بنیادی صفحہ / انٹرٹینمنٹ / بارہویں عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد

بارہویں عالمی اردو کانفرنس کا انعقاد

تحریر: چودھری احسن پریمی
ایسوسی ایٹڈ پریس سروس(اے پی ایس)
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں منعقدہ بارہویں عالمی اردو کانفرنس میں مختلف کتابوں کی رونمائی کے موقع پر تبصرہ پیش کیاگیا اس موقع پر اصغر ندیم سید کی کتاب ٹوٹی ہوئی طناب ادھرپر عرفان جاوید، صابر ظفر کے مجموعہ کلام آواز کی لہر پر چلا میں پر ضیاالحسن ، رشید حسن خاں کی کتاب گنجینہ معنی کا طلسم پر مبین مرزا اور ڈاکٹر فاطمہ حسن کی کتاب فاصلوں سے ماورا پر نعمان الحق نے تبصرہ پیش کیا، نظامت کے فرائض اوجِ کمال نے انجام دیئے، اصغر ندیم سید کی کتاب ٹوٹی ہوئی طناب ادھرپرعرفان جاوید نے تبصرہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ اصغر ندیم سید کی اس کتاب کو ناول کہنا زیادہ مناسب ہے، یہ کتاب سیاست کا گھن چکر ہے، اس نوعیت کے تجربے کم ہوئے ہیں، انہوں نے کہاکہ کوئی قاری اگر یہ سمجھتا ہے کہ اصغر ندیم سید کی کتاب کا ایک صفحہ پڑھنے کے بعد وہ اسے بعد میں پڑھنے کے لیے رکھ چھوڑے گا تو یہ اس کی بھول ہوگی کیونکہ یہ کتاب قاری کو اپنی جانب کھینچتی ہے اور قاری اسے اختتام تک پڑھے بغیر چین سے نہیں بیٹھتا، یہ کتاب چولستان اور جنوبی پنجاب ہی کی نہیں بلکہ پورے پاکستان کی کہانی ہے، صابر ظفر کے مجموعہ کلام آواز کی لہر پر چلا میں پر ضیاالحسن نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ صابر ظفر کا شمار نمایاں شعرامیں ہوتا ہے اور ان کی یہ کتاب ان کا 41واں مجموعہ کلام ہے جس کی تحسین کے لیے آج ہم سب یہاں موجود ہیں، صابر ظفر کی شاعری انہیںآج اس مقام پر لے آئی ہے کہ اردو کے اس موجودہ تخلیقی ماحول میں کہ جہاں غزل کو سب سے کم توجہ حاصل ہے وہیںانہوں نے اپنی غزلوں سے اپنا ایک منفرد مقام بنایا ہے، سنجیدہ قاری کو ان کی شاعری اپنی جانب متوجہ کرتی ہے، صابر ظفر نے غزل کی ساخت کو اس طرح دریافت کیا ہے کہ ان کی غزل دیگر ہمعصروں سے الگ نظر آتی ہے۔ صابر ظفر کے پہلے مجموعے کے اشعار قاری کو زیادہ یاد ہیں، ان کا شعری تجربہ ہر قاری کے لئے انفرادی تجربے کی سوغات لیے ہوئے ہے۔رشید حسن خاں (مرحوم) کی کتاب گنجینہ معنی کا طلسم پر مبین مرزا نے تبصرہ پیش کیا جبکہ اس تبصرے کے موقع پر تحسین فراقی بھی موجود تھے، مبین مرزا نے کہاکہ رشید حسن خاں آج اس دنیا میں نہیں ہیں، ہمارا عہد جن لوگوں کی ذہانت سے پہچانا جائے گا ان میں مرحوم رشید حسن خاں کا نام ایک اہم نام ہے، یہ ہماری تہذیب کے ان لوگوں میں شامل ہیں جو ہماری تہذیب کی وہ نشانیاں ہیں جن میں آپ ادب، علم، محبت، معاشرہ اور اس سے وابستگی کا غیر معمولی جذبہ دیکھ سکتے ہیں، انہوں نے کہاکہ رشید حسن خاں مرحوم نے اپنی زندگی کے 20،22سال گوشہ نشینی میں گزارے، انہوں نے قصہ چار ددرویش جیسی کتابیں لکھ کر غیرمعمولی کام انجام دیا ہے۔