بنیادی صفحہ / بین الاقوامی / امریکی انخلا کے بعد بھی افغانستان میں انسداد دہشت گردی کا کام جاری رہے گا۔ ڈونلڈٹرمپ

امریکی انخلا کے بعد بھی افغانستان میں انسداد دہشت گردی کا کام جاری رہے گا۔ ڈونلڈٹرمپ


جنگ بندی تمام بیرونی افواج کا افغانستان سے انخلاء سے مشروط ہے۔ طالبان سربراہ شیر عباس ستانکزئی
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
ایسوسی ایٹڈ پریس سروس
افغانستان کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے کہا کہ دو عشروں کی لڑائی کے بعد وقت آگیا ہے کہ بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کیا جائے انہوں نے ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ دنوں ‘اسٹیٹ آف دی یونین’ کے براہِ راست خطاب میں کیا۔اس موقع پر انہوں نے مزید کہا کہ طالبان سے بات چیت جاری ہے، جو بھی مذاکرات میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ امریکی انخلا کے بعد بھی افغانستان میں انسداد دہشت گردی کا کام جاری رہے گا۔جبکہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ٹیلی فون پر افغانستان کے صدر اشرف غنی سے گفتگو کی ہے۔ایک اخباری بیان میں محکمہ خارجہ کے معاون ترجمان، رابرٹ پلاڈینو نے بتایا ہے کہ ”ٹیلی فون کال کے دوران پومپیو نے افغانستان میں دیرپہ امن کے حصول کے امریکی عزم کا اعادہ کیا۔مائیک پومپیو نے سب کی شراکت سے امن عمل میں سہولت کاری کے حوالے سے امریکہ کے نمائندہ خصوصی برائیافغان مفاہمت، زلمے خلیل زاد کے کردار کی نشاندہی کی ہے۔ترجمان نے کہا ہے کہ ”امریکی وزیر خارجہ نے بین الافغان مکالمے کی اہمیت اور تشدد کی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے جنگ بندی کی ضرورت پر بھی زور دیا، اور افغان حکومت، دیگر افغان قائدین اور طالبان کی جانب سے مل بیٹھ کر سیاسی تصفیے کے لیے مذاکرات کا ماحول پیدا کرنے پر زور دیا۔امریکی محکمہ خارجہ کے بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ”وزیر خارجہ نے سنہ 2001 سے اب تک افغان عوام کو حاصل ہونے والی اہم کامیابیوں کا ذکر کیا، اور افغانستان کے ساتھ طویل مدتی پارٹنرشپ کے ضمن میں امریکی خواہش کی نشاندہی کی ہے۔اس سے قبل امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر طالبان کے ساتھ امن معاہدہ طے ہوتا ہے تو وہ افغانستان سے تمام امریکی فوجیں ملک واپس بلائیں گے۔وائٹ ہاس سے ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا جب یہ خبریں آ رہی ہیں کہ 17 برس کے افغان تنازعے کے خاتمے کے لیے امریکہ اور باغی گروپ نے امن سمجھوتے کے مسودے کی بنیادی ساخت (فریم ورک) پر اتفاق کر لیا ہے۔طالبان کے ساتھ دوحہ میں کئی روز سے جاری مذاکرات کے بعد، امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمیت، زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ دونوں فریق نے اصولی طور پر فریم ورک پر رضامندی کا اظہار کیا ہے۔اِس کی رو سے متعدد ملکوں سے تعلق رکھنے والی دہشت گرد تنظیموں کے باغی، جن میں القاعدہ اور داعش شامل ہے، امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے علاوہ افغانستان کے ہمسایوں کے خلاف حملوں کے لیے افغان سرزمین استعمال نہیں کر سکتے۔اس کے بدلے میں، امریکہ ملک سے اپنی فوجیں واپس بلائے گا۔ لیکن، طالبان کے لیے لازم ہوگا کہ وہ جنگ بندی پر عمل درآمد کریں اور افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کا آغاز کریں۔ایسے میں جب ایک گروپ امریکی اہلکاروں سے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے، اس نے ابھی تک افغان حکومت کے نمائندوں سے ملاقات کرنے سے انکار کر رکھا ہے۔جبکہ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے طالبان کو سنجیدہ امن مذاکرات میں شرکت کی پیشکش کی تھی۔ ان کا یہ بیان گزشتہ ہفتے قطر میں امریکہ اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہونے والے امن مذاکرات کے تناظر میں سامنے آیا تھا۔سرکاری ٹی وی پر قوم سے خطاب میں افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ میں طالبان سے کہتا ہوں کہ وہ افغانستان میں قیام امن کے لئے آگے آئیں اور امن مذاکرات میں براہ راست شرکت کریں۔ انہیں چاہئے کہ وہ حکومتی پیشکش کو قبول کریں۔اس سے قبل افغان حکام نے قطر مذاکرات سے باہر رکھنے پر خبردار کیا تھا کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے کسی بھی معاہدے کو کابل کی توثیق ضروری ہو گی۔تاہم طالبان نے اشرف غنی حکومت کو کٹھ پتلی قرار دیتے ہوئے براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیا تھا۔فرانسیسی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھاکہ طالبان کے پاس دو ہی راستے بچے ہیں یا تووہ افغان عوام کا ساتھ دیں یا پھر دوسروںکے ہاتھوں استعمال ہوں۔اشرف غنی کا کہنا تھا کہ حکومت سالوں سے جاری جنگ کا خاتمہ چاہتی ہے اور یہی خواہش افغان عوام کی بھی ہے۔ کوئی بھی ملک ہمیشہ کسی دوسرے ملک کی فوج کی مدد نہیں کرنا چاہتا لیکن موجودہ صورت حال میں غیر ملکی فوجوں کی موجودگی ضروری ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان افغانستان میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے بعد مثبت پیش رفت سامنے آئی تھی۔مذاکرات میں فوجی انخلا کے مجوزہ پلان سمیت مختلف امور پر عبوری بات چیت بھی کی گئی تھی۔جبکہ امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں طالبان کی ٹیم کی سربراہی کرنے والے رہنما شیر محمد عباس ستنکزئی نے کہا ہے کہ طالبان افغانستان پر بزورِ طاقت قبضہ کرنے کی خواہش نہیں رکھتے۔ماسکو میں برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ہم پورے ملک پر پر قبضہ کرنا نہیں چاہتے۔ اس سے افغانستان میں امن نہیں آئے گا۔تاہم شیر محمد عباس ستنکزئی کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان جنگ بندی پر اس وقت تک رضامند نہیں ہوں گے جب تک کہ تمام بیرونی افواج افغانستان سے نہیں چلی جاتیں۔اقوام متحدہ کے اعدادوشمار کے مطابق اس وقت افغانستان میں شہری ہلاکتوں کے لیے طالبان سے زیادہ کوئی دوسرا فریق ذمہ دار نہیں ہے۔عباس ستانکزئی جو کچھ عرصہ قبل تک قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے سربراہ تھے، گروپ کے نمایاں رہنما ہیں۔ انھوں نے افغان حزب اختلاف کے متعدد سینیئر رہنماں کے ساتھ ماسکو میں ہونے والی ملاقات میں شرکت کے دوران برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کی۔انھوں نے کہا کہ 1990 کی دہائی میں جب طالبان اقتدار میں تھے اور انھیں مخالف افغان گروہوں کی جانب سے مسلح مخالفت کا سامنا ہوا تو ان کے گروپ کو یہ بات سمجھ میں آ گئی تھی کہ مسائل کے حل کا بہتر طریقہ ‘بات چیت ہے۔’عباس ستانکزئی نے کسی معاہدے تک پہنچنے میں آنے والی پریشانیوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ‘جنگ سے زیادہ مشکل چیز امن ہے۔’ تاہم انھوں نے امید ظاہر کی افغان تنازعہ ختم کیا جا سکتا ہے۔عباس ستانکزئی نے افغانستان میں مفاہمتی عمل کے لیے امریکی حکومت کے نمائندے زلمے خلیل زاد سے حالیہ مہینوں کے دوران سلسلہ وار ملاقاتوں کی قیادت کی ہے۔زلمے خلیل زاد کے مطابق جنوری میں وہ معاہدے کے ایک ‘ ابتدائی ڈھانچے’ پر رضامند ہو گئے تھے جو کہ امریکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے عہد پر مبنی تھا۔اس کے ساتھ ہی یہ طالبان کی جانب سے اس بات کی ضمانت بھی دی گئی تھی کہ مستقبل میں وہ اس ملک کو بین الاقوامی جہادی گروہوں کو ٹھکانہ بنانے کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنی خواہش کو واضح کردیا ہے کہ وہ اس 17 سالہ جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں اور کم از کم زیادہ تر امریکی فورسز کو وہاں سے واپس بلانا چاہتے ہیں۔
سٹیٹ آف دی یونین خطاب میں امریکی صدر نے کہا کہ عظیم اقوام نہ ختم ہونے والی جنگیں نہیں لڑتیں۔افغان طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات کا حوالے دیتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا ‘ہم نہیں جانتے کہ ہم کسی معاہدے تک پہنچیں گے یا نہیں تاہم دو دہائیوں سے جاری جنگ کے بعد اب وقت آ گیا ہے کہ ہم کم از کم امن کی کوشش کریں۔عباس ستانکزئی کا بھی کہنا تھا کہ ان کا یہ خیال ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ ‘افغانستان میں امن لانا چاہتی ہے۔خیال رہے کہ ماسکو میں ہونے والے مذاکرات امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے امن مذاکرت سے علیحدہ ہیں۔ ان میں طالبان کے مندوبین کے علاوہ سابق افغان صدر حامد کرزئی اور حزب اختلاف کے دوسرے سرکردہ رہنماں نے بھی شرکت کی ہے۔ان مذاکرات میں اگر طالبان مرکزی دھارے کی سیاسی طاقت بن جاتے ہیں تو ملک کو مستقبل میں کیسے چلایا جائے، جیسے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔عباس ستانکزئی نے ماسکو کے ایک ہوٹل میں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طالبان اقتدار پر اپنی اجارہ داری نہیں چاہتے لیکن ‘افغانستان کا آئین جو کہ مغرب سے درآمدہ ہے وہی امن کی راہ میں رخنہ ہے۔طالبان نے سنہ 1996 سے 2001 کے درمیان افغانستان پر اسلامی قانون کی انتہائی قدامت پسند اور بعض اوقات بے رحم تشریح کے تحت حکومت کی۔یہ گروپ خواتین کے ساتھ اپنے سلوک کے بارے میں بدنام رہا ہے اور اس نے زیادہ تر خواتین کے کام اور سکول جانے پر پابندی لگا دی تھی۔تاہم عباس ستانکزئی نے کہا کہ طالبان کے بڑھتے اثرات سے ‘خواتین کو خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے’ کیونکہ وہ خواتین کو شریعت اور افغان ثقافت کے تحت ان کے سارے حقوق دینے کی کوشش کریں گے۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ سکول جا سکتی ہیں، وہ یونیورسٹی جا سکتی ہیں، وہ ملازمت کر سکتی ہیں۔ماسکو کے مذاکرات میں موجود دو خواتین میں سے ایک فوزیہ کوفی جو کہ افغانستان میں رکن پارلیمان بھی ہیں نے بتایا: ‘یہ ایک مثبت قدم ہے کہ وہ طالبان جو اب تک افغانستان کے عوام اور بطور خاص خواتین کے خلاف گولیوں کا استعمال کر رہے تھے وہ اب مائیکروفون کا استعمال کر رہے ہیں اور خواتین کی آواز سن رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ طالبان کے ایک رکن نے انھیں بتایا کہ خواتین صدر نہیں ہو سکتیں لیکن سیاسی دفتر میں خدمات انجام دے سکتی ہیں۔ فوزیہ کوفی نے مزید کہا کہ ‘ہمیں اس بات کی یقین دہانی کرنی ہے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں ان کی واقعی وہی نیت بھی ہے۔صدر اشرف غنی نے بار بار طالبان سے کہا ہے کہ وہ براہ راست ان کے نمائندوں سے بات کریں لیکن اب تک طالبان نے انھیں امریکہ کی کٹھ پتلی کہہ کر بات کرنے سے انکار کیا ہے۔امریکی مذاکرت کار طالبان کو افغان اہلکاروں سے ملنے کی ترغیب دیتے رہے ہیں لیکن عباس ستانکزئی سے جب یہ پوچھا گیا کہ وہ کن حالات میں ان سے بات کرنے کے لیے راضی ہوں گے تو انھوں نے مبہم جواب دیا۔انھوں نے کہا کہ جب امریکہ اپنی افواج کے انخلا کا اعلان کرے گا تو وسیع تر افغان مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ جس میں دوسرے لوگوں کے ساتھ موجودہ افغان حکومت کے نمائندے ‘مستقبل کی حکومت چننے یا منتخب کرنے’ کے لیے شامل ہوں گے۔کابل میں حکام نے کہا ہے کہ روس میں ہونے والے مذاکرات حزب اختلاف کی جانب سے افغان حکومت کو نظر انداز کرنے اور ان کے دخل کے بغیر طالبان سے قابل قدر معاہدے کی تلاش کرنے کی کوشش ہے۔عباس ستانکزئی نے کہا کہ طالبان نے ماسکو میں افغانستان کے ان سیاسی رہنماں سے ملاقات کا فیصلہ کیا ہے جن کے پاس زمین پر ‘افرادی قوت’ ہو۔افغان ٹی وی چینل طلوع نیوز سے بات کرتے ہوئے صدر اشرف غنی نے کہا: ‘جو ماسکو میں جمع ہوئے ہیں ان کے پاس کوئی ایگزیکٹو اختیار نہیں ہے۔ وہ جو چاہیں کہہ سکتے ہیں۔ماسکو میں مذاکرات کے باوجود امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کا مزید ایک دور 25 فروری کو ہونا طے ہوا ہے۔ جبکہ افغانستان میں تشدد جاری ہے۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن بارے رپورٹ عالمی عدالت میں پیش کردی

رپورٹ: چودھری احسن پریمی ایسوسی ایٹڈ پریس سروس( اے پی ایس) عالمی ...