپنے جرم کا اعتراف بھی کرلیا۔صوابی کے ڈی ایس پی نے کہا کہ متاثرہ خاتون کی جانب سے ملزمان کا حلیہ بتانے کے بعد انہوں نے ریپ کرنے والے دونوں افراد کو گرفتار کر لیا تاہم ان کا کہنا تھا کہ واقعے کی میڈیکل رپورٹ آنا ابھی باقی ہے۔ جبکہ جہلم میں با اثر افراد نے 13 سالہ لڑکی کو اغوا کے بعد گینگ ریپ کا نشانہ بنایا اور تشویشناک حالت میں ویرانے میں چھوڑ کر فرار ہوگئے۔متاثرہ لڑکی نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنے مکان میں موجود تھی کہ صبح کے وقت 2 افراد آئے اور انہیں زبردستی اٹھا کر ویرانے میں لے گئے، جہاں لڑکی کے ساتھ گینگ ریپ کیا گیا اور ملزمان انہیں تشویشناک حالت میں وہاں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔متاثرہ لڑکی کے والد نے میڈیا کو بتایا کہ لڑکی کو گھر سے اغوا کر کے نامعلوم مقام پر گینگ ریپ کا نشانہ بنایا گیا۔انہوں نے پولیس پر الزام لگایا کہ تھانہ دینہ متاثرین سے کسی قسم کا تعاون نہیں کر رہی اور پولیس ملزمان کے بااثر ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی سے گریزاں ہے۔لواحقین کا مزید کہنا تھا کہ پولیس نے مقدمہ تو درج کر لیا مگر صلح کے لیے دبا ڈالا جارہا ہے۔بعد ازاں متاثرہ لڑکی کو میڈیکل کے لیے جہلم کے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ان کے ساتھ گینگ ریپ کی تصدیق ہوگئی۔پولیس نے متاثرین کی شکایت پر ایک ملزم عامر کو گرفتار کرلیا جبکہ دوسرے ملزم جاوید شاہ کو آخری اطلاعات آنے تک گرفتار نہیں کیا جاسکا تھا۔پولیس کے مطابق نمونے ٹیسٹ کے لیے فرانزک لیب بھیجے گئے ہیں اور ان کی رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔جبکہ گزشتہ سال جنوری میں جہلم کی تحصیل دینہ میں ہی 8 سالہ بچی کے ساتھ ریپ کرنے کے الزام میں ایک شخص کو گرفتار کیا گیا تھا جبکہ بچی کی ابتدائی میڈیکل رپورٹ میں زیادتی کی تصدیق ہوگئی تھی۔اسی طرح فیصل آباد کی سیشن عدالت نے 8 سالہ بچی کا ریپ اور قتل کرنے والے مجرم کو سزائے موت سنادی۔عبدالرزاق نامی ملزم کو 2 جولائی 2018 کو 8 سالہ بچی کو اغوا کرنے، ریپ کرنے اور قتل کے بعد اس کی لاش فیصل آباد کے قریبی علاقے رضا آباد میں پھینکنے کا مجرم ٹھہرایا گیا۔پولیس نے مجرم کو لاہور ایئرپورٹ پر ملک سے فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے گرفتار کیا تھا۔ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج انعام الہی نے عبدالرزاق کو تینوں الزامات ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی اور 35 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔کیس کا ٹرائل 8 ماہ تک جاری رہا تھا۔مقتول بچی کی نمائندگی کرنے والے وکیل نے بتایا کہ مجرم اس سے قبل بھی کم عمر بچیوں کا ریپ کرنے میں ملوث رہا ہے۔غیر سرکاری تنظیم ساحل کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا کہ گزشتہ سال اگست کے مہینے میں انکشاف کیا تھا کہ 2018 کے پہلے 6 ماہ میں گزشتہ سال کے اس ہی دورانیے کے مقابلے میں بچوں پر تشدد کے کیسز میں 32 فیصد اضافہ ہوا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ چاروں صوبوں سمیت اسلام آباد، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے مجموعی طور پر 2 ہزار 322 اخبارات میں رپورٹ ہوئے۔اس کے مقابلے میں 2017 میں جنوری سے جون کے مہینے تک 1 ہزار 764 ایسے واقعات رپورٹ کیے گئے تھے۔رپورٹ کے مصنف ممتاز گوہر نے بتایا تھا کہ زینب ریپ اور قتل کیس کے بعد بچوں پر تشدد کے کیسز میں کمی سامنے آنی چاہیے تھی تاہم بدقسمتی سے اس میں اضافہ سامنے آیا تھا۔ جبکہ خیبرپختونخوا کے ضلع ہری پور کی تحصیل خان پور میں 7 سالہ بچے کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا۔ہری پور پولیس کے ترجمان حسن عطا الرحمن نے بتایا کہ قتل کیے گئے بچے کی شناخت عمر کے نام سے ہوئی جو مارچ آباد کا رہائشی تھا۔پولیس کے مطابق بچے کو پہلے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد اسے گلا گھونٹ کر قتل کردیا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ مقامی لوگوں نے صبح سویرے جھوگیا گاں کے قریب کچرے کے ڈھیر میں بچے کی لاش دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی۔جس کے بعد پولیس نے پہنچ کر لاش کو خان پور ہسپتال منتقل کیا جہاں پوسٹ مارٹم میں بچے کے جنسی استحصال اور اس کے بعد کپڑے کی مدد سے گلا گھونٹ کر قتل کرنے کی تصدیق ہوگئی۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ 7 سالہ عمر گورنمنٹ پرائمری اسکول جھوگیا میں اول جماعت کا طالبعلم تھا جس نے حال ہی میں ہونے والے امتحان میں 92 فیصد نمبر حاصل کر کے چوتھی پوزیشن حاصل کی تھی۔اس کے علاوہ پولیس نے یہ بھی دعوی کیا کہ بچے کو درندگی کا نشانہ بنانے والے ملزم کو گرفتار کر کے مقدمہ درج کرلیا جبکہ تفتیش کا آغاز بھی کردیا گیا۔واضح رہے کہ رواں برس کے آغاز میں پولیس نے سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کو بتایا تھا کہ گزشتہ 5 سال کے دوران صرف وفاقی دارالحکومت میں بچوں کے ساتھ ریپ کے 3 سو سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ اس عرصے میں 2 سو 60 ایسے واقعات رپورٹ بھی نہیں کروائے گئے۔اس سے قبل ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پنجاب میں سال 2016 میں 645 اور 2017 میں 652 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جبکہ 17-2016 کے دوران جنسی زیادتی کے شکار بچوں میں 252 بچیاں اور ایک ہزار45 بچے شامل ہیں۔صوبائی حکومت کے ریکارڈ کے مطابق لاہور میں بچوں سے زیادتی کے 107 واقعات پیش آئے جبکہ پنجاب میں 43 بچوں کو جنسی زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا تھا۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

نیسلے دودھ میں زہریلے فارمولے سے بچی کی ہلاکت پر مقدمہ درج

رپورٹ: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) لاہور کے ایک رہائشی ...