بنیادی صفحہ / بین الاقوامی / بڑھتی اسلام دشمنی کا بھرپور مقابلہ کرتے رہیں گے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

بڑھتی اسلام دشمنی کا بھرپور مقابلہ کرتے رہیں گے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی

بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کی پاکستان میں مداخلت کا ثبوت ہے
سامراجیت کی نئی شکلیں اقوام عالم کی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہورہی ہیں
دنیا میں برداشت کی جگہ نفرت کی عمل داری بڑھتی جارہی ہے
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا اقوام متحدہ میں خطاب
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
اقوام متحدہ کومظلوم قوموں کے تنازعات کو حل کر کے اس تاثر کو ختم کرنا ہوگا کہ کیا اقوام متحدہ مداخلت کے لئے مشروعیت کا مناسب ذریعہ بناتا ہے کہ یہ صرف ایک ہی جگہ ہے جہاں کمزوروں کے سامنے جواز کا دعوی مضبوط ہوتا ہے.جبکہ دنیا بھر میں کمزور قوموں کا ستحصال کرنے کیلئے اقوام متحدہ ظالم طاقتوں کے فوائد کے تحت فحاشی کے لئے ایک جگہ ہے۔اقوام متحدہ کا چارٹر انسان کی سب سے بڑی خواہشات بیان کرتا ہے: ریاستوں کے درمیان تنازعے کے حل میں طاقت کے خاتمے؛ نسل، جنسی، زبان یا مذہب کے بغیر تمام فرقوں کے لئے انسانی حقوق اور بنیادی آزادی کی ضمانت؛ بین الاقوامی امن اور سلامتی کی حفاظت کرنا ہے۔اقوام متحدہ کا بنیادی مقصد امن برقرار رکھنے کے لئے ہے تاہم متاثرہ قوموں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کے دہرے معیار نے مظلوم قوموں کی امیدوں پر پانی پھیر کر رکھ دیا ہے۔ان کے نزدیک اقوام متحدہ کا مقصد قوموں کی ضروری حاکمیت، بڑے اور چھوٹے ممالک کی حفاظت کرنا چاہئے۔کیونکہ اقوام متحدہ ہماری پرامن اور آزاد دنیا کے لئے ایک عظیم امید ہے۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73ویں سالانہ اجلاس سے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے مسئلے کا حل نہ ہونا خطے میں امن کے حصول میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔اردو کی اہمیت اپنی جگہ تاہم اقوام متحدہ میں اقوام عالم کے سامنے اپنا مقدمہ پیش کرنے کے لئے انگش میں خطاب ضروری تھا۔ اردو میں خطاب کر کے ہم نے اقوام عالم کے سامنے بھارت کو بے نقاب کرنے میں حسب روایت ایک بار پھر ناکام ہوگئے ہیں۔جنرل اسمبلی سے اردو میں خطاب کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی رپورٹ کا خیر مقدم کرتا ہے جس میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی نشاندہی کی گئی ہے اور پاکستان اس پر عمل کا مطالبہ کرتا ہے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے آزاد کمیشن کے قیام کو خوش آمدید کرے گا۔انھوں نے ساتھ میں امید ظاہر کی کہ انڈیا بھی اس کمیشن کے قیام کو تسلیم کرے گا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ منفی رویے کی وجہ سے مودی حکومت نے تیسری مرتبہ امن کے حصول کے لیے موقع گنوادیا ہے۔ انہوں نے انڈیا پر الزام لگایا کہ اس نے اقوام عالم کے سامنے کشمیر میں ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیا ہے جس کے سبب سات دہائیوں سے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے عوام انسانی حقوق کی پامالی سہتے آرہے ہیں۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب کے آغاز میں اقوام متحدہ کے حکام کا شکریہ ادا کیا اور سابق سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا۔وزیرخارجہ نے جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں ناموس رسالت کا مسئلہ بھی اٹھایا اور ہالینڈ میں حالیہ دنوں ہونے والے گستاخانہ خاکوں کا مقابلے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کہا کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے منصوبے سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔افغانستان کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا افغانستان اور پاکستان کافی عرصے سے بیرونی قوتوں کی غلط فہمیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ انھوں نے افغانستان میں شدت پسند تنظیم داعش کی موجودگی پر باعث تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ اسلام آباد امن عمل کیلئے کابل میں ہونے والی کوششوں کی حمایت کرتا رہے گا۔وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان طویل ترین عرصے سے غیرملکی پناہ گزینوں کو پناہ دیتا آ رہا ہے اور اس کی مثال نہیں ملتی اور دوسری جانب دیگر ممالک پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کا خواہاں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اپنے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ پر کسی قسم کی سودے بازی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔اقوام متحدہ میں پاکستان کے کردار پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے سب سے قدیم امن مشن دستے کا میزبان بھی رہا ہے اور آزادی سے لیکر اب تک اقوام متحدہ کے منشور کا پاسدار اور فعال رکن رہا ہے اور وہ ہمیشہ عالمی مفادات کے حصول کیلئے کوشاں رہے گا ۔عالمی حالات کے بدلتے تناظر میں ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں برداشت کی جگہ نفرت کی بڑھتی جارہی ہے، تجارتی جنگ کے گہرے بادل افق پر نمودار ہیں اور ترقی کی راہوں میں نئی مشکلات درپیش ہیں جو قابل تشویش ہے۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مغرب میں پیغمبر اسلام کے گستاخانہ خاکوں کا مقابلے کا انتظام کیا گیا ہے جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی جبکہ بھارت کے کشمیر میں مظالم اور پاکستان میں مداخلت کو بھی نمایاں کیا۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 73 ویں سالانہ اجلاس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے خطاب کے آغاز میں اقوام متحدہ کے حکام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ‘ہم معترف ہیں سیکریٹری جنرل انتونیو گتریس کی بیمثل قیادت کی جس کے بدولت آج اقوام متحدہ بہتری کی جانب گامزن ہے’۔انہوں نے کہا کہ ‘اس موقع پر میں سابق سیکریٹری جنرل کوفی عنان کے انتقال پر دلی افسوس کا اظہار کرتا ہوں آنجہانی کوفی عنان کی اقوام متحدہ کو اکیسویں صدی کے تقاضوں سے روشناس کرانے کے لیے اہم کردار ہے’۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی عوام نے اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے ووٹ دیا۔انہوں نے کہا کہ ایک ایسے پاکستان کے حق میں فیصلہ سنایا جو پراعتماد بھی ہے، درمند، باوقار بھی ہے، بے باک، امن پسند اور اصولوں کا پاسدار بھی ہے، ایک ایسا مضبوط پاکستان جو علاقئی ممالک اورعالمی برادری کے ساتھ برابری اور باہمی عزت و وقار کی بنیاد پر تعلقات استوار کرے گا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ ایک ایسا پاکستان جو عالمی تنازعات کے حل اور مشترکہ مفادات کے حصول کے لیے کوشاں رہے گا اور جو نظریاتی یگانگت، عہدوں کی پاسداری اور اقوام عالم کے ساتھ مل کر نئی جہتوں کی تلاش اور اہداف کے تعین میں کوشاں رہے گا۔انہوں نے کہا کہ لیکن یہ پاکستان ہر گز اپنے قومی مفادات، ریاستی آزادی اور حقوق خود مختاری اور عوام و ملک کی سلامتی کے تحفظ پر کسی قسم کے سودے بازی کا متحمل نہیں ہے اور میں ایک ترقی پذیر ملک کے ترجمان کی حیثیت سے مخاطب ہوں جس کی حکومت کی اولین ترجیح ہے عوام کی فلاح۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج دنیا دو راہے پر کھڑی ہے وہ بنیادی اصول جس پر عالمی نظام قائم ہے متزلزل دکھائی دیتے ہیں، یہ ایک باعث افسوس امر ہے کہ برداشت کی جگہ نفرت اور منظق کی جگہ قیاس اور قاعدے و قانون کی جگہ اندھی بے لگام طاقت کی عمل داری ہوتی جارہی ہے، جہاں دنیا میں ضرورت ہے نئی راہیں، نئے راستے متعین کرنے کی وہاں رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ جہاں درکار ہیں دوستی کے روابط وہاں نظر آتی ہیں نفرتوں کی فصیلیں، جہاں بازگشت کرتی ہیں آزادی کی صدائیں وہی گونجتی ہیں جبر کی ندائیں، سامراجیت کی نئی شکلیں اور جہتیں پروان چڑھتی نظر آرہی ہیں، یک طرفہ اقدام اور اسٹریٹجک اور کاروباری مصلحتیں اقوام عالم کی فیصلہ سازی پر اثر انداز ہورہی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا میں برداشت کی جگہ نفرت