گنجینہ معنی کا طلسم دراصل غالب کی شاعری کا اشاریہ ہے جو شائع ہونے کے بعد 1300صفحات پر مشتمل کتاب کی صورت میں ہمارے سامنے آئی ہے، ڈاکٹر فاطمہ حسن کی کتاب فاصلوں سے ماورا پر نعمان الحق نے تبصرہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ فاطمہ حسن اردو کی فعال کارکن ہیں جنہوں نے عورت کی مجبوری اور بے توقیری پر ہر سطح پر اپنی آواز اٹھائی ہے بالکل اسی طرح جس طرح کشور ناہید، فہمیدہ ریاض اور دیگر نے اپنی شاعری کے ذریعے عورت کی مظلومیت کا ذکر کیا، فاطمہ حسن کی شاعری کا اسلوب ان کے بیان کا ایک فطری عمل ہے، انہوں نے شاعری میں وہ سب باتیں کی ہیں جو ایک عام شخص کی باتیں ہیں بالخصوص ان کی ایک نظم فلسطین کی ماں بہت دکھ میں ڈوب کر لکھی گئی ہے۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری بارہویں عالمی اردو کانفرنس کے دوسرے روز دور عصر حاضر میں نعتیہ اور رثائی ادب کا جائزہ لیا گیا ۔ جس کی صدارت افتخار عارف ، ڈاکٹر تحسین فراقی اور ہلال نقوی نے کی ۔عزیز احسننے جدیداردو نعت ، موضوعات اورمسائل فراست روی نے پاکستان میں جدید مرثیے کاارتقاء اور طاہر سلطانی نے اعجازرحمانی کی نعتیہ ادب میں خدمات پر روشنی ڈالی ۔پرگروام کی نظامت کے فرائض عزیز الدین خاکی نے انجام دئیے۔افتخار عارف ، ڈاکٹر تحسین فراقی اور ہلال نقوی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ نعت ایک بہت مشکل صنف شاعری ہے حقیقت یہ ہے کہ نعت کا معاملہ بھی مرثیہ ہی طرح بہت احتیاط مرتکازی ہے۔ طاہر سلطانی نے اعجاز رحمانی کے نعتیہ ادب میں خدمات پر روشنی ڈالی اور کہاکہ ہمارے کئی نعت خواہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے ہیں جن میں اعجاز رحمانی، خالد محمود، یوسف میمن، ذوالفقار علی، رشید ساقی، اور دیگر اس جہاں سے کوچ کر گئے،اللہ تعالی ان کی۔ مغفرت فرمائے۔ انہوں نے کہا کہ لفظ نعت عربی زبان سے لیا گیا ہے، نعت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عقیدت اور محبت کا اظہار ہے۔انہوں نے کہا کہ عربی ، فارسی اور اردو میں نعت پڑھنا اور لکھنا اہم ہے۔ نعت لکھنے کے لیے قرآن و حدیث کا مطالعہ ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعجاز فاروقی 12 فروری 1936 کو علی گڑھ میں پیدا ہوئے اور علیگڑھ میں پرائمری تک تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں پنجاب آئے، انہوں نے 1972 سے 2010 تک ان کا نعتیہ مشاعرہ لکھے اور ان کے نعتیہ مشاعرہ کو ٹی وی اور ریڈیو پر پڑھا گیا۔فراست رضوی نے پاکستان میں جدید مرثیے کا ارتقابیان کیا۔ انہوں نے اردو مرثیہ دھکن میں پیدا ہوا اور لکھنو میں پروان چڑھا، 19 ویں صدی اردو مرثیہ کا سنہرا دور ہے۔ انہوں نے کہا کہ جدید اردو مرثیہ کو جو عروج پاکستان میں ملا وہ تاریخ ادب کا حصہ ہے۔ اردو مرثیہ کو آغاز سے ہی مخالفت کا سامنا کرنا پڑا لیکن مرثیہ خود نکل کر میدان میں آیا۔ انہوں نے کہا کہ سب حیران ہیں کہ اردو مرثیہ پاکستان کراچی میں کیسے عروج پا گیا لیکن لکھنو جو مرکز تھا وہاں زوال پزیر ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ بھارت میں اردو زبان کا زوال ہے۔ عزیز احسن نے جدید اردو نعت، موضوعات اور مسائل پر روشنی ڈالی انہوں نے کہا کہ آج غیر مسلم پر اسلامو فوبیا مسلط ہے اور مضحکہ خیز خاکے بناے جارہے ہیں، یہی سب سے بڑا اسلام فوبیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیر پھیلانے اور شر مٹانے کا واحد ذریعہ جہاد ہے۔جبکہ بارہویں عالمی اردو کانفرنس کے ” دبستان اردو اور بلوچ شعرا'” سیشن میں بلوچ دانشور نے کہا کہ بلوچ شعرانے ہر دور میں مظلوم طبقہ کی نمائندگی کی اور اکثرت شعرانے اردو میں شاعری کی انہوں نے اردو پڑھی اور اردو میں لکھا بھی ہے۔ بلوچی زبان سے اردو اور اردو سے بلوچی زبان میں ترجمہ ہوا جس کو عوام نے بہت پسند کیا۔ بلوچوں کو کسی زبان سے نفرت نہیں ہے۔ دبستان اردو اور بلوچ شعراکے سیشن میں افضل مراد ، اے آر داد، غفور شاد اور وحیدنور نے بلوچ شعراکی اردو شاعری پر گفتگو کی۔اس سیشن میں نظامت کے فرائض عمران ثاقب نے سر انجام دئیے۔بلوچ دانشوراوں نے شرکاکے سوالات کے جوابات بھی دئیے۔بلوچ دانشوروں نے کہا ہے کہ بلوچ شعراجو اردو میں شاعری کرتے ہیں ان کو وہ ماحول نہیں ملتا اس لئے ان کو مادری زبان کی طرف جانا پڑتا ہے۔ ماضی کے مقابلے آج کے کراچی اور آرٹس کونسل کافی تبدیل ہے ہر زبان کو اہمت دی جا رہی ہے۔ عطا شاد بھی جدید نظاموں کی اہمیت اسی طرح کی ہے جیسے آردو میں ن م راشد کی عطا شاد کی شاعری ثقافت کی عکاسی ہے۔ بلوچی زبان میں لکھنے والے حساس معاملات پر لکھتے ہیں۔ بلوچ شعرا نے اردو میں اپنا کلام بھی سنایا۔اے آر داد نے کہاکہ بلوچ شعرانے بتایاکہ وہ اردو لکھ سکتے ہیں لیکن ان کا خیال تھا کہ بہتر اظہار اوہ اپنی زبان میں ہی کر سکتے ہیں ۔ غفور شاد نے کہا کہ ہمیں کسی زبان سے کوئی اختلاف نہیں ہے ،ہم تو چاہتے ہیں زبانیں پروان چڑھیں اور ترقی کریںلیکن زبان کی بنیاد پر سیاست کی گئی،انہوں نے کہاکہ موجود بلوچ شاعر بھی بہت اچھے شاعر ہیںاور خواتین شاعرہ کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔وحید نور نے کہاکہ 35 کراچی بلوچ کا بہت بڑا شہر ہے اور 35 لاکھ بلوچ اس شہر میں رہتے ہیں جبکہ کوئٹہ اور مکران بلوچوں کے اتنے بڑے شہر نہیں ہیں اور کراچی میں بلوچ شعراکی بہت بڑی تعداد موجود ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ہمارے لوگوں کو پرموٹ نہیں کیا جاتا رہا ہے لیکن آرٹس کونسل آف پاکستان اور دیگر کے باعث بلوچ شعراآگے آرہے ہیں ۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

موسیقی انسانیت کا دھماکہ خیز اظہار ہے۔ ستار نواز وجیہ نظامی

انٹرویو : رائے حبیبہ گلزار دنیا شاعری سے بھری ہوئی ے. ہوا ...