بنیادی صفحہ / بین الاقوامی / امریکہ، طالبان مذاکرات میںمکمل اتفاق نہیں ہوا۔ زلمے خلیل زاد

امریکہ، طالبان مذاکرات میںمکمل اتفاق نہیں ہوا۔ زلمے خلیل زاد

رپورٹ: چودھری احسن پریمی
وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام امن کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے ۔دونوں فریقین ایک میز پر آگئے ہیں، یہ بڑی سفارتی کامیابی ہے ۔ساتھ ہی انہوں نے یہ امید بھی ظاہر کی کہ مستقبل میں مزید خوشخبریاں ملیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان نے سرحدیں جڑی ہیں ، کوشش ہے دل بھی جڑے رہیں۔ بھارت سے بھی تعلقات اچھے ہوں گے ، کچھ لوگ شرمیلے ہوتے ہیں مگر آہستہ آہستہ شرم اتر جائے گی ۔ملتان میں میڈیا سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ اگر چہ ابھی بھی کچھ چیلنجز درپیش ہیں لیکن امید ہے کہ معاملات آگے بڑھیں گے ۔انہوں ہم نے اقتدار میں آنے کے بعد کہا تھا کہ امریکہ کے ساتھ ہم اپنے تعلق کو دوبارہ معمول پر لانے میں کامیاب ہو جائیں گے لیکن اس کامذاق اڑایا گیا مگر آج دنیا پاکستانی موقف کوتسلیم کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم سودے بازی پر نہیں ، اچھے تعلقات پر یقین رکھتے ہیں ۔ ہم پاکستان کے مفادات کا تحفظ کریں گے ۔ خطے کا امن ہماری پہلی کوشش ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں ہم نے اپنا بھرپور کردار ادا کیا ہے ۔ہم چاہتے ہیں وہاں امن ہو ، دونوں ممالک میں برادرانہ تعلقات ہوں اور دوطرفہ تجارت میں اضافہ ہو ۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے کئی برس افغانیوں کا مشکل وقت میں ساتھ دیا، ان کی میزبانی کی ۔ساتھ ہی وہاں ایک ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ، اسپتال قائم کیا ۔ہماری افغانستان سے سرحدیں جڑی ہیں، کوشش ہے کہ دل بھی جڑے رہیں ۔بھارت سے پانی کے معاملات پر کیے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت سے تعلقات میں بھی آہستہ آہستہ بہتری آئے گی ، کچھ لوگ شرمیلے ہوتے ہیں مگر آہستہ آہستہ شرم اتر جائے گی ۔جبکہ امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغان مفاہمتی عمل زلمے خلیل زاد کا کہنا ہے کہ امریکا اور طالبان کے مابین ہونے والے مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے، مگر مکمل اتفاق نہیں ہوا۔یہ بات انہوں نے اپنی ٹوئیٹس میں کہی ہے جن میں ان کا کہنا تھا کہ چھ روزہ مذاکرات کے بعد بات چیت کے لئے افغانستان جا رہا ہوں۔ انھوں نے کہا ہے کہ دوحہ میں طالبان سے ملاقاتیں مفید رہیں؛ اور اہم معاملات پر مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔ امریکی نمائندہ خصوصی نے کہا کہ مذاکرات کا حالیہ دور گزشتہ ادوار سے بہت اچھا رہا، اور، بات چیت کا تسلسل جاری رکھتے ہوئے جلد مذاکرات کا آغاز کریں گے۔اس سے قبل آنے والی اطلاعات میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان افغانستان میں موجود امریکی افواج کے "محدود اور مشروط” انخلا کے منصوبے پر اتفاقِ رائے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ طالبان اور امریکہ کے درمیان جاری مذاکرات سے واقف ذرائع نے بتایا تھا کہ فوجی انخلا کے عوض طالبان نے امریکہ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کسی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیم کو مستقبل میں امریکہ یا کسی دوسرے ملک کے خلاف افغانستان کی سر زمین استعمال نہیں کرنے دیں گے۔ایک ٹوئیٹ میں زلمے خلیل زاد نے کہا ہے کہ چھ روز دوحہ میں رہنے کے بعد میں صلاح مشورے کے لیے افغانستان جا رہا ہوں۔ یہاں ہونے والی ملاقاتیں ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ نتیجہ خیز تھیں۔ ہم نے اہم معاملات میں خاصی پیش رفت حاصل کی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ قطر میں جاری مذاکرات میں میزبان ملک کے علاوہ پاکستان کے نمائندے بھی موجود تھے۔ مذاکرات میں شریک امریکی وفد کی قیادت امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے افغان مفاہمت زلمے خلیل زاد نے کی۔اپنی ٹوئیٹس میں خلیل زاد کا کہنا تھا کہ تمام امور پر اتفاق رائے ہونا لازمی ہے اور جب تک ایسا نہیں ہوتا کچھ حتمی نہیں ہوگا۔ سب باتوں پر اتفاق میں افغانوں کے مابین مذاکرات اور جامع جنگ بندی شامل ہے۔ مذاکرات کرانے کے لئے قطرحکومت کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر خصوصی طور پر قطر کے نائب وزیر اعظم، وزیر خارجہ کی شمولیت پر شکریہ ادا کیا۔زلمے خلیل زاد کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب طالبان اور امریکا کے درمیان دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں17 سال سے جاری افغان جنگ کے خاتمے پر معاہدہ طے پائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ رپورٹس ہیں کہ فریقین افغانستان سے غیر ملکی افواج کے پرامن انخلا پر متفق ہوگئے ہیں۔اس حوالے سے افغان طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے ایک بیان بھی جاری کیا گیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ایجنڈا کے مطابق، اس ملاقات میں غیر ملکی افواج کے انخلا سمیت دیگر اہم ایشوز پر بات چیت کی گئی ہے۔ لیکن بہت سے معالات انتہائی حساس ہیں جن پر جامع بات چیت کی ضرورت ہے۔ اس لیے، حل طلب معاملات آئندہ ہونے والے اجلاس میں طے کیے جائیں گے۔ اس مقصد کے لیے فریقین اپنی قیادت سے مشاورت بھی کرسکیں گے۔افغان طالبان نے واضح کیا ہے کہ غیرملکی افواج کے انخلا پر معاہدہ ہونے تک دیگر معاملات پر بات ہونا ناممکن ہے۔ اس سے قبل، ذرائع نے بتایا تھا کہ اگر کوئی غیر متوقع صورتِ حال پیدا نہ ہوئی تو فریقین افغانستان سے امریکہ کے فوجی انخلا پر اتفاقِ رائے کا باضابطہ اعلان پیر کے درمیان کسی وقت کردیں گے۔اطلاعات کے مطابق سمجھوتے کے تحت طالبان نے افغانستان میں جنگ بندی پر بھی اتفاق کیا ہے۔ تاہم فوجی انخلا اور جنگ بندی دونوں کا دائرہ "محدود اور مشروط” ہوگا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ محدود اور مشروط فوجی انخلا اور جنگ بندی کے نتیجے میں فریقین کو زیادہ خطرہ مول لیے بغیر صورتِ حال کے جائزے اور مستقبل کی حکمتِ عملی کا تعین کرنے میں مدد ملے گی۔ذرائع کے مطابق یہ ممکن ہے کہ طالبان کے ساتھ طے پانے والے حتمی معاہدے کا اعلان صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کریں جو امریکی حکومت کا شٹ ڈاون ختم ہونے کے بعد جلد ہونے کا امکان ہے۔ ایک اور ٹوئیٹ میں، سفیر خلیل زاد نے حکومت قطر کا شکریہ ادا کیا ہے؛ بقول ان کے، جس نے تعمیری رابطہ کرکے مذاکرات کے اس دور کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کیا؛ خاص طور پر نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ، الثانی کی ذاتی دلچسپی پر ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ایک مزید ٹوئیٹ میں انھوں نے کہا ہے کہ ہم حاصل ہونے والی پیش رفت کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور بات چیت فوری طور پر آگے بڑھاتے ہیں۔ کئی معاملے ایسے ہیں جن پر سیر حاصل بات ہونی ہے۔ جب تک سب باتوں پر اتفاق رائے ہو تب تک کچھ بھی طے نہیں ہوتا۔ اور سب چیزوں میں جو بات لازم ہے وہ یہ ہے کہ اس میں افغانوں کے مابین مکالمہ اور مربوط جنگ بندی ہو۔ طالبان نے جنگ بندی سے متعلق معاہدہ ہونے کی میڈیا رپورٹس کی تردید کی اور کہا ہے کہ کابل انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات اور جنگ بندی کے معاہدہ کی خبروں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔دوسری جانب، ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے رائٹرز کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ پاکستان نے افغان طالبان اور امریکی حکام سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے سہولت کار کا کام کیا۔ ہم نے طالبان کو مذاکرات کی میز پر لاکر اپنا ہدف پالیا ہے۔ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ افغان طالبان دوحہ میں حالیہ امریکی قیادت میں مذاکرات سے پاکستان کو نہیں نکال رہے، اس عمل میں طالبان کے متعدد گروپس اور اسٹیک ہولڈرز ہیں۔ اس لیے رابطے میں وقت لگتا ہے اور پاکستان کے لیے وقت اور جگہ کے لیے کوئی ترجیح نہیں تھی، ایک گروپ یا پارٹی رابطے سے ہٹتی ہے تو نتیجا شیڈول یا جگہ میں تبدیلی ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملاقاتوں سے ہونے والی پیشرفت سے تمام چیزوں کا تعین ہوگا۔ امن مذاکرات پر پیشرفت دوحہ میں ہونے والی ملاقاتوں کے نتائج پر منحصر ہے۔ یہ بات ابھی یقینی نہیں کہ طالبان افغان حکومت کو مذاکرات میں شامل کرتے ہیں یا نہیں۔ کیا بات چیت ہوتی ہے؟ یہ عمل کیسے آگے بڑھتا ہے، انحصار ہونے والی ہر ملاقات کی پیشرفت پر ہے۔رواں ہفتے ہی افغان صدر
اشرف غنی نے پہلی بار زلمے خلیل زاد کی سربراہی میں جاری مذاکراتی عمل پر کھلے عام تحفظات کا اظہار کیا تھا۔سوئٹزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری ‘عالمی اقتصادی فورم’ کے ایک اجلاس سے خطاب میں صدر غنی نے عندیہ دیا تھا کہ ان کی حکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات کے نتائج کو مسترد بھی کرسکتی ہے۔امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پاکستانی عزم کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ "ہم ایک درست سمت کی طرف جا رہے ہیں جس میں پاکستان کی طرف مزید اقدامات اٹھائے جائیں گے جو ٹھوس نتائج کے حامل ہوں گے۔خلیل زاد نے یہ بات خطے کے دورے کے آخری مرحلے میں پاکستان کا دورہ مکمل کرنے کے بعد ایک ٹوئٹر بیان میں کہی لیکن خلیل زاد نے ان پاکستانی اقدامات کی وضاحت نہیں کی ہے جو ان کے بقول افغان امن عمل میں پیش رفت کا باعث بن سکتے ہیں۔تاہم تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان امن عمل کی حالیہ کوششوں میں پاکستان کا کردار نہایت اہم رہا ہے اور خلیل زاد کا بیان بھی بظاہر افغان امن عمل کی کوششوں میں اسلام آباد کے مثبت کردار کی طرف اشارہ ہے۔افغان امور کے تجزیہ کار اور سینئر صحافی طاہر خان نے کہا کہ ان کے بقول افغان طالبان پر پاکستان ایک اثر و رسوخ رکھتا ہے اور امریکہ کے خیال میں اس حوالے سے افغانوں کے درمیان مذاکراتی عمل میں طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے پاکستان کا کردار انہایت اہم ہے۔طاہر خان نے مزید کہا کہ امریکی رپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم اور امریکہ کے سول اور عسکری عہدیداروں کے پاکستان کے دورے اس بات کا مظہر ہیں کہ افغان تنازع کے حل کے لیے پاکستان کا کردار نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔خلیل زاد کے اسلام آباد کے دورے کے دوران ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان بات چیت پاکستان میں ہو سکتی ہے۔تاہم افغان امور کے ماہر اور سینیئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ خلیل زاد کے دورہ اسلام آباد کے دوران طالبان اور امریکہ کے درمیان بات چیت طے نہیں تھی۔انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں پاکستان نے یہ کوشش ضرور کی تھی کہ یہ مذاکرات پاکستان میں ہو جائیں، لیکن یہ کوشش ناکام ہو گئی ہے۔دوسری طرف صحافی طاہر خان نے طالبان ذرائع کے حوالے سے دعوی کیا ہے کہ طالبان اور امریکہ کے درمیان بات چیت کا آئندہ دور پیر کو قطر میں ہو گا۔امریکہ اور طالبان کی طرف سے اس ملاقات کے بارے میں کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے تاہم تجزیہ کار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا ہے کہ "اگر امریکہ چاہے تو یہ مذاکرات قطر میں ہو سکتے ہیں اور طالبان ان کے لیے تیار ہیں اور یہاں مذاکرات پہلے بھی ہوئے ہیں اور میرے خیال میں مذاکرات ختم نہیں ہوئے اور مزید مذاکرات بھی ہوں گے۔رحیم اللہ کا مزید کہنا ہے کہ ابھی تک ہونے والی کوششوں میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔گزشتہ ماہ ابو ظہبی میں ہونے والی بات چیت میں افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا، جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی اور طالبان رہنماں پر عائد سفری پابندیوں کے خاتمے کی بات سامنے آئی۔ امریکہ کا اصرار تھا کہ طالبان افغان حکومت سے براہ راست بات چیت کریں تاہم طالبان کابل حکومت سے براہ راست بات چیت پر تاحال آمادہ نہیں ہوئے ہیں۔رحیم اللہ کا کہنا ہے کہ "طالبان افغان حکومت سے بات چیت کے لیے تیار نہیں ہیں ایک ایسی سفارت کاری کی ضرورت ہے کہ دونوں فریقین کے اختلاف کو کم کر کے ان کے باتیں مان لی جائیں۔دوسری طرف امریکہ کے ایک تحقیقاتی ادارے رینڈ کارپوریشن کی ایک رپورٹ میں اس خدشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ افغانستان سے امریکی فورسز کو واپس بلانے کی صورت میں افغانستان میں امن و سلامتی کی صورت حال بگڑ سکتی ہے اور ایسی صورتِ حال خطے کے دیگر ملکوں کی افغانستان میں مداخلت کا باعث بنے گی۔رپورٹ میں افغانستان مین تعینات 14 ہزار فوجیوں کی نصف تعداد کے انخلا کے نتائج کا احاطہ کیا گیا ہے۔ امریکی عہدیداروں کے حوالے سے ایسی اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ صدر ٹرمپ افغانستان سے 7 ہزار فوجیوں کو واپس بلانے کا ارداہ رکھتے ہیں۔ تاہم بعد ازاں وائٹ ہاس نے ان اطلاعات کی تردید کی تھی۔تاہم صحافی طاہر خان کا کہنا ہے کہ ان کے خیال میں امریکہ ماضی والی غلطی نہیں کرے گا اور ان کے خیال میں وہ اسی وقت افغانستان سے واپس جائے گا جب طالبان کے ساتھ معاملات طے ہو جائیں۔طاہر خان نے مزید کہا کہ پاکستان سمیت خطے کی کسی بھی ملک کی طرف سے یہ مطالبہ نہیں آیا ہے کہ امریکہ فوری طور افغانستان سے اپنی فورسز کا انخلا کر لے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ امریکہ افغان تنازع کے جلد از جلد تصفیے کا خواہاں ہے تاہم انہوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ امریکہ طالبان کے ساتھ کوئی معاملات طے ہونے سے پہلے انخلا کے حق میں ہے۔اے پی ایس

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن بارے رپورٹ عالمی عدالت میں پیش کردی

رپورٹ: چودھری احسن پریمی ایسوسی ایٹڈ پریس سروس( اے پی ایس) عالمی ...