بنیادی صفحہ / قومی / آرمی چیف جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل

آرمی چیف جنرل باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل


ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام آباد
سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا نوٹیفیکیشن معطل کرتے ہوئِے جنرل باجوہ سمیت فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خلاف درخواست پیر کو جیورسٹس فانڈیشن کی جانب سے دائر کی گئی تھی اور منگل کو چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اس معاملے کی سماعت کی۔سماعت شروع ہوئی تو درخواست گزار ریاض حنیف راہی پیش نہ ہوئے اور اپنی درخواست واپس لینے کی استدعا کی تاہم عدالت نے اسے مفادِ عامہ کا معاملہ قرار دیتے ہوئے از خود نوٹس میں تبدیل کر دیا۔سماعت کے دوران عدالت کا کہنا تھا کہ بری فوج کے سربراہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے لیے خطے کی سکیورٹی کی صورتحال کی اصطلاح مبہم ہے۔جسٹس منصور علی شاہ کا کہنا تھا کہ کیا کابینہ نے اس معاملے پر فیصلہ کرنے سے قبل مناسب سوچ بچار کی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو تو آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اختیار نہیں اور صرف صدر پاکستان ہی ایسا کر سکتے ہیں جس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع صدر کی منظوری کے بعد کی گئی اور کابینہ سے بھی اس سمری کی منظوری لی گئی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کا کہنا تھا کہ کیا ہوا پہلے وزیراعظم نے توسیع کا خط جاری کر دیا اور پھر وزیراعظم کو بتایا گیا آپ نہیں کر سکتے۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ کیا صدر مملکت نے کابینہ کی منظوری سے پہلے فوجی سربراہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کی منظوری دی اور کابینہ سے منظوری کے بعد صدر نے دوبارہ منظوری دی۔جسٹس کھوسہ کا کہنا تھا کہ دستاویزات کے مطابق کابینہ کی اکثریت نے اس معاملے پر کوئی رائے نہیں دی اور 25 ارکان میں سے 11 اس کے حق میں تھے جبکہ 14 ارکان نے عدم دستیابی کے باعث کوئی رائے نہیں دی۔انھوں نے کہا کہ کیا حکومت نے ارکان کی خاموشی کو ان کی ہاں سمجھ لیا۔ اس پر اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ کابینہ کے جن ارکان نے رائے نہیں دی وہ ووٹنگ میں شریک نہیں تھے۔چیف جسٹس نے کہا کہ کابینہ نے 14 ارکان نے ابھی تک آرمی چیف کی توسیع پر مثبت جواب نہیں دیا تو کیا آپ کابینہ کے ارکان کو سوچنے کا موقع بھی نہیں دینا چاہتے۔مختصر سماعت کے بعد عدالت نے جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا حکم نامہ معطل کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کر دیا جبکہ سماعت بدھ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی۔خیال رہے کہ وزیرِاعظم عمران خان نے 19 اگست کو جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدتِ ملازمت میں تین برس یعنی ‘فل ٹرم’ کی توسیع کی تھی۔وزیراعظم ہاوس سے جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع کا فیصلہ خطے میں سکیورٹی کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا تھا۔یاد رہے کہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج کی کمان نومبر 2016 میں سنبھالی تھی۔ انھیں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے فوج کی سربراہی کے لیے تعینات کیا تھا۔ جنرل باجوہ کو فوج کی کمان جنرل راحیل شریف سے منتقل ہوئی تھی۔جنرل باجوہ کو رواں ہفتے ریٹائر ہونا ہے لیکن ان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا اعلان ریٹائرمنٹ سے دو ماہ قبل ہی کر دیا گیا تھا۔جنرل قمر جاوید باجوہ نے 24 اکتوبر سنہ 1980 میں فوج میں شمولیت اختیار کی۔ آئی ایس پی آر کی ویب سائٹ کے مطابق انھیں بلوچ رجمنٹ میں کمیشن ملا تھا۔انھیں فوجی اعزاز نشان امتیازملٹریسے بھی نوازا جا چکا ہے۔وہ کینیڈا کی افواج کے کمانڈ اور سٹاف کالج، امریکہ کی نیول پوسٹ گریجویٹ یونیورسٹی، مونٹیری (کیلیفورنیا) اور اسلام آباد کی نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔وہ کوئٹہ، کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور این ڈی یو اسلام آباد میں سکول آف انفینٹری اینڈ ٹیکٹیکس میں انسٹرکٹر رہے ہیں۔وہ انفینٹری بریگیڈ کے بریگیڈ میجر اور راولپنڈی کور کے چیف آف سٹاف بھی رہ چکے ہیں۔انھوں نے ایک انفینٹری بریگیڈ کے 16 بلوچ ریجمنٹ کو کمانڈ کیا ہے اور شمالی علاقہ جات کے کمانڈر ایف سی این اے کے جی او سی رہے ہیں۔انھوں نے کانگو میں پاکستانی دستے کی سربراہی بھی کی ہے۔ جبکہ انھوں نے راولپنڈی کور کی کمان بھی سنبھالی ہے۔

Like , Share , Tweet & Follow

تعارف: admin

x

Check Also

پرویز مشرف کو آئین شکنی پر سزا موت۔ چودھری احسن پریمی

ایسوسی ایٹڈ پریس سروس (اے پی ایس) اسلام آباد ہم قانون شکنی ...