کی عمل داری بڑھتی جارہی ہے، تجارتی جنگ کے گہرے بادل افق پر نمودار ہیں، پائیدار ترقی کی راہوں میں نئی مشکلات درپیش ہیں جو قابل تشویش ہے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ علاقائی اور غیرعلاقائی قوتوں کے متصادم مفادات پہلے سے موجود دراڑوں میں مزید ابتری کا باعث بن رہے ہیں، فلسطین کا مسئلہ اب بھی وہی موجود ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عصر حاضر متلاشی ہے ایک قائد، ایک قاعدے اور ایک نظریے کا، ناموس رسالت کو ہی لے لیجیے جہاں دو حاضر میں دیگر مذاہب اور اقوام کی طرف افہام و تفہیم فراست اور روداری کے جذبات پائے جانے چاہیے وہی مہذب اقوام میں ایک بگڑتی ہوئی اور متعصبانہ سوچ پروان چڑھتی نظر آرہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں مغرب میں پیغمبر اسلام کے خاکے بنانے کے مقابلوں کا جو منصوبہ بنا اس سے دنیا کے تمام مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی، مسلمانوں کے جذبات اور احساسات کو شدید ٹھیس پہنچی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہم او آئی سی اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کی مدد سے تقاضوں میں رواداری اور تہذیبوں میں مکالمے کے عمل کو فروغ دینے کے لیے دوست ممالک اور ہم خیال ساتھیوں کے شانہ بشانہ اس بڑھتی اسلام دشمنی کا بھرپور مقابلہ کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا ہم تمام معاملات بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں اور یہاں پر بھارت کے وزیر خارجہ سے ملاقات کا ایک اہم موقع تھا جسکو مودی حکومت نے دوماہ قبل بننے والے ڈاک ٹکٹوں پر ایک تصویر کا بہانہ بنا کر ضائع کردیا۔وزیرخارجہ نے کہا کہ ایک ایسی تصویر جو مقبوضہ کشمیر میں پیلٹ گنز اور ظلم کے خلاف جدوجہد کی نشانی تھی۔اقواممتحدہ کی رپورٹ کا ہم خیر مقدم کرتے ہیں جس میں مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالی کی نشاندہی کی گئی ہے اورہم اس کی جزئیات پر عمل کا مطالبہ کرتے ہیں۔قابض افواج کی درندگی سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لیے بھارت پاکستان کی سرحد میں درندگی کرتا ہے، اگر ہندوستان سرحد پر کوئی عمل کرتا ہے اور محدود اپنے کسی منصوبے پر عمل کرتا ہے تو بھارت کو پاکستان کی جانب سے بھرپور جواب ملے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پاس اپنے دفاع کا ضروری ہے اور پاکستان خطے میں اسلحے کی دوڑ سے بچنے کے لیے تیار ہے تاہم جنوبی ایشیا میں ایک ملک کی وجہ سے ایک سارک کو غیرفعال کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں 17 سالہ جنگ عسکری ذرائع سے نہیں جیتی جاسکتی ہے، پاکستان، افغانستان کے امن کے لیے بھرپور حمایت کرتا رہے گا۔وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان طویل ترین عرصے سے غیرملکی پناہ گزینوں کی آماجگاہ بنا آرہا ہے جس کی مثال نہیں ملتی اور دیگر ممالک پناہ گزینوں کو قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہم افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے خواہاں ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہماری پاک فوج اور سیکیورٹی فورسز اور عوام کی قربانیوں سے پاکستان میں دہشت گردوں کو شکست دی ہے۔ہم چاہتے تھے کہ ہم بھارت کے ساتھ دہشت گردی کے معاملات پر بھی بات کرنا چاہتا تھا اور پاکستان کبھی نہیں بھولے گا کہ پشاور اسکول میں ہونے والی دہشت گردی کو اور ہم بھارت میں سمجھوتہ ایکسپریس کے متاثرین کو بھی نظرانداز نہیں کرسکتے۔وزیرخارجہ نے کہا کہ ہم بھارت کیساتھ ان تمام ثبوت کو رکھنا چاہتے تھے، کلبھوشن یادیو کی موجودگی اس بات کا ثبوت کہ بھارت نے پاکستان میں مداخلت کی اور دہشت گردی کی منصوبہ بندی کی۔ان کا کہنا تھا کہ بیلٹ اینڈ روڈ ایک ترقی کا منصوبہ ہے۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی مسائل کے لیے پاکستان کی تجاویز بھی پیش کیں اور اقوام عالم کے فعال رکن کے طور پر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن بارے رپورٹ عالمی عدالت میں پیش کردی

رپورٹ: چودھری احسن پریمی ایسوسی ایٹڈ پریس سروس( اے پی ایس) عالمی ...