بنیادی صفحہ / قومی / بہترین تحفظ کسی بھی عورت کو جو ہو سکتا ہے وہ ہمت ہے. حبیبہ گلزار

بہترین تحفظ کسی بھی عورت کو جو ہو سکتا ہے وہ ہمت ہے. حبیبہ گلزار

خواتین کو معاشی تحفظ ، خوف سے پاک کام کرنے کا ماحول اور آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کرنے سے ترقی ممکن ہے۔
انٹرویو: چودھری احسن پریمی
ایسوسی ایٹڈ پریس سروس،اسلام آباد
زندگی کی پیمائش سانس لینے کی تعداد کی طرف سے نہیں کی جاتی بلکہ خوبصورت لمحات کو شمار کرنے سے ہماری سانس دور ہوتی ہے.زندگی کسی کی جرات کے تناسب میں سکڑتی ہے یا بڑھتی ہے.بہترین تحفظ کسی بھی عورت کو جو ہو سکتا ہے وہ ہمت ہے.سوال یہ نہیں ہے کہ مجھے کون لے جانے والا ہے؟. بلکہ سوال یہ ہے کہ مجھے روکنے والا کون ہے ؟.وہ دن آئے گا جب مرد عورت کو اپنے ساتھی کے طور پر تسلیم کرے گا، نہ صرف آگ میں بلکہ ملک کے تمام شعبہ زندگی میں. ایک مضبوط خاتون سمجھتی ہے کہ منطق، فیصلے، اور طاقت جیسے تحائف صرف نسائی کے طور پر انضمام اور جذباتی تعلق کے طور پر ہیں. وہ اس کے تمام تحائف کی قدر اور استعمال کرتی ہے.عورت ایک مکمل دائرے میں ہے.اس کے اندر پرورش تخلیق، اور تبدیل کرنے کی طاقت ہے. کوئی بھی عورت جو کسی گھر یا دفتر چلانے کے مسائل کو سمجھتی ہے وہ ملک کے چلانے کے مسائل کو سمجھنے کے قریب قریب ہوتی ہے۔ ہمیں ایسی تمام نوجوان لڑکیوں کو دیکھنے کے لئے محبت ہونی چاہیے۔ جو انتھک محنت، ذہانت اور جرات کے ساتھ دنیا کو پیشہ وارانہ فرا ض کی لپیٹ کے ذریعے قبضہ کرتی ہیں۔سرگودھا یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کی آخری سمیسٹر کی طلبہ اور اسلام آباد میں ایسوسی ایٹڈ پریس سروس میں بطور رپورٹر حبیبہ گلزار اپنی کارکردگی، قابلیت اور فطری استعداد کے حوالے سے دوسری خواتین رپورٹرز سے منفرد مقام رکھتی ہیں۔گزشتہ دنوں حبیبہ گلزار سے ایک نشست کا اہتمام کیا گیا اور ان سے خواتین کے حوالے سے مختلف سوالات کئے گئے۔اس ضمن میں حبیبہ گلزار کی گفتگو قارئین کی نذر ہے۔

حبیبہ گلزار کا کہنا تھا کہ کوئی بھی برتری کا اصول جس کی بنیاد نسلی امتیاز پر ہو سائنسی طور پر جھوٹا،اخلاقی طور پر قابل مذمت،سماجی طور پر غیر منصفا نہ اور خطرناک ہوگا اور یہ کہ نسلی امتیاز کیلئے کہیں بھی کوئی نظری یا عملی جواز نہیں پایا جاتاکو ئی بھی امتیاز،خراج،حد بندی یا ترجیح جس کی بنیاد نسل، رنگ،نسب یا قومی نسلی وابستگی پر ہو اور جس کا مقصد انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے مساوی بنیاد پر اعتراف،خوشی و مسرت یا نفاذ کو سیاسی،معاشی،سماجی،ثقافتی یا عوامی زندگی کے کسی دوسرے میدان میں ختم کرنا یا کمزور کرنا۔ حبیبہ گلزار نے ایک سوال کے جواب میںکہا کہ ایک طویل عرصہ سے خواتین کو عدم تحفظ کا شکار گروہ سمجھا جاتا رہا ہے اس ضمن میں حکومت کو صرف اقدامات نہیں بلکہ مثبت کاروائی بھی کرنی چاہیے تاکہ ان حقوق سے مثبت طور پر لطف اندوز ہو نے کو یقینی بنایا جاسکے یہ صرف قوانین تشکیل دینے سے ممکن نہیں بلکہ قومی اداروں کی تشکیل اور زیادہ عالمی تعاون کی ضرورت ہے تاکہ ان عملی مسائل کو حل کیا جاسکے جو مردوں اور عورتوں کیلئے مساوی حقوق کو یقینی بنانے سے وابستہ ہیں۔ان کا مزیدکہنا تھا کہ اگرچہ اب حکومتیں خواتین کی فلاح و بہبود کے اقدامات کر رہی ہے۔ پہلے ماحول اور حالات ایسے نہیں تھے کہ زیادہ خواتین روزگار کی جانب توجہ دیتیں لیکن اب خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ملکی ترقی میں اپنا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اور بھر پور طریقے سے اداکر رہی ہیں۔بنک، سرکاری دفاتر،کاروباری، تعلیمی اداروں،فورسز ،پولیس اور میڈیا میں خواتین کی بڑھتی ہو ئی دلچسپی خوش آئند اقدام ہے۔ حبیبہ گلزار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بعض ٹی وی چینلز نے اپنی ہر ممکن کوشش سے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ خواتین صحافیوں کو کام کر نے کیلئے ایک بہتر ماحول فراہم کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ عورتوں کو بااختیار بنانا حکومت کی ا ولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔ اس ضمن میںحکومت کو اپنی تمام قومی اور بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھا نا ہوگی۔انہوںنے مزید کہا کہ ہمارا آئین بلا امتیاز تمام شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ حکومت اس بات کویقینی بنانے کے لیے اقدامات اٹھائے تاکہ خواتین نہ صرف ہر طرح کے استحصال سے آزاد ہوں بلکہ حقیقی معنوں میں بااختیار بھی ہوں خواتین کو سماجی ، معاشی ، قانونی اور سیاسی لحاظ سے بااختیار بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا ئیں تاکہ انہیں ہر شعبہ زندگی میں مساوی حقوق اور مساوی مواقع حاصل ہو سکیں ۔ ان میں خواتین کے لیے مائیکرو کریڈٹ کی سہولت ، فنی تربیت کی فراہمی، پریشانیوں کا شکار خواتین کی بحالی، متحرک کرنے والی خدمات ، آگاہی میں اضافہ کے اقدامات وغیرہ شامل ہوں۔ حبیبہ گلزار کا کہنا تھا کہ ہم اپنے پچاس فیصد انسانی وسائل کو استعمال کیے بغیر ملک کو ترقی نہیں دے سکتے ۔ خواتین کو قانونی اور اقتصادی لحاظ سے بااختیار بنانا حکومت کی اولین خواہش ہونی چاہیے ، خواتین کو معاشی تحفظ ، خوف سے پاک کام کرنے کا ماحول اور خواتین کے لیے آگے بڑھنے کے یکساں مواقع فراہم کر کے ہی اس ترقی کو یقینی بنایا جا سکتا ہے ۔ حبیبہ گلزار نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پا کستان میں خواتین معاشرہ میں ایک اہم اور نمایاں کردار ادا کرنے کے باوجود انتہائی کمزور اور بے بس ہیں۔ وہ تشدد اور معاشی استحصال کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ مناسب تعلیم وتربیت اور بنیادی حفظان صحت کی نعمتوں سے بھی محروم رہتی ہیں۔ خواتین آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں اور مختلف شعبوں میں نمایاں کردارادا کرتی ہیں لیکن انکے اس کردار کو کسی سطح پر تسلیم نہیں کیا جاتا ہے۔ حکومتیںان کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے اور ان کے حقوق کو تحفظ دینے اوریقینی بنانے کیلئے قوانین میں تبدیلیاں لارہی ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کو گھر کے روزمرہ کاموں اور کھیتوں میں محنت ومشقت تک محدود رکھا گیا ہے اور تعلیم تک انہیں رسائی حاصل نہیں ہے۔ تعلیم ہر فرد کا بنیادی حق ہے لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ خواتین کو زیورعلم سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ اپنے گوناگوں مسائل کا ادارک حاصل کرنے اور ان نبردآزماہونے کے قابل ہو سکیں۔ حکومت ملک میں خواتین کے تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے مطلوبہ فنڈزمہیا کرے۔ خواتین کے حقوق وراثت اور ان کی انصاف تک آسان اور فوری رسائی کو یقینی بنا نا نا گزیر ہے جمہوریت کو آگے بڑھانے اور مضبوط بنانے اور ظلم کے خلاف جدوجہد کے سلسلے میں عوامی امور میں خواتین کی شرکت مرکزی حیثیت رکھتی ہے۔ قومی تعمیر وترقی میں وہ بہتر کردار ادا کر سکیں۔ اگرچہ خواتین کی ایک خاطر خواہ تعداد کو پارلیمنٹ میں نمائندگی دی گئی ہے اور قومی ترقی میں ان کے پہلے سے زیادہ کردارکیلئے انہیں مواقع دیئے جارہے ہیں۔پاکستان میں جمہوری نظام خواتین کیلئے کام کرنے کے ماحول کو محفوظ بنانے کیلئے قوانین میں تبدیلی لانے کیلئے پر عزم ہونا چاہیے۔ یہ امر خوش آئند ہے کہ پارلیمنٹ نے مقام کار پر ہراساں کرنے کے خلاف تحفظ کا ایک بل منظور کیا اور خواتین پر ان کے خاندان،جان پہچان والوں،ساتھیوں یا معاشرہ کی جانب سے ان پر ڈھائے جانے والے مظالم سے تحفظ کیلئے دیوانی اور فوجداری قوانین میں مختلف تبدیلیاں لائی گئی ۔یہ قوانین صنفی امتیاز کو کم کرنے میں مدد دیں گے اور خواتین اس قابل ہوں گی کہ وہ زیادہ اعتماد کے ساتھ قومی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں۔حکومت نے خواتین کی آزادی اورانہیں با اختیار بنانے کیلئے متعدد قوانین وضع کئے ہیں اور اقتصادی اقدامات بھی اٹھائے ہیں اور حکومت زندگی کے ماجی،معاشی حلقوں میں ان کے بھر پور کردار کویقینی بنانے کیلئے پر عزم ہے۔ لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ کی وجہ سے پاکستان میں خواتین کی ایک بڑی تعدادکو بے گھر ہونے پر مجبور ہونا پڑا یہ خواتین کیمپوں میں رہائش پذیر رہی اور ان کو کئی طرح کی مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ حبیبہ گلزار نے ایک سوال کے جواب میںکہا کہ جتنی جلدی ممکن ہو رکن ریاستوں کو چاہیے کہ وہ نسلی بنیاد پر قائم تنظیموں کے خلاف مجرمانہ کاروائیوں کی بنیاد پر مقدمہ چلائیں انہیں چاہیے کہ وہ ایسی تنظیموں کو غیر قانونی قرار دیں اور جو لوگ ان میں حصہ لیں ان کے خلاف
مقدمات قائم کریں اعلان ویانا بھی انسانی حقوق کے بین الا قوامی قانون اور بنیادی آزادیوں کا بلا امتیاز احترام انسانی حقوق کے بین الاقوامی قانون کا بنیادی ضابطہ ہے اس کی دفعہ3 میں شریک ممالک عہد کرتے ہیں کہ وہ اس میثاق میں موجود تمام شہری اور سیاسی حقوق پر مردوں اور عورتوں کو برابر کا حق دینے کی ضمانت دیں گے حکومت کو چاہیے کہ وہ اسی خواتین کو ریلیف مہیا کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے جو سزا ملے بغیر طویل عرصے سے جیلوں میں پڑی ہوئی ہیں اور ان کی رہائی کے بارے میں بھی غور کیا جائے۔قانون میں خواتین مردوں جیسی ہیں مزید یہ کہ امتیاز کی تعریف حکومت یا اس کے ایما پر ہونے والے اقدامات پر نہیں ہے سیڈا معاہدہ کی رکن ریاستیں اس بات کی پابند ہیں کہ وہ کسی بھی شخص،تنظیم یا ادارہ( دفعہ2 ای ) کی طرف سے کسی عورت کے خلاف امتیاز کو ختم کرنے کیلئے اقدام کرے اس لئے وہ ریاستیں جو پرائیویٹ افراد کے کاموںکو روکنے،یا تفتیش کرنے اور سزا دینے کیلئے ضروری اقدام کرتے میں ناکام ہوجاتی ہیں وہ اس دفعہ کی خلاف ورزی کی مرتکب ہوتی ہیں۔جنس کی بنیاد پر کئے جانے والے تشدد کے اسباب پر غور فکر کرتے ہوئے اس کا ہدف روایتی رویے ہوتے ہیں جو عورت کو مرد کا ماتحت سمجھتے ہیں یا اسے ایک ایسی مخلوق تصورکرتے ہیں جو صرف یکساں قسم کے کردار ادا کرسکتی ہے ان رویوں سے خاندانی تشدد،جبری شادی،جہیز پر تنازعات اور اموات تیزاب پھیکنے کے واقعات،عورتوں کے ختنوں کی رسم کو جنم دیتا ہے عام طور پر فحش نگاری کی تشہیرہوتی ہے اور عورتوں کو فردکی حثیت سے نہیں بلکہ جنسی اشیاکے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔جنس کی بنیادپرکئے جانے والے تشدد سے نمٹنے کیلئے حکومت کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ درج ذیل امور کو یقینی بنائے کہ(1) قوانین تمام خواتین کو تحفظ دیتے ہیں(2)جہاں پر ضروری ہو جرائم پر جرمانے کئے جائیں(3) اگر کسی خاندان کی کوئی عورت قتل کردی جائے یا اس پر حملہ کیا جائے تو غیرت کو بطور صفائی قبول نہ کیا جائے(4) خاندانی تشدد بننے والی خواتین کو محفوظ پناہ گا ہیں اور ضروریات سہو لیات مہیا کی جائیں(5)ذرائع ابلاغ عورتوں کا احترام کریں اور اس احترام کی حوصلہ افزائی کریں(6) ایسے تعلیمی اور عوامی معلوماتی پروگراموں کو معتارف کرایا جائے جن سے ان تعصبات کو ختم کرنے میں مدد ملے جو عورتوں کے برابری کے حق میں رکاوٹ بنتے ہیں(7)عورتوں کی تجارت کرنے اور جنسی استحصال پر قابو پانے کیلئے انسدادی اور تا دیبی اقدام کئے جائیں۔خواتین کے حقوق اور بعض رسوم و رواج،ثقافتی تعصبات اور مذہبی انتہا پسندی کے نقصان دہ اثرات کے درمیان کسی بھی کشمکش کا خاتمہ ناگزیر ہے تاکہ خواتین تمام انسانی حقوق سے پوری طرح اور مساوی طور پر لطف اٹھائیں اور یہ کہ حکومت بھی اس کام کو ترجیح دے نیز خواتین کی مساوی حثیت اور مساوی انسانی حقوق کو اقوام متحدہ کے نظام کے مطابق کی جانے والی سرگرمیوں کا ایک حصہ بنا کر اسے اس کے بنیادی پروگرام میں شامل کرنے کی ضرورت ہے ان معاملات کے ساتھ اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں میں باقاعدہ اور با ضابطہ طور پر نمٹا جانا چاہیے خصوصا ایسے اقدامات کرنے چاہیے جن سے خواتین کے خلاف مخففی اور ظاہری دونوں قسم کے امتیاز ختم کئے جائیں۔مزید یہ کہ خواتین کے خلاف امتیاز کے خاتمے کی کمیٹی کو چاہیے کہ وہ معاہدے کے تحفظات پر نظرثانی جاری رکھے نیز ریاستوں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ ان تحفظات کو واپس لے لیں جو معاہدے کے مقصد کے منافی ہیں یا جو بین الاقوامی قانون معاہدہ سے ہم آہنگ نہیں۔۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

کشمیر پر بھارتی قبضے کے خلاف جدوجہد جاری رہے گی۔ مشعال ملک

اسلام آباد: ایسوسی ایٹڈ پریس سروس مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے غاصبانہ ...