بنیادی صفحہ / بین الاقوامی / افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا خطرناک ہو گا: شاہ محمود قریشی

افغانستان سے امریکی فوجیوں کا انخلا خطرناک ہو گا: شاہ محمود قریشی

امریکہ اور پاکستان ایک صفحے پر ہیں، امریکی کو پاکستان کی موجودہ حکومت پر زیادہ اعتماد ہے۔
افغانستان میں کوئی بھی افراتفری، بدنظمی اور خانہ جنگی نہیں چاہتا ۔ مقبوضہ کشمیر میں صورت حال تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے
افغانستان کے امن و استحکام کے لیے غیر ملکی فورسز کا مکمل انخلا ضروری ہے، ماسکو اعلامیہ
رپورٹ: چودھری احسن پریمی
ٰایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس)
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کے حل کے لیے سیاسی بندوبست کی ضرورت ہے لیکن امریکی افواج کا اچانک انخلا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔انہوں نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز برطانوی نشریاتی ادارے کو ایک انٹرویو میں کہی ہے۔ شاہ محمد قریشی کا کہنا تھا کہ ‘بغیر کسی موزوں انڈرسٹینڈنگ اور انتظام کے اچانک انخلا خطرناک ہو سکتا ہے۔ افغانستان میں کوئی بھی افراتفری، بدنظمی اور خانہ جنگی نہیں چاہتا ہے۔شاہ محمد قریشی کا کہنا تھا کہ ہم نے ابھی تک 2.7 ملین افغان مہاجرین کو پاکستان میں پناہ دی ہوئی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ مہاجرین باعزت طریقے سے اپنے ملک واپس چلے جائیں کیونکہ ہم ایک اور انفلکس نہیں چاہتے چنانچہ اس لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔ایک سوال کہ اگر امریکی افواج افغانستان سے اپنا انخلا شروع کر دیتی ہیں تو کیا افغان کی

سکیورٹی فورسنز ملک میں سکیورٹی فراہم کر سکتی ہیں، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ یہ امریکی افواج کے افغانستان کے انخلا کے وقت پر منحصر ہے۔پاکستان اور امریکہ کے تعلقات میں بہتری آنے کے حوالے سے پوچھے جانے والے سوال پر وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘میرے خیال سے امریکہ اور پاکستان ایک صفحے پر ہیں، میں جب واشنگٹن گیا تو میری امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ پومپیو سے بہت مثبت ملاقات رہی اور جب وہ اسلام آباد کے دورے پر آئے تو اس وقت بھی ہماری ملاقات تعمیری رہی۔ میرے خیال سے امریکہ اور پاکستان اچھی سمت میں بڑھ رہے ہیں اور امریکی کو پاکستان کی موجودہ حکومت پر زیادہ اعتماد ہے۔طالبان کی پیشگی شرائط کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہو جائے، کے سوال پر شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ‘سب کچھ مذاکرات کی میز پر ہے اور کوئی پیشگی شرائط نہیں ہیں۔جب ان سے دوبارہ پوچھا گیا کہ طالبان کی پیشگی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ وہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا تک افغان حکومت سے بات چیت نہیں کریں گے تو شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ‘یہ ان کا مسلسل موقف رہا ہے اور یقینا چیزوں کو آگے بڑھانے کے لیے اس مسئلے پر بات چیت ہونی چاہیے اور ہو رہی ہے کیونکہ افغانستان کا قابل ذکر حصہ ان کے کنٹرول میں نہیں ہے چنانچہ نئی حقیقیت سامنے آ رہی ہے اور زیادہ حقیقیت پسندانہ اپروچ کو اپنایا جا رہا ہے۔امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کے اور افغانستان کے درمیان امن معاہدے کے مسودے پر اتفاق ہو گیا ہے تاکہ افغانستان میں جاری 17 سالہ لڑائی کو ختم کیا جا سکے اس حوالے سے پاکستان کا کیا کردار رہا ہے؟۔شاہ محمود قریشی نے کہا ‘پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان مسلسل کہتے آئے ہیں کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے سیاسی بندوبست کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے طالبان سے مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا، پاکستان نے سہولت کار کا کردار ادا کیا اور ہم سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔اور جیسا کہ آپ نے کہا کہ ابوظہبی اور دوحا میں مذاکرات ہوئے تو وہ مذاکرات بہت مثبت اور تعمیری رہے اور آج میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ ہم افغانستان میں اس سے پہلے امن اور مصالحت کے لیے کبھی بھی اتنے پر امید نہیں تھے، تاہم اس لیے ابھی کافی وقت چاہیے۔اس سوال پر کہ طالبان افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے تیار نہیں تو کیا انھیں افغان حکومت کے ساتھ بات چیت کرنی چاہیے، شاہ محمود قریشی نے کہا ‘میرے خیال سے طالبان کو افغان حکومت سے بات کرنی چاہیے کیونکہ افغانستان میں مذاکرات کے بغیر مصالحت نہیں ہو سکتی۔ایک دوسرے سوال کے جواب میں پاکستانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ‘ہم طالبان کو قائل کر رہے ہیں کہ انھیں مذاکرات کرنے چاہیں۔’پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ آسیہ بی بی کی بریت کے خلاف دائر کی گئی نظر ثانی کی اپیل مسترد ہونے کے بعد ان کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بریت کے بعد آسیہ بی بی ملک میں رہتی ہیں یا باہر جاتی ہیں، یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہو گا۔خیال رہے کہ آسیہ بی بی کیس میں نظر ثانی کی اپیل مسترد ہونے کے بعد مسلسل ان کی پاکستان سے روانگی اور کینیڈا میں پناہ لینے کی خبریں گردش میں رہی ہیں، تاہم ابھی تک نہ آسیہ بی بی نے اس بارے میں کوئی بیان جاری کیا ہے اور نہ ہی ان کے ترجمان یا وکیل نے ان کی پاکستان سے روانگی کی تصدیق کی ہے۔تاہم آسیہ بی بی کی دونوں بیٹیاں اور ان کے ترجمان اپنے اہل خانہ سمیت کینیڈا منتقل ہو چکے ہیں جہاں انھیں سیاسی پناہ دے دی گئی ہے۔آسیہ بی بی کے خلاف مقدمے بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بہت سے لوگ ہیں جو عدم تحفظ کا شکار رہے ہیں اور ان میں کئی مسلمان بھی شامل ہیں جنھیں تحفظ فراہم کیا گیا اور دیگر غیر مسلم فریق بھی ہیں جن کو تحفظ دیا گیا۔ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ انھیں تحفظ دیا جائے اور آسیہ بی بی کو بھی دیں گے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پوری دنیا کو پاکستانی عدالتی نظام پر اعتماد کرنا چاہیے۔ایک نظام کے تحت کیس چلا اور آپ کو اندازہ ہوگا کہ کتنا دبا تھا ان عدالتوں پر۔ اس کے باوجود انھوں نے قانون اور شواہد کو سامنے رکھتے ہوئے آسیہ بی بی کو معصوم تصور کیا اور انھیں بری کر دیا۔کشمیر کے معاملے پر بات کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں صورت حال تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے جس پر انھیں تشویش ہے۔شاہ محمود قریشی کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ انڈیا سے بہتر تعلقات چاہتے ہیں۔ ‘میں خطے میں امن چاہتا ہوں کیونکہ ہمارے ایجنڈے کو امن کی ضرورت ہے۔ان کے بقول ‘ہمارے ایجنڈے کا فوکس بدعنوانی کے خلاف عہدہ برا ہونا اور پاکستان کے لوگوں کو گڈ گورننس دینا ہے،جس کے لیے ہمسائے میں امن ہونا چاہیے۔ تاہم جس طرح مقبوضہ کشمیر میں صورت حال بدل رہی ہے، وہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے اور مجھے اس پر تشویش ہے کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ انڈیا اپنی جانب سے حالات کو صحیح طرح سے کنٹرول نہیں کر رہا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مدد مانگی ہے۔ایک ایسے وقت جب امریکہ خود طالبان کے ساتھ مذاکرات میں مصروف ہے اسے پاکستان کی کیا ضرورت ہے؟ وہ پاکستان سے کیا چاہتا ہے؟۔ اگر وزیر اعظم نے اس کا احاطہ اچھے طریقے سے کیا ہے تو اس سے مراد یہی لی جا سکتی ہے کہ افغان طالبان پر بچے کھچے پاکستانی اثر و رسوخ سے کام لینے کی استدعا کی گئی ہو گی۔اس خط کو عمران خان اور صدر ٹرمپ کے درمیان ٹوئٹر پر بیانات کی جنگ کے بعد ایک صحت مند پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔ پیغام تو ہمیشہ کی طرح ڈو مور ہا ہے لیکن دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں معاون ثابت ہو ا۔ اگر اب بھی امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان کے بغیر افغانستان کا پرامن حل ممکن نہیں جو کہ اسلام آباد کے لیے اچھی بات ہے۔افغانستان میں کوئی بھی حل ہمارے مفاد میں ہے اور اگر اب امریکیوں کو کئی کوششوں کے بعد اس کا احساس ہوا ہے کہ اسے محض پاکستان کی امداد سے حل کیا جا سکتا ہے تو ہمیں اپنے علاقائی مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے تمام ممکن مدد کرنی چاہیے۔افغانستان پر امریکی خصوصی ایلچی زلمے خلیل زاد کا دورہ اسلام آباد حالیہ چند ماہ میں اس خطے کے متعدد دوروں کا تسلسل ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ تمام تندہی سے حل نکالنے کی کوشش کر رہا ہے۔خلیل زاد نے ان دوروں میں کم از کم اتنی کامیابی تو حاصل کی کہ افغان طالبان کے ساتھ ایک رابطہ استوار کر لیا ہے، ابتدائی بات چیت بھی کی ہے اور مستقبل میں بھی اس کی امید ہے۔جبکہ طالبان اور افغانستان کے حزب اختلاف کے بااثر رہنماں نے کہا ہے کہ امریکی قیادت کی غیر ملکی افواج کا ملک سے مکمل انخلا پائیدار امن کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔دونوں وفود نے یہ اعلامیہ ماسکو میں دو روز تک جاری رہنے والے امن مذاکرات کے اختتام پر کیا، جس کی نظیر کم کم ہی

ملتی ہے۔طالبان وفد کے سربراہ محمد عباس ستنک زئی نے کہا کہ امریکی فوج کے سلسلے میں ہم امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہے ہیں اور ہم یہ کوشش کر رہے ہیں جتنی جلد ممکن ہو امریکی فورسز افغانستان سے چلی جائیں۔سابق افغان صدر حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ بنیادی مسائل اور خواہشات، امن اور استحکام، غیر ملکی فورسز سے آزاد افغانستان اور کسی بھی جانب سے مداخلت سے پاک افغانستان سے منسلک ہیں۔ماسکو امن مذاکرات کے بعد جاری ہونے والا اعلامیہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ شرکا نے بات چیت کے ذریعے افغان جنگ کے خاتمے کے لیے، جو اب اپنے 18 ویں سال میں داخل ہو چکی ہے، طالبان کے ساتھ جاری امریکی زیر قیادت براہ راست مذارات کی بھی حمایت کی۔افغانستان کے صدر اشرف غنی نے ماسکو مذاکرات پر یہ کہتے ہوئے نکتہ چینی کی کہ ان کے سیاسی حریفوں نے ان کی آئینی طور پر منتخب انتظامیہ کی اہمیت گھٹانے کی کوشش کی ہے۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

پاکستان نے بھارتی جاسوس کلبھوشن بارے رپورٹ عالمی عدالت میں پیش کردی

رپورٹ: چودھری احسن پریمی ایسوسی ایٹڈ پریس سروس( اے پی ایس) عالمی